Connect with us
Monday,13-April-2026

سیاست

کورونا بحران کے وقت بھی ملک کی ترقی کا سفر نہیں رکا: شاہ

Published

on

amit

مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے آج کہا کہ کورونا بحران کے مشکل دور میں بھی ملک کی ترقی کا سفر تھما نہیں ہے اور انہیں یقین ہے کہ جلد ہی ملک کی معیشت دوبارہ پٹری پر واپس آجائے گی۔
مسٹر شاہ نے آج یہاں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ گجرات کے اپنے پارلیمانی حلقہ گاندھی نگر میں دو فلائی اوور برجوں کا افتتاح کیا۔ پہلا فلائی اوور برج سندھو بھون کراس روڈ پر بنایا گیا ہے ، جس کی لمبائی 245 میٹر ہے اور اس کی تعمیر پر 35 کروڑ روپئے کی لاگت آئی ہے۔ سانند جنکشن میں تعمیر ہونے والے 240 میٹر لمبے فلائی اوور برج پر36 کروڑ روپے لاگت آئی ہے۔
وزیر داخلہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج تک کے سب سے بڑے کورونا بحران کے دوران بھی ، ملک کی ترقی کا سفر رکا نہیں ۔ کورونا بحران کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت نیچے چلی گئی لیکن مودی حکومت کی انتھک کوششوں کی وجہ سے ہندوستانی معیشت جلد ہی پٹڑی پر واپس آجائے گی۔ مرکزی حکومت نے کورونا بحران کے وقت کو صنعتی پالیسی ، تعلیم کی پالیسی اور معاشرتی شعبے میں دیگر اہم دور اندیش پالیسی اصلاحات کے لئے استعمال کیا۔ انہوں نے کورونا کی وبا سے معیشت کے متاثر ہونے کے باوجود ترقی کی رفتار برقرار رکھنے پر گجرات حکومت کی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت میں تیزی سے بہتری آرہی ہے۔ بے مثال سہولیات کی تعمیر میں گجرات ملک کی قیادت کر رہا ہے اور انہوں نے ہمہ جہت ترقی کے میدان میں اس نے کئی پہل کی ہیں۔ مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گجرات نے گاؤوں میں 24 گھنٹے بجلی ، جدید صحت سہولیات کی تعمیر ، متبادل توانائی کے ذرائع اور نجی بندرگاہوں کی ترقی جیسے متعدد ترقیاتی قدم اٹھائے ہیں۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ سرکھیج۔ گاندھی نگر۔ چلوڈا قومی شاہراہ پر جلد ہی مزید سات فلائی اوور تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرکھیج سے چلوڈا کے درمیان 50 کلومیٹر شاہراہ پر بلا رکاوٹ ٹریفک چلے گا اور یہ ملک میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد اسٹریچ ہوگا۔ انہوں نے منصوبوں کو وقت سے پہلے مکمل کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے دیئے گئے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔
اس موقع پر احمد آباد میں منعقدہ پروگرام میں گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی ، نائب وزیر اعلی نتن پٹیل اور دیگر معززین شریک ہوئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ڈونگری میں مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں پر حملہ، 4 ملزمین گرفتار، کشیدگی امن قائم

Published

on

ممبئی : ممبئی ڈونگری میں مولانا سید خالد اشرف المعروف خالد میاں پر حملہ کے بعد ممبئی نے اقدام قتل کا کیس درج کر چار ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے خالد اشرف اوران کے فرزند پر حملہ سے ممبئی میں کشیدگی پھیل گئی ان کے مریدین جوق درجوق پولس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس کے بعد آج علما اہلسنت والجماعت نے خالد اشرف پر حملہ کے تناظر خاطیوں پر سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ آج علما اہلسنت اور آل انڈیا جماعت العلما نے ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے پولس کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ملزمین پر سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں کی سربراہی میں ایک وفد نے دیوین بھارتی سے ملاقات کی تھی۔ مولانا خالد اشرف نے کہا کہ مجھے ڈرگس فروشوں نے نشانہ بنایا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جس وقت ان حملہ آور منشیات فروشوں مجھ پر اور میرے فرزند پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ یہ وہی مولانا ہے جو ڈرگس کے خلاف موومنٹ چلاتا ہے۔ اس لیے پولس کمشنر سے مولانا خالد اشرف نے یہ درخواست کی ہے کہ علما پر حملہ کرنا سراسر غلط ہے ایسے میں ان غنڈوں پر سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔ اس کے ساتھ پولس کی کارروائی پر بھی اطمینان کا اظہار کیا ساتھ ہی علما کرام اور عمائدین شہر کا بھی شکریہ ادا کیا انہوں نے کہا کہ مجھے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اس مصبیت کی گھڑی میں میں تنہا ہوں, اس لئے سبھی کا شکریہ اس کے ساتھ مولانا خالد اشرف نے مریدین اور متعلقین سے یہ درخواست کی کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے, اتنا ہی نہیں اشتعال انگیزی سے بھی اجتناب کرے جو بھی ہمارے مداح اور چاہنے والے ہیں وہ قطعی غلط حرکت نہیں کریں گے۔
علما منشیات فروشوں کے نشانے پر :
حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے آج خالد اشرف پر حملہ کے معاملہ میں پولس کمشنر دیوین بھارتی سے ملاقات کر کے یہ انکشاف کیا ہے کہ اب علما کرام اور سفید پوش منشیات فروشوں کے نشانے پر ہے۔ اس کا مقصد عام عوام میں دہشت پیدا کرنا ہے اس لئے پولس سے مولانا معین میاں نے درخواست کی ہے کہ ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی ہو جو علما کرام کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھیونڈی میں مولانا خالد اشرف نے منشیات کے خلاف تحریک شروع کی تھی, اس کا اثر ممبئی میں بھی منشیات فروشوں پر ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ہی منشیات فروشوں کا ایک ریکیٹ کام کرتا ہے جو منشیات فروشی کے خلاف تحریک چلانے والوں کے خلاف مہم چلا کر اسے سوشل میڈیا میں بدنام بھی کرتے ہیں۔ اس لئے ایسے منشیات فروش گینگ کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے معین میاں نے کہا کہ منشیات فروشوں کے خلاف پولس نے جو کارروائی کی ہے وہ اطمینان بخش ضرور ہے۔ لیکن ایسے منشیات فروشوں پر سخت کارروائی بھی وقت کا تقاضہ ہے۔ اس وفد میں رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری، مولانا اعجاز کشمیری اور مولانا انیس اشرفی بھی شامل تھے۔ مولانا خالد اشرف پر حملہ کے الزام میں ڈونگری پولس نے مجید لالہ پٹھان، راحیل پٹھان، ساحل پٹھان اور پیرو کو گرفتار کر لیا ہے اس کے ساتھ ہی نامعلوم حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ ان حملہ آوروں نے مولانا خالد اشرف اور ان کے بیٹوں کو ڈنڈوں لاٹھی سے حملہ کر کے زدوکوب کیا جس کے سبب وہ اب بھی زخمی ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

مہاراشٹر

ممبئی حادثہ: مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی، سی ایم فڑنویس کا اظہار افسوس

Published

on

ممبئی کے کلیان میں سڑک حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ہسپتال میں داخل دو افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، حکام نے پیر کو بتایا۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے اس واقعہ پر دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ حکام نے بتایا کہ پیر کو ممبئی کے کلیان علاقے میں ایک ڈمپر ٹرک ایک کار سے ٹکرا گیا۔ یہ حادثہ صبح 11 بجے کلیان-مرباد روڈ پر رائتا پل کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کار کلیان سے آرہی تھی جب اس کی ٹکر ایک مکسر ٹرک سے ہوئی۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں، انہوں نے کہا، “کلیان کے قریب نیشنل ہائی وے 61 پر دو گاڑیوں کے ایک ہولناک حادثے میں 11 جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔ میں ان کے ساتھ دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔ ہم ان کے غم میں ان خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم مقامی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔” ادھر پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جب کہ زخمیوں کو علاج کے لیے قریبی اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی تھانہ ٹٹ والا کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچی اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت کار میں 12 مسافر سوار تھے۔ مسافروں میں سے آٹھ موقع پر ہی دم توڑ گئے، جب کہ ایک نے اسپتال میں علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ مقامی لوگ فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور متاثرین کی مدد کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں مزید دو افراد اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔ پولیس کے مطابق گاڑی مرباد کی طرف جارہی تھی کہ کلیان کے قریب رائتہ پل کے قریب تصادم ہوا۔ اس سے قبل، نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے، تھانے کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی ایس سوامی نے نو لوگوں کی موت کی تصدیق کی تھی۔ ٹٹ والا کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس انیل لاڈ نے میڈیا کو بتایا، “ہلاک ہونے والوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ زخمیوں کا قریبی اسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ اس واقعے میں متعلقہ سرکاری محکموں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔” پولیس نے حادثے کی وجوہات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ تیز رفتار گاڑی نے قابو کھو دیا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ٹکر کی وجہ سے ٹٹ والا-کلیان روڈ پر رائتا پل کے قریب ہائی وے پر بڑے پیمانے پر ٹریفک جام ہوگیا، جس سے علاقے میں گاڑیوں کی آمدورفت میں نمایاں طور پر خلل پڑا۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی : ادھو ٹھاکرے کی اہلیہ رشمی آشا بھوسلے کی رہائش گاہ پر آخری تعزیت میں بے ساختہ روئی

Published

on

ممبئی : شیو سینا یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے خاندان کے ساتھ پیر کو ممبئی میں لیجنڈ گلوکارہ آشا بھوسلے کی رہائش گاہ پر ان کی 92 سال کی عمر میں انتقال کے بعد ان کی آخری تعزیت کی۔ آئیکونک پلے بیک سنگر کو الوداع دورے کے دوران، ایک جذباتی لمحہ سامنے آیا جب رشمی ٹھاکرے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ٹوٹ گئیں۔ رہائش گاہ کے منظروں نے اسے آنسوؤں میں دکھایا، بھوسلے خاندان کے ارکان کو گلے لگاتے ہوئے اور گلوکارہ کی لاش کے پاس کھڑے تھے۔ اس کا دکھائی دینے والا غم اس گہرے ذاتی تعلق کی عکاسی کرتا ہے جو ٹھاکرے خاندان نے آشا بھوسلے اور وسیع تر منگیشکر خاندان کے ساتھ شیئر کیا تھا۔ ادھو ٹھاکرے نے بھی گلوکار کے انتقال کو ہندوستانی موسیقی کے لیے ایک یادگار نقصان قرار دیتے ہوئے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “آشا بھوسلے کے انتقال کے ساتھ، ہندوستانی موسیقی کا ایک ستون گر گیا ہے۔ ان کے گانے ان کے لیے امر رہیں گے،” انہوں نے کہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی آواز نے ان گنت نسلوں کو خوشی بخشی اور انسانی جذبات کے مکمل اسپیکٹرم کو اپنی گرفت میں لے لیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آشا بھوسلے نے اپنی بہن لتا منگیشکر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے موسیقی کی بھرپور میراث کو آگے بڑھایا اور ہندوستانی موسیقی کے سنہری دور میں ایک مضبوط ستون کے طور پر کھڑی رہیں۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے تصدیق کی کہ وہ کئی اعضاء کی ناکامی کی وجہ سے اگلے دن انتقال کر گئیں۔ ان کی جسد خاکی کو ان کی لوئر پریل رہائش گاہ پر صبح 11 بجے سے 3 بجے کے درمیان عوامی تعزیت کے لیے رکھا گیا ہے۔ آخری رسومات مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ شیواجی پارک میں ہونے والی ہیں، جہاں شائقین اور معززین کی بڑی تعداد کے جمع ہونے کی توقع ہے۔ آشا بھوسلے کی موت نے ملک کو سوگ میں چھوڑ دیا ہے، ملک بھر سے خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان