سیاست
کانگریس پارٹی کا دفتر کارکنان کی طاقت کا مرکز ہے , نظم و نسق پر عمل نہیں کرنے والوں کے خلاف ہو گی کارروائی: نانا پاٹولے

بھیونڈی: ( نامہ نگار )
کانگریس پارٹی کا دفتر کارکنان کی طاقت کا مرکز ہے ، لہذا پارٹی دفتر میں مسائل لے کر آنے والے کارکنان کے مسائل کو سن کر اسے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کی ہدایات پر عمل کرنا سبھی کا فرض ہے اور پارٹی بڑی ہے شخص نہیں اس بات کو سبھی کو یقینی بناتے ہوئے اسے ذہن نشین کرلینا نہایت ضروری ہے۔ اس پر عمل نہیں کرنے والے اور پارٹی مخالف کام کرنے والے عہدیداروں اور عوامی نمائندوں کے خلاف پارٹی کے نظم و نسق کو پامال کرنے پر ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں معطل کرنے کا کام کانگریس پارٹی کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس طرح کا انتباہ مہاراشٹر کے ریاستی صدر نانا پاٹولے نے بھیونڈی میں منعقدہ ایک پروگرام میں دیا ہے۔ بھیونڈی شہر ضلع کانگریس پارٹی کے مرکزی دفتر اور راجیو گاندھی چوک کی تزئین و آرائش کے پروگرام کا افتتاح کرنے کے لئے ریاستی صدر نانا پاٹولے گزشتہ کل شام تقریباً 7 بجے بھیونڈی تشریف لائے تھے۔ اس موقع پر کارپوریٹر ریشیکا پپو راکا کے عوامی رابطہ دفتر میں میونسپل کارپوریشن کے کارپوریٹرس ، عہدیداروں کی خصوصی میٹنگ نانا پاٹولے کے ہمراہ ہوئی۔ مذکورہ موقع پر ، سابق وزیر عارف نسیم خان ، بھیونڈی شہر ضلع صدر ایڈوکیٹ رشید طاہر مومن ، سابق میئر جاوید دلوی ، ریاستی جنرل سیکریٹری طارق فاروقی ، ریاستی سیکریٹری پردیپ پپو راکا ، کارپوریٹر ریشیکا راکا ، کانگریس یوتھ لیڈر دیانند چورگھے ، مختار خان، ڈاکٹر نور انصاری وغیرہ عہدیداران موجود تھے۔ ریاست میں اقتدار ہونے کے باوجود پارٹی کارکنان کا کام نہیں ہورہا ہے جس کی وجہ سے اب ضلعی سطح پر پارٹی کارکنان اور عہدیداروں کے لئے وزراء کا جنتا دربار منعقد کیا جائے گا اس طرح کی معلومات نانا پاٹولے نے دی ہے۔ اسی طرح آئندہ ہونے والے انتخابات کانگریس اپنے دم پر لڑے گی اسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے سنجیدگی سے غور وفکر کیا جارہا ہے۔ جس کے لئے ریاست میں کانگریس پارٹی کو مضبوط بنانا ضروری ہے لہذا اب تمام کارکنان اور عہدیداروں کو اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ بھیونڈی میں 18 کارپوریٹروں نے کانگریس پارٹی چھوڑ کر راشٹروادی کانگریس پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے ان کے خلاف جلد ہی معطلی کی کارروائی کی جائے گی اور ان کے کارپوریٹر کا عہدہ بھی منسوخ کردیا جائے گا اس طرح کی یقین دہانی نانا پاٹولے نے کارپوریٹروں کو کرائی ہے۔ اسی طرح بھیونڈی میں صدر کے عہدے پر تنازعہ چل رہا ہے جسے ختم کرنے کے لئے جلد ہی دو کارگزار صدر مقرر کئے جائیں گے اس طرح کی یقین دہانی مذکورہ میٹنگ میں موجود کارپوریٹروں اور عہدیداروں کو کراتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں گروپ بندی بالکل برداشت نہیں کی جائے گی۔ پارٹی مخالف سرگرمیوں اور پارٹی کے نظم و نسق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی اس طرح کا انتباہ نانا پاٹولے نے واضح طور پر دیا ہے۔ اس موقع پر پردیپ پپو راکا نے شال ، ناریل اور پھولوں کا گلدستہ پیش کرکے موجود مہمانان کا خیرمقدم کیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
سیاست
وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا