Connect with us
Thursday,26-March-2026

جرم

ایم ایل اے نتیش رانے حامیوں سمیت گرفتار

Published

on

ڈیوٹی کے دوران انجینئر کو کیچڑ کے غلیظ پانی سے نہلانے والے

ملک میں سیاسی عہدیداران و ان کے اقرباکی غنڈہ گردی ایک فیشن کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا اور اخبارات کی سرخیوں میں منفی کردار سے چمکنے والے بی جے پی کے رکن اسمبلی آکاش وجئے ورگیئےنے ایک آفیسر کو کرکٹ بیٹ سے مارا ،جب میڈیا کے ایک فرد نے ان کے والد کے فون پر گفتگو کی تو انہوں نے اپنے فرزند کے کارنامہ پر فخریہ لہجہ میں کہا کہ میرا بیٹا کبھی کچھ غلط نہیں کرتا ، رکن اسمبلی کے والد خود بی جے پی کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوکر غیر ذمہ دارانہ بیان دے کر اپنے فرزند کا دفاع کرتے نظر آئے جب ان سے غلط کام پر سوال کیا گیا کہ آپ کا نظریہ کیا ہے تو وہ بھڑک اُٹھے اور کہا کہ کیا آپ جج ہو جو میرے فرزند کے تعلق سے فیصلہ سنارہے ہو؟ جرنلسٹ نے کہا کہ آپ خود ویڈیو میں دیکھ رہے ہیں پھر بھی غلط کام کی حمایت کررہے ہو؟میں اس ملک کا شہری ہوں اور سوال کرنا میرا حق ہے۔اچانک انہیں پتہ نہیں کیایا د آتا ہے کہ پورے ملک میں فون پر ہوئی بات چیت کی ریکارڈنگ عام نہ ہوجائے اور ادھوری بات چیت کےدرمیان فون پر ہورہی بات چیت کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ جب بی جے پی کے اعلیٰ عہدیداران کا غیر ذمہ داران بیان کی آڈیو کلپ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوئی تو وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی مداخلت کرنا پڑا اور انہوں نے بیان دیا کہ ہم ایسی حرکت کی مذمت کرتے ہیں اور آئندہ ایسی حرکت کرنے سے باز رہنے کی تلقین کی۔ ابھی یہ باتیں عوام کے مابین جاری تھی کہ ریاستی حکومت میں سابق وزیراعلیٰ نارائن رانے کےفرزندو رکن اسمبلی نتیش رانے نے سرکشی کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لے لیا ۔ نتیش رانےاپنے حامیوں کے ہمراہ ممبئی گوا ہائے پر جاری کام کا معائنہ کرنے کی غرض سے پہنچے تو کام کی نوعیت کو دیکھ کر ان پارہ چڑھ گیا اور وہ بے قابو ہوگئے ہائے وےپر چھوٹے بڑے گڑھے نظر آئے ، انہوں نے وہاں موجود انجینئرسرکاری ملازم پرکاش شیڑیکر کو پکڑ کر رسی سے باندھ دیا ، وہاں جمع کیچڑ کا غلیظ پانی ان کے سر سے ڈال کر نہلایا دیا گیا۔ شام ہونے سے قبل سوشل میڈیا پر نتیش رانے کی کلپ جنگل میں آگ کی طرح پھیلنے لگی، مہاراشٹر کے کنکاولی پولس اسٹیشن میں رکن اسمبلی نے خود سپردگی کی۔نتیش رانے کی گرفتاری عمل میں آنے کے بعد پولس نے تقریباً ۵۰ ؍ حامیوں پر ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ واضح رہے کہ سابق وزیر اعلیٰ نارائن رانے نے اپنے فرزند کی حرکت کو غلط قرار دیا ہے ، انہوں نے مزید کہا ہے کہ نتیش کو غلط حرکت پر معافی مانگنی چاہیے۔ جبکہ رکن اسمبلی نتیش اپنی غیر ذمہ دارانہ حرکت پر شرمندہ نہیں ہے بلکہ انہوں نے بیان دیا ہے کہ میں نے جو کام انجام دیئے ہیں اُس پر قطعی پچھتاوا نہیں ہوا ہے۔ نتیش رانے کے خلاف پولس نے تعزیراتِ ہند کی دفعہ ۳۵۳، ۳۴۲، ۳۳۲، ۳۲۴، ۳۲۳،۱۲۰ (اے) ،۱۴۷،۱۴۳،۵۰۴،۵۰۶کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔ پولس رکن اسمبلی نتیش رانے سے پورے معاملہ کی تفتیش کرے گی۔ ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پولس پر حکومت کا دباؤ بہت زیادہ ہوتاہے؟ آکاش وجئے ورگیئے بھی رکن اسمبلی ہے اور نتیش رانے بھی رکن اسمبلی ہے۔ لیکن صرف نتیش رانے کی گرفتار وپچاس حامیوں پر ایف آئی آر درج کرنے کا معاملہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ صاحب اقتدار ہو تو ایک شخص بھی گرفتار نہیں ہوتا جبکہ اپوزیشن میں ہو تو دن بھی نہیں گزرتا تو عملی کاروائی انجام دی جاتی ہے۔ جرم تو جرم ہوتا ہے چاہے اسے عام آدمی کریں یا کوئی سیاسی عہدیدار، یا صاحب اقتدار، ہمارے ملک کا آئین سب کے لیے مساوی ہے۔

جرم

ممبئی ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی شہری کو جعلی پاسپورٹ کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔

Published

on

crime

ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کیا ہے جو جعلی ہندوستانی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ واقعہ بدھ کی صبح تقریباً 4:15 بجے پیش آیا، جب امیگریشن افسر گنیش گاولی ڈیوٹی پر تھے۔ ایک مسافر معائنہ کے لیے کاؤنٹر پر پہنچا۔ پہلی نظر میں، اس کے کاغذات بالکل نارمل نظر آئے، لیکن قریب سے معائنہ کرنے پر، افسر نے دیکھا کہ کچھ غلط ہے۔ مسافر کے پاس کولکتہ کا پتہ والا ہندوستانی پاسپورٹ تھا، لیکن اس کے موبائل نمبر میں بنگلہ دیشی ملک کا کوڈ ظاہر ہوا تھا۔ اس تضاد سے شک پیدا ہوا، اور اسے فوراً سینئر حکام کے پاس لے جایا گیا۔ سخت پوچھ گچھ پر ملزم نے اپنی اصل شناخت بتا دی۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام سکانتا ملک (39) ہے اور وہ گوپال گنج ضلع، بنگلہ دیش کا رہنے والا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ 2012 میں غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوا تھا اور 2022 میں جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کیا تھا۔ مزید برآں، اس نے دھوکہ دہی سے کئی سرکاری دستاویزات حاصل کیں، جن میں پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، اور راشن کارڈ شامل ہیں۔ تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم فلائٹ نمبر ٹی سی-401 پر کانگو کے شہر ڈار جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ جعلی ہندوستانی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک آباد ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ امیگریشن حکام نے اس کے پاس سے کئی اہم دستاویزات برآمد کیں، جن میں ایک ہندوستانی پاسپورٹ، بورڈنگ پاس، پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، راشن کارڈ، بنگلہ دیشی پیدائشی سرٹیفکیٹ، اس کی والدہ کا پاسپورٹ، اور ایک موبائل فون شامل ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم اس معاملے میں اکیلا نہیں ہے۔ بلکہ ایک منظم گینگ ملوث ہو سکتا ہے، جو بھارت میں آباد ہونے کے لیے جعلی دستاویزات بنا کر لوگوں کو بیرون ملک بھیجتا ہے۔ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے سہار پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور بھارت میں غیر قانونی قیام سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی پریس کلب کو دھمکی آمیز ای میل موصول، بم اسکواڈ کی جانچ میں کچھ بھی مشکوک نہیں ملا

Published

on

نئی دہلی: ممبئی پریس کلب کو جمعہ کے روز ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زہریلی گیس سے بھرے کئی چھوٹے بم عمارت کے اندر نصب کیے گئے ہیں، جو جمعہ کی دوپہر کو پھٹ جائیں گے۔ ممبئی بم اسکواڈ نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور کوئی مشتبہ شخص نہیں ملا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر ای میل کا جواب دیا۔ پریس کلب کے احاطے اور گردونواح میں فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈز اور ڈاگ اسکواڈز کو جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا۔ ای میل بھیجنے والے نے اپنی شناخت نیرجا اجمل خان کے طور پر کی۔ اس نے کوئمبٹور کے مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کیا اور سیاسی الزامات لگائے، ناانصافی اور ان کی آواز کو دبانے کا دعویٰ کیا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کے پاس محدود وسائل تھے اور انہوں نے ان وسائل کو ممبئی پریس کلب کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد صرف نقصان پہنچانا تھا اور لوگوں سے عمارت خالی کرنے کی اپیل کی۔ ای میل میں نکسلائٹس اور پاکستان سے جڑے خفیہ نیٹ ورکس کا بھی ذکر ہے، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ممبئی پولیس نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ سائبر ٹیم تمام پہلوؤں پر کام کر رہی ہے، بشمول ای میل آئی ڈی، اس کا مقام، اور ممکنہ مجرم۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ای میل پروٹون میل سروس کے ذریعے بھیجی گئی تھی جس کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ ممبئی پریس کلب کے صدر ثمر خداس نے بتایا کہ کلب کے سکریٹری کو الرٹ کرنے والی ای میل بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی اور تحقیقات کے دوران کچھ بھی مجرمانہ نہیں پایا۔ ممبئی پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ای میل موصول ہونے کے بعد پریس کلب کو خالی کرا لیا گیا اور تحقیقات مکمل کر لی گئی۔ تفتیش کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔

Continue Reading

جرم

چڑیل ڈاکٹر اور جن کے نام پر خاتون سے 15.93 لاکھ روپے کا دھوکہ۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی۔

Published

on

ممبئی کے سیون علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک 22 سالہ خاتون کو تانترک طاقتوں اور جنوں کے نام پر تقریباً 15.93 لاکھ روپے (تقریباً 1.5 ملین ڈالر) کا دھوکہ دیا گیا۔ ممبئی سائبر سیل نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی سیون کے پرتیکشا نگر علاقہ کی رہنے والی ہے۔ 2023 میں، انسٹاگرام کا استعمال کرتے ہوئے، اس نے “طاقتور جنون ہیلر” کے عنوان سے ایک پوسٹ دیکھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ کیریئر، محبت اور زندگی کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ پوسٹ میں لنک پر کلک کرنے کے بعد، اس نے ایک ایسے شخص کے ساتھ واٹس ایپ پر بات چیت شروع کی جس نے اپنی شناخت کبھی واحد اور کبھی ساحل کے نام سے کی۔ ملزم نے پہلے خاتون کا اعتماد حاصل کیا اور اسے روشن مستقبل کا یقین دلایا۔ اس کے بعد اس نے اسے ایک تانترک رسم سے گزرنے کا مشورہ دیا، اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ایک جن ہے جو کوئی بھی خواہش پوری کر سکتا ہے۔ اس نے اسے یقین دلایا کہ یہ طریقہ کار اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دے گا۔ یہ فراڈ 25 ہزار روپے سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ گیا۔ ملزم مختلف حیلوں بہانوں سے رقم کا مطالبہ کرتا رہا، کبھی نامکمل تانترک رسومات کا حوالہ دے کر، کبھی منفی توانائی کو دور کرنے یا کسی جن کو غصہ دلانے کا دعویٰ کرکے خاتون کو دھمکیاں دیتا رہا۔ اس دوران خاتون نے کئی بینک کھاتوں میں رقم منتقل کی۔ جعلسازوں نے سمرہ محمد، موسین سلیم اور گلناز جیسے مختلف القابات استعمال کیے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم ریاکٹ ہے۔ اس فراڈ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ خاتون نے اپنا گھریلو سونا بھی بیچ دیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ملزمان کو دے دی۔ یہ سلسلہ تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہا۔ جب کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور پیسوں کا مطالبہ جاری رہا تو اسے احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد، متاثرہ نے سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کرائی۔ پولیس اب اس کے انسٹاگرام آئی ڈی، موبائل نمبر، اور بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہی ہے، اور شبہ ہے کہ یہ معاملہ کسی بڑے سائبر کرائم گینگ سے منسلک ہو سکتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان