سیاست
کانگریس نے مسلم نوجوانوں کی یوپی کے تھانوں میں مار پیٹ اور ان کے خلاف یکطرفہ کارروائی پر این ایچ آر سی کے چیئرمین کو میمورنڈم دیا
کانگریس کے ایک وفد نے اتر پردیش کے مختلف تھانوں میں مسلم نوجوانوں کو اذیت دینے، لوگوں کے گھروں پر غیر قانونی طور پر بلڈوزر چلانے اور حالیہ تشدد میں یکطرفہ کارروائی کے سوال پر قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین جسٹس ارون مشرا سے ملاقات کر کے میمورنڈم پیش اور تمام تفصیلات سے آگاہ کیا۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتر پردیش کی انچارج پرینکا گاندھی کی ہدایت پر وفد میں اترپردیش کے سکریٹری انچارج توقیر عالم، دھیرج گوجر، راجیش تیواری، اقلیتی کانگریس اتر پردیش کے صدر شاہنواز عالم اور غازی آباد اقلیتی کانگریس ضلع کے صدر یامین ملک شامل تھے۔
کانگریس کے لیڈروں نے کمیشن کے چیئرمین ارون مشرا کو تفصیل سے بتایا کہ کس طرح 11 جون کو سہارنپور کوتوالی میں کئی نابالغوں سمیت مسلم نوجوانوں کو پولیس نے نہ صرف بے دردی سے مارا، بلکہ ان کا ویڈیو بھی بنا کر وائرل کیا۔ اس ویڈیو کو بی جے پی کے ایک ایم ایل اے شلبھ منی ترپاٹھی نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کیا، جو کہ حکومتی سطح پر اس طرح کے تشدد کو فروغ دینے اور پولیس کے غلط استعمال کا کھل کھلم معاملہ ہے۔ کانگریس قائدین نے الہ آباد کے جاوید محمد اور ان کی بیٹی آفرین فاطمہ کے مکان کو بغیر کسی قانونی عمل کے بلڈوزر سے مسمار کرنے کا سوال بھی اٹھایا۔
کانپور تشدد کے نام پر پولس کی یک طرفہ کارروائی کی مثال دیتے ہوئے کانگریس لیڈروں نے کہا کہ ثبوت ہونے کے باوجود کانپور پولس نے ان پولیس والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی، جن کی موجودگی میں بی جے پی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے پتھراؤ کیا۔ پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے پوسٹروں میں صرف مسلم کمیونٹی کے لوگوں کی تصویریں ہیں، جب کہ تشدد میں دونوں طرف کے لوگوں کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں۔
وفد نے یہ بھی بتایا کہ پولیس دو سال قبل سی اے اے-این آر سی مخالف مظاہروں میں ملوث افراد کے خلاف انتقامی کارروائی کر رہی ہے۔ جو حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوام کے احتجاج کے حق کو مجرمانہ بنانے کی کوشش کا حصہ ہے۔ وفد نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ان واقعات کو روکنے کے لیے اتر پردیش حکومت سے مناسب ہدایات دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
(جنرل (عام
آسام ویجیلنس ڈی ایس پی ہوٹل کے کمرے میں مردہ پائے گئے تحقیقات جاری ہیں

گوہاٹی : آسام میں چیف منسٹر کے ویجیلنس سیل سے منسلک ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کھرگیشور رابھا کی جزوی طور پر بوسیدہ لاش جمعرات کو بونگائیگاؤں کے ایک ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہوئی، جس سے اس کی موت کے آس پاس کے حالات کی تحقیقات شروع ہوگئی، حکام نے بتایا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق رابھا کی لاش بونگائی گاؤں میں ہوٹل جاہنوی ریجنسی کے کمرہ نمبر 102 کے اندر سے ملی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جب اسے برآمد کیا گیا تو لاش جزوی طور پر گلنے والی حالت میں تھی۔ جسم کی بازیابی کی وجہ سے حالات واضح نہیں ہیں۔ موت کی وجہ سرکاری طور پر قائم نہیں ہوسکی ہے اور واقعے کے حوالے سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ پولیس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ افسر کی موت کے ارد گرد کے حالات کی تحقیقات کرے گی اور اس کی لاش کی بازیابی سے پہلے کے واقعات کی ترتیب قائم کرے گی۔
فوری طور پر اس بارے میں کوئی سرکاری معلومات دستیاب نہیں ہوسکی کہ آیا کسی غلط کھیل کا شبہ تھا یا پوسٹ مارٹم کا معائنہ کیا گیا تھا۔ تحقیقات کے نتائج اور طبی معائنے سمیت مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں آسام میں پولیس اہلکاروں پر مشتمل پریشان کن اقساط کی ایک سیریز کے درمیان سامنے آیا ہے، بشمول عسکریت پسندوں کے حملے، پولیس آپریشن کے دوران حملے اور سیکورٹی اداروں کے اندر مہلک فائرنگ۔ 10 ستمبر کو، ضلع ناگون کے گائوں گیرواٹی میں ایک آپریشن کے دوران مبینہ طور پر ایک پولیس ٹیم پر لوگوں کے ایک گروپ کی طرف سے حملہ کیا گیا جس میں کھٹووال تھانے کے انچارج سمیت پانچ پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ واقعے میں پولیس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔
اس سے قبل 3 ستمبر کو کامروپ ضلع کے گیمریمورا پولیس چوکی پر فائرنگ میں آسام پولیس کے دو اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ ایک ساتھی پولیس اہلکار پر اے کے 47 رائفل سے فائرنگ کرنے کا الزام تھا۔ ایک اور بڑے واقعے میں، آسام پولیس کے چار اہلکار زخمی ہوئے جب مشتبہ عسکریت پسندوں نے 22 مارچ کو تینسوکیا ضلع کے جگن میں ایک پولیس کمانڈو چوکی پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، حملے میں راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ شامل تھے۔ ان واقعات نے ریاست میں پولیس اہلکاروں کو آپریشن کے دوران اور سیکورٹی اداروں کے اندر درپیش خطرات کو اجاگر کیا ہے۔ تاہم، پولیس ابھی تک ان واقعات اور رابھا کی موت کے درمیان کوئی تعلق قائم نہیں کر پائی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر میں مجوزہ یکساں سول کوڈ سے متعلق مسلمانوں اور اقلیتی برادریوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کا ابوعاصم اعظمی کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماج وادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں یکساں سول کوڈ کے نفاذ سے متعلق رائے طلب کئے جانے کے ساتھ اس میں مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی عقائد کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے ایک میمورنڈم میں وزیر اعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام کو یہ باور کروایا کہ یو سی سی یکساں سول کوڈ سے متعلق فیصلہ میں سرکار مسلمانوں اقلیتوں کے مذہبی آزادی اور ان کے حقوق کا خیال رکھیں۔ مہاراشٹر میں مجوزہ یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے مطابق شہریوں سے طلب شدہ اعتراضات اور تجاویز کے پس منظر میں، ایک نمائندگی و میمورنڈم وزیر اعلی ریاست مہاراشٹر دیویندر فڑنویس ممبئی سٹی، ممبئی مضافاتی اور بھیونڈی کے متعلقہ ڈسٹرکٹ کلکٹرس کو پیش کیا گیا اس میں مطالبے کیا گیا تمام اقلیتی برادریوں بشمول مسلم کمیونٹی کے آئین ہند کی طرف سے دی گئی مذہبی آزادی، ذاتی قوانین سے متعلق حقوق اور حقوق کے تحفظ کیا جائے اس یادداشت کے معرفت یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کے بارے میں فیصلہ لیتے وقت مسلم کمیونٹی کے مذہبی عقائد، روایات اور پرسنل لاز پر مکمل غور کیا جائے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نکاح، مہر، طلاق، نفقہ اور وراثت کے حقوق جیسے مسائل پر کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل مسلم کمیونٹی کے مذہبی رہنماؤں، فقہا، خواتین کے نمائندوں اور اقلیتی برادریوں کے نمائندوں سے وسیع تر بات چیت کی جانی چاہیے۔ یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ مجوزہ یکساں سول کوڈ کا پورا مسودہ منظر عام پر لایا جائے، شہریوں کو اپنے اعتراضات اور تجاویز کے لیے مناسب وقت دیا جائے اور موصول ہونے والی تمام تجاویز پر منصفانہ غور کیا جائے۔ ساتھ ہی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یکساں سول کوڈ کے عمل میں آئین میں مساوات کا حق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے آئینی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ خواتین اور مردوں کو یکساں انصاف، وقار اور قانونی تحفظ ملنا چاہیے۔ تاہم اس کے لیے کسی بھی مذہبی طبقے کے آئینی حقوق کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس میں موقف پیش کیا گیا ہے کہ حکومت کو تمام متعلقہ برادریوں کو اعتماد میں لینے، شفاف طریقے سے اور وسیع تر بات چیت کے بعد ہی آگے کی کارروائی کرنی چاہیے۔ حکومت اس بیان کا نوٹس لے، مسلم کمیونٹی سمیت تمام اقلیتی برادریوں کے اعتراضات اور تجاویز پر صحیح غور کرے اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدام کرے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ٹائیگر شراف فائرنگ معاملے میں مزید چار گرفتار، دو خواتین پر اسلحہ فراہم کرنے کا الزام، ملزمین 26 اکتوبر تک پولیس ریمانڈ پر

ممبئی ٹائیگر شراف فائرنگ کیس میں ممبئی کرائم برانچ نے مزید چار ملزمین کو گرفتار کیا ہےجس میں دو خواتین اور دو مرد شامل ہے ان دو خواتین میں بییتا اور رداھا جبکہ اس میں کنال اور ویجندر کو گرفتار کیا گیا ہے ان چاروں ملزمین کو آج قلعہ کورٹ میں پیش کیا گیا اس دوران سیکورٹی کے پختہ انتظامات کیے گئے تھے پولس نے اس معاملہ میں ملزمین سے تفتیش کےلئے ریمانڈ طلب کیا جس کے بعد پولس کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے عدالت نے ملزمین کو۲۶ اکتوبر تک پولس ریمانڈپر رکھنے کا حکم صادر کیا ہے ان دو خواتین پر شوٹروں کو اسلحہ جات فراہم کرنے اور ملزمین کی مدد کا الزام ہے اس معاملہ میں مزید تفتیش اورُیہ معلوم کرنے کہ آیا ملزمین کا تعلق بشنوئی گینگ سے ہے یا نہیں اس کی تفتیش کےلیے پولس نے ریمانڈطلب کیا تھااب تک پولس نے اس معاملہ میں ۱۰ ملزمین کو گرفتار کیا ہے اس کے ساتھ ہی پولس نے شوٹروں پھول سنگھ ، ریحان اور ریتک عرف روشن کو گرفتار کیا تھا ان تینوں نے ہی فائرنگ کی تھی اور ممبئی سے فرار ہو کر دلی بذریعہ ٹرین سفر کر رہے تھے ممبئی پولس کی اطلاع پر کوٹا پولس نےانہیں گرفتار کیا گیا اس کے ساتھ دلی اسپیشل سیل نے ہریانہ اور دلی سے ۶ ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس میں خواتین اور دیگر اسلحہ سپلائر بھی شامل ہے اس معاملہ میں پولس مزید تفتیش کر رہی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
سیاست1 year agoملک میں سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے… الیکشن کمیشن کل کی پریس کانفرنس میں راہول گاندھی کے ووٹ چوری کے الزامات کا جواب دے سکتا ہے۔
