Connect with us
Wednesday,24-June-2026

سیاست

اخلاقی تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لئے یومِ اطفال کا انعقاد

Published

on

Jawaharlal Nehru

جب ہم ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش بشکلِ یومِ اطفال مناتے ہیں تو سب سے پہلے تو اس عظیم شخصیت یعنی جواہر لال نہرو کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے جس نے بچوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اور نشو ونما کرنے کا عمل اور نظریہ یہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے ملک کے مستقبل کو سنوار رہے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ بچے ان پودوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی مناسب و معقول نگہداشت اور تراش خراش سے یہ پودے سرسبز و شاداب پیڑوں یا اشجار میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور عدم توجہی سے سے یا تو سوکھ جاتے ہیں یا بے ہنگم و بے ترتیب ہوجاتے ہیں لہٰذا بچوں کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کے پیش نظر ان کی مکمل نگرانی اور آبیاری ضروری ہے یومِ اطفال منانے کا مقصد بچوں میں تعلیم، صحت، اخلاق ،حب الوطنی ، انکساری ، احساسِ ذمہداری اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعوروآگہی کو اجاگر کر کرکے انہیں بہترین شہری اور آدمی سے انسان بناناہے تاکہ ہمارے ملک کے بچے مستقبل میں معاشرے کے بہترین شہری بن کر خوبصورت ملک و معاشرے کی تعمیر وتشکیل کر سکیں۔

اسی لئے انٹگرل کے نیشنل اسکول سے یونیورسٹی تک سبھی اداروں اور شعبوں میں بچوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرانے اور مہ داریوں کا احساس کرانےکے لیے اخلاقی تعلیم پر مبنی خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اور اسی مقصد کے لئے اس بار بھی خصوصی لیکچروں کا ہتمام کیا گیا ،کسی بھیدرسگاہ کے اساتذہ اپنے طلبا میں تحریک پیدا کرتے ہیں ،وہ سوچیں کہ کس طرح بچے خود کو تعلیمی و سماجی لحاظ سے بہتر بناسکتے ہیں۔ اس دن تقریریں کی جاتی ہے، مختلف قسم کے مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بچوں میں انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔

ثقافتی پروگرام منعقد کیےجاتے ہیں۔بچوں کی بہتری اور فلاح و بہبود کے عنوانات پر غوروفکر کیا جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ایسے ہی عنوانات پر تقریریں ہوتی ہیں جن سے زندگی بہتر بن سکے ،سچ ہے کہ بچے ہماری قوم کے عظیم سرمایہ ہیں، بچے ہمارے دیش کا مستقبل ہیں اس لیے ان کی کامیابی کے لئے ہمیں غور و فکر کرنی چاہئے،عام طور پر ‘بچے’ کی تعریف 18 برس سے کم عمر کے بچے کے طور پر کی جاتی ہے۔

بچوں کے حقوق انسانی حقوق ہیں۔ ان حقوق میں بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی حفاظت کے لئے خصوصی ضرورتوں کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان حقوق میں بچوں کے درمیان مساوات اور یکجہتی کو فروغ دینے کے عوامل بھی لازم و ملزوم ہیںکئی ممالک بچوں کے حقوق کے حوالے سے موجود بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کئے ہوئے ہیں مگر خاطر خواہ عمل نہیں ہوتا۔ ملکی آئین میں قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل در آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی بچوں کے لئے انتہائی غیر محفوظ بن کر رہ گیا ہے۔ آئے روز بچوں پر جنسی تشدد اور ہراسانی، قتل کی خبریں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا ہے اور جلد مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا لیکن ایک واقعے کی بازگشت کانوں سے نہیں جاتی کہ دوسرا واقعہ سر اٹھاتا ہے۔

بچوں پر تشدد کے کئی اقسام ہیں، جیسے گھریلو تشدد، جنسی تشدد، بچے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا، آن لائن تشدد وغیرہ، پروفیسر سید وسیم اختر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے آئین ودستور نے بچوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی بہتر پرورش کے لیے واضح احکامات دئے ہیں ،مرکزی اور ریاستی حکومتیں بھی بچوں کو بہتر زندگی ، عمدہ تعلیمی ماحول اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں ایسا نظم قائم کریں جس سے آئین ودستور کی پاسداری کے ساتھ ساتھ بچوں کا مستقبل بھی روشن ہوسکے۔ یہی ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کو صحیح خراج عقیدت بھی ہوگا اور ہمارے ملک کا مستقبل بھی سنور سکے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی لوکل ٹرین میں بارش کے دوران دروازہ بند کرنے کے تنازع میں قتل

Published

on

ممبئی : ممبئی کی لوکل ٹرین میں ایک سنسنی خیز قتل سے کشیدگی پھیل گئی ہے۔ ممبئی کی لوکل ٹرین میں ایک مسافر کو دوسرے مسافر نے کو چاقو گھونپ کر ہلاک کر دیا۔ یہ واقعہ منگل کی رات تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ پولیس نے بتایا کہ مقتول مسافر کا نام میانک لوہار (22) ہے۔ ملزم کی شناخت ہو گئی ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے ریلوے پولیس نے چھ ٹیمیں تعینات کر دی ہیں۔ اس واقعے کے بعد ایک بار پھر سفری حفاظت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ منگل 23 جون کی رات تقریباً 10 بجے ممبئی کی لوکل ٹرین میں ایک شخص کو چاقو مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ فرسٹ کلاس کے ڈبے میں پیش آیا۔ یہ واقعہ بوریولی اور اندھیری اسٹیشنوں کے درمیان پیش آیا۔ شدید بارش کے دوران ٹرین کا دروازہ بند کرنے پر جھگڑا ہوا اور اس نے شدت اختیار کر لی اسی دوران ایک مسافر نے دوسرے مسافر کو چاقو گھونپ کر قتل کر دیا۔ ریلوے پولیس کے ذرائع کے مطابق جھگڑے کے بعد دیگر افراد نے ملزم کی پٹائی کی۔ مشتعل ملزم نے اپنے بیگ سے چاقو نکال کر مایانک پر حملہ کر دیا جس میں میانک کی موت ہو گئی۔ حملہ آور بوریولی اسٹیشن پر ٹرین کے رکنے سے پہلے ہی اتر کر فرار ہوگیا۔ واقعے کے بعد ریلوے پولیس نے ملزم کی گرفتاری کے لیے چھ ٹیمیں تشکیل دی ہے اور پولس نے سرچ آپریشن اور تلاشی مہم بھی شروع کر دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گرگاؤں موبائل چور گروہ بے نقاب ایک گرفتار، چوری کا سامان برآمد، ۷ معمہ حل کرنے کا پولس کا دعویٰ

Published

on

Mobile-Chor

ممبئی پولس نے ایک ایسے گروہ کو بے نقاب کیا ہے جو موبائل فون چوری کیا کرتا تھا۔ گرگاؤں علاقہ میں ایک موبائل دکان کے مالک ولاس جیٹھا لال نے شکایت درج کروائی کہ 10 جون کو ان کی دکان سے تین سمسنگ موبائل چوری ہوئے ہیں۔ اس پر پولس نے پولس نے چوری کا کیس درج کر لیا۔ ٹیکنکل تفتیش میں یہ معلوم ہوا کہ اس چوری میں محمد علی ملوث ہے۔ اسے زیر حراست لے کر باز پرس کی گئی تو چوری کا معمہ حل ہو گیا اور اس معاملہ میں ملوث مزید ملزمین میں دانش قریشی، عامر رئیس قریشی، قاصب خان اور ذاکر خان شامل ہیں۔ محمد علی کے قبضے سے چوری کے تین موبائل کے ساتھ ۴۲ موبائل بھی ضبط کئے گئے اور چوری کے ۷ معاملہ کو پولس نے حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی آر راگسودھا نے انجام دی ہے۔ مسروقہ مال کی برآمد عمل میں لائی گئی ہے۔ محمد علی کے ساتھی چوری کے سامان اپنے پاس رکھتے تھے۔ پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں شدید بارش میونسپل کارپوریشن تیار، نشیبی علاقوں میں پانی کی تیزی سے نکاسی

Published

on

ممبئی : شہر اور مضافاتی علاقوں میں گزشتہ چند گھنٹوں سے موسلادھار بارش جاری ہے، کئی علاقوں میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس پس منظر میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کا ایمرجنسی سسٹم پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے اور 7 ہزار سے زیادہ افسران اور ملازمین کو مختلف مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔ اگرچہ مسلسل بارش نے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کی صورت حال پیدا کردی ہے، لیکن میونسپل کارپوریشن کی جانب سے لگائے گئے پانی نکالنے والے پمپ، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے والے اسٹیشن اور فلڈ کنٹرول سسٹم کو فعال کردیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے جمع پانی تیزی سے نکاسی کی جارہی ہے، ٹریفک بھی رواں دواں ہے۔ میونسپل کارپوریشن کا ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ نشیبی علاقوں، ریلوے اسٹیشنوں، اہم سڑکوں، پلوں اور ساحلی علاقوں کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے۔ متعلقہ محکموں کے انجینئرز، عملہ اور کنٹرول روم 24 گھنٹے کام کر رہے ہیں اور شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر فوری ایکشن لیا جا رہا ہے۔

ڈرین کی صفائی، برساتی نالوں اور پانی کی نکاسی کے نظام کا باقاعدہ معائنہ کیا جا رہا ہے اور ضرورت کے مطابق اضافی افرادی قوت اور مشینری کو موقع پر بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ فائر بریگیڈ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیموں اور دیگر متعلقہ نظاموں کو درخت گرنے، شارٹ سرکٹ، پانی جمع ہونے یا دیگر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رکھا گیا ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں میونسپل کارپوریشن کے کنٹرول روم سے رابطہ کریں۔ دریں اثناء بارش کی شدت جاری رہنے کے امکان کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی گئی ہے اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا ہے کہ میونسپل کارپوریشن شہریوں کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کو بروئے کار لا رہی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان