سیاست
اخلاقی تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لئے یومِ اطفال کا انعقاد
جب ہم ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کا یوم پیدائش بشکلِ یومِ اطفال مناتے ہیں تو سب سے پہلے تو اس عظیم شخصیت یعنی جواہر لال نہرو کا تصور ہمارے ذہن میں آتا ہے جس نے بچوں کو ملک کا مستقبل قرار دیتے ہوئے یہ کہا تھا کہ بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت اور نشو ونما کرنے کا عمل اور نظریہ یہ بتاتا ہے کہ ہم اپنے ملک کے مستقبل کو سنوار رہے ہیں ، انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی و چانسلر پروفیسر سید وسیم اختر کہتے ہیں کہ بچے ان پودوں کی طرح ہوتے ہیں جن کی مناسب و معقول نگہداشت اور تراش خراش سے یہ پودے سرسبز و شاداب پیڑوں یا اشجار میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور عدم توجہی سے سے یا تو سوکھ جاتے ہیں یا بے ہنگم و بے ترتیب ہوجاتے ہیں لہٰذا بچوں کی تعلیم و تربیت کی اہمیت کے پیش نظر ان کی مکمل نگرانی اور آبیاری ضروری ہے یومِ اطفال منانے کا مقصد بچوں میں تعلیم، صحت، اخلاق ،حب الوطنی ، انکساری ، احساسِ ذمہداری اور ذہنی تربیت کے حوالے سے شعوروآگہی کو اجاگر کر کرکے انہیں بہترین شہری اور آدمی سے انسان بناناہے تاکہ ہمارے ملک کے بچے مستقبل میں معاشرے کے بہترین شہری بن کر خوبصورت ملک و معاشرے کی تعمیر وتشکیل کر سکیں۔
اسی لئے انٹگرل کے نیشنل اسکول سے یونیورسٹی تک سبھی اداروں اور شعبوں میں بچوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کرانے اور مہ داریوں کا احساس کرانےکے لیے اخلاقی تعلیم پر مبنی خصوصی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ اور اسی مقصد کے لئے اس بار بھی خصوصی لیکچروں کا ہتمام کیا گیا ،کسی بھیدرسگاہ کے اساتذہ اپنے طلبا میں تحریک پیدا کرتے ہیں ،وہ سوچیں کہ کس طرح بچے خود کو تعلیمی و سماجی لحاظ سے بہتر بناسکتے ہیں۔ اس دن تقریریں کی جاتی ہے، مختلف قسم کے مقابلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے اور بچوں میں انعامات تقسیم کیے جاتے ہیں۔
ثقافتی پروگرام منعقد کیےجاتے ہیں۔بچوں کی بہتری اور فلاح و بہبود کے عنوانات پر غوروفکر کیا جاتا ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ایسے ہی عنوانات پر تقریریں ہوتی ہیں جن سے زندگی بہتر بن سکے ،سچ ہے کہ بچے ہماری قوم کے عظیم سرمایہ ہیں، بچے ہمارے دیش کا مستقبل ہیں اس لیے ان کی کامیابی کے لئے ہمیں غور و فکر کرنی چاہئے،عام طور پر ‘بچے’ کی تعریف 18 برس سے کم عمر کے بچے کے طور پر کی جاتی ہے۔
بچوں کے حقوق انسانی حقوق ہیں۔ ان حقوق میں بچوں کی دیکھ بھال اور ان کی حفاظت کے لئے خصوصی ضرورتوں کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ ان حقوق میں بچوں کے درمیان مساوات اور یکجہتی کو فروغ دینے کے عوامل بھی لازم و ملزوم ہیںکئی ممالک بچوں کے حقوق کے حوالے سے موجود بین الاقوامی معاہدوں پر دستخط کئے ہوئے ہیں مگر خاطر خواہ عمل نہیں ہوتا۔ ملکی آئین میں قوانین ہونے کے باوجود ان پر عمل در آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ بحیثیت مجموعی بچوں کے لئے انتہائی غیر محفوظ بن کر رہ گیا ہے۔ آئے روز بچوں پر جنسی تشدد اور ہراسانی، قتل کی خبریں، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں اور یہ باور کرایا جاتا ہے کہ اعلیٰ حکام نے نوٹس لے لیا ہے اور جلد مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا لیکن ایک واقعے کی بازگشت کانوں سے نہیں جاتی کہ دوسرا واقعہ سر اٹھاتا ہے۔
بچوں پر تشدد کے کئی اقسام ہیں، جیسے گھریلو تشدد، جنسی تشدد، بچے کو مکمل طور پر نظر انداز کر دینا، آن لائن تشدد وغیرہ، پروفیسر سید وسیم اختر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے ملک کے آئین ودستور نے بچوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کی بہتر پرورش کے لیے واضح احکامات دئے ہیں ،مرکزی اور ریاستی حکومتیں بھی بچوں کو بہتر زندگی ، عمدہ تعلیمی ماحول اور تحفظ فراہم کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے تعلیمی اداروں میں ایسا نظم قائم کریں جس سے آئین ودستور کی پاسداری کے ساتھ ساتھ بچوں کا مستقبل بھی روشن ہوسکے۔ یہی ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کو صحیح خراج عقیدت بھی ہوگا اور ہمارے ملک کا مستقبل بھی سنور سکے گا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : دیونار اور باندرہ میں بی ایم سی اور کرائم برانچ کا فرضی ڈاکٹروں کے خلاف کریک ڈاؤن، ادویات اور دیگر اشیاء ضبط پانچ ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج

ممبئی : ممبئی شہر میں فرضی اور جھولا چھاپ ڈاکٹروں کے خلاف ممبئی کرائم برانچ اور بی ایم سی نے مشترکہ کاروائی انجام دی ہے ممبئی کے دیونار اور باندرہ علاقہ میں ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ ۶ نے کریک ڈاؤن کرتے ہوئے پایا کہ یہ بغیر کسی سرٹیفیکٹ پریکٹس کیا کرتے تھے, اور ان کلینکس سے انجکشن ادویات تقریبا ایک لاکھ سے زائد کا سامان بھی ضبط کیا ہے, یہ ڈاکٹر بغیر سرٹیفیکٹ کے کلینک چلاتے تھے اور مریضوں کی جان کے لئے خطرہ تھے, اس لئے ممبئی کرائم برانچ نے پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر کارروائی کی ہے اور ڈی سی پی نانوتھ ڈھولے نے یہاں کارروائی کی سربراہی کی ہے۔ دیونار اور باندرہ میں صغیر احمد عبدالمجید ہاشمی ۳۹ سالہ ڈاکٹر صغیر کلینک، اکھلیش کمار دوبے ۴۷ گائیتری کلینک، محمد عالم محمد شریف شیخ عائشہ کلینک، کیشو پرساد پٹیل کلینک اور آفتاب خان آفتاب کلینک کا لائسنس معطل کردیا گیا ہے, ان ڈاکٹروں کے خلاف دیونار اور نرمل نگر پولس میں کیس درج کیا گیا ہے۔ ان بوگس اور فرضی ڈاکٹروں کا لائسنس بھی معطل کیا گیا ہے بوگس ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کے دوران پایا گیا کہ ان کے پاس کوئی بھی مستند دستاویزات نہیں تھے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : ریاست بھر میں کیپٹل اسکیم کے نام پر 30 کروڑ روپے کا فراڈ، 4 گرفتار، 12 لاکھ ضبط، مزید تفتیش جاری

ممبئی : ممبئی اقتصادی ونگ ای او ڈبلیو نے ایک ایسے اے آئی اوریجن اور ڈیجیٹل اوریجن نامی غیر قانونی کمپنی کو بے نقاب کرتے ہوئے۴ دھوکہ بازوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے جو زیادہ منافع کے نام پر لوگوں کو بے وقوف بنا کر دھوکہ بازی کیا کرتے تھے۔ اوریجن ممبئی ای او ڈبلیو نے ‘اے آئی اوریجن / ڈیجیٹل اوریجن’ کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ ممبئی اکنامک آفنس ونگ (ای او ڈبلیو) نے ایک مبینہ پونجی سرمایہ کاری گھوٹالہ کے سلسلے میں کمپنی ‘اے آئی اوریجن / ڈیجیٹل اوریجن’ کے آپریٹرز اور دیگر ملزمین کے خلاف مقدمہ درج کر کے کارروائی شروع کی ہے۔ پولیس کے مطابق، کمپنی نے آر بی آئی یا ایس ای بی سیبی سے مطلوبہ منظوری کے بغیر سرمایہ کاری کی اسکیمیں چلا کر عوام سے کافی رقم جمع کی۔ آپریشن کے دوران، حکام نے 12 لاکھ روپے سے زیادہ کی نقدی، بینک پاس بکس، کاریں، اور لیپ ٹاپ / الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے۔ اس کیس میں متعدد ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، اور اقتصادی جرائم ونگ کی جانب سے تفتیش جاری ہے۔ اس کمپنی میں۳۰ کروڑ سے زائد سرمایہ کاری کی گئی ہے اس کمپنی نے تھانہ پالگھر، پمپری چنچوڑ، سانگلی ستارہ کولہاپور میں بھی اپنے دفاتر شروع کئے تھے اس کمپنی کے خلاف ممبئی کے گھاٹکوپر پنتھ نگر میں بھی مقدمہ درج کیا گیا۔ ای او ڈبلیو نے کمپنی کے صدر کرشنا چوان، انکوش شانتا رام، ڈاکٹر سودیش موہتے اور ایجنٹ سبھاش پندرے کو گرفتار کیا گیا ہے اس کے ساتھ ہی کمپنی کے دفترآر اے پام میں چھاپہ مار کر دستاویز سمیت دیگر سامان اور نقدی ضبط کیا گیا ہے۔ اس کمپنی کے سرمایہ کاری کے لئے لوگوں کو مائل کرنے کے لئے انہیں بیرون ملک پکنک بھی بھیجا کرتے تھے۔ اتنا ہی نہیں ملزمین سیمنار بھی منعقد کرتے تھے اور سیمنار میں لالچ دیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ یہاں ماحول تیار کیا کرتے تھے کہ اتنا نفع سرمایہ کاری پر ہوتا ہے۔ ایک ماہ سرمایہ کاری پر ای او ڈبلیو نے نگرانی کی اور اس کے بعد آپریشن کو انجام دیا گیا۔ ڈی سی پی سنگرام نشاندار نے بتایا کہ ای او ڈبلیو کئ انٹلیجنس یونٹ نے ایسی کمپنوں پر نظر رکھنا شروع کردی ہے جو اس قسم کی اسکیمات چلا کر سوشل میڈیا پر لوگوں کو اشتہارات نشر کر کے بے وقوف بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر نگرانی بھی رکھی جاتی ہے اس کمپنی نے بھی نت نئے اشتہارات کے ذریعہ سوشل میڈیا پر پرکشش اسکیم کا لالچ دے کر لوگوں کو سرمایہ کاری پر مائل کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹوریس اسکیم کے بعد پونجی اسکیم پر نگرانی اور ایسے معاملات پر ای او ڈبلیو نے نظر رکھ کر تفتیش شروع کردی ہے۔ ممبئی ای او ڈبلیو نے اپنی کارروائی میں کروڑوں روپے کے گھوٹالے کو بے نقاب کرتے ہوئے ۴ ملزمین کو گرفتار کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : عوامی گنیش منڈلوں کے منڈپ بنانے کی اجازت کے لیے آن لائن سنگل ونڈو سسٹم شروع، ایک سال یا پانچ سالہ اجازت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں

ممبئی منڈپ شامیانے بنانے کے لیے ضروری اجازت حاصل کرنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ایک بار پھر ممبئی میں عوامی گنیشوتسو منڈلوں کے لیے آن لائن سنگل ونڈو سسٹم دستیاب کرایا ہے۔ میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ پر عوامی گنیشوتسو تہوار کے دوران عارضی منڈپ کی تعمیر کی اجازت دینے کے لیے کمپیوٹرائزڈ نظام کو فعال کردیا گیا ہے۔ یہ سسٹم جمعہ 14 اگست 2026 سے آن لائن استعمال کے لیے دستیاب کر دیا گیا ہے۔ مزید برآں، چونکہ اس وقت عوامی گنیش اتسو کے متعلق سماعت ہو رہی ہے۔ منڈل عدالت کے ذریعے دیے گئے احکامات کے پابند ہیں اجازت ان ہدایات کی تعمیل کے تحت دی جا رہی ہے۔
عوامی گنیش اتسو منڈلوں کو منڈپ کی اجازت کے لیے اپنی درخواستیں بی ایم سی کی ویب سائٹ (https://portal.mcgm.gov.in) کے ذریعے جمع کرانی ہوں گی جس کا لیبل لگا ہوا ‘شہریوں کے لیے منڈپ (عوامی گنیش اتسو /دیگر تہوار)’ کا لیبل لگا ہوا ہے۔ موصول ہونے پر متعلقہ وارڈ آفس کے ذریعے درخواستوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ اس کے بعد متعلقہ مقامی پولیس اور ٹریفک پولیس سے ‘نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس’ (این او سی) حاصل کرنے کا عمل کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے کیا جائے گا۔ اس پورے عمل کو ڈویژنل اسسٹنٹ کمشنر اور زونل ڈپٹی کمشنر کی رہنمائی میں نافذ کیا جائے گا۔
نئے منڈلوں کا طریقہ کار :
سرکاری یا نجی زمین پر عوامی گنیشوتسو منڈپ* (مارکی) بنانے کے لیے پہلی بار درخواست دینے والے منڈلوں کو میونسپل کارپوریشن کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن درخواست جمع کرنی ہوگی۔ ڈویژنل آفس کے ذریعے درخواست کی جانچ پڑتال اور مقامی اور ٹریفک پولیس سے این او سی حاصل کرنے کے بعد، درخواست زونل ڈپٹی کمشنر کو منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔ ایک بار جب ڈپٹی کمشنر کی منظوری مل جاتی ہے اور منڈل 100 فیس ادا کرتا ہے، تو منڈپ کی اجازت ڈویژنل سطح پر دی جائے گی۔
پانچ سالہ اجازت کے ساتھ منڈلوں کے لیے تجدید کی سہولت جن منڈلوں نے پہلے پانچ سال (سرکاری یا نجی زمین پر) اجازت حاصل کی تھی ان کے لیے اجازتوں کی تجدید کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے عمل میں لائی جائے گی۔ جن گنیشوتسو منڈلوں نے گزشتہ سال پانچ سال کی اجازت حاصل کی تھی، انہیں سال 2026 کے لیے اپنی اجازت کی تجدید کے لیے آن لائن درخواست جمع کرنی ہوگی۔ ڈویژنل دفتر ذاتی طور پر اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سائٹ کا مقام اور علاقہ پہلے سے منظور شدہ اجازت سے مماثل ہے۔ اس کے بعد مقامی اور ٹریفک پولیس سے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے این او سی حاصل کیے جائیں گے۔ منڈل کی جانب سے 100 فیس ادا کرنے کے بعد 2026 کے لیے اجازت کی تجدید کی جائے گی۔
منڈلوں کے لیے دو اختیارات 2025 میں ایک سال کی اجازت دی گئی۔ اس سال گنیشوتسو منڈلوں کے لیے ایک اہم سہولت دستیاب کرائی گئی ہے جنہیں 2025 میں صرف ایک سال کے لیے (سرکاری یا نجی زمین پر) منڈپ بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ایسے منڈل صرف سال 2026 کے لیے، یا 2026 سے 2030 کے لیے پانچ سال کی مدت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ ان درخواستوں کی جانچ ڈویژنل دفتر کرے گا، اور کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے مقامی اور ٹریفک پولیس سے این او سی حاصل کیے جائیں گے۔ اس کے بعد، 100 روپے کی فیس کی ادائیگی پر، درخواست کی بنیاد پر وارڈ کی سطح پر اجازت دی جائے گی۔
منڈپ کی اجازت کے لیے درخواست کی مدت :
عوامی تہوار کے لیے منڈپ* (مارکیز) بنانے کی اجازت کے لیے درخواستیں کمپیوٹرائزڈ سسٹم کے ذریعے 14 اگست 2026 سے 13 ستمبر 2026 کے درمیان جمع کرائی جا سکتی ہیں۔ گنیشوتسو منڈپ کی اجازت کی میعاد 26 ستمبر 2026 تک ہے۔ 10 اکتوبر 2026; نوراتری کے لیے منڈپ کی اجازت کی میعاد 21 اکتوبر 2026 تک بڑھ گئی ہے۔
دو رضاکاروں کے لیے لازمی تربیت :
گنیش اتسو منڈپ سائٹس پر نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے، وارڈ آفس کی سطح پر بھیڑ مینجمنٹ، فائر سیفٹی، اور ابتدائی طبی امداد جیسے موضوعات کا احاطہ کرنے والی ایک روزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس ٹریننگ میں ہر عوامی گنیشوتسو منڈل (آرگنائزنگ کمیٹی) سے دو رضاکاروں کا شرکت کرنا لازمی ہے۔
گڑھے سے پاک منڈپ کی تعمیر پر زور :
منڈپ بنانے کے لیے سڑکوں یا فٹ پاتھوں میں گڑھے نہیں کھودنے چاہئیں۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے منتظمین پر زور دیا ہے کہ وہ موثر تکنیک استعمال کریں جن کے لیے گڑھے کھودنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر منڈپ کی تعمیر کے لیے سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر گڑھے کھودے جائیں تو متعلقہ سرکلر کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، عوامی گنیشوتسو منڈلوںکو لائسنس ڈپارٹمنٹ کے سرکلر میں بیان کردہ شرائط اور اشتہارات سے متعلق ضوابط پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔ منڈپ کی تعمیر کے لیے آگ سے حفاظت کے ضروری اقدامات کی تعمیل بھی لازمی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
