Connect with us
Saturday,28-March-2026

(جنرل (عام

منہدم ہوئی پانچ منزلہ عمارت، ملبے میں دبے 14 لوگ نکالے گئے

Published

on

Lucknow Collapse

لکھنو میں منگل کی شام خوفناک حادثے میں وزیر حسن روڈ پر واقع پانچ منزلہ اپارٹمنٹ ’الایہ‘ تاش کے پتوں کی طرح منہدم ہوگئی۔ ملبے میں 30 سے زیادہ لوگ دب گئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس، فائربریگیڈ، ایس ڈی آر ایف اور فوج کے جوانوں نے ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے اب تک 14 لوگوں کو باہر نکال کر اسپتال میں بھرتی کرایا ہے۔ باقی پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے راحت رسانی کے کام جاری ہیں۔

لکھنو کے ڈی ایم سوریہ پال گنگاوار نے بتایا کہ رہائشی عمارت گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ابھی آپریشن جاری رہے گا۔ 6-5 لوگ پھنسے ہیں۔ ہم نے ان میں سے کچھ سے رابطہ کیا ہے۔ انہیں آکسیجن مہیا کرائی جارہی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایس چوہان نے بتایا کہ پانچ لوگ ابھی بھی ملبے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہیں مناسب آکسجن کی سپلائی کی جارہی ہے۔ وہ ایک ہی کمرے میں ہیں۔ ہم دو لوگوں کے رابطے میں ہیںَ ابھی تک کسی کی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ معامے کی مناسب جانچ کی جائے گی۔ڈپٹی سی ایم برجیش پاٹھک و شہری ترقیاتی وزیر اے کے شرما سمیت انتظامیہ کے تمام اعلیٰ عہدیدار موقع پر موجود رہے۔ علاقے میں بھاری پولیس فورس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ پانچ منزلہ الایہ اپارٹمنٹ میں مجموعی طور پر 12 فلیٹ ہیں۔ سب سے اوپر ایک پینٹ ہاوس ہے۔ شام قریب ساڑھے چھ بجے اچانک سے یہ عمارت منہدم ہوگئی۔ مقامی لوگوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ اطلاع پر راحت رسانی کام کے لیے پولیس کے علاوہ ایسڈ ی آر ایف، فوج اور فائربریگیڈ کے جوان پہنچے۔

اس وجہ سے ہوا حادثہ
پولیس کے مطابق پارکنگ میں پانی کا اخراج ہورہا تھا۔ اس لیے مالک وہاں پر پائپ ڈالنے کے لیے کام کروارہا تھا۔ تین دنوں سے کام جاری تھا۔ ڈرلنگ مشین سے کھدائی کی جارہی تھی۔ جانکاری کے مطابق انڈرگراونڈ ایک کمرے کی بھی تعمیر کرائی جارہی تھی۔ اندیشہ ہے کہ اسی دوران عمارت کا فاونڈریشن گرڈ ڈیمیج ہوا۔ جس کی وجہ سے پوری عمارت منہدم ہوگئی۔

جرم

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

Published

on

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا بھابھا اسپتال ڈاکٹر سے بدسلوکی کی پاداش میں افضل شیخ گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی کرلا علاقہ میں واقع بھابھا اسپتال میں خاتون ڈاکٹر سے بد سلوکی کی پاداش میں دو نوجوانوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 23 مارچ کو افضل شیخ کو سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ بغرض علاج بھابھا اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر دیگر مریضوں کے معالجہ میں تھی انہوں نے افضل شیخ کی تشخص کی اور پھر کہا کہ معمولی زخم ہے ایسے میں افضل شیخ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون ڈاکٹر سے بدتمیزی شروع کرنے کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی شروع کردی ڈاکٹر نے پولیس طلب کیا اور پھر اس نے اپنے ایک دوست کو بھی بلایا اور ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی شکایت کنندہ ڈاکٹر انوجا کی شکایت پر کرلا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ممبئی کے کرلا پولیس نے اس معاملہ میں ایک ملزم افضل شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرا ہنوز فرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان