Connect with us
Saturday,21-March-2026

سیاست

لاؤڈ اسپیکر سے متعلق سرکیولر فوری واپس لیا جائے : نسیم خان

Published

on

Arif-Naseem-Khan

ممبئی : مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال اور ریاستی کارگزار صدر و سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے ذریعے مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے سلسلے میں جاری کیے گئے۔ نئے سرکیولر کو آڑے ہاتھوں لیا اور اسے فوری طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ تلک بھون میں ہوئی اس پریس کانفرنس میں عارف نسیم خان نے کہا کہ مہاراشٹر میں حکمراں بی جے پی حکومت عوامی مسائل جیسے مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کی بدحالی، صنعتی زوال اور امن و قانون کی بگڑتی صورت حال سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے جان بوجھ کر مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے موضوعات کو ہوا دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے سلسلے میں پولیس کی جانب سے جاری کردہ تازہ سرکیولر نہ صرف آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے, بلکہ ریاست کے پرامن ماحول کو متاثر کرنے والا قدم بھی ہے۔

نسیم خان نے یاد دلایا کہ سال 2022 میں عدالت نے مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے واضح ہدایت دی تھی کہ صبح 6 بجے سے رات 10 بجے تک ایک مخصوص آواز کی حد کے دائرے میں اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اب پولیس نے 11 مئی کو ایک نیا سرکیولر جاری کیا ہے، جس میں عبادت گاہوں میں لاؤڈ اسپیکر لگانے کے لیے تعمیراتی نقشے کی منظوری، پراپرٹی کارڈ اور بلدیاتی اداروں کی تصدیق کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سرکیولر کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام پولیس کے ذریعے مذہبی امور میں صریح مداخلت ہے، جو کہ آئینی طور پر دی گئی مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ نسیم خان نے کہا کہ یہ ایک فرقہ وارانہ ذہنیت کا عکاس قدم ہے جو ریاستی حکومت کی خاموش منظوری کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیوندر فڑنویس سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اس غیر آئینی اور اشتعال انگیز سرکیولر کو فوراً منسوخ کرنے کا حکم جاری کریں، تاکہ عوام کے اندر پھیلنے والی بے چینی اور بداعتمادی کا ازالہ ہو سکے۔

پریس کانفرنس کے بعد محمد عارف نسیم خان نے عیدالاضحیٰ کے پیش نظر دیونار مذبح خانے کا بھی معائنہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے مذبح خانے کے افسران، انتظامیہ کے نمائندوں، قربانی کے جانوروں کے تاجروں اور خریداروں سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے جانوروں کی خرید و فروخت، صفائی ستھرائی، پانی کی فراہمی، روشنی، ٹریفک کنٹرول، ٹوکن سسٹم اور دیگر سہولیات کے متعلق معلومات حاصل کیں اور افسران کو سختی سے ہدایت دی کہ وہ عوام اور تاجروں کو درپیش تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں۔ نسیم خان نے کہا کہ قربانی کے تہوار میں لاکھوں افراد کا تعلق ہوتا ہے اور انتظامیہ کی معمولی لاپروائی بھی بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے متعلقہ اداروں کو مکمل مستعدی اور حساسیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دینے چاہئیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ مذہبی تہواروں کے دوران نہ صرف سہولیات فراہم کرے بلکہ مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہوئے غیر ضروری پابندیوں اور سرکاری کارروائیوں سے گریز کرے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : سائبر دھوکہ دہی میں سم کارڈ کا استعمال، ناگپاڑہ سمیت اندھیری کے سم کارڈ ایجنٹوں پر کیس درج

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی سائبر سیل نے اب ایسے سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کرنے کا دعویٰ کیا ہے جن کے فروخت کردہ سم کارڈ دھوکہ دہی میں استعمال کیا گیا کرائم برانچ نے پانچ سم کارڈ فروشوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو دھوکہ دہی کے کیس میں تفتیش کے دوران یہ معلوم ہوا کہ سائبر دھوکہ دہی کے لیے ایجنٹ اور دکاندار کے معرفت ملزمین سم کارڈ کی حصولیابی کیا کرتے تھے اور یہی نمبر دھوکہ دہی کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ یہ سم کارڈ فروخت کرنے والے اپنی دکان سے گاہک کے دستاویزات کا غلط استعمال کرکے اگر گاہک ایک سم کارڈ طلب کرتا تو اس کے دستاویز پر ایک دو یا تین سم کارڈ جاری کرواتے تھے اور پھر یہ سم کارڈ یہ لوگ خود کے فائدہ کےلیے استعمال کرتے تھے اور سائبر جرائم میں مفرور ملزمین کو فراہم کرتے تھے سائبر سیل نے ناگپاڑہ سے سم کارڈ فروخت کرنے والے ملزمین محمد سلطان محمد حنیف ، ذیشان کمال کے خلاف آئی ڈی ایکٹ سمیت دیگر دفعات میں کیس درج کیا ہے۔ اسی طرح دیا شنکر بھگوان شکلا، پردیپ کمار برنل والا ، نیرج شیورام کے خلاف کیس درج کیا ہے ان پر بھی غیر قانونی طریقے سے سم کارڈ فروخت کرنے کا کیس درج کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایماء پر ڈی سی پی سائبر سیل پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے۔ سائبر سیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے موبائل نمبر سے متعلق سنچار ساتھی ایپ پر جانچ کرے اگر انہیں اپنے نام پر دیگر نمبر ملتا ہے تو اس پر وہ رپورٹ کرے اور اس معاملہ میں عوام سنچار ساتھی ایپ میں شکایت بھی کر سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ میں بڑی بے ضابطگیاں، ریاست بھر میں جانچ کے احکامات

Published

on

ممبئی: ( قمر انصاری )
مہاراشٹر میں زمین کے ریکارڈ سے متعلق ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے جس نے انتظامیہ اور عوام میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس معاملے نے زمین کی ملکیت کے حقوق اور سرکاری نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اس سے بڑی تعداد میں خاندان متاثر ہو سکتے ہیں، خاص طور پر دیہی اور نیم شہری علاقوں میں رہنے والے افراد۔

یہ معاملہ مہاراشٹر لینڈ ریونیو کوڈ کی ایک شق کے مبینہ غلط استعمال سے جڑا ہوا ہے، جس کا مقصد صرف معمولی غلطیوں جیسے ٹائپنگ یا دفتری خامیوں کو درست کرنا ہوتا ہے۔ تاہم الزام ہے کہ اسی شق کا استعمال کرتے ہوئے زمین کی ملکیت میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی تبدیلیاں کی گئیں۔

ذرائع کے مطابق کئی معاملات میں بغیر مناسب جانچ پڑتال اور قانونی طریقہ کار کے زمین کے ریکارڈ میں تبدیلیاں کی گئیں، جس سے غیر قانونی طور پر زمین کی منتقلی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال نے اصل مالکان میں اپنی جائیداد کھونے کا خوف پیدا کر دیا ہے۔

معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اس شق کے تحت کیے گئے تمام اندراجات کی جامع جانچ کا حکم دیا ہے۔ ضلعی سطح پر افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ تمام تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں۔

ابتدائی جانچ سے یہ اشارہ ملا ہے کہ یہ معاملہ صرف چند واقعات تک محدود نہیں بلکہ اس میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں کا امکان ہے۔ اس جانچ کا مقصد حقیقت کو سامنے لانا اور ذمہ دار افراد کی نشاندہی کرنا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری مقدمات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ متاثرہ افراد کے حقوق کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

فی الحال تحقیقات جاری ہیں اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوام کے حقوق کا تحفظ اور زمین کے ریکارڈ کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ان کی اولین ترجیح ہے۔

Continue Reading

بزنس

سینسیکس اور نفٹی میں ایک فیصد سے زیادہ کا اضافہ، ان وجوہات کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ میں اضافہ ہوا۔

Published

on

ممبئی: ہندوستانی اسٹاک مارکیٹوں میں جمعہ کے تجارتی سیشن میں مضبوطی دیکھی جارہی ہے۔ دوپہر 12 بجے، سینسیکس 728 پوائنٹس، یا 1 فیصد، 74،935 پر تھا، اور نفٹی 236 پوائنٹس، یا 1.03 فیصد، 23،238 پر تھا. وسیع مارکیٹ میں تیزی برقرار ہے۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 693 پوائنٹس یا 1.27 فیصد بڑھ کر 55,185 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 111 پوائنٹس یا 0.65 فیصد بڑھ کر 15,816 پر تھا۔ ہندوستانی بازار میں اضافہ خام تیل کی قیمتوں میں نرمی کی وجہ سے ہے۔ جمعہ کو برینٹ کروڈ 1.21 فیصد گر کر 107.3 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ ایران-امریکہ-اسرائیل جنگ میں دونوں فریقوں کی جانب سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے بعد جمعرات کو برینٹ کروڈ کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی۔ مارکیٹ میں تیزی کی ایک وجہ مغربی ایشیا میں تناؤ میں کمی کے آثار ہیں۔ اس سے سرمایہ کاروں کے جذبات میں بہتری آئی ہے اور مارکیٹ میں خریداری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ عالمی منڈیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سیول اور شنگھائی کے بازار سبز رنگ میں کھل گئے۔ دریں اثناء امریکی مارکیٹس بھی جمعرات کی نچلی سطح سے بحال ہوئیں لیکن نیچے بند ہوئیں۔ انڈیا VIX، ایک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کا انڈیکس، بھی سیشن کے دوران کمزور ہوا۔ عام طور پر، جب انڈیا VIX میں کمی آتی ہے، تو مارکیٹ بڑھ جاتی ہے۔ مزید برآں، سستی قیمتوں پر خریداری کو بھی مارکیٹ میں تیزی کی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں، سابق سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا (ایس ای بی آئی) کے رکن کملیش چندر ورشنی نے کہا کہ حالیہ گراوٹ کے بعد، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل ثابت ہوسکتی ہے۔ ورشنی نے کہا، “مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی وجہ سے ہندوستانی مارکیٹ میں کمی نے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئیز) کے لیے ایک پرکشش موقع پیش کیا ہے۔” نیشنل اسٹاک ایکسچینج میں منعقدہ روس-انڈیا فورم کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے، ورشنی نے کہا کہ موجودہ سطح پر ہندوستانی اسٹاک میں سرمایہ کاری کرنے کا “انتہائی اچھا موقع” ہے۔ بینچ مارک انڈیکس اس ماہ 8 فیصد سے زیادہ گر گئے ہیں، جس نے سرمایہ کاروں کے جذبات کو پست کیا ہے، لیکن ساتھ ہی اندراج کی قیمتوں میں بھی بہتری لائی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان