سیاست
تنخواہ کیلئے ڈی یو اساتذہ کی وزیراعلی سے فریاد!
کورونا وائرس ‘كووڈ -19’ سے دوچارں دہلی حکومت سے گرانٹ حاصل کرنے والے كالجوں کے اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ان کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں۔
دہلی یونیورسٹی ایگزیکٹیو کونسل کے سابق رکن ڈاکٹر اے کے بھاگی اور موجودہ رکن ڈاکٹر وی ایس نیگی نے وزیر اعلی اروند کجریوال کو خط لکھ کر گرانٹ رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے دہلی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈررام ویر سنگھ ودھوڑی سے بھی مداخلت کرکے گرانٹ کی راہ ہموار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ڈاکٹر بھاگی اور ڈاکٹر نیگی نے الزام لگایا کہ ماضی میں منیجنگ کمیٹیوں کی تشکیل میں مداخلت کے سبب دہلی حکومت نے دو ماہ کی تنخواہ روک دی تھی۔ ابھی یونیورسٹی کی طرف سے منیجنگ کمیٹیوں کے ارکان کے ناموں پر مہر لگنے کے بعد اب حکومت ان کمیٹیوں پراپنا قبضہ چاہتی ہے۔ اس کے لئے کبھی کالج پرنسپلوں پر دباؤ بنایا جا رہا ہے تو کبھی اساتذہ کی تنخواہ روک کر انہیں پریشان کیا جا رہا ہے. دہلی حکومت کا یہ رویہ انصاف پر مبنی قطعی نہیں ہے۔ دہلی حکومت کی اس لاپروائی کی وجہ سے نصف اپریل ماہ گزرنے کے بعد بھی مارچ ماہ کی تنخواہ جاری نہیں ہوئی ہے۔
ڈاکٹربھاگی اور نیگی نے کہا ہے کہ نہ صرف باقاعدہ تنخواہ بلکہ حکومت ان کالجوں کے تئیں اپنی ذمہ داریوں پر دھیان دے اور ساتویں پے کمیشن کے تحت زیر التوا ایریئر کی رقم، کالجوں کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے ضروری گرانٹ اور نئے كورسیز کے آنے سے اضافہ ہونے والے وسائل کی ضرورت کو جلدسے جلد پورا کیا جائے۔اس کے ساتھ کئی کالجوں میں ابھی تک ایڈہاک اساتذہ کو 2019 موسم گرما کی چھٹی کی تنخواہ بھی نہیں دی گئی ہے۔
ڈاکٹر بھاگی اور ڈاکٹر نیگی کا کہنا ہے کہ مختلف سطح پر نئےاسامیوں پر کام بھی ان کالجوں میں التوا میں پڑا ہوا ہے جس سے تعلیم کے معیار پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے اس لئے حکومت اس معاملے کو سنجیدگی کے ساتھ شیڈول طور پر نمٹانے کی کوشش کرے۔
سیاست
شیوسینا لیڈر شائنا این سی کا حسین دلوائی پر سخت جواب: ‘جو لوگ کانگریس پارٹی میں یقین رکھتے ہیں وہ بے وقوف ہیں’

ممبئی: شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کانگریس لیڈر حسین دلوائی کے بی جے پی حامیوں کے خلاف بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کانگریس پارٹی پر یقین رکھتے ہیں وہ بیوقوف ہیں۔ ایسے لوگوں کو خود کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔ کانگریس لیڈر حسین دلوائی نے مبینہ طور پر ایک بیان میں کہا کہ ‘وہ طبقہ جو بی جے پی پر یقین رکھتا ہے بے وقوف ہے’۔ اس پر میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کہا، “جو لوگ کانگریس پارٹی پر یقین رکھتے ہیں وہ بے وقوف ہیں، جو لوگ این ڈی اے کے ساتھ ہیں وہ صرف ترقی اور ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے پی ایم مودی کی حمایت کرتے ہیں، اس لیے حماقت چھوڑیں اور کہیں آپ خود کو بااختیار بنائیں تاکہ آپ ہماری طرف آئیں”۔ کانگریس کے اس تبصرے کا جواب دیتے ہوئے کہ “حد بندی، خواتین کا ریزرویشن نہیں، اصل مسئلہ ہے،” شائنا این سی نے کہا، “جب کوئی تاریخی فیصلہ کیا جا رہا ہے، تو اپوزیشن کا کام ہے کہ وہ اس کی حمایت کرے۔ ہم نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے 27 سال انتظار کیا ہے۔ چاہے یہ حد بندی ہو، کوٹہ ہو یا ذیلی کوٹہ، لیکن آپ سب سے پہلے پارلیمنٹ میں ان سب پر کیا بات کریں گے؟ کانگریس پارٹی کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے؟ مغربی بنگال کے لیے بی جے پی کے منشور کے وعدوں کے بارے میں، شائنا این سی نے کہا، “این ڈی اے کا صرف ایک ہی ایجنڈا ہے، اور وہ ہے ترقی۔ ایمس، آئی آئی ٹی اور ہوائی اڈوں کے شعبوں میں ترقی ہوئی ہے۔ دوسری طرف، اگر آپ ٹی ایم سی کی بات کریں، تو یہ ‘جنگل راج’ ہے، جہاں صرف افراتفری ہے اور کوئی ترقی نہیں ہے۔” انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے دورہ ہندوستان پر بھی ردعمل ظاہر کیا۔ شائنا این سی نے کہا، “وزیر اعظم مودی نے ہمیشہ سفارتی تعلقات کو فروغ دیا ہے اور ان کا ماننا ہے کہ ہمیں دنیا بھر کے ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ ہندوستان-امریکہ تعلقات ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہماری حکومت ہمیشہ پابند رہی ہے۔ چاہے وکرم مشرا ہوں یا وزیر اعظم، بات چیت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔ اور ہم امریکہ کے ساتھ اس بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
گرانٹ روڈ کے بار پر چھاپہ: ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

ممبئی، 11 اپریل — گرانٹ روڈ کے مقامی رہائشیوں کی مسلسل شکایات کے بعد ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک ریسٹورنٹ بار پر کامیاب چھاپہ مار کر مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ فاش کیا ہے۔
گزشتہ کئی دنوں سے مقامی لوگ ممبئی پولیس اور مختلف میڈیا اداروں سے مدد کی اپیل کر رہے تھے۔ رہائشیوں کے مطابق، “سینوریتا” نامی بار میں ریسٹورنٹ کی آڑ میں فحش ڈانس کروایا جا رہا تھا۔ یہ بھی الزام ہے کہ بار میں گاہکوں کو پچھلے دروازے سے خفیہ طور پر داخلہ اور اخراج دیا جاتا تھا، اور یہ سرگرمیاں پوری رات جاری رہتی تھیں۔
مقامی افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں کے دوران بڑی مقدار میں رقم کا لین دین ہوتا تھا اور صرف جان پہچان والے گاہکوں کو ہی اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ممبئی پریس نے اس معاملے کی اطلاع ممبئی پولیس کے اعلیٰ حکام کو دی۔
شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے اعلیٰ حکام نے کرائم برانچ کو اس غیر قانونی کاروبار کے خلاف سخت کارروائی کے احکامات دیے۔ اس کے بعد کرائم برانچ یونٹ 2 نے ڈی۔بی۔ مارگ پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں آنے والے “سینوریتا بار” پر چھاپہ مارا۔
یہ کارروائی پولیس انسپکٹر تیجنکر، پولیس انسپکٹر پرشانت گاوڑے اور ان کی ٹیم کی نگرانی میں کامیابی کے ساتھ انجام دی گئی۔
چھاپے کے دوران:
8 لڑکیوں کو موقع سے ریسکیو کیا گیا۔
پولیس نے معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔
ممبئی پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
مزید تفصیلات کا انتظار ہے جبکہ تفتیش جاری ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو پرمٹ اور لائسنس کے لیے مراٹھی لازمیت قطعا درست نہیں, پہلے مراٹھی زبان سکھائی جائے : ابوعاصم

ممبئی : مہاراشٹر میں رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے پرمٹ اور لائسنس کے لئے مراٹھی لازمیت درست نہیں ہے ہر صوبہ کی اپنی زبان ہے یہ لازمی ہونی چاہئے, لیکن اس سے قبل اگر مراٹھی کو لازمی کرنا ہے تو پہلے مراٹھی زبان سکھانے کے لیے اسکول کھولی جائے اور ان لوگوں کو مراٹھی سکھائی جائے جو اس سے نابلد ہے۔ ہر ملک میں اپنی زبان بولی جاتی ہے تو ملک کی زبان ہندی کہاں بولی جائے گی۔ اس ملک کی ہر ریاست کی اپنی زبان ہے جیسے مہاراشٹر میں مراٹھی، کیرالہ میں ملیالم، آسام میں آسامی لیکن کسی کو کوئی بھی زبان بولنے پر مجبور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ مراٹھی سیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں کتابیں دیں، انھیں کلاسیں دیں، انھیں مجبور نہ کریں ملک میں بے روزگاری عام ہے اگر کوئی دیگر ریاست سے ممبئی اور مہاراشٹر میں آتا ہے تو اس کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے اس کے باوجود صرف مراٹھی کی لازمیت کی شرط عائد کرنا قطعی درست نہیں ہے, روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے ریاست میں اگر مراٹھی کو لازمی درجہ حاصل ہے تو اس کے لیے اس زبان کو سکھانے کے لیے انہیں کلاسیز دینی چاہئے نہ کہ مراٹھی کے نام پر سیاست کی جائے اس سے ریاست کی شبیہ بھی خراب ہوتی ہے, کیونکہ مراٹھی زبان سے نابلد باشندوں پر کئی مرتبہ تشدد بھی برپا کیا گیا ہے اس لئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائے اور ایسی صورتحال پیدا نہ ہو اس کے لیے ریاست کی زبان انہیں سکھائی جائے اور پھر انہیں لائسنس اور پرمٹ فراہم کیا جائے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
