ممبئی پریس خصوصی خبر
بی ایم سی الیکشن کا اعلان، لیکن مہایوتی اور مہاوکاس اگھاڑی میں انتخابی مفاہمت پر رسہ کشی
ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخاب کا بگل بج چکا ہے لیکن سیاسی پارٹیوں میں اب تک انتخابی مفاہمت نہیں ہوئی ہے مہاوکاس اگھاڑی اور مہایوتی میں انتخابی مفاہمت کو لے کر میٹنگوں کا دور تو شروع ہے لیکن اس کے باوجود کوئی تمام پارٹیاں کوئی نتیجہ پر نہیں پہنچی ہے جس کے سبب بی ایم سی الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کا انتخابی سمجھوتہ اب تک معلق بنا ہوا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی میں 2022 ء کو ادھو ٹھاکرے کی سرکار گر گئی اور پھر اب ادھو ٹھاکرے کی طاقت میں کمی واقع ہوئی ہے اور ادھو ٹھاکرے کے 20اراکین اسمبلی ہی کامیاب ہوئے ہیں جبکہ شندے سینا اور بی جے پی نے اپنی طاقت برقرار رکھی ہے ممبئی میونسپل کارپوریشن انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور 15جنوری کو عوام اپنے جمہوری حق کا استعمال کریں گے اور 16 کو ووٹوں کی گنتی ہوگی اور اسی روز اعلان کر دیا جائے گا شندے سینا اور بی جے پی کے مابین انتخابی مفاہمت اور نشستوں کی تقسیم کو لے کر میٹنگوں کا دور جاری ہے لیکن اب تک یہ کوئی نتیجہ پر نہیں پہنچے ہیں۔ بی جے پی اور شندے سینا کے مابین ماہم،پریل، دادر بائیکلہ، قلابہ علاقوں کو لے کر مفاہمت نہیں ہوپائی ہے کیونکہ یہ علاقے اتر بھارتی کے ساتھ مراٹھی آبادی پر بھی مشتمل ہے دونوں پارٹیوں نے ان علاقوں پر دعوی کئے ہیں۔ تنظیموں امور کے سبب شندے سینا نے ان علاقوں پر اپنا دعوی کیا ہے اور کہا ہے کہ تنظیموں استحکام کے سبب یہ علاقے شیوسینا کو دئیے جائیں۔بی جے پی کے ووٹرس میں گزشتہ الیکشن میں اضافہ درج کیا گیا ہے یہاں بیوپاری اور ہندوتوا ووٹرس کے سبب بی جے پی کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے اس لئے اب انتخابی مفاہمت مقامی سطح پر طاقت کی بنیاد پر ہونے کا امکان روشن ہے جبکہ مہاوکاس اگھاڑی میں بھی اب تک مفاہمت معلق ہے کیونکہ ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے کی مفاہمت کے سبب کانگریس اور این سی پی بھی اب تک انتخابی مفاہمت پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکی ہے ایسی صورتحال میں اگر بی ایم سی میں مہاوکاس اگھاڑی اور مہایوتی میں انتخابی مفاہمت نہیں ہوتی ہے تو یہ مقابلہ مزید دلچسپ ہوگا کیونکہ اس الیکشن میں دو شیوسینا دو این سی پی اور دیگر پارٹیاں اپنی قسمت آزمائی کریگی اور انتخابی میدان میں اترنے والے امیدواروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوگا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مہاراشٹر بجٹ میں اقلیتیں نظر انداز : منوج جامستکر

ممبئی: ممبئی مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں شیوسینا لیڈر اور رکن اسمبلی منوج جامستکر نے بجٹ پرتبصرہ کرتے ہوئے اسے ٹھیکیداروں کا بجٹ قرار دیا اور کہا کہ جس طرح سے بڑے پروجیکٹ کو بجٹ میں شامل کیا گیا ہے اس سے یہ شبہ ہے کہ یہ بجٹ عام عوام کی بجائے ٹھیکیداروں کا بجٹ ہے کسانوں کے قرض معافی پر بھی شبہات برقرار ہے دو لاکھ روپے کی قرض معافی کا اعلان تو کیا گیا ہے اس کے نفاذ پر اب بھی شبہ ہے ریاستی سرکار نے کسانوں سے متعلق جو اسکیمات کا نفاذ کی ہے اس کا استفادہ اس کو ہو گا یا نہیں ؟ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اقلیتوں کو پوری طرح سے نظر انداز کیا گیا ان کے لیے کوئی بھی نئی اسکیمات کو متعارف نہیں کروایا گیا ہے بجٹ میں نندوربار میں کسانوں کے مسائل پر بھی کوئی تذکرہ نہیں ہے انہوں نے کہا کہ تیزی سے ترقی یافتہ مہاراشٹرمیں بڑے بجٹ کو منظوری دی گئی ہے صحت سمیت دیگر عوامی مسائل پر کوئی خاص توجہ نہیں دی گئی ہے اس لیے اس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرور ت ہے اور اقلیتوں کو بجٹ میں حصہ داری دینے کا مطالبہ بھی جامستکر نے کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
تبدیلی مذہب مخالف، مذہبی آزادی بل ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جائے, بل پر عوامی سماعت کی جانی چاہیے : رئیس شیخ

ممبئی : ریاستی حکومت کی طرف سے جمعہ کو قانون ساز اسمبلی میں تبدیلی مذہب مخالف مذہبی آزادی بل 2026 پیش کیے جانے کے ایک دن بعد، بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے قانون ساز رئیس شیخ نے مطالبہ کیا کہ بل کو ریاستی مقننہ کی مشترکہ سلیکٹ کمیٹی کو نظرثانی کے لیے بھیجا جائےانہوں نے یہ بھی کہا کہ عوامی سماعت کی جائے تاکہ اس بل کے خلاف اعتراضات اٹھائے جا سکیں جو کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس معاملے پر بات کرتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ عام لوگوں کو اس وقت گیس میسر نہیں ، ہوٹل بند ہو رہے ہیں، اور بہت سے لوگوں کی نوکریاں چلی گئی ہیں۔ ان مسائل پر بحث کرنے کے بجائے، مقننہ آزادی مذہب بل جیسے بل پر بحث کر رہی ہے، جس سے معاشرے میں تقسیم پیدا ہو گی۔ موجودہ قوانین پہلے ہی جبری مذہب کی تبدیلی پر توجہ دیتے ہیں، اور یہ بل اقلیتی برادریوں کو نشانہ بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے،” ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریمارکس دیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ بل کو بغیر بحث کے پاس نہیں کیا جانا چاہئے اور اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہےلہذا، اس بل کو دونوں ایوانوں کے اراکین کے ساتھ ریاستی مقننہ کی جوائنٹ سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہیے۔ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں کو کمیٹی میں شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ بل کو منظور کرنے سے پہلے مکمل بحث ضروری ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ مقننہ میں اقلیتوں کی نمائندگی ناکافی ہے، ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ سول سوسائٹی گروپس اور اقلیتی تنظیموں کو بل پر اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا،اس مقصد کے لیے، ایک عوامی سماعت ہونی چاہیے۔ حکومت کو اعتراضات اور تجاویز کو مدعو کرتے ہوئے ایک عوامی نوٹس جاری کرنا چاہیے اور ان پر سماعت کرنی چاہیے،ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا، انہوں نے مزید کہا کہ وہ پیر کو اس بارے میں قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر کو خط لکھیں گے۔ ریاست کی کل 35 سول اور اقلیتی تنظیموں نے بل کی مخالفت کی ہے۔ سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے اس بل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ رازداری، مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کو مجروح کرتا ہے۔ پیپلز یونین فار سول لبرٹیز نے کہا کہ مذہبی آزادی کے حق میں تبدیلی کا حق بھی شامل ہےگزشتہ سال اس بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رشمی شکلا کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ مجوزہ قانون کے مطابق مذہب کی تبدیلی سے قبل 60 دن کا نوٹس لازمی ہوگا جس کے دوران اعتراضات اٹھائے جاسکتے ہیں اور پولیس انکوائری بھی کی جاسکتی ہے۔ مذہب کی تبدیلی کے مقصد سے کی جانے والی شادیاں غیر قانونی تصور کی جائیں گی۔ اس بل میں غیر قانونی تبدیلی مذہب میں ملوث اداروں یا افراد کے لیے سات سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : مینارہ مسجد کی ۷۶ لاکھ کی پراپرٹی ٹیکس کی نوٹس واپس لی جائے, یہ کوئی کمرشل ادارہ نہیں ہے : اعظمی

یہ مسجد میں مدرسہ ہے یہاں بچے دینی تعلیم سے بہرور ہوتے ہیں اس لئے اس ٹیکس نوٹس کو واپس لیا جائے کیونکہ اتنی خطیر رقم ادائیگی مشکل ہے اور مسجد کو اتنی بڑی رقم کی نوٹس ارسال کرنا درست نہیں ہے ۔ سماجی انصاف میں اقلیتوں کے بجٹ میں ناانصافی ، سماجی انصاف بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایوان میں رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے کہاکہ پہلے محکہ کا بجٹ ۶ سو دو کروڑ روپیہ تھا بعد میں اس میں تخفیف ہو گئی اور ۲۰۲۴۔۲۵ میں بجٹ میں صرف ۲۸ ہزار طلبا کو تعلیمی وظائف ملے ہیں لیکن اب اس میں مزید تخفیف ہو کر صرف ۷ ہزار طلبا کو ہی تعلیمی وظائف کی فراہمی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہے اس لئے اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے اور اتنا ہی نہیں اقلیتوں کے سہولیات کے مطابق بجٹ فراہم ہو انہوں نے ایوان میں اپنی بات اس شعر پر ختم کی۔ کبھی روزی کبھی آشیانہ چھین لیتا ہے جہاں ملتا ہے موقع آب و دانا چھین لیتا ہے، ہمیں اپنی تباہی کی خبر ہو ہی نہیں پاتی سب یہ خوشیاں ہماری غائبانہ چھین لیتا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
