جرم
بی جے پی شاہین باغ خاتون مظاہرہ کو بدنام کرکے اسے سبوتاژ کرنے کی سازش کر رہی ہے
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ مظاہرے کو جہاں ایک طرف میڈیا کے ایک طبقہ کی طرف نشانہ بنایا جارہا ہے وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی اس کے خلاف مہم چھیڑ رکھی ہے جس میں بی جے پی کا ’دشاہین (بے سمت) باغ کہنا اور دہلی کے شاہین باغ میں رچی جارہی ملک مخالف سازش رچی جانے والی بات شامل ہے۔
اس پر سخت ردعمل کا اظہا رکرتے ہوئے شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کہا کہ بی جے پی یہ سازش رہی ہے کہ شاہین باغ خواتین مظاہرہ کو بدنام کرکے اسے سبوتاژ کیا جائے اور اس بہانے ملک میں جاری ہندو مسلم اتحاد، مشترکہ تہذیب و ثقافت اور مشترکہ اقدار کوختم کرنا ہے جو شاہین باغ خواتین مظاہرے کی وجہ سے ملک میں نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی اس سے پہلے شاہین باغ خاتون مظاہرین پر پیسے لیکر مظاہرہ کرنے کا گھناؤ نا الزام لگاچکی ہے جس پر اسے ہتک عزت کا نوٹس بھیجا جاچکا ہے۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کی وجہ سے ملک میں سو سے زائد مقامات پر صرف خواتین کا مظاہرہ جاری ہے اور ہر روز اس میں دسیوں مقامات کا اضافہ ہورہا ہے۔ یہ تحریک پورے ملک میں پھیل چکی ہے اور ضلع سطحً سے لیکر اب قصبوں اور گاؤں تک پھیل چکی ہے۔ اس کی وجہ سے بی جے پی پوری طرح بوکھلا گئی ہے اور وہ اپنے پرانے طریقے سے جھوٹی افواہ پھیلانا، ملک کے خلاف نعرے لگانا جیسے پرانے ہتھکنڈے اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ شاہین حب الوطنی کی مثال پیش کر رہا ہے اور صبح شروعات قومی ترانہ جن من گن سے ہوتی ہے اور حب الوطنی اور انقلابی نعرے لگائے جاتے ہیں۔
پیپلز آف ہوپ کے چیرمین اور سماجی کارکن رضوان احمد نے کہاکہ شاہین باغ یا ملک کے دیگر حصوں میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہروں میں لگنے والے آزادی کے نعرے سے بی جے پی اس لئے پریشان ہے کیوں کہ جنگ آزادی میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا بلکہ اس کے رہنما انگریزوں کی مخبری کرتے ہوئے پائے گئے تھے۔اس لئے خواہ اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ ہوں یا بی جے پی کا کوئی دوسرا آزادی کے نعرے سے بوکھلائے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ مظاہرے کی علامت بن چکا ہے اور یہ گنگا جمنی تہذیب کی مثال بن چکا ہے یہاں ہون بھی ہوتا ہے، قرآن کی تلاوت بھی، سکھ کیرتن ارداس بھی کرتے ہیں اور عیسائی بائبل بھی پڑھتے ہیں۔ یہاں خطاب کرنے والوں میں ہندو مسلم، سکھ عیسائی اور تمام طبقے کے لوگ شامل ہیں جو یہاں آکر اس کالا قانون کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ بی جے پی والے فرضی ویڈیو بنواکر وائرل کرواتے ہیں اور پھر اس ویڈیوں کی بنیاد پر بیان دیکر شاہین باغ کو بدنام کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ پارٹی کے ترجمان سمبت پاترا نے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ویڈیو کا ذکر کرتے ہوئے ہفتہ کے روز یہاں کہا، ‘ ہندوستان کی آزادی کو ختم کرنے کے لئے شاہین باغ میں سازش رچی جا رہی ہے۔ ہمارے پاس اس کے پختہ ثبوت ہیں“۔انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو میں ایک مقررلوگوں سے آسام کا ملک کے باقی حصوں سے رابطہ توڑنے کی اپیل کر رہا ہے۔
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہرہ کی تعداد میں ضافہ ہوتا جارہ اہے اور اب یہ مظاہرہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا ہے اور خواتین نے اس کی کمان سنبھال لی ہے۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ گزشتہ رات کے مظاہرے میں سابق رکن پارلیمنٹ ادت راج نے قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر سب سے زیادہ دلت سماج اور پسماندہ طبقہ پر پڑے گااور اس قانون کے سہارے حکومت کی منشا ریزرویشن ختم کرنے کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ مسلمانوں کا نہیں ہے اس لئے تمام طبقوں کو مل اس قانون کی مخالفت کرنی چاہئے۔
مشہور سماجی کارکن تیستا سیتلواڈ نے عورتوں کے حوصلے کو سلام کرتے ہوئے کہا کہ خواتین نے پورے ملک میں اس قانون کے خلاف مورچہ سنبھال رکھا ہے اور حکومت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ حکومت شروع سے ہی جبر و استحصال کرنے والی رہی ہے لیکن خواتین نے اس کے خلاف لوہا لیکر یہ ثابت کردیا ہے وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ سماجی کارکن اور سیاست داں تحسین پونا والا نے کہاکہ اس قانون کے خلاف پورے ملک کو اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ دہلی یونیورسٹی کی ڈاکٹر رینو اوراسلامک سنٹر کے ابوذر خاں نے بھی خطاب کیا۔
محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ آج رات میں مشہور سیاست داں سیتا رام ییچوری، جے این یو طلبہ یونین کی صدر آئشی گھوش، راگنی نائک، سیف نقوی وغیرہ خطاب کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے مضر اثرات کی وجہ سے پورے ملک کی خواتین سڑکوں پر ہیں۔انہوں نے کہاکہ جو خواتین کبھی گھروں سے باہر نہیں نکلیں وہ آج سڑکوں پر احتجاج کر رہی ہیں کیوں کہ معاملہ ملک اور دستور بچانے کا ہے اور مسلم خواتین ملک کے لئے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹیں گی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے جاری مظاہرہ آج بھی جاری ہے اور یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔ اس کے علاوہ دہلی میں خواتین مظاہرین کا دائرہ پھیل گیا ہے اور دہلی میں درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ جڑ رہی ہے اور خواتین کے ساتھ مرد بھی مظاہرے کرنے کے نئے نئے انداز اپناتے ہیں۔ اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مالویہ نگر کے حوض رانی، مصطفی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک اورجامع مسجدسمت ملک تقریباً سو سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور یہاں شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہارکی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور وہاں ہر روز نئی جگہ جڑ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں اور بہت سے ہندو نوجوان نہ صرف اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں بلکہ مظاہرہ کرنے والے مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے جس میں اہم لوگ خطاب کرنے پہنچ رہے ہیں۔
مغربی بنگال میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون’این آر سی اور این پی آر کے سلسلے میں خوف و ہراس کا ماحول ہے یہی وجہ سے یہاں نہ صرف مسلمانوں بلکہ حکمراں ترنمول کانگریس کی سربراہ اور وزیر اعلی ممتا بنرجی جگہ جگہ مظاہرہ کی قیادت کر رہی ہیں۔ مغربی بنگال کے متعدد مقامات سمیت کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ کا جبر بھی خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکا۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور160سے زائد خواتین پر ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں۔اس مظاہرے سیبزرگ شیعہ رہنما کلب صادق اور آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن کی صدر مدھو گرگ نے خطاب کیا۔
اس مظاہرے میں بڑی تعداد میں غیر مسلم خواتین بھی شریک ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ سنبھل، دیوبند، سہارنپور، غازی آباد کے مسوری،مراد نگر وغیرہ میں مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اسی کے مؤ سے بھی دھرنا کی خبریں موصول ہورہی ہیں بریلی میں اس کالا قانون کے خلاف ڈتی ہوئی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے اور عام لوگ ضرورت چیزیں خواتین کو پہنچاتے ہیں۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مغلا خار انصارنگر نوادہ بہار،۔مدھوبنی بہار،۔سیتامڑھی بہار،۔سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی بنگال،۔اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔اجمیر میں بھی خواتین کا احتجاج شروع ہوچکا ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
جرم
ممبئی ایئرپورٹ پر بنگلہ دیشی شہری کو جعلی پاسپورٹ کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا۔

ممبئی کے چھترپتی شیواجی مہاراج بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے ایک بنگلہ دیشی شہری کو گرفتار کیا ہے جو جعلی ہندوستانی پاسپورٹ کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ واقعہ بدھ کی صبح تقریباً 4:15 بجے پیش آیا، جب امیگریشن افسر گنیش گاولی ڈیوٹی پر تھے۔ ایک مسافر معائنہ کے لیے کاؤنٹر پر پہنچا۔ پہلی نظر میں، اس کے کاغذات بالکل نارمل نظر آئے، لیکن قریب سے معائنہ کرنے پر، افسر نے دیکھا کہ کچھ غلط ہے۔ مسافر کے پاس کولکتہ کا پتہ والا ہندوستانی پاسپورٹ تھا، لیکن اس کے موبائل نمبر میں بنگلہ دیشی ملک کا کوڈ ظاہر ہوا تھا۔ اس تضاد سے شک پیدا ہوا، اور اسے فوراً سینئر حکام کے پاس لے جایا گیا۔ سخت پوچھ گچھ پر ملزم نے اپنی اصل شناخت بتا دی۔ اس نے بتایا کہ اس کا نام سکانتا ملک (39) ہے اور وہ گوپال گنج ضلع، بنگلہ دیش کا رہنے والا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ وہ 2012 میں غیر قانونی طور پر ہندوستان میں داخل ہوا تھا اور 2022 میں جعلی دستاویزات کا استعمال کرتے ہوئے ہندوستانی پاسپورٹ حاصل کیا تھا۔ مزید برآں، اس نے دھوکہ دہی سے کئی سرکاری دستاویزات حاصل کیں، جن میں پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، اور راشن کارڈ شامل ہیں۔ تفتیش سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملزم فلائٹ نمبر ٹی سی-401 پر کانگو کے شہر ڈار جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ وہ جعلی ہندوستانی شناخت کا استعمال کرتے ہوئے بیرون ملک آباد ہونے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ امیگریشن حکام نے اس کے پاس سے کئی اہم دستاویزات برآمد کیں، جن میں ایک ہندوستانی پاسپورٹ، بورڈنگ پاس، پین کارڈ، ووٹر شناختی کارڈ، راشن کارڈ، بنگلہ دیشی پیدائشی سرٹیفکیٹ، اس کی والدہ کا پاسپورٹ، اور ایک موبائل فون شامل ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم اس معاملے میں اکیلا نہیں ہے۔ بلکہ ایک منظم گینگ ملوث ہو سکتا ہے، جو بھارت میں آباد ہونے کے لیے جعلی دستاویزات بنا کر لوگوں کو بیرون ملک بھیجتا ہے۔ ملزم کو مزید تفتیش کے لیے سہار پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ اس کے خلاف دھوکہ دہی، جعلسازی اور بھارت میں غیر قانونی قیام سمیت سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
جرم
ممبئی پریس کلب کو دھمکی آمیز ای میل موصول، بم اسکواڈ کی جانچ میں کچھ بھی مشکوک نہیں ملا

نئی دہلی: ممبئی پریس کلب کو جمعہ کے روز ایک دھمکی آمیز ای میل موصول ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ زہریلی گیس سے بھرے کئی چھوٹے بم عمارت کے اندر نصب کیے گئے ہیں، جو جمعہ کی دوپہر کو پھٹ جائیں گے۔ ممبئی بم اسکواڈ نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی ہیں اور کوئی مشتبہ شخص نہیں ملا ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے فوری طور پر ای میل کا جواب دیا۔ پریس کلب کے احاطے اور گردونواح میں فوری طور پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچنے کے لیے بم ڈسپوزل اسکواڈز اور ڈاگ اسکواڈز کو جائے وقوعہ پر طلب کر لیا گیا۔ ای میل بھیجنے والے نے اپنی شناخت نیرجا اجمل خان کے طور پر کی۔ اس نے کوئمبٹور کے مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کیا اور سیاسی الزامات لگائے، ناانصافی اور ان کی آواز کو دبانے کا دعویٰ کیا۔ ای میل میں یہ بھی کہا گیا کہ ان کے پاس محدود وسائل تھے اور انہوں نے ان وسائل کو ممبئی پریس کلب کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا مقصد صرف نقصان پہنچانا تھا اور لوگوں سے عمارت خالی کرنے کی اپیل کی۔ ای میل میں نکسلائٹس اور پاکستان سے جڑے خفیہ نیٹ ورکس کا بھی ذکر ہے، جس سے معاملہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ممبئی پولیس نے فوری طور پر تحقیقات شروع کر دی ہے۔ سائبر ٹیم تمام پہلوؤں پر کام کر رہی ہے، بشمول ای میل آئی ڈی، اس کا مقام، اور ممکنہ مجرم۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ای میل پروٹون میل سروس کے ذریعے بھیجی گئی تھی جس کا سراغ لگانا مشکل ہے۔ ممبئی پریس کلب کے صدر ثمر خداس نے بتایا کہ کلب کے سکریٹری کو الرٹ کرنے والی ای میل بھیجی گئی تھی۔ ممبئی پولیس نے فوری طور پر کارروائی کی اور تحقیقات کے دوران کچھ بھی مجرمانہ نہیں پایا۔ ممبئی پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ای میل موصول ہونے کے بعد پریس کلب کو خالی کرا لیا گیا اور تحقیقات مکمل کر لی گئی۔ تفتیش کے دوران کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔
جرم
چڑیل ڈاکٹر اور جن کے نام پر خاتون سے 15.93 لاکھ روپے کا دھوکہ۔ پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی۔

ممبئی کے سیون علاقے میں سائبر فراڈ کا ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک 22 سالہ خاتون کو تانترک طاقتوں اور جنوں کے نام پر تقریباً 15.93 لاکھ روپے (تقریباً 1.5 ملین ڈالر) کا دھوکہ دیا گیا۔ ممبئی سائبر سیل نے کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ لڑکی سیون کے پرتیکشا نگر علاقہ کی رہنے والی ہے۔ 2023 میں، انسٹاگرام کا استعمال کرتے ہوئے، اس نے “طاقتور جنون ہیلر” کے عنوان سے ایک پوسٹ دیکھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ کیریئر، محبت اور زندگی کے مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ پوسٹ میں لنک پر کلک کرنے کے بعد، اس نے ایک ایسے شخص کے ساتھ واٹس ایپ پر بات چیت شروع کی جس نے اپنی شناخت کبھی واحد اور کبھی ساحل کے نام سے کی۔ ملزم نے پہلے خاتون کا اعتماد حاصل کیا اور اسے روشن مستقبل کا یقین دلایا۔ اس کے بعد اس نے اسے ایک تانترک رسم سے گزرنے کا مشورہ دیا، اور دعویٰ کیا کہ اس کے پاس ایک جن ہے جو کوئی بھی خواہش پوری کر سکتا ہے۔ اس نے اسے یقین دلایا کہ یہ طریقہ کار اس کی زندگی کو مکمل طور پر بدل دے گا۔ یہ فراڈ 25 ہزار روپے سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ بڑھ کر لاکھوں تک پہنچ گیا۔ ملزم مختلف حیلوں بہانوں سے رقم کا مطالبہ کرتا رہا، کبھی نامکمل تانترک رسومات کا حوالہ دے کر، کبھی منفی توانائی کو دور کرنے یا کسی جن کو غصہ دلانے کا دعویٰ کرکے خاتون کو دھمکیاں دیتا رہا۔ اس دوران خاتون نے کئی بینک کھاتوں میں رقم منتقل کی۔ جعلسازوں نے سمرہ محمد، موسین سلیم اور گلناز جیسے مختلف القابات استعمال کیے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم ریاکٹ ہے۔ اس فراڈ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ تھا کہ خاتون نے اپنا گھریلو سونا بھی بیچ دیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم ملزمان کو دے دی۔ یہ سلسلہ تقریباً ڈھائی سال تک جاری رہا۔ جب کوئی نتیجہ نہیں نکلا اور پیسوں کا مطالبہ جاری رہا تو اسے احساس ہوا کہ اسے دھوکہ دیا گیا ہے۔ اس کے بعد، متاثرہ نے سائبر کرائم ہیلپ لائن 1930 پر شکایت درج کرائی۔ پولیس اب اس کے انسٹاگرام آئی ڈی، موبائل نمبر، اور بینک اکاؤنٹس کی چھان بین کر رہی ہے، اور شبہ ہے کہ یہ معاملہ کسی بڑے سائبر کرائم گینگ سے منسلک ہو سکتا ہے۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں7 years agoعبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا
