Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی جے پی ۔ شیو سینا تنازعہ ختم ہونےکا اشارہ

Published

on

bjp and shivsena

ممبئی:مہاراشٹرمیں حکومت بنانے کولےکربی جے پی اورشیوسینا کے درمیان چل رہی رسہ کشی ختم ہوتی نظرآرہی ہے۔ شیوسینا کے لیڈرسنجے راؤت کی طرف سےآئے بیان میں ایسا پیغام ملتا نظرآرہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہےکہ بی جے پی کے ساتھ شیوسینا کا اتحاد ٹوٹا نہیں ہے۔سنجے راؤت نےاپنےنئے بیان میں کہا ہے کہ ذاتی فائدہ اہمیت نہیں رکھتا، ریاست ضروری ہے، جس سے یہ مانا جارہا ہے کہ بی جے پی اورشیو سینا کواقتدارمیں آنےکا فارمولہ مل چکا ہے۔شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نےکہا ہے کہ حکومت بنانے کا دعویٰ کرنے والے فریق کو ایوان میں 145 سیٹوں کی ضرورت ہوگی، صرف اتنا ہی اہمیت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا ہےکہ بی جے پی کےساتھ ان کا اتحاد چل رہا ہے۔ وہیں سنجے راؤت نے وزیراعلیٰ عہدے کولےکرکہاہےذاتی فائدہ اہمیت نہیں رکھتا، ریاست زیادہ اہم ہے۔واضح رہے کہ مہاراشٹرمیں شیوسینا کے نومنتخب اراکین اسمبلی نےقانون سازپارٹی کا لیڈر منتخب کرنےکے لئے میٹنگ کی۔ شیوسینا کےایک لیڈرنےبدھ کوبتایا تھا کہ اس سے متعلق ایک میٹنگ وسط ممبئی واقع شیوسینا بھون میں منعقد ہوگی۔ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا اوراتحادی بی جے پی میں اگلی حکومت میں اقتدارکولےکر 24 اکتوبرسے ہی رسہ کشی چل رہی ہے، جب الیکشن کےنتائج کا اعلان کیا گیا تھا۔ شیوسینا، بی جے پی کے ساتھ 50-50 کےفارمولےکی بات کررہی ہے۔ سینئر لیڈر اور وزیر ایکناتھ شندے سبکدوش ہونے والی اسمبلی کے لیڈر ہیں۔شیوسینا نے اسمبلی الیکشن میں 56 سیٹیں جیتی ہیں اورابھی تک گاوت اورپاٹل سمیت 6 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل کرچکی ہے۔ اس سے 288 اراکین والی اسمبلی میں اس کی تعداد بڑھ کر62 ہوگئی ہے۔ وہیں دوسری طرف اسمبلی الیکشن میں 105 سیٹیں جیتنے والی بی جے پی کوکم ازکم 6 اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہوئی ہے، جس میں سے بیشترپارٹی کے باغی ہیں، جنہوں نےآزاد امیدوارکے طورپرالیکشن لڑا تھا۔ بی جے پی اورشیوسینا کے درمیان باری باری سے وزیراعلیٰ کے موضوع پرلفظی جنگ جاری ہے۔ شیوسینا کا کہنا ہے کہ جب تک بی جے پی 50-50 کے فارمولہ کے لئے تحریری یقین دہانی نہیں کراتی ہے جب تک شیو سینا اپنے فیصلے پرقائم رہے گی۔ بہرحال شیو سینا لیڈرکے بیان کے بعد اب یہ معاملہ حل ہوتا ہوا نظرآرہا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کی بروقت کارروائی، سائبر دغابازی سے قبل ۱۱ کروڑ منجمد

Published

on

cyber-crime

ممبئی : ممبئی میں سائبر فرا ڈ اور دغابازوں پرقدغن لگانے کے ساتھ ممبئی کرائم کا سائبر سیل انتہائی الرٹ ہے, اس نے 24 گھنٹے کے اندر ہی گیارہ کروڑ روپے محفوظ کر لئے اور دغاباز کےاکاؤنٹ میں منتقلی سے پہلے ہی اسے منجمد کر دیا۔ ممبئی 3 مارچ، تقریباً ڈیڑھ بجے ممبئی کے پوائی سے ایک شکایت کنندہ نے ممبئی پولیس کی 1930 سائبر ہیلپ لائن سے رابطہ کیا اور اطلاع دی کہ ایک نامعلوم شخص نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹ سے منسلک ای میل آئی ڈی کو ہیک کر لیا ہے۔ دھوکہ باز نے پھر کمپنی کے نام پر کوٹک مہندرا بینک کو ایک ای میل بھیجا، جس نے کاروباری کارروائیوں کے جھوٹے بہانے کے تحت بینک کو 11,34,85,258/ کے دو مختلف کھاتوں میں لین دین کی کارروائی میں گمراہ کیا، اس طرح سائبر فراڈ کا ارتکاب کیا۔

دھوکہ دہی کا پتہ لگانے کے بعد، شکایت کنندہ نے فوری طور پر 1930 سائبر ہیلپ لائن کو معاملے کی اطلاع دی۔ تیزی سے جواب دیتے ہوئے، پی آئی نورتی باوسکر، اے پی آئی ناگرال، پی ایس آئی راول، اور پی ایس آئی کاکڑ نے فوری طور پر این سی سی آر پی پورٹل پر شکایت درج کی اور بینک حکام کے ساتھ تال میل کیا۔ ان کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں 11,19,50,501/- (11.19 کروڑ) کو دھوکہ دہی والے کھاتوں اکاؤنٹ میں کامیابی سے منجمد کیا گیا، جس سے مزید مالی نقصان کو روکا گیا۔

یہ اطلاع آج یہاں دتا نلاواڑے ڈی سی پی (ڈیٹیکشن) کرائم برانچ، ممبئی نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com