Connect with us
Sunday,02-August-2026

سیاست

سماجوادی پارٹی کو ممبئی میں بڑا جھٹکا۔۔ سینکڑوں پارٹی ورکروں کی شیوسینا میں شمولیت

Published

on

sena-samaj

سماج وادی پارٹی بھائیکلہ ​​ کے سابق صدر عامر حسین انصاری نے کل شام ممبئی میئر کے بنگلے پرممبئی میئر کشوری پیڈنیکر ، ممبر آف پارلیمنٹ اروند ساونت ، اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین شری یشونت جادھو کے سامنے مدن پورہ ، آگری پاڑہ کے 400 افراد کے ساتھ شیوسینا میں شمولیت اختیار کی ، عامر انصاری نے یشونت جادھو کو 400 افراد کے نام کی فہرست مع موبائل نمبر دی اور کہا کہ ان میں جس کو چاہو کال کر کے چیک کرلو کہ یہ سب شیوسینا میں شامل ہورہے ہیں ، چونکہ یشونت جادھو نے 400 لوگوں کو کورونا کی وجہ سے میئر کے بنگلے پر آنے سے منع کیا تھا ، ان 400 لوگوں میں عامر انصاری کے ساتھ انور خان (سماج وادی پارٹی یواجن سابق صدر بھائیکلہ) ایم آئی ایم لیڈر صدیق شیخ ، جابر خان ، رشیدہ شیخ ، انصاری غزالہ پروین نے بھی شیوسینا میں شرکت کی ،عامر حسین انصاری کے 4 سو افراد کے ساتھ شیوسینا میں شامل ہونے پر یہاں موجود ہجوم نے تالیوں سے عامر حسین انصاری کا استقبال کیا ، واضح رہے کہ یہ وہی عامر حسین انصاری ہے جن کے والد مرحوم نور محمد 17 سال مدن پورہ کے رکن بلدیہ رہے. مدن پورہ میں ان کی عوامی خدمات کی ایک لمبی فہرست ہے . یہی وجہ ہے کہ وہ مدن پورہ سے بار بار منتخب ہوتے رہے ہیں ،
اس استقبالیہ تقریب میں ممبئی میئر نے کہا کہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ عامر انصاری جیسا نوجوان شیوسینا میں شامل ہو رہے ہیں. جس سے ہم بھائیکلہ کے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کر سکیں گے ،
رکن پارلیمنٹ اروند ساونت نے کہا کہ شیوسینا ہر مذہب کا احترام کرتی ہے ، ہم جب سڑکوں پر اتر کر عوامی کام کرتے ہیں تب ہم ذات پات اور مذہب نہیں دیکھتے اور اسی لئے شوسینا میں آج عامر انصاری کے ساتھ مسلم ساج کے 4 سو افراد نے شیوسینا میں شمولیت اختیار کی ہے .

بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین شری یشونت جادھو نے کہا کہ عامر انصاری کے والد 17 سال مدن پورہ کے کارپوریٹر رہے ، عوام کی خدمت ان کے خون میں شامل ہے ، ہم شیوسینا میں عامر حسین انصاری کا پرجوش استقبال کرتے ہیں اور عامر کے ساتھ جتنے بھی لوگ سینا میں شامل ہورہے ہیں میں آج ان کو وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیں گے ، اور آپ کے ساتھ مل کر اور زیادہ مدن پورہ۔ آگری پاڑہ ، کے عوام کی خدمت کرینگے.

اخر میں عامر انصاری نے جب مائیک ہاتھ میں لیا تو میئر کا پورا بنگلہ تالیوں سے گونج اٹھا ، عامر انصاری نے کہا کہ میرے والد صاحب بے کہا تھا کہ ہمیشہ ایمانداری سے کام کرنا اور جہاں عزت نہ ملے وہاں کبھی نہ رہنا. شیوشینا پارٹی اور یشونت جادھو بے جو عزت مجھے دی ہے میں اس کے لئے ان کا احسان مند رہوں گا ، اگے عامر انصاری نے کہا کہ بھائیکلہ کی ایم ایل اے یامنی یشونت جادھو اور بی ایم سی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین یشونت جادھو نے لاک ڈاؤن میں بھائیکلہ کے لوگوں کو راحت دی ۔ انہوں نے گھر گھر تک کھانے پینے کا سامان اور راشن کٹ پہنچائی اس وجہ سے ان دونوں نے پورے بھائیکلہ کا دل جیت لیا اور ان کی اسی خدمت اور جذبے کو دیکھتے ہوئے میں شیوسینا میں شامل ہو رہا ہوں. اور جس طرح سے میرے والد نور محمد انصاری نے مدن پورہ کے عوام کی خدمت کی تھی اسی طرح میں بھی انکے نقش قدم پر چلوں گا اور ہم یشونت جادھو اور بھائیکلہ ایم ایل اے یامنی یشونت جادھو کے ساتھ مل کر مثالی مدن پورہ بنائیں گے۔

واضح رہے کہ وارڈ نمبر 211 کے کارپوریٹر نے مدن پورہ کے لوگوں کے بارے میں تبصرہ کیا تھا کی مدن پورہ میں کوئی لائق نہیں ہے، ان کے اسی بیان سے مدن پورہ کے ساکنین میں کافی ناراضگی پائی جارہی تھی اور ان کی اسی بات سے مایوس ہوکر عامر انصاری نے 2 ہفتے پہلے سماجوادی پارٹی بھائیکلہ کے صدر کے عہدے سے استعفی دیا تھا.

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان