سیاست
نالوں کی صفائی بروقت نہ ہونے کے باعث بھیونڈی ایک بار پھر ڈوبنے کی کگار پر,جس کی ذمہ دار میونسپل انتظامیہ ہوگی __ ہرشانت لاڈ

بھیونڈی: (نامہ نگار ) بھیونڈی میونسپل انتظامیہ کی جانب سے مانسون سے تقریبا ڈیڑھ ماہ قبل ہی نالا صفائی کا ٹھیکہ دے کر صفائی کا کام شروع کروایا جانا چاہئے تھا لیکن مانسون سے قبل نالے اور چھوٹی گٹروں کی صفائی پر توجہ نہیں دئے جانے کی وجہ سے ایک بار پھر بھیونڈی شہر پانی میں ڈوبنے کی کگار پر ہے جو باعث تشویش ہے۔ صرف یہی نہیں زیرزمین گٹر یوجنا دوسرے مرحلے کے تحت کئی سڑکوں پر پائپ لائن بچھانے کے لئے کھدائی کی گئی ہے جس کی وجہ سے سڑک کے دونوں جانب کی گٹریں پوری طرح سے مٹی سے بھری ہوئی ہیں۔ آئندہ کچھ دنوں میں مانسون کی آمد ہونے والی ہے جس کی وجہ سے گٹروں کا گندا پانی ایک بار پھر سڑکوں پر بہنے کے لئے تیار ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے نالوں کی بھی مکمل طور پر صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالوں کا پانی چیمبر کے ڈھکن کے اوپر سے بہنے کے امکانات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن نے پربھاگ سمیتی نمبر 5 میں بڑے نالوں کی صفائی کرنے کے لئے شبھم کنسٹرکشن کمپنی کو 23 لاکھ 54 ہزار 587 روپے میں ٹھیکہ دیا ہے ، وہیں پر پربھاگ سمیتی نمبر 3 میں اسی کمپنی کو 21 لاکھ 4 ہزار 486 روپے میں نالا صفائی کے لئے ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ واضح ہو کہ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی حدود کے تحت نالوں کی کل لمبائی 42،685 میٹر ہے۔ بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی حدود کے تحت مجموعی طور پر چھوٹے بڑے ملا کر کل 92 نالے ہیں۔ جس میں میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 1 میں 17 نالا ، میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 2 میں 14 ، میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 3 میں 26 ، میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 4 میں 13 ، میونسپل پربھاگ سمیتی نمبر 5 میں 22 نالے شامل ہیں۔
عالمی وبائی بحران کا شکار بھیونڈی شہر کو اب بارش کے سیلاب کے قہر کی تباہی کا بھی سامنا کرنا ہے۔واضح ہو کہ لاک ڈاؤن کے دوران 90 فیصد مزدور شہر چھوڑ کر اپنے آبائی وطن چلے گئے ہیں جس کی وجہ سے نالا صفائی کروا رہے پربھاگ افسران اور ٹھیکیدار کو وقت پر مزدور نہیں ملنے سے صفائی کے کاموں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔ میونسپل انتظامیہ مزدوروں کو روزانہ 606 روپے یومیہ مزدوری ادا کرکے نالوں کی صفائی کروا رہی ہے۔ اس میں بھی بڑی بدعنوانی ہونے سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ نے ٹھیکیداروں سمیت میونسپل افسران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نالوں اور گٹروں کی صفائی ٹھیک سے نہیں کی گئی تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی میونسپل کمشنر نے صفائی پر خصوصی توجہ دینے کے لئے پربھاگ افسران ، ہیلتھ انسپکٹر اور جونیئر انجینئروں کی ٹیم بھی تعینات کردی ہے۔
اس ضمن میں کارپوریٹر و سابق ہاوس لیڈر پرشانت لاڈ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے میونسپل انتظامیہ و اسٹینڈنگ کمیٹی پر نالا صفائی کام کے لئے غیر فعالیت کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سالوں میں ہمیشہ مانسون کی آمد سے ڈیڑھ سے دو ماہ قبل ہی ٹینڈر نکال کر ٹھیکہ دیا جاتا تھا لیکن اس وقت ماہ جون میں یہ کام کیا گیا ہے۔اسی طرح میونسپل کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی بھی 23 جون کو جاگی اور جنرل میٹنگ کا انعقاد کر کے نالا صفائی کے متعلقہ عنوان پر سنجیدگی دکھائی جس پر حیرت ہو رہی ہے کہ اگر میونسپل انتظامیہ اس سے لا علم تھا تو اسٹینڈنگ کمیٹی کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی تھی۔جبکہ اسٹینڈنگ کمیٹی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ 25 لاکھ روپے تک کا کام کرنے کے لئے مجاز رکھتی ہے اس کے باوجود 23 جون تک کس کے حکم کا انتظار کرتے رہے ۔واضح ہو جس طرح سے نالا صفائی کا کام شہر میں صل رہا ہے ایسا لگتا ہے کہ نالا تو کیا نالی کی بھی صفائی مکمل طور سے ہونا ممکن ہے۔اگر بارش میں شہر ڈوبا تو اس کا ذمہ دار میونسپل انتظامیہ ہوگی ۔مذکورہ قسم کا الزام کارپوریٹر و سابق ہاوس لیڈر پرشانت لاڈ نے عائد کیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔
سیاست
وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔
ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔
-
سیاست5 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر5 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست5 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم5 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم4 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا