Connect with us
Sunday,27-September-2026
تازہ خبریں

مہاراشٹر

بھیما کوریگاؤں-ایلگار پریشد معاملہ: بامبے ہائی کورٹ نے قبائلی حقوق کے کارکن مہیش راوت کو ضمانت دی

Published

on

Bombay High Court

ممبئی، 21 ستمبر: بمبئی ہائی کورٹ نے 2018 کے بھیما کوریگاؤں-ایلگار پریشد سازش کیس کے ایک ملزم مہیش راوت کو ضمانت دے دی ہے، اور قومی تحقیقاتی ایجنسی کی درخواست پر ایک ہفتے کے لیے روک لگانے کی اجازت دی ہے۔ جسٹس اے ایس گڈکری اور شرمیلا دیشمکھ کی ڈویژن بنچ نے جمعرات کو کہا کہ قبائلی حقوق کے کارکن راوت کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ کی کئی دفعات نامناسب ہیں۔ راوت کو 6 جون 2018 کو ماؤنوازوں سے مبینہ تعلق کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور تب سے وہ جیل میں ہے۔ راوت کے وکیل، سینئر ایڈوکیٹ مہر دیسائی نے دلیل دی کہ قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کے دعووں کے برعکس، ان کا مؤکل ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) کا رکن نہیں تھا بلکہ وہ TISS گریجویٹ تھا، وزیر اعظم کی فیلوشپ حاصل کرنے والا تھا اور کام کیا تھا. گڈچرولی میں قبائلیوں کے لیے حکومت کے ساتھ۔ این آئی اے کے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل دیوانگ ویاس اور وکیل سندیش پاٹل نے عرض کیا کہ ملک کے خلاف جنگ چھیڑنے کی ایک “بڑی سازش” تھی اور نومبر 2021 میں ٹرائل کورٹ نے ان کی ضمانت مسترد کر دی تھی۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس سی پی آئی (ماؤسٹ) کے ثبوت موجود ہیں۔ راوت اور دیگر شریک ملزمان سریندر گڈلنگ اور سدھیر دھاولے کو 5,00,000 روپے دیے تھے اور یہ ظاہر کرنے کے لیے کافی شواہد موجود تھے کہ راوت نے گڈچرولی میں پنچایت میٹنگوں میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے دلیل دی کہ کالعدم تنظیم نے یکم جنوری 2018 کو پونے کے بھیما کوریگاؤں میں تشدد اور ایک شخص کی موت کی صورتحال پیدا کی تھی جس پر عدالت نے کہا کہ اس شخص کو قتل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا بلکہ فسادات میں اس کا ملوث ہونا تھا۔ . , این آئی اے نے دلیل دی کہ چونکہ ماؤنواز نظریہ جمہوری طور پر منتخب حکومت کو ‘دشمن’ کے طور پر دیکھتا ہے اور جو بھی اس کے ذریعے مارا جاتا ہے اسے ‘شہید’ سمجھتا ہے، اس لیے وہ نوجوانوں کو گمراہ اور متحرک کرتے ہیں۔ بھیما کوریگاؤں میں فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ہر طرف سے ہزاروں دلت آئے۔ مہاراشٹر بھیما کوریگاؤں جنگ کی 200 ویں سالگرہ منانے کے لیے جمع ہوا۔ یہ تاریخی تصادم پیشواؤں کی 28,000 مضبوط فوج اور 500 برطانوی فوجیوں کے ایک چھوٹے گروپ کے درمیان ہوا جس میں دلت (مہار ذات) شامل تھے۔ انگریزوں کی فتح ہوئی اور دلت شہیدوں کے نام بعد میں نوآبادیاتی حکمرانوں کی طرف سے بنائے گئے ایک سینوٹاف پر کندہ کر دیے گئے۔ راوت سنسنی خیز کیس میں اب تک ضمانت حاصل کرنے والے چھٹے ملزم بن گئے ہیں، اور ان سے پہلے بھاردواج، گونسالویس، تیلٹمبڈے، فریرا اور راؤ کو ماضی میں مختلف مقامات پر ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن کا کامیاب سیمینار

Published

on

ممبئی : ممبئی میں مسلم خواتین میں بیداری لانے کیلئے آل انڈیا مسلم ویمن ایسوسی ایشن نے دو روزہ سمینارہ کا انعقاد مسافر خانہ صابو صدیق میں کیا تھا جس میں خواتین کو بااختیار اور خود کفیل بنانے کیلئے اہم پہل کی گئی اس مستورات کے اجتماع میں خواتین کو دین و دنیا اور حالات حاضرہ سے متعلق بھی روشناس کروایا گیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر اسما زہرہ نے کہا کہ آج کے اس پرفتن دور میں جس طرح سے بیداری ضروری ہے اسی مناسبت سے اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا اس میں تعلیمی بیداری انتہائی اہم اور ضروری ہے اس لئے اس سمینار میں خواتین کو تعلیم کے غرض و غایت سے متعلق روشناس کروایا گیا اتنا ہی نہیں آج کے اس سمینار میں اساتذہ شریک تھے اور صرف ممبئی ہی نہیں بلکہ مہاراشٹر اور ملک کے دیگر گوشوں سے بھی خواتین اساتذہ اس میں شریک تھے اسما زہر نے کہا کہ تعلیم ہی ہماری نسلوں میں بیداری لاتی ہے اس لئے ایسی صورتحال میں اپنی بچیوں کو بیدار کر نے کیلئے یہ سیمینار منعقد کیا گیا تھا تاکہ انہیں سماج و معاشرے میں کام کاج کے طریقہ کار سے روشناس کروایا جائے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے سرکار اقلیتوں کو حاشیہ پر لانے کی کوشش کر رہی ہے نت نئے قانون اور یو سی سی جیسے قانون کی نفاذ کی بات کی جارہی ہے اس سے مسلمان تو بیدار ہوچکے ہیں اس کے ساتھ ہی سرکار کے مسلسل مسلمانوں کو نشانہ بنانے سے یہ فائدہ ہوا ہے کہ وہ اب پوری طرح سے ہوش میں آگئے ہیں اور ہر چال سے ہوشیار و بیدار ہے اس سمینار کا مقصد تعلیم کو عام کرنا اور خواتین و بچیوں کو خود کفیل بنانا معاشر ے میں خواتین کے حقوق کو عام کرنا ہے۔ اس تقریب میں ممبئی امن کمیٹی کے سر براہ فرید شیخ بھی پیش پیش تھے انہوں نے کہا کہ ایسے سمینار کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانے کے ساتھ ان میں حوصلہ پیدا کرنا ہے اس لئے یہ دو روزہ سیمنار ممبئی میں منعقدہ کیا گیا جس میں ملک بھر سے 500 سو سے زائد ٹیچر اور ہر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی مستورات اور اہم اشخاص نے شریک کی ہے اور یہ سمینار کامیاب رہا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی یکم اکتوبر سے جھوپڑپٹیوں پر انہدامی کارروائی کا خوف

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے یہاں ممبئی مراٹھی پترکار سنگھ میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یکم اکتوبر 2026 ء کو 14 فٹ اونچائی سے زیادہ جھوپڑوں کے خلاف کارروائی پر فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ مانخورد گوونڈی, ملاڈ مالونی کرلا, ساکی ناکہ سمیت دیگر جھوپڑپٹی علاقوں کو اس پالیسی کے معرفت نشانہ بنانے کی کوشش ہے ان جھوپڑپٹیوں میں مقیم مکین جب ووٹ دینے کے اہل ہے تو پھر ان پر کارروائی کیوں؟ جن افسران نے غیر مجاز تعمیرات کروائی ہے ان پر بھی کارروائی کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے انہوں نے کہا کہ جھوپڑپٹی بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کیلئے اس قسم کی پالیسی تیار کی جاتی ہے اس لئے ہم نے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے مطالبہ کیا ہے اس پر فوری طور پر روک لگائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 فٹ کے بی ایم سی کے فرمان سے جھوپڑپٹیوں میں غیر یقینی صورتحال ہے اور مکین پریشان حال ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ کا خطرہ لاحق ہے اس لئے میری سرکار سے گزارش ہے کہ پہلے جھوپڑوں کی بحالی عمل میں لائی جائے اس کے بعد سرکار کوئی کارروائی کرے۔

اعظمی نے الیکشن کمیشن اور ایس آئی آر پر بات کر تے ہوئے الیکشن کمشنر کو ہی دھوکہ باز اور چور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اب یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ کس طرح سے گڑ بڑی اور خرد برد کی گئی ہے اس لئے اس معاملہ میں الیکشن کمشنر کی گرفتاری کا بھی مطالبہ اعظمی نے کیا ہے اس کے ساتھ ہی اعظمی نے قحط زدہ اضلاع میں فوری طور پر امداد پہنچانے اور مہاراشٹر کو قحط زدہ خشک سالی کا اعلان کر نے کے علاوہ کسانوں کی فوری مالی و ضروری امداد کا مطالبہ کیا ہے انہوں نے کہا کہ یو پی الیکشن عنقریب ہے ایسے میں ممبئی میں شمالی ہند کے باشندوں کیلئے مہم چلائیں گے اس کے ساتھ ہی شمالی ہند کے باشندوں کو یو پی الیکشن میں حصہ لینے کی بھی اپیل کریں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان