Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

نیشنل ہیرالڈ کیس میں سونیا گاندھی سے پوچھ تاچھ سے پہلے ای ڈی کو ملے اہم سراغ

Published

on

ed

نئی دہلی: نیشنل ہیرالڈ منی لانڈرنگ کے مبینہ معاملے میں کانگریس صدر سونیا گاندھی سے پوچھ تاچھ سے پہلے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کو کچھ اہم معلومات ملی ہیں۔ تفتیش اسے ینگ انڈین کولکتہ کی شیل کمپنی ڈوٹیکس مرچنڈائز سے 1 کروڑ روپے کے غیر محفوظ شدہ قرض سے متعلق اہم تفصیلات کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ سنیل بھنڈاری اور سنیل سنگانیریا نہ صرف ڈوٹیکس مرچنڈائز پرائیویٹ لمیٹڈ بلکہ کولکتہ کی 50 دیگر کمپنیوں کے بھی ڈائریکٹر تھے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی تفشیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ کمپنیاں کالے دھن کو وائٹ بنا رہی تھیں۔ تاہم، کمپنیز ایکٹ کے تحت، کوئی شخص صرف ایک کمپنی میں کل وقتی ڈائریکٹر رہ سکتا ہے۔

ای ڈی ینگ انڈین کمپنی کی تحقیقات کر رہی ہے، جس کے بڑے شیئر ہولڈر سونیا اور راہل گاندھی ہیں۔ اس کمپنی نے ایسوشیٹ جنرلس لمیٹیڈ (اے جے ایل) کو اپنے اثاثوں (800 کروڑ سے زیادہ) کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ گاندھی خاندان سے کولکاتہ کی ایک شیل کمپنی کے ذریعے مبینہ طور پر ایک کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے سلسلے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ نیشنل ہیرالڈ کے پبلشر اے جے ایل کا ٹیک اوور بھی تحقیقات کا حصہ ہے۔

ڈوٹیکس نے کانگریس سے اے جے ایل کے قبضے کے لیے ینگ انڈین کو فنڈز دیے تھے۔ پارٹی کو اے جے ایل کے 90 کروڑ قرض کے تصفیہ کے طور پر ینگ انڈین سے 50 لاکھ روپے ملے۔ اس کے بعد اے جے ایل کا 100 فیصد حصہ ینگ انڈین کو منتقل کر دیا گیا۔ کانگریس سربراہ سے جولائی کے آخر تک پوچھ تاچھ کی جانی ہے۔ تفتیش کار ان سے سوال کر سکتے ہیں کہ کانگریس نے اے جے ایل کو 90 کروڑ روپے کیسے ادا کیے؟ کانگریس دعویٰ کر رہی ہے کہ ادائیگی نقد یا چیک سے کی گئی تھی جبکہ راہل گاندھی، ملکارجن کھرگے اور پارٹی کے خزانچی پون بنسل تفتیش کاروں کو مطمئن نہیں کر سکے۔ ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کے سینئرلیڈر ابھی تک ‘ادائیگی کے طریقہ کار’ کی وضاحت نہیں کر پائے ہیں۔

یہی سوال تفتیش کار سونیا گاندھی سے پوچھنے والے ہیں، جو 2011 میں جب اے جے ایل کو ینگ انڈین نے حاصل کیا تھا تو پارٹی کی صدر بھی تھیں۔ ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کانگریس نے 90 کروڑ کیسے ادا کیے اور اس رقم کا ذریعہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اگر لین دین بینک کے ذریعے کیا گیا ہے تو اس کی تفصیلات بینک اسٹیٹمنٹ میں ظاہر ہونی چاہئیں۔ اگر یہ نقد رقم دی جائے تو اس فنڈ کا ذریعہ بتانا ہوگا کیونکہ یہ کوئی چھوٹی رقم نہیں تھی۔

اب تک پارٹی لیڈر کہتے رہے ہیں کہ کانگریس نے اے جے ایل کو وی آر ایس (رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اسکیم) اور نیشنل ہیرالڈ ملازمین کی بقایا تنخواہ کے لیے 90 کروڑ ادا کیے ہیں۔ تاہم، وہ متعلقہ دستاویزات فراہم نہیں کر سکے تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ لین دین ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ لین دین کانگریس کے سابق خزانچی آنجہانی لیڈر موتی لال وورا کی نگرانی میں ہوا۔

محکمۂ انکم ٹیکس کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نئی بننے والی کمپنی ینگ انڈین کو بغیر کسی گیارنٹی کے ایک کروڑ روپے کا قرض دیا گیا جبکہ اس کمپنی کا سرمایہ صرف 5 لاکھ روپے تھا۔ ینگ انڈین کے ٹیکس ریٹرن سے پتہ چلتا ہیکہ مالی سال 2013-14 میں یہ 1 کروڑ قرض ادا نہیں کیا گیا تھا۔

یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ڈوٹیکس کمپنی حوالہ کے کاروبار میں ملوث تھی اور چیک کے بدلے نقد رقم فراہم کرتی تھی۔ ڈوٹیکس اب بند ہے۔ الزام ہے کہ اس کمپنی نے ینگ انڈین کو بغیر سیکیوریٹی کے ایک کروڑ روپے دیئے تھے۔ یہ رقم ینگ انڈین کو اے جے ایل کا قرض خریدنے کے لیے دی گئی تھی۔ ینگ انڈین نے اے جے ایل حاصل کیا تھا۔ نیشنل ہیرالڈ خود اے جے ایل نے شائع کیا ہے۔

دوسری جانب کانگریس لیڈر سپریا شرینت نے بتایا ہے کہ ‘ینگ انڈین’ ایک ‘غیر منافع بخش سیکشن-25 کمپنی’ ہے جس نے شری رام پرساد گوئنکا گروپ (آر پی جی) کی ڈوٹیکس کمپنی سے ایک کروڑ روپے کا قرض 14% سالانہ سود پر لیا تھا۔ یہ رقم ‘ینگ انڈین’ نے 14 فیصد کے سود کے ساتھ چیک کے ذریعے واپس کی۔ پوری رقم چیک کے ذریعے لی گئی اور اسی طرح واپس کر دی گئی۔

سونیا گاندھی نے ای ڈی سے درخواست کی تھی کہ ان کی خرابی صحت کے پیش نظر ان کی پیشی کی تاریخ میں چند ہفتوں کی توسیع کی جائے۔ کانگریسی صدر کو 23 جون کو پیش ہونا تھا۔ تفتیشی ایجنسی نے انہیں جولائی کے آخر تک پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرنے کو کہا ہے۔ اس معاملے میں ای ڈی نے پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی سے پانچ دنوں میں 50 گھنٹے سے زیادہ پوچھ تاچھ کی ہے۔ حکام کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈران اور گاندھی خاندان سے پوچھ تاچھ ای ڈی کی تحقیقات کا حصہ ہے تاکہ شیئر پیٹرن، ‘ینگ انڈین’ اور ‘ایسوسی ایٹڈ جرنلز لمیٹڈ’ (اے جے ایل) کے مالیاتی لین دین کے کردار کو سمجھ سکے۔

ایجنسی نے پی ایم ایل اے کی فوجداری دفعات کے تحت ایک تازہ مقدمہ درج کیا تھا جب دہلی کی ایک ٹرائل کورٹ نے ‘ینگ انڈین’ کے خلاف محکمۂ انکم ٹیکس کی تحقیقات کا نوٹس لیا تھا۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے 2013 میں اس سلسلے میں شکایت درج کرائی تھی۔ سوامی نے سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور دیگر پر دھوکہ دہی اور فنڈز کے غبن کرنے کی سازش کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ ینگ انڈین پرائیویٹ لمیٹڈ نے 90.25 کروڑ روپے کی وصولی کا حق حاصل کرنے کے لیے صرف 50 لاکھ روپے ادا کیے، جس کا اے جے ایل کانگریس کو واجب الادا تھا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com