Connect with us
Friday,27-March-2026

سیاست

بلریا گنج معاملہ :پرینکا نے حقوق انسانی کمیشن کو لکھا خط

Published

on

priyanka gandhi

اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے قصبہ بلریاگنج میں گذشتہ دنوں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف احتجاج کررہی خواتین پر پولیس کی مبینہ تشدد کی کاروائی پر کانگریس جنر ل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے قومی حقوق انسانی کمیشن کو خط لکھ کر خاطی پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اترپردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے بلریا گنج قصبے میں شہریت(ترمیمی)قانون کے خلاف پرامن احتجاج کررہی خواتین پر پولیس نے مبینہ طور پر لاٹھی چارج کرنے کے ساتھ گیس کے گولے داغے تھے جس میں متعدد خواتین زخمی بھی ہوئی تھیں لیکن پولیس نے خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال سے انکار کیا تھا۔
اس ضمن میں پولیس نے 35 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرتے ہوئے 19 افرد کو گرفتار کیا تھا جس میں قصبے کے کافی اثر رکھنے والے معروف عالم دین مولانا طاہر مدنی بھی شامل ہیں۔بعد میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے 12 فروری کو علاقے کا دورہ کیا تھا اور متأثرین کا حال چال معلوم کرتے ہوئے اس ضمن میں حقوق انسانی کمیشن کا خط لکھنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
اترپردیش کانگریس اقلیتی سیل کے چیئر مین شہنواز عالم نے آج یہاں پریس کانفرنس میں بتایا کہ کانگریس جنرل سکریٹری نے بلریا گنج معاملے میں حقوق انسانی کمیشن کو 20 صفحات پر مبنی اپنے خط میں خاطی پولیس افسران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پولیس نے پرامن طریقے سے احتجاج کررہی خواتین پر بغیر کسی پیشگی انتباہ کے لاٹھیاں برسائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے ہیں۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ جانچ کے مطالبہ کو خارج کر تے ہوئے پولیس کے دعوؤں کو من وعن قبول کرنا آئینی عمل پر حملہ ہے اور یوگی حکومت ایسا لگاتا رکررہی ہے۔
مسٹر شہنواز نے بتایا کہ محترمہ واڈرا کے خط کے ساتھ ایک ویڈیو بھی منسلک کیا گیا ہے جس میں خاتون کوتوال گیانو پریا اور ایس ایچ او بلریا گنج منوج سنگھ کے خلاف ثبوت موجود ہیں۔پرینکا نے اپنے خط میں مولانا طاہر مدنی کی گرفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ امن وسماجی ہم آہنگی کی بات کرنے والے مولانا طاہر مدنی کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنا منظم کرائم کی تازہ مثال ہے۔
اپنے خط میں محترمہ واڈرا نے شدید طورسے زخمی سروری بانو کی میڈیکل رپورٹ اور عنابیہ ایمان(06) کا بھی ذکر کیا ہے جو پولیس کاروائی کی وجہ سے اس قد ر خائف تھی کی کئ دنوں تک سو بھی نہیں پائی۔حقوق انسانی کمیشن کے نام اپنے 12 نکاتی خط میں پرینکا نے بلریا گنج دورے کے دوران خواتین کی جانب سے پولیس اہلکار پر خواتین کو گالیاں دینے،عصمت دری اور برقعہ پھاڑ دینے کی دھمکی دینے کے لگائے گئے الزامات کا بھی ذکر کیا ہے۔

بزنس

کمزور عالمی اشارے کے درمیان اسٹاک مارکیٹ سرخ رنگ میں کھلی۔

Published

on

ممبئی: کمزور عالمی اشارے کے درمیان، ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ جمعہ کو سرخ رنگ میں کھلا۔ صبح 9:18 بجے سینسیکس 808 پوائنٹس یا 1.07 فیصد گر کر 74,435 پر تھا اور نفٹی 274 پوائنٹس یا 1.18 فیصد گر کر 23,033 پر تھا۔ مارکیٹ میں وسیع البنیاد کمی دیکھی گئی۔ PSU بینکوں اور آٹوز نے ابتدائی تجارت میں کمی کی قیادت کی۔ نفٹی پی ایس یو بینک اور نفٹی آٹو انڈیکس میں سب سے زیادہ خسارے میں رہے۔ نفٹی فنانشل سروسز، نفٹی ریئلٹی، نفٹی انڈیا ڈیفنس، نفٹی پرائیویٹ بینک، نفٹی استعمال، نفٹی میٹل، اور نفٹی انفرا میں اضافہ ہوا۔ صرف نفٹی آئی ٹی سبز رنگ میں تھا۔ لارج کیپس کے ساتھ ساتھ مڈ کیپس اور سمال کیپس میں بھی کمی ہوئی۔ نفٹی مڈ کیپ 100 انڈیکس 561 پوائنٹس یا 1.02 فیصد گر کر 54,769 پر تھا اور نفٹی سمال کیپ 100 انڈیکس 130 پوائنٹس یا 0.82 فیصد گر کر 15,766 پر تھا۔ ایچ سی ایل ٹیک، ٹی سی ایس، انفوسس، ٹیک مہندرا، سن فارما، اور ٹرینٹ سینسیکس پیک میں فائدہ اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ ایٹرنل، بجاج فنسرو، ایچ ڈی ایف سی بینک، انڈیگو، ایل اینڈ ٹی، ایم اینڈ ایم، کوٹک مہندرا بینک, ایس بی آئی، ایکسس بینک، ایچ اے ایل، الٹرا ٹیک سیمنٹ، بی ایل اے، ماروتی سوزوکی، ٹائٹنز، آئی سی آئی سی آئی بینک، اور پاور گرڈ نقصان اٹھانے والوں میں شامل تھے۔ ایشیائی منڈیوں میں ٹوکیو، سیول اور جکارتہ سبز رنگ میں کھلے جبکہ شنگھائی اور ہانگ کانگ سرخ رنگ میں تھے۔ جمعرات کو امریکی بازار سرخ رنگ میں بند ہوئے۔ پی ایل کیپٹل کے ایڈوائزری کے سربراہ وکرم کاسات نے کہا کہ امریکی ٹیکنالوجی انڈیکس، نیس ڈیک، ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کے لیے جمعے کی آخری تاریخ کے قریب آنے پر گرا ہے۔ تاہم بعد ازاں آخری تاریخ بڑھا دی گئی۔ مارکیٹ بند ہونے کے گیارہ منٹ بعد، ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ رات 8 بجے تک ایرانی پاور پلانٹس پر حملہ نہیں کرے گا۔ (ایسٹرن ٹائم) پیر 6 اپریل کو۔ انہوں نے کہا کہ نئی ڈیڈ لائن ایرانی حکومت کی درخواست پر مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خبروں کی بنیاد پر مارکیٹ کے قلیل مدتی اتار چڑھاو کو دیکھتے ہوئے سرمایہ کاروں کے پاس محدود مواقع ہیں۔ غیر ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار (ایف آئی آئیز) بیچنے والے رہے اور بدھ کو 1,805.37 کروڑ روپے کی ایکوئٹی فروخت کی۔ گھریلو ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئیز) نے 5,429.78 کروڑ روپے خریدے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

امریکہ-اسرائیل اور ایران کے حملوں میں حوثی کی ‘انٹری’, ایرانی میڈیا نے کیا بڑا دعویٰ

Published

on

تہران : ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 28 فروری کو حملوں کو شروع ہوئے تقریباً ایک ماہ گزر چکا ہے, لیکن دونوں فریقوں کے درمیان ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ دریں اثنا، حوثی باغی ایران پر امریکی-اسرائیلی حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے میدان میں آ سکتے ہیں۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی اسرائیل کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں۔ نامعلوم ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے، ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حوثی، جنہیں یمنی انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، آبنائے باب المندب پر ​​قبضہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اکتوبر 2023 سے، باغی گروپ نے بحیرہ احمر میں پہلے ہی کشیدگی برقرار رکھی ہے اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں سینکڑوں اسرائیلی اہداف پر گولہ باری کی ہے۔ امریکی میڈیا سی این این کے مطابق حوثیوں نے امریکا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے, جس سے دنیا بھر میں تجارت متاثر ہوئی ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی بحری جہاز سمندر کے ذریعے بحری جہازوں کی حفاظت کر رہے ہیں, لیکن اگر حوثی آبنائے باب المندب پر ​​قبضہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ان کے اختیارات کو مزید محدود کر سکتا ہے۔ آبنائے باب المندب بحیرہ روم اور بحیرہ عرب کے درمیان ایک اہم راستہ ہے جو یورپ کو افریقہ اور اس سے آگے ایشیا سے ملاتا ہے۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ درحقیقت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم ایران نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تیسرے فریق کے ذریعے صرف مختصر پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مختلف پیغامات کا تبادلہ ہوا ہے, جبکہ تہران نے گزشتہ ماہ کے آخر میں ملک پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے واشنگٹن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی۔ انہوں نے یہ تبصرہ سرکاری ٹی وی چینل آئی آر آئی بی کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ عراقچی نے کہا، “کچھ دن پہلے سے، امریکی فریق مختلف ثالثوں کے ذریعے مختلف پیغامات بھیج رہا ہے۔ جب دوست ممالک کے ذریعے ہمیں پیغامات بھیجے جاتے ہیں اور ہم جواب میں اپنا موقف واضح کرتے ہیں یا ضروری انتباہ جاری کرتے ہیں، تو اسے نہ تو بات چیت کہا جاتا ہے اور نہ ہی بات چیت۔ یہ صرف ہمارے دوستوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ہے، اور ہم نے اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا ہے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان