Connect with us
Wednesday,15-April-2026

سیاست

بابا صاحب نے ہمیشہ محروم طبقات کی آواز بلند کی: مایاوتی

Published

on

Mayawati

بہوجن سماج پارٹی( بی ایس پی) سپریمو مایاوتی نے دستور ہند کے خالق بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کو ان کی جینتی پر خراج عقید ت پیش کرتےہوئے کہا کہ بابا صاحب نے اپنی پوری زندگی دلتوں، قبائلیوں، پچھڑوں اور دیگر محروم طبقات کے لوگوں کو عزت کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے وقف کردی تھی۔
محترمہ مایاوتی نے منگل کو یہاں ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ان کی جیتنی پر ان کی مورتی پر گلپوشی کرنےکے بعد کہا کہ آج ملک کے خاص کر کروڑوں دلتوں، قبائلیوں، پچھڑؤں اور دیگر محروم طبقات کے مسیحا و ہندوستانی آئین کولکھنے والے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی جیتنی ہے۔ بابا صاحب کے ادھورے کاموں کو پورا کرنے کے لئے آج ہی کے دن 14اپریل 1984 کو کانسی رام جی نے بی ایس پی کی تشکیل کی تھی۔
انہوں نے کہا کہ بابا صاحب کی جینتی کے مبارک موقع پر پارٹی کی جانب سے انہیں پرخلوص خراج عقیدت پیش کرتی ہوں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی خاص کر یہاں دلتوں، قبائلیوں، پچھڑوں اور دیگر محروم طبقات کے لوگوں کو بھی عزت کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لئے وقف کردی تھی۔
ملک میں پھیلے کورونا وائرس و اس کے بچاؤ میں نافذ سرکاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی اس بار پارٹی کے ساتھ۔ ساتھ ان کے دیگر تمام پیرو کار بھی بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر کی جینتی پر اپنے گھروں میں ہی رہ کر منارہے ہیں۔ میں تہہ دل سے ان کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔
بی ایس پی سربراہ نے کہا کہ اس وبا کی وجہ سے پورے ملک میں خاص طور سے دلتوں، قبائلیوں، پچھڑوں و دیگر محروم طبقات و غریب لوگوں کی جو خستہ حالی دیکھنے کوملی ہے۔ اس کے تئیں مرکزی و ریاستی حکومتوں کو بھی ابھی تک ذات پات پر مبنی ذہنیت میں پوری طرح سے تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ان لوگوں نے وقار کے ساتھ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لئے بابا صاحت کی بات مانی ہوتی ساتھ ہی یہ لوگ ذات پات اور مادہ پرست پارٹیوں کے بہکاوے میں نہ آئے ہوتے تو آج ہمیں پورے ملک میں اس پھیلی وبا کے دوران ان کی ایسی خراب دردناک حالت دیکھنے کو نہ ملتی۔
انہوں نے کہا کہ کورونا سے متاثرین میں تقریبا 90فیصدی افرادمحروم طبقات کے ہیں۔ ان کی یہ شکایتیں ہیں کہ ان کے پاس کوئی راشن کارڈ وغیرہ نہیں ہے۔ انہیں ابھی تک راشن بھی نہیں مل پایا ہے۔ حکومت کو اس کا جلد ہی کوئی نہ کوئی حل ضرور نکالنا چاہئے۔ورنہ یہ لوگ کورونا سے کم بلکہ فاقہ کشی سے زیادہ مریں گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر میں درختوں کی سائنسی کٹائی اور درختوں کی گنتی پر تربیتی کیمپ

Published

on

Garden-and-Zoo

ممبئی : بائیکلہ کے ویرماتا جیجا بائی بھوسلے بوٹینیکل گارڈن اور چڑیا گھر کے پینگوئن روم آڈیٹوریم میں آج (15 اپریل 2026) ایک روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں مانسون سے قبل خطرناک درختوں کی سائنسی طریقے سے کٹائی کیسے کی جائے اور درختوں کی گنتی کے دوران جدید مشینری کا استعمال کیسے کیا جائے۔ باغات کے سپرنٹنڈنٹ جتیندر پردیشی نے بتایا کہ درختوں کی گنتی اگلے ہفتے سے شروع ہوگی۔

اس کیمپ میں باغات کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ صاحب راؤ گاویت، اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ باغات اویناش یادو، آربرسٹ وویک رانے، یوگیش کوٹے، پارکس ڈپارٹمنٹ کے افسران، ٹرینی ملازمین، ٹھیکیداروں کے ذریعہ مقرر کردہ باغ کے ماہرین موجود تھے۔ ہر سال مانسون شروع ہونے سے پہلے ممبئی میں خطرناک درختوں کی شاخوں کو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے کاٹ دیا جاتا ہے۔ ماحول کے توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ان کاموں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی یہ مہم مزید وسیع پیمانے پر چلائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ماہرین کی مدد سے ممبئی میں درختوں کی گنتی کی جائے گی۔ جتیندر پردیشی نے کیمپ میں موجود ٹرینی ملازمین کو درختوں کی کٹائی، درختوں کی مردم شماری کے بارے میں جانکاری دی۔ اسسٹنٹ پارکس سپرنٹنڈنٹ اویناش یادو نے درختوں کے سائز، مٹی کی نمی، ہوا کی رفتار اور تعمیر کے دوران درختوں کی حفاظت کے موضوعات پر رہنمائی کی۔

آربورسٹ وویک رانے نے ان کی رہنمائی کی کہ درختوں کی کٹائی کے ذریعے درختوں کا انتظام کیسے کیا جائے اور سائنسی انداز میں درختوں کی کٹائی کرتے وقت حالات کا اندازہ لگایا جائے۔ درختوں کی وجہ سے سرکاری اور نجی املاک کو پہنچنے والے نقصان کو کیسے روکا جائے، بدلتی ہوئی آب و ہوا کے دوران درختوں کی حفاظت کیسے کی جائے اور درختوں کی جسامت اور صحت کو مسلسل بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جانے چاہئیں، کے بارے میں جدید تصورات پیش کیے گئے۔ جناب یوگیش کوٹے نے ایک مظاہرے کے ساتھ رہنمائی کی کہ درختوں کی مردم شماری کیسے کی جائے، اس کے لیے کس طرح جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا اور اس مردم شماری کے لیے کس طرح ڈرون کا استعمال کیا جائے گا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مغربی مضافاتی علاقوں میں نالیوں کی صفائی کا کام جنگی پیمانے پر جاری، ایڈیشنل میونسپل کمشنر ڈاکٹر وپن شرما کا دورہ

Published

on

Clean

ممبئی : ممبئی مانسون سے قبل کاموں کے جائزہ کے ایک حصے کے طور پر، ممبئی میٹروپولیٹن ریجن میں بڑے اور چھوٹے نالوں سے کیچڑ ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما نے آج ( مورخہ 15 اپریل 2026) ایچ ایسٹ ڈویژن، ایچ ویسٹ ڈویژن، کے شمالی اور کے جنوبی ڈویژنوں میں ڈرین کی صفائی کے کاموں کا معائنہ کیا۔

شرما نے بذات خود بڑے نالوں جیسے موگرا نالہ، وکولا نالہ، کرشنا نگر نالہ، اندھیری بھواری مارگ، ایس این ڈی ٹی نالہ کے ساتھ ساتھ باندرہ میں بازار نالہ، گروارے نالہ، اپیکس نالہ کا دورہ کیا اور نالوں سے گاد ہٹانے کے کام کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ضروری ہدایات بھی دیں۔ نالے میں تیرتے کچرے اور فضلا کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ ڈرین کی صفائی کا کام کسی بھی صورت میں 31 مئی 2026 تک 100 فیصد مکمل ہونے کو یقینی بنایا جائے۔ شرما نے میونسپل کارپوریشن کے افسران کو ہدایت دی کہ وہ مقامی عوامی نمائندوں کے ساتھ تال میل پیدا کریں اور انہیں وقتاً فوقتاً ڈرین کی صفائی کے بارے میں جانکاری دیں۔ مقامی کارپوریٹر اور مارکیٹ اینڈ گارڈن کمیٹی کی چیئرپرسن ہیتل گالا، کارپوریٹر چنتامنی نواتی، کارپوریٹر راجہ رہبر خان، کارپوریٹر ۔ رتیش رائے، کارپوریٹر روہنی کامبلے، کارپوریٹر ۔ انجلی ساونت، اسسٹنٹ کمشنر دنیش پلاواد، اسسٹنٹ کمشنرمہیش پاٹل، اسسٹنٹ کمشنر نتن شکلا، اسسٹنٹ کمشنر مردولا آندے کے ساتھ متعلقہ افسران موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن اسٹینڈنگ کمیٹی میں کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ کے پرس سے چوری، ۲۰ ہزار کی نقدی نکالی گئی، سیکورٹی پر سوالیہ نشان..؟

Published

on

ممبئی: میونسپل کارپوریشن کی سٹینڈنگ کمیٹی میں چوری کی واردات کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے پارٹی کی کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ کے پرس سے 20,000 روپے کی نقدی چوری کر لی گئی۔ واقعہ کے سامنے آنے کے بعد کہرام مچ گیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کا اجلاس آج ہوا۔ اس میں بھاٹیہ نے بھی شرکت کی تھی اور اپنا پرس اسٹینڈنگ کمیٹی ہال میں رکھا ہوا تھاوہ اپنا پرس وہیں چھوڑ کر کھانا کھانے چلی گئی تھی۔ لیکن لذت کام دہن کے بعد جب اس نے پرس کی طرف دیکھا تو پرس کی چین کھلی ہوئی تھی۔ جب اس نے پرس چیک کیا تو پایا کہ اس میں سے 20،000 روپے چوری ہو چکے ہیں۔ اس نے اپنے ساتھی میونسپل کارپوریٹروں کو اس بارے میں آگاہ کیا۔ لیکن چونکہ یہ واقعہ جس جگہ پیش آیا وہاں کوئی سی سی ٹی وی نہیں تھا، اس لیے واقعے کی تصدیق کرنا مشکل ہے۔ پولیس کو اس مبینہ چوری کی اطلاع دے دی گئی ہے۔ اس واقعہ کے بارے میں محکمہ ایم ایس اور سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میئر، اپوزیشن جماعت اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے ارکان کو واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد لکشمی بھاٹیہ کو شبہ ہوا کہ پرس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے، اس نے یہ معاملہ دوسرے ساتھی کارپوریٹروں کی توجہ میں بھی لایا۔ اس وقت لکشمی بھاٹیہ نے دیکھا کہ پرس سے رقم چوری ہو گئی ہے۔ کمیٹی ہال میں چوری کی یہ پہلی واردات ہے۔ پولیس اب اس معاملے میں کیا کارروائی کرے گی؟ دیکھنا ضروری ہے۔ لکشمی بھاٹیہ نے اس واقعہ پر اپنا ردعمل دیا ہے۔ اسٹینڈنگ کمیٹی کو میونسپل کارپوریشن کا خزانہ سمجھا جاتا ہے، اگر اس جگہ ایسا ہو رہا ہے تو ہم سیکورٹی کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں؟ لکشمی بھاٹیہ نے غصے میں سوال اٹھایا۔ دریں اثنا، ایم این ایس گروپ کے سربراہ یشونت کلیدار نے بھی اس واقعہ پر میونسپلٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’’اگر ہال میں ہی سیکورٹی کی صورتحال ایسی ہے تو عام ممبئی والوں کی سیکورٹی کا کیا ہوگا؟‘‘ اس نے کہا۔ اس واقعہ کی وجہ سے میونسپل عمارت میں حفاظتی انتظامات کا معاملہ ایک بار پھر کھل کر سامنے آیا ہے اور ذمہ داری کے تعین کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ “آج ہماری اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ تھی، میٹنگ کے بعد ہم سب لنچ کے لیے گئے، اس وقت میرا پرس وہاں تھا، اندر کچھ اسٹاف موجود تھا، کسی نے میرا پرس کھول کر میرے پرس میں سے 20 ہزار روپے نکال لیے، اس بارے میں ہم نے ایم ایس ڈیپارٹمنٹ کی خواتین سے ملاقات کی، ہم نے انہیں سارا واقعہ بتایا، اس لیے ہم نے ان سے کہا کہ وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں، لیکن وہاں سی سی ٹی وی کیمرے نہیں ہیں۔ معاملہ وہاں آیا، ہم نے ان کے ساتھ شکایت درج کرائی ہے،” لکشمی بھاٹیہ نے بتایا۔میں نے میئر اور باقی سب سے ملاقات کی، میں نے میئر اور اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کو اس معاملے کے بارے میں بتایا، مجھے کسی پر شبہ نہیں ہے لیکن اگر میونسپل کارپوریشن میں کارپوریٹر محفوظ نہیں ہیں تو باقی کیا ہوگا؟ تمام کارپوریٹر ہمیشہ پانچ سے دس منٹ میں لنچ پر چلے جاتے ہیں، خواتین کارپوریٹروں کے پرس کھولنا کتنا درست ہے؟ صرف نقدی چوری کی گئی بقیہ چارجر اور دیگر سامان باہر رکھا گیا تھا”۔ کارپوریٹر لکشمی بھاٹیہ نے کہا، “میری ایک ساتھی کارپوریٹر ہے جو اسٹینڈنگ کمیٹی میں میرے ساتھ ہے، اس نے دیکھا ہے کہ وہ چیزیں کیسے پڑی تھیں۔ اس نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب میں چلی گئی تو پرس کس حالت میں تھا اور جب میں پہنچی تو وہ کیسے تھے۔ اگر کارپوریٹروں کے پرس میونسپل کارپوریشن میں محفوظ نہیں تو عام عوام کا کیا ہو گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان