Connect with us
Thursday,03-April-2025
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ مکہ مسجد بم دھماکہ اے ٹی ایس کی تفتیش جاری

Published

on

Bom-Blast-&-ATS

ممبئی : ممبئی بیڑ مکہ مسجد میں بم دھماکہ کے بعد اب مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نے بھی اس کی تفتیش شروع کردی ہے۔ اے ٹی ایس کی ٹیم نے یہاں پہنچ کر مقامی پولس سے کیس سے متعلق تمام تفصیلات طلب کرنے کے ساتھ دونوں دہشت گرد وجئے راما اور شری رام اشوک کے دہشتگردانہ سرگرمیوں کے روابط کی تفتیش بھی شروع کر دی ہے۔ اتنا ہی نہیں ان دونوں کو جیٹلین کی چھڑیاں کس نے فراہم کی تھی, اور دہشت گردوں نے مسجد کو ہی نشانہ کیوں بنایا, ان نکات پر بھی اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے۔ جن دو دہشت گردوں کو مقامی پولیس نے بم دھماکہ کے بعد گرفتار کیا تھا, ان دونوں سے اے ٹی ایس نے بھی باز پرس شروع کر دی ہے۔ ان کے متعلقین اور رشتہ داروں سے بھی اے ٹی ایس پوچھ گچھ کریگی۔ جیٹلین کی خریداری کیلئے لائسنس ہونا لازمی ہے, بغیر لائسنس انہیں جیٹلین کس نے فراہم کیا اور یہ دہشت گردانہ حملہ تھا, مسجد پر اس لئے مسلمانوں کی جانب سے بھی یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ان دہشت گردوں پر یو اے پی اے ایکٹ اور غداری کا کیس بھی درج ہو۔

اے ٹی ایس ذرائع نے اس کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ بیڑ میں مسجد بم دھماکہ کے بعد اے ٹی ایس نے مقامی پولیس اسٹیشن کے ساتھ مل کر اس معاملہ کی تفتیش شروع کردی ہے۔ اس میں دہشت گردانہ روابط، فنڈنگ، جیٹلین کی فراہمی، کس کی ایما پر یہ دھماکہ کیا گیا اس کی بھی تفتیش کی جارہی ہے۔ اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج نے اے ٹی ایس کی تفتیش تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس نوعیت کے دھماکہ اور جیٹلین سے متعلق دہشت گردانہ معاملات کی تفتیش اے ٹی ایس کرتی ہے, اسلئے بیڑ مسجد دھماکہ کی بھی تفتیش اے ٹی ایس کر رہی ہے۔ اور اس میں کئی نکات اور ہر پہلو پر جانچ کی جارہی ہے, تاکہ بیڑ دھماکہ کے معاملہ میں تہہ تک جاکر مزید افراد کی بھی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ بیڑ میں دھماکہ کے بعد حالات پرامن ہے لیکن کشیدگی ہنوز برقرار ہے۔ عید سے قبل دھماکہ کے بعد بیڑ میں پرامن عید منائی گئی ہے۔ جن دو دہشت گردوں کو پولیس نے گرفتار کیا ہے ان دونوں نے بم دھماکہ سے قبل جو اسٹیٹس لگایا تھا اور دھماکہ سے قبل بھی مسجد کو اڑانے کی دھمکی دی تھی اس پر بھی اے ٹی ایس جانچ کر رہی ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ ان دونوں نے کس کی ایما پر مسجد کو ہٹانے کی دھمکی اور مسلمانوں کو ذات پات سے متعلق رکیک گالیاں دی تھیں۔

اے ٹی ایس نے اس معاملہ میں تفتیش میں پیش رفت ہونے کا بھی دعوی کیا ہے اے ٹی ایس نے کی تفتیش کے بعد اب ان دہشت گردوں کے چہرے سے نقاب اٹھنے کا امکان اب روشن ہوگیا ہے اے ٹی ایس اس معاملہ میں یہ بھی معلوم کر رہی ہے کہ آیا ان دونوں نے دہشت گردانہ حملہ اور بم دھماکہ سے قبل کتنی میٹنگ کی تھی اور اس میٹنگ میں کتنے افراد تھے یا پھر صرف ان دونوں نے ہی اس دھماکہ کی سازش کو انجام دیا ہے۔ اے ٹی ایس کی تفتیش میں اس معاملہ میں پیش رفت بھی ہوئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک غبن ملزمین کی جائیدادیں قرق

Published

on

New-India-Bank

ممبئی : ممبئی اقتصادی ونگ ای او ڈبلیو نے نیو انڈیا کوآپریٹیو بینک کروڑوں روپے کے غبن کے معاملہ میں پراپرٹی ضبطی کی کارروائی بھی شروع کردی ہے۔ ای او ڈبلیو نے بتایا کہ غبن کے آمدنی سے حاصل شدہ جائیدادوں کی نشاندہی کے بعد اسے منسلک اور ضبط کیا گیا ہے۔ اس معاملہ میں 5 ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے، ان ملزمان کی 21 غیر منقولہ جائیدادیں پائی گئی ہے، جنہیں قرق کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ممبئی شہر میں 107 بی این ایس ایس کے تحت یہ پہلی کارروائی کی ہے جس میں ملزمان کی جائیدادیں ضبط کی گئی ہیں۔ ممبئی اے او ڈبلیو نے بتایا کہ قرق جائیدادوں سے حاصل شدہ رقومات کا تخمیہ بھی لگایا جائے گا۔ ممبئی میں بینک کے گھوٹالہ کے بعد ای او ڈبلیو نے بڑی کارروائی کی ہے اور ملزمان سے متعلق دیگر جائیدادوں کی بھی تفصیلات معلوم کی جا رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کا لارنس بشنوئی گینگ کو جھٹکا، پانچ اراکین گرفتار

Published

on

ممبئی کرائم برانچ نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے گینگسٹر لارنس بشنوئی گینگ کے پانچ شوٹروں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے, ان شوٹروں کے قبضے سے 5 ریوالور اور 21 کارآمد کارتوس بھی برآمد کئے ہیں۔ ممبئی پولیس ان شوٹروں سے باز پرس بھی کر رہی ہے شوٹروں کو واردات انجام دینے سے قبل ہی پولیس نے گرفتار کر کے واردات پر ہی قدغن لگایا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے اندھیری علاقہ سے ان پانچوں کو گرفتار کیا ہے, یہ یہاں بڑی تخریبی کارروائی کو انجام دینے کی غرض سے آئے تھے, لیکن اس سے قبل ہی پولیس نے واردات کو ناکام بنا دیا۔ گرفتار ملزمین وکاس ٹھاکر، سمیت دلاور، دیویندرروپیش سکسینہ، شریہ سریش یادو، وویک گپتا شامل ہے۔ وکاس ٹھاکر کو ورسوا اندھیری، سمیت مکیش کمار دلاور ہریانہ سونی پت، دیویندر روپیش سکسینہ مدھیہ پردیش، شریا سریش یادو جگدیشپور بہار اور وویک کمار گپتا رام پور راجستھان کا ساکن ہے ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کئے گئے ہیں۔ اور کرائم برانچ نے ان پر دفعہ 3 اور 25 بی این ایس کی دفعہ 55 اور 61(2) اور مہاراشٹر پولیس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ کرائم برانچ یہ معلوم کر رہی ہے کہ ملزمین نے ہتھیار کہاں سے لایا تھا۔

سلمان خان پر فائرنگ کے بعد لارنس بشنوئی گینگ ممبئی میں سرگرم عمل ہونے کی کوشش کررہا ہے لیکن ممبئی کرائم برانچ کی سخت کارروائی کے سبب اس گینگ کی کمر ٹوٹ گئی ہے, اور اب کرائم برانچ نے لارنس بشنوئی گینگ کو زبردست جھٹکا دیا ہے, اور اس کے پانچ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کرائم برانچ اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف ترمیمی بل غریبوں کے لیے نقصان دہ ہے… ایس پی ایم ایل اے رئیس شیخ کا آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت مذہبی امور کو سنبھالنے کا حق چھیننا غیر آئینی ہے

Published

on

MLA-Raees-Sheikh

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر قانون ساز رکن رئیس شیخ نے لوک سبھا میں وقف بل پیش کئے جانے کی مخالفت کی ہے، رئیس شیخ نے بی جے پی پر جھوٹا بیانیہ تیار کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔ اس بل کو ایک سوچا سمجھا اور غیر آئینی بل قرار دیا ہے، جس سے معاشرے کے غریبوں کے لئے نقصان دہ ہے۔ شیخ نے مزید کہا کہ آئین کا آرٹیکل 26 مذہبی اداروں کو چلانے کی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 26 کے تحت اپنے اداروں کو چلانے کا حق چھیننا غیر آئینی ہے۔ ایم ایل اے شیخ نے کہا کہ یہ اقدام مذہبی معاملات کو سنبھالنے کی آئینی ضمانت کے خلاف ہے۔

شیخ نے کہا کہ بی جے پی حکومت یو پی اے حکومت کو دکھا رہی ہے کہ وہ ایک خاص برادری کی خوشنودی کی سیاست کر رہی ہے، جب کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت ایسا نہیں کر رہی ہے۔ یہ ایک ایسا جھوٹ پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو وقف کے تحت کمیونٹی کو کسی بھی زمین پر قبضہ کرنے یا اسے وقف کے طور پر دعوی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ وقف بورڈ مسلم کمیونٹی کی کوئی نجی تنظیم نہیں ہے، بلکہ وقف ایکٹ کے تحت قائم ایک قانونی ادارہ ہے۔ کسی جائیداد کو وقف قرار دینے کے عمل میں، ایک سرکاری سرویئر ایک سروے کرتا ہے اور سرکاری طور پر اس جائیداد کا اعلان کرتا ہے۔ شیخ نے تبصرہ کیا کہ یہ خیال پیش کرنا سراسر غلط ہے کہ مسلمان من مانی طور پر کسی بھی جائیداد کو وقف قرار دے سکتے ہیں۔

شیخ نے مزید کہا کہ وہ حکومت کی طرف سے بنائی جا رہی غلط تصویر کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں اور حکومت نے مسلمانوں یا اپوزیشن کی طرف سے دی گئی تجاویز پر غور نہیں کیا۔ تمام وقف گورننگ بورڈز اور ٹرسٹوں کو وقف فریم ورک سے باہر نکلنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے نظام کمزور ہو گیا ہے۔ شیخ نے مزید کہا، “یہ ایک غیر تصوراتی اور غیر تصور شدہ بل ہے جو معاشرے کے صرف غریبوں کو ہی نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض دفعات مثلاً یہ شرط کہ وقف کرنے والا شخص پانچ سال سے مسلمان ہو، عجیب ہے۔ اس سے پہلے، وقف املاک پر قبضہ ایک ناقابل ضمانت جرم تھا، لیکن اب اسے مجرمانہ بنا دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com