Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

ممبران اسمبلی کو خریدا جاسکتا ہے مگر ترنمول کانگریس کو کوئی بھی نہیں خرید سکتا : ممتا بنرجی

Published

on

Mamata Banerjee

وزیرا علیٰ ممتا بنرجی نے بی جے پی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی ہمارے ممبران اسمبلی کو خرید سکتی ہے مگر ترنمول کانگریس کو خریدنا ممکن نہیں ہے بولپور میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے ترنمول کانگریس کو عوام کی جب تک حمایت حاصل ہے، اس وقت تک ہم پر کوئی بھی اثر انداز نہیں ہوسکتا ہے۔

ممتا بنرجی وشو بھارتی یونیورسٹی کے وائس چانسلر بیدوت چکرورتی کو ’’بی جے پی کا آدمی قرار دی دیتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی آقائوں کے اشارے پر یونیورسٹی کے کیمپس میں فرقہ پرستی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور رابندر ناتھ ٹیگور کے قائم کردہ اس ادارے کی عظمت و تقدس کو پامال کر رہے ہیں۔

ممتا بنرجی نے کہا کہ بی جے پی بنگالی ثقافت و کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بنگال میں تشدد اور فرقہ واریت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اور یہاں فرقہ وارانہ سازش کی کوشش کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ جو لوگ مہاتما گاندھی اور ملک کے عظیم لیڈروں کا احترام نہیں کرتے ہیں وہ سونار بنگلہ کبھی نہیں کرسکتی ہے۔

ممتا بنرجی نے کہاکہ رابندر ناتھ ٹیگور نے بہت ہی پہلے ہی سونار بنگلہ کی تشکیل کرچکے ہیں۔ بس اب اس کی حفاظت کی ضرورت ہے۔ اور ہم رابندر ناتھ ٹیگور کے ذریعہ قائم کردہ سونار بنگلہ کی حفاظت کریں گے۔ بی جے پی فرقہ واریت کے ذریعہ رابندر ناتھ ٹیگور کے سونار بنگلہ کو داغدار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ ممتا بنرجی نے بولپور جہاں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے روڈ شو کااہتمام کیا تھا۔ ایک ہفتے بعد ہی ممتا بنرجی نے اسی جگہ روڈ شو کا اہتمام کر کے بی جے پی کو جواب دینے کی کوشش کی ہے۔

بی جے پی کو’’بیرونی لوگوں کی جماعت‘‘ قرار دیتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہا کہ نفرت انگیز سیاست اور جعلی سیاست کو درآمد کرکے بنگال کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر اس سے بنگال کی سر زمین فتح نہیں کی جاسکتی ہے۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ وشو بھارتی یونیورسٹی ملک کی شان ہے اور یہاں ہندوستان بستا ہے مگر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس یونیورسٹی کو بھی فرقہ واریت کا رنگ دیا جا رہا تھا مجھے دکھ ہوتا ہے۔ ٹیگور کی وراثت کو مجروح کیا جا رہا ہے۔

ممتا بنرجی نے ریلی کے دوران لوک گیت کار باسودیب بادل جنہوںنے ایک ہفتے قبل ہی امیت شاہ کی میزبانی کی تھی کو اسٹیج پر مدعو کر کیا اور ان سے گانا سنا۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ انتخابات آتے ہی پانچ ستارہ ہوٹلوں میں دعوت ہورہی ہے۔ اور پانچ ستارہ ہوٹل سے کھانا منگوا کر آدی واسی کے گھر کھانا کھایا جا رہا ہے۔ یہ آدی واسی بھائیوں کی توہین ہے اور میں واضح کرنا چاہتی ہوں کہ کوئی بھی آدی واسی بھائیوں کی توہین نہیں کرسکتا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com