Connect with us
Saturday,28-March-2026

(جنرل (عام

ارتقا بزاز : سری نگر سے تعلق رکھنے والی نوجوان خطاط و پینٹر

Published

on

Artaqa-Bzaaze

وادی کشمیر کے نوجوان خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں جہاں ایک طرف تعلیم کے مختلف شعبوں بالخصوص مسابقتی امتحانات میں امتیازی پوزیشنز حاصل کر کے اپنی ذہانت و ذکاوت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ وہیں فنون لطیفہ میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر کے اپنا نام روشن کر رہے ہیں۔ سری نگر سے تعلق رکھنے والی جوان سال ارتقا بزاز ایک ہونہار اور محنتی طالبہ ہیں، جو بچپن سے ہی پینٹنگ اور خطاطی میں حد درجہ والہانہ لگاؤ رکھتی تھیں آج ان ہی دو فنون کو پروان چڑھا کر اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کی جلوہ نمائی کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ جوش و جذبہ اور شوق ہو تو کسی بھی شعبے میں اپنا نام روشن کیا جاسکتا ہے، اور محنت کرنے سے راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں پینٹنگ اور خطاطی میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لئے کافی گنجائش موجود ہے۔

موصوف خطاط و پینٹر نے ان باتوں کا اظہار محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کے خصوصی ہفتہ وار پروگرام ’سکون‘ میں اپنی گفتگو کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا: ’مجھے بچپن سے ہی پینٹنگ کے ساتھ کافی لگاؤ تھا اور میں نے پہلی جماعت سے ہی رنگوں کے ساتھ کھیلنا شروع کیا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’اسکول میں ایک پینٹنگ مقابلے میں چھتری بنانے پر مجھے ایک ایوارڈ سے نوازا گیا جو میری حوصلہ افزائی کا باعث بن گیا۔‘

ارتقا بزاز، جو کشمیر یونیورسٹی سے فائن آرٹس میں گریجویشن کر رہی ہیں، نے کہا کہ دسویں جماعت سے میں نے خطاطی شروع کی۔

ان کا کہنا تھا: ’میں نے دسویں جماعت سے خطاطی شروع کی اور میں زیادہ تر اسلامی خطاطی کرتی ہوں‘۔

انہوں نے کہا: ’جب میں قرآنی آیات کو کاغذ پر اتارتی ہوں تو وہ مجھے اللہ سے نزدیک کر دیتی ہیں اور مجھ پرایک روحانی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔‘ ارتقا نے کہا کہ میرے گھر والوں نے مجھے اپنے شوق کے اس فیلڈ میں آگے بڑھنے کے لئے کافی سپورٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر میدان میں آگے بڑھنے کے لئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ہمت کرنے سے سب کچھ آسان ہوجاتا ہے۔ موصوف خطاط نے کہا کہ کشمیر میں اس شعبے میں بھی اپنا نام روشن کرنے اور اپنی روزی روٹی کی سبیل کرنے کے لئے مواقع کی ہوئی کمی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا: ’اس فیلڈ میں بھی اپنا نام روشن کیا جا سکتا ہے شرط یہ ہے کہ محنت ولگن، جوش و جذبے اور شوق ہو، محنت سے راستے خود بخود بن جاتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور اپنے فن پاروں کو لوگوں کے سامنے رکھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کے لوگوں کے سامنے اپنے فن پارے رکھے جا سکتے ہیں۔‘

ارتقا نے کہا: ’میں بھی سوشل میڈیا پر اپنے فن پارے اپ لوڈ لرتی ہوں جن کو کافی سراہا جاتا ہے جس سے میری حوصہ افزائی ہوتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان جس قدر زیادہ سے زیادہ فنون لطیفہ کے ساتھ مصروف رہیں گے اس قدر ہمارے سماج سے برائیوں کا قع قمع ہوگا اور منشیات کی وبا بھی ختم ہوگی۔

موصوفہ نے کہا کہ کشمیر میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے یہاں کے نوجوان خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں، با صلاحیت ہیں ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اس کو بروئے کار لایا جائے۔

جرم

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری، زین سید پر کیس درج

Published

on

ممبئی : شادی کا لالچ دے کر عصمت دری کرنے کے الزام میں پولس نے ایک نوجوان کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ زین سید نامی نوجوان نے متاثرہ کو شادی لالچ دے کر اس کی مرضی کے برخلاف عصمت دری کی اور ناجائز تعلقات قائم کیا, جس کے بعد متاثرہ نے پولس میں شکایت دی اور پولس نے عصمت دری کا کیس درج کر اس کی تفتیش شروع کر دی ہے۔ اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے۔ متاثرہ نے اپنی شکایت میں بتایا کہ پہلے ملزم نے اسے شادی کا جھانسہ دیا اس سے جسمانی تعلقات قائم کئے اور پھر شادی کے تقاضہ پر شادی سے انکار کردیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

کرلا بھابھا اسپتال ڈاکٹر سے بدسلوکی کی پاداش میں افضل شیخ گرفتار

Published

on

ممبئی: ممبئی کرلا علاقہ میں واقع بھابھا اسپتال میں خاتون ڈاکٹر سے بد سلوکی کی پاداش میں دو نوجوانوں کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ 23 مارچ کو افضل شیخ کو سر پر چوٹ آئی تھی اور وہ بغرض علاج بھابھا اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں داخل ہوا جہاں ڈاکٹر دیگر مریضوں کے معالجہ میں تھی انہوں نے افضل شیخ کی تشخص کی اور پھر کہا کہ معمولی زخم ہے ایسے میں افضل شیخ مشتعل ہوگیا اور اس نے خاتون ڈاکٹر سے بدتمیزی شروع کرنے کے ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی شروع کردی ڈاکٹر نے پولیس طلب کیا اور پھر اس نے اپنے ایک دوست کو بھی بلایا اور ڈاکٹر کے ساتھ بدتمیزی شروع کردی شکایت کنندہ ڈاکٹر انوجا کی شکایت پر کرلا پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ ممبئی کے کرلا پولیس نے اس معاملہ میں ایک ملزم افضل شیخ کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دوسرا ہنوز فرار بتایا جاتا ہے۔ پولیس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان