Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

عرب مسجد میں جامعہ عبداللہ بن امّ مکتوم (پونے )میں زیرتعلیم قوتِ سماعت ،بصارت اورگویائی سےمحروم طلبہ کے مظاہرہ ٔ فن کودیکھ کر مصلیان عش عش کراٹھے ۔آج دو الگ مقام پریہ اپنی صلاحیت کامظاہرہ کریں گے.

Published

on

Arab Masjid Merge

بصارت سے محروم حافظ محمدریحان ،عالمیت کا کورس کرنے والے محمداورقوت ِگویائی سے محروم ابوذر کوایک ساتھ عرب مسجد میں دیکھاجاسکتا ہے۔

نابینا افراد ،قوتِ سماعت سے اوربصارت سے محروم لوگوں کوعام طور پرمعاشرے میں مجبورسمجھاجاتا ہے اوراہل خانہ کابھی یہی خیال ہوتا ہے لیکن جب یہ اپنی خداداد صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں تو دیکھنےاورسننے والا عش عش کر اٹھتا ہے۔ سنیچر کو بعد نماز ظہر کچھ ایسا ہی منظر سانکلی اسٹریٹ کی عرب مسجد میں تھا جب نا بینا حافظ ،عالم اورگونگے طالب علم نے قرآن حکیم اور احادیث مبارکہ’ سناکر‘ مصلیان کوحیرت زدہ کردیا ۔مصلیان یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ بینائی سے محروم حافظ محمدریحان (مالیگاؤں) ’بریل‘ قرآن کریم کے نسخے پر انگلیاں رکھ کرمع آیت نمبر تلاوت کررہے ہیں ،اسی طرح نابینا طالب علم محمد (پالن پوری )جو مشکوٰۃ پڑھ رہے ہیں ، احادیث مبارکہ مع عربی عبارت اور ترجمہ سنارہے ہیں، ابوذر (امراؤتی) نام کے گونگے طالب علم کی یہ کیفیت تھی کہ جب سورۂ کوثر پڑھ کربتائی گئی تووہ ہاتھ اور انگلیوں کےاشارے سے اپنے انداز میں پڑھنے لگے۔
  یہ معذور طلبہ پونے میں انوارِ ہدایت ٹرسٹ کے زیر اہتمام چلائے جانے والے جامعہ عبداللہ بن امّ مکتوم میں دینی اورویژن اسکول میں عصری علوم حاصل کررہے ہیں۔ان طلبہ کی صلاحیت دیکھ کرکئی مصلیان نے معانقہ کیا اوراپنی جانب سے نذرانہ بھی پیش کیا ۔

 معذور طلبہ کی تعلیم کا نظم اوران کی تلاش 
 جامعہ عبداللہ بن امّ مکتوم کے ذمہ دار مفتی رئیس احمد اشاعتی جو طلبہ کے ہمراہ موجود تھے، نے استفسار کرنے پر بتایاکہ ’’انہوں نے اپنے استاذ مولانا مزمل سے معلومات حاصل کی ا ورادارۂ دینیات سےاستفادہ کرتے ہوئے ۲۰۱۳ء میں جامعہ کی داغ بیل ڈالی ۔ اب تک ۱۲؍ طلبہ حافظ ہوچکے ہیں اورعالمیت کرنے والے۴؍ طلبہ کا پہلا بیچ آئندہ سال سند ِفراغت حاصل کرے گا۔جامعہ میں ناظرہ، عالمیت ،حفظ ،تجوید وقرأت اورشعبۂ ائمہ میں ۱۵؍ ریاستوں کے ۱۵۰؍ طلبہ زیرتعلیم ہیں ،اس میں ۲۵؍ طالبات ہیں، ان کی تعلیم کے لئے عالمات کانظم کیاگیا ہے۔‘‘ 

 مفتی رئیس احمدکے مطابق ’’ ان طلبہ کی تلاش اور والدین کو اطمینان دلانا کافی مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ اولادخواہ کیسی ہو کوئی ماں باپ اسے جداکرناگوارا نہیں کرتے ،لیکن آہستہ آہستہ یہ مرحلہ طے ہوتا گیا ۔ان طلبہ کی صلاحیت کےاظہار کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ لوگ ایسے طلبہ کوجامعہ  میں لائیں تاکہ وہ بھی حصولِ علم کے ساتھ اپنی صلاحیت کا اظہار کرسکیں۔طلبہ کی تعلیم بالکل مفت ہے۔ عصری تعلیم کی ترتیب اس طرح سے ہے کہ صبح سوا ۷؍ بجے سے سوا ۱۰؍ بجے تک مدرسہ میں تعلیم ہوتی ہے پھرڈیڑھ بجے تک اسکول کی تعلیم ہوتی ہے۔طلبہ کواسکول میں ۸؍سمت والی مخصوص طرز کی سلیٹ دی جاتی ہے ، اس کی مدد سے یہ ریاضی کا علم سیکھتے ہیں،انہیں کمپیوٹر بھی سکھایا جاتا ہے مگر اس میں ماؤز نہیں ہوتا صرف کی بورڈ کی مدد سے چلاتے ہیں۔ ایس ایس سی ،ایچ ایس سی اور گریجویشن کروانے کا بھی نظم ہے مگرطلبہ کی رہائش مدرسے میں ہی ہوتی ہے۔‘‘ مفتی رئیس احمد اشاعتی یہ کہتے ہوئے جذباتی ہو گئے کہ ان کی تعلیم وتربیت امت کی ذمہ داری ہے ، اگر ہم توجہ نہیں دیں گے توکون دیگا۔ ایسے طلبہ کی نشاندہی کریں اور ادارہ تک لانے کا ذریعہ بنیں ۔‘‘ اس موقع پرعرب مسجد کے امام مولانا امیر عالم قاسمی ، ٹرسٹیان نثار پٹیل اور بڑی تعداد میں مصلیان موجود تھے۔ معذور طلبہ نے آج ظہر بعدگلشن کالونی ورسوااورمغرب بعد پاکیزہ مسجد میں اپنے فن اور صلاحیت کامظاہرہ کریں گے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

Published

on

Haroon-Solkar

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔

“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”

پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”

ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

Published

on

Arrest...-3

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان