ممبئی پریس خصوصی خبر
بی جے پی مخالف پارٹیوں کا تقریب حلف برداری کا باٸیکاٹ، مفتی اسمعیل کا خالص مذہبی انداز میں حلف اور بی جے پی و حلیف کی معنی خیز خاموشی !!
اشتیاق احمد 42, مالیگاٶں (9 دسمبر 2024) : 20 نومبر کو مہاراشہر اسمبلی کے انتخابات کا مرحلہ مکمل ہوا، اور 23 نومبر کو نتاٸج کا اعلان بھی ہوگیا۔ مہاراشٹر بھر میں بی جے پی اور اسکی حلیف پارٹیوں کو مکمل اکثریت حاصل ہوٸی اور دو روز قبل ایوان اسمبلی میں نومنتخب اراکین اسمبلی کی حلف برداری کی تقریب مہاراشٹر اسمبلی ہاٶس میں منعقد ہوٸی۔ اس تقریب حلف برداری کا بی جے پی کی مخالف تمام پارٹیوں نے باٸیکاٹ کیا۔ انکا حسب سابق اعتراض تھا کہ بی جے پی نے مہاراشٹر انتخابات میں ای وی ایم میں گڑبڑی کرتے ہوٸے من چاہے نتاٸج حاصل کیۓ ہیں۔ اب انکے اس اعلان میں کتنی صداقت ہے یہ تو آنے والا وقت بتاۓ گا، لیکن اس تقریب حلف برداری میں اپنے آپ کو مسلمانوں کی نماٸندگی کرنے، اور بی جے پی کی سب سے کٹر دشمن کہی اور سمجھی جانے والی جماعت مجلس اتحاد المسلمین کے اکلوتے اور معمولی ووٹوں سے منتخب مالیگاٶں کے مفتی اسمعیل نے خالص مذہبی انداز میں حلف لے, سیاسی دنیا میں ایک نٸی بحث کو جنم دیا ہے۔ تجربہ کار سیاسی ماہرین بھی مفتی اسمعیل کی خالص مذہبی انداز میں حلف برداری اور اس حلف کو لے کر شیوسینا بی جے پی خیمے کی معنی خیز خاموشی کا بغور جاٸزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ ماضی میں مہاراشٹر اسمبلی میں ہی سماجوادی کے ابو عاصم اعظمی کو صرف اردو میں حلف لینے پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا، لیکن مجلس اتحاد المسلمین کے مفتی اسمعیل کے خلاف شیوسینا بی جے پی خیمے سے چوں چرا تک کی آواز نہ تو ایوان میں سناٸی دی نہ ہی ایوان کے باہر۔
اب اس کے دو ہی مطلب ہوسکتے ہیں۔۔۔۔ یا تو بی جے پی سیکولر ہوگٸی ہے یا پھر مجلس اتحاد المسلمین اور مفتی اسمعیل بی جے پی کے آلہ کار بن کر مہاراشٹر بھر میں فرقہ پرستی کے عفریت کو بڑھانا چاہتی ہے۔ کیونکہ فرقہ پرستی کا جواب فرقہ پرستی ہرگز نہیں ہوسکتی۔۔۔۔۔۔۔ یہاں میں یہ واضح کردینا ضروری سمجھتا ہوں کہ میں مفتی اسمعیل کے خالص مذہبی انداز میں حلف لیۓ جانے کے عمل کو بحیثت مسلمان اگر حمایت کروں تو قوم کے وسیع تر مفادات پر لگنے والی ضرب کے اندیشے مجھے تاٸید نہ کرنے پر مجبور کررہے ہیں ۔۔۔۔ لہذا میں مفتی اسمعیل کے مذہبی انداز میں حلف لینے کی نہ تو تاٸید کرتا ہوں نہ ہی مخالفت۔
مالیگاٶں ویسے بھی فرقہ پرستوں کی نظروں میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے، لینڈ جہاد، لو جہاد، کے بعد ووٹ جہاد، نتیش رانے کی شرانگیزیاں، اہانت رسول ﷺ کی کاوشیں، قربانی کے ایام میں قربانی کے جانوروں کی ضبطی، قربانی ایک دن بعد کا فیصلہ، جلوس عید میلادالنبی ﷺ کو موخر کرنا، پارلمانی انتخابات میں کانگریس کو یطکرفہ یکمشت ووٹ دے کر ووٹ جہاد کے طعنے، 12 نومبر معاملے میں مفتی اسمعیل کے ذریعے مالیگاٶں کے ہی ایک علاقے کے شہریان کو فسادی بتانے کی مذموم کوشش اور ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ میں نکلے احتجاجیوں کا 11 ماہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا وغیرہ مالیگاٶں کے ماتھے پر وہ بدنما داغ کے مصداق ہیں جن کے اثرات سے آنے والی نسلیں محفوظ نہیں رہ پاٸیں گی۔
ملک کے اکثر مسلمان اور جید علماۓ کرام مجلس اتحاد المسلمین کے طریق سیاست کے سخت مخالف ہیں اور اسد اویسی کو اعتدال سے کام لینے کا مشورہ دیتے رہتے ہیں۔ لیکن اسد اویسی اپنی انا ضد یا پھر اور کسی وجوہات کی بنا پر اکابر علماۓ کرام کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہیں اور اب تو علماۓ کرام کی شان میں کھلے عام گستاخی بھی کرنے کی جسارت کررہے ہیں۔ کیا مسلمانوں کا دم بھرنے والی جماعت کو اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا لیڈر کہلوانے کی ضد پر آمادہ اسد اویسی کو اس طرح کی بچکانی اور غیر ذمہ دارانہ حرکت زیب دیتی ہے؟ میرا ماننا ہے کہ مفتی اسمعیل کی خالص مذہبی انداز میں حلف برداری کا فرقہ پرست طاقتیں بھرپور فاٸدہ اٹھاٸیں گی اور غیر مسلم عوام کو اسکا ڈر بتا کر اکٹھا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گی۔
اسد اویسی، مفتی اسمعیل اور مجلس اتحاد المسلمین کی ان ناپاک اور غیر سنجیدہ کوششوں سے فرقہ پرست طاقتیں آنے والے دنوں میں مہاراشٹر بھر میں کیا فاٸدہ اٹھاٸیں گی، عوام کو تشویش آمیز انتظار ہے۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ قوم کو جذباتی باتوں اور جذباتی نعروں کے سراب سے نکل کر سنجیدہ اور حکمت عملی اختیار کرنے والوں رہنماٶں کو پہچاننے کا شعور عطا فرماٸے تاکہ ہم اور ہماری آنے والی نسلیں باوقار اور تحفظ کے اندیشوں سے بالاتر ہوکر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرسکیں۔۔ آمین یارب العالمین
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گستاخ رسول نازیہ الٰہی اور دیوا سنگھ کے خلاف ممبئی میں پہلا کیس درج، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا الزام

ممبئی گستاخ رسول نازیہ الہی خان اور اس کا انٹرویو نشر کرنے کیلئے اپنا پلیٹ فارمز فراہم کرنے والی دیواسنگھ کے خلاف ممبئی پولس نے پہلا کیس درج کیا ہے پائیدھونی پولس میں دونوں ملزمہ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے اور اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرنے کا کیس درج کر لیا ہے ممبئی میں دونوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ رضا اکیڈمی کے سربراہ سعید نوری ، مولانا اعجاز کشمیری نے کیا تھا ایڈوکیٹ عرفان شیخ کی شکایت پر پولس نے یہ کیس درج کیا ہے اس میں عرفان شیخ نے بتایا کہ انہوں نے ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ پر توہین رسالت کا ارتکاب کرتے ہوئے ناز یہ الٰہی اور اس کی میزبان دیوا سنگھ کو پایا جس کے سبب میرا اور مسلمانوں کا جذبات مجروح ہوا اس سلسلے میں ہم نے پولس کو نازیہ الٰہی سے متعلق تمام دستاویزات بھی پیش کئے ہیں جس میں الیکٹرانک ثبوت بھی ہیں اس معاملہ میں پائیدھونی پولس نے کیس درج کر لیا ہے اس معاملہ میں اس سے قبل ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے علما کرام کو یقین دلایا تھا کہ ۴۸ گھنٹے میں ایف آئی آر درج کرلی جائے گی دیوین بھارتی نے اپنا وعدہ وفا کرتے ہوئے پولس کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت جاری کی جس کے بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اس لئے علما کرام نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرے اور اشتعال انگیزی سے گریز کرے کیونکہ قانونی طریقے سے نازیہ الٰہی پرکارروائی جاری ہے ممبئی میں ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے صفر نمبر سے دلی اور کولکاتا پولس کے سپرد کردیا گیا ہے جو اس معاملہ کی تفتیش کرے گی فی الوقت مسلمانوں کے جذبات کی قدر کرتے ہوئے ممبئی پولس نے ایف آئی آر درج کر کے حالات کو پرامن بنایا ہے ۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
