Connect with us
Wednesday,23-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹرا کے تمام اضلاع میں ڈی ایم اور ممبئی میں گورنر کو آل انڈیا مسلم ہرسنل لا بورڈ کا وقف قانون کے خلاف میمورنڈم

Published

on

DMs-and-SDMs

ممبئی ـ۲ مئی : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے آج مہاراشٹرا کے تمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر میں حالیہ وقف ترمیمی قانون کے خلاف ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی معرفت صدر جمہوریہ کو میمورنڈم ہیش کیا گیا. البتہ ممبئی چونکہ ریاست کا صدر مقام ہے, اس لئے یہاں مذکورہ میمورنڈم راج بھون پہونچ کر گورنر مہاراشٹرا مسٹر سی پی رادھا کرششنن کو پیش کیا گیا، جن کی غیر موجودگی ان کے سکریٹری مسٹر ایس راما مورتی نے قبول کیاـ مہاراشٹرا میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تحفظ اوقاف کمیٹی کے کنوینئر مولانا محمود احمد خاں دریا بادی کی زیر قیادت دئے جانے والے میمورنڈم میں کہا گیا ہےـ

  1. حالیہ ترامیم جو وقف ایکٹ 1995 میں کی گئی ہیں، امتیازی ہیں اور ہندوستان کے آئین میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
  2. یہ آئین ہند کے آرٹیکل 14، 25، 26 اور 29 میں بیان کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔
  3. یہ امتیازی ہیں کیونکہ یہ وقف جائیدادوں کو دی گئی حفاظت اور تحفظ کو ختم کرتی ہیں، جب کہ وہی تحفظ ہندو، سکھ، بودھ اور عیسائی برادریوں کو حاصل ہے۔
  4. یہ مذہب کی آزادانہ پیروی (آرٹیکل 25) اور اپنے مذہبی اداروں کے قیام و انتظام (آرٹیکل 26 و 29) کے حق کے خلاف ہے۔
  5. یہ کسی مسلمان شہری کے لیے اپنی جائیداد کو وقف کے طور پر دینے کی آزادی کی خلاف ورزی ہے اگر وہ گزشتہ 5 سال سے عملی مسلمان نہ رہا ہو۔
  6. یہ ترامیم امتیازی ہیں کیونکہ یہ دیگر مذہبی اداروں کو دیے گئے تحفظ اور حقوق کو بھی سلب کر لیتی ہیں۔
  7. یہ قانونِ تحدید (Law of Limitations) سے دی گئی چھوٹ کو ختم کرتی ہیں، جو وقف جائیداد کے نظم و نسق کے ہمارے حق کو متاثر کرتی ہیں۔
  8. اگر حکومت نے وقف زمین پر قبضہ کر لیا ہے تو اب وہ مالک بن سکتی ہے کیونکہ فیصلہ کا اختیار نامزد افسر کے حق میں چلا جائے گا۔
  9. صرف مسلمان ہی وقف بورڈ اور سنٹرل وقف کونسل کے رکن بن سکتے تھے، یہ شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔ اب انتخابات کی جگہ نامزدگی نے لے لی ہے۔
  10. وقف استعمال کنندہ کو رجسٹریشن کرانا ہوگا اور اگر معاملہ متنازع ہو جائے تو جائیداد وقف کی حیثیت کھو سکتی ہے۔
  11. یہ تبدیلیاں مسلمانوں کو اپنے ادارے قائم کرنے، چلانے اور منظم کرنے سے محروم کر رہی ہیں۔
    لہٰذا ہم، دستخط کنندگان، مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے منظور شدہ ان تمام متنازع ترامیم کو منسوخ کیا جائے۔

ممبئی میں میمورنڈم پیش کرنے والوں میں درج ذیل افراد شامل تھےـ
مولانا محمود دریا بادی صاحب. أبو عاصم اعظمی صاحب. فرید شیخ صاحب. مفتی سعیدالرحمن صاحب. سلیم موٹر والا صاحب. مونسی بشریٰ عابدی صاحبہ. سرفراز آرزو صاحب. مولانا آغاروح ظفر صاحب. مولانا انیس اشرفی صاحب. مولانا عبد الجليل انصاری صاحب. مفتی محمد حذیفہ قاسمی صاحب. ہمایوں شیخ صاحب. ڈاکٹر عظیم الدین صاحب. شاکر شیخ صاحب. مولانا برہان الدین قاسمی صاحب. مولانا محمد اسید صاحب

مہاراشٹر کے دیگر علاقوں تھانہ، پال گھر، اورنگ آباد، ہنگولی، بھساول، ایوت محل، پربھنی، واشم، جلگاوں، جامنیر، پونہ، منگرول، بیڑ، نندوبار، جالنہ، سانگلی، جنتور، سمیت مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں بھی ڈی ایم اور تعلقہ جات میں ایس ڈی ایم کو وقف قانون کے خلاف میمورنڈم پیش کئے گئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان