Connect with us
Saturday,29-November-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ایمس کے سبھی مراکز پر او پی ڈی عارضی طور سے بند کردیا گیا

Published

on

کورونا وائرس کے بحران کے پیش نظر آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس (ایمس) نے اپنے سبھی مراکز پر او پی ڈی فوری اثر سے عارضی طور سے دو ہفتے کے لئے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایمس کے میڈیکل سپرنٹندنٹ ڈاکٹر ڈی کے شرما نے بدھ کو اس معاملے میں حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی اور نیم ایمرجنسی مریضوں کے لئے مناسب بستر مہیا کرانے کے لئے او پی ڈی اور جنرل۔نجی وارڈ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر شرما کی طرف سے جاری حکم کے مطابق ایمس میں اگلے دو ہفتوں تک او پی ڈی، جنرل وارڈ اور نجی وارڈ بند رہیں گے۔ اس کے بعد حالات کودیکھتے ہوئے مزید فیصلے کئے جائیں گے۔
جنرل اور نجی وارڈ میں بھرتی ایمرجنسی اور سیمی ایمرجنسی مریضوں کا علاج جاری رہے گا۔
ایمرجنسی مریضوں کو بستر نہیں مل پارہے تھے۔ اسی کی وجہ سے ایمس نے او پی ڈی، جنرل وارڈ اور پرائیوٹ وارڈ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

محکمہ ٹرانسپورٹ نے ہائی سیکیورٹی نمبر پلیٹس لگانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر تک بڑھا دی ہے، 65 فیصد گاڑیاں ابھی تک زیر التواء ہیں۔

Published

on

Number-Plats

پونے : مہاراشٹر میں ان لوگوں کے لیے اچھی خبر ہے جنہوں نے ابھی تک ہائی سیکیورٹی نمبر پلیٹس (ایچ ایس آر پی) نہیں لگوائی ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ نے ہائی سیکیورٹی نمبر پلیٹس لگانے کی آخری تاریخ 31 دسمبر تک بڑھا دی ہے۔ یہ پانچویں بار ہے جب محکمہ نے آخری تاریخ میں توسیع کی ہے۔ تاہم، پونے میں اب بھی 1.5 ملین سے زیادہ گاڑیوں میں ہائی سکیورٹی نمبر پلیٹس ہیں۔ اس لیے سوال یہ ہے کہ کیا یہ تمام نمبر پلیٹس ایک ماہ میں لگ جائیں گی؟ ہائی کورٹ کے حکم کے مطابق محکمہ ٹرانسپورٹ نے یکم اپریل 2019 سے پہلے گاڑیوں پر حفاظتی نمبر پلیٹس لگانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد جنوری سے ان نمبر پلیٹس کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ حادثات یا جرائم میں ملوث گاڑیوں کی شناخت کو آسان بنانے اور ہر ایک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ تمام گاڑیوں کے لیے سیکیورٹی نمبر پلیٹس کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ یہ نمبر پلیٹس مختلف جرائم اور حادثات میں ملوث گاڑیوں کی آسانی سے شناخت کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔

اب تک پونے میں 750,000 گاڑیوں کے مالکان نے حفاظتی نمبر پلیٹیں لگائی ہیں۔ تقریباً 10,500,000 نے ان کے لیے رجسٹریشن کرائی ہے۔ پونے میں 250,000 روپے سے زیادہ کی گاڑیوں پر سیکیورٹی نمبر پلیٹس ہونا ضروری ہے۔ تاہم یہ دیکھا گیا ہے کہ تقریباً 10,000,000 گاڑیاں رجسٹرڈ ہو چکی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اکیلے پونے میں تقریباً 150,000 گاڑیوں میں اب بھی حفاظتی نمبر پلیٹوں کی کمی ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے بارہا توسیع دینے کے باوجود انہوں نے اس مسئلے کو نظر انداز کیا ہے۔ پونے میں 65% گاڑیوں میں ابھی بھی نمبر پلیٹس نہیں ہیں۔ فی الحال، بغیر سیکورٹی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں پر آر ٹی او میں کارروائی نہیں کی جا رہی ہے۔ انہیں فوری نصب کرنے کی اپیل کی گئی ہے کیونکہ 31 دسمبر کے بعد بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مہاراشٹر میں 1 اپریل 2019 سے پہلے رجسٹرڈ پرانی گاڑیوں کی تعداد تقریباً 2.10 کروڑ ہے۔ ان میں سے 90 لاکھ گاڑیاں ہائی سیکیورٹی نمبر پلیٹس کے لیے رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں سے 73 لاکھ گاڑیوں پر ہائی سیکیورٹی نمبر پلیٹس لگائی گئی ہیں۔ اگر ایک پلیٹ ٹوٹ جائے یا خراب ہو جائے تو ڈرائیوروں کو دونوں پلیٹیں خریدنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے ریاستی گاڑیوں کے مالکان اور نمائندگان فیڈریشن کے صدر بابا شندے نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ہائی سیکیوریٹی نمبر پلیٹس کی آخری تاریخ میں توسیع کی جائے۔ اس سے قبل ڈیڈ لائن میں 30 اپریل، 30 جون، 15 اگست اور 30 ​​نومبر تک توسیع کی گئی تھی۔

Continue Reading

جرم

برتھ ڈے پارٹی میں دوست کو نذرآتش کی کوشش… غیر ارادتا قتل کا کیس درج کرنے پر متاثرہ کے بھائی کا پولس تفتیش پر کئی سنگین الزام

Published

on

Crime

ممبئی کرلا کوہ نور فیس 3 میں سالگرہ پارٹی میں دلخراش واردات نے دل کو دہلا کر رکھ دیا ہے, جبکہ متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب نے اپنے کنبہ کی جان کو ملزمین کے شناسائی اور رشتہ داروں سے خطرہ قرار دیا ہے۔ عبدالرحمن خان کو ۲۵ نومبر کو سالگرہ منانے کے لئے سوسائٹی میں بلایا گیا اور پانچ دوستوں نے کیک کاٹنے کے دوران پہلے انڈے اور پتھر سے ان پر حملہ کردیا اور پھر متاثرہ پر ایاز ملک نے پٹرول چھڑک دیا اور لائٹر سے آگ لگا دی, اس کے بعد متاثرہ فوری طور پر آگ بجھانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگا اور واچمین سے پانی کی بوتل لے کر اس نے اپنے جسم پر ڈالی. پولس نے اس معاملہ میں کیس درج کرلیا ہے, اس معاملہ میں پولس نے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے. متاثرہ اب بھی سٹی اسپتال میں زیر علاج ہے لیکن اب متاثرہ کے بھائی عبدالحسیب خان نے یہ سنگین الزام عائد کیا ہے. پولس نے اقدام قتل کا کیس درج کرنے کے بجائے غیرارادتا قتل کا کیس درج کیا ہے, جبکہ منصوبہ بند طریقے سے میرے بھائی کو بلا کر قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور پٹرول چھڑک کر آگ لگائی گئی, لیکن جب ہم نے پولس کو اقدام قتل کا کیس درج کرنے کی درخواست کی تو پولس افسر کا کہنا ہے کہ اس میں اقدام قتل کا کیس نہیں بنتا, جبکہ میرے بھائی کی جان خطرہ میں ہے اور اس کا علاج جاری ہے۔ جب سے یہ واقعہ پیش آیا اس وقت سے کئی لوگوں نے ہم پر کیس واپس لینے کا دباؤ ڈالا ہے اور کئی نامعلوم افراد گھر کے پاس بھی نظر آرہے ہیں. گھر پر کیس واپس لینے کے دباؤ ڈالنے والوں کا کہنا ہے کہ اب جو ہونا تھا ہوگیا, کیس کر کے کچھ حاصل نہیں ہوگا ہم مسلمان ہے اور آپ کو یہیں رہنا ہے اس لئے آپس میں صلح کر کے کیس واپس لے لو. لیکن ہمیں انصاف ملے گا اس لئے ہم پولس کمشنر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس پر توجہ دے جو بھی خاطی اس میں ملوث ہے اس پر سخت کارروائی ہو. عبدالحسیب نے الزام عائد کیا کہ مقامی پولس سیاسی دباؤ میں کام کررہی ہے اور اس لئے غیر ارادتا قتل کا کیس درج کیا گیا ہے, جبکہ یہ معاملہ اقدام قتل کا ہے۔ وی بی نگر کے سنئیر پولس انسپکٹر پوپٹ آہواڑ نے کہا کہ اس معاملہ میں غیر ارادتا قتل کا مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے. پنچنامہ سمیت دیگر دستاویزات بھی پولس نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہے, سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com