Connect with us
Monday,22-June-2026

سیاست

سنجے راوت اور دیوندر فڑنویس کی ملاقات کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ پر شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی ملاقات

Published

on

(محمدیوسف رانا)
مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیوندر فڑنویس اور شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کے مابین ہونے والی ملاقات مہا وکاس آگھاڑی کے لیڈران کے ساتھ مہاراشٹر میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس اور شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت کی گزشتہ دنوں ہونے والی ملاقات سے ریاست مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس ملاقات کے بعد آج سرکاری رہائش گاہ’’ ورشا‘‘ پر ہنگامی طور پر این سی پی کے سینئر لیڈر شرد پوار اور ریاستی وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کے مابین ہونے والی میٹنگ تقریباً کم و بیش ایک گھنٹے تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس ملاقات میں کون کون سے موضوعات زیر بحث تھے؟ سنجے راوت اور دیویندر فڑنویس ملاقات کے بعد پیدا ہونے والی مہا وکاس آگھاڑی میں بے چینی کے تدارک کے لئے کیا لائحہ عمل ترتیب دیا گیا؟
تادم تحریر وزیر اعلی ادھوٹھاکرے اور شرد پوار کے درمیان وزیر اعلی کی سرکاری رہائش گاہ ورشا پر ہونے والی میٹنگ میں کیا کیا باتیں ہوئیں یہ معلوم نہیں ہوسکیں۔
سیاسی حلقوں میں یہ ملاقات اس شدت سے محسوس کی گئی کہ شیوسینا کے ترجمان کو وضاحت کرنا پڑی کہ ‘میں نےسابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے ملاقات کی جس میں کچھ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وہ مہاراشٹر میںاپوزیشن لیڈر ہیں اور بہار میں ہونے والے انتخابات میں بی جے پی کے انچارج بھی ہیں۔ہمارے درمیان نظریاتی اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن ہم دشمن نہیں ہیں۔ اس ملاقات سے مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے بھی واقف تھے۔یہ ملاقات صرف اور صرف سامنا میں انٹرویو کے لئے کی گئی۔اتنا ہی میں آج اپوزیشن لیڈر دیوندر فڑنویس کو بھی وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا انہوں نے کہا کہ سنجے راوت جی چونکہ شیوسینا کے ترجمان کے ساتھ سامنا کےایڈیٹر بھی ہیں اس لئے وہ میرا انٹرویو لینا چاہتے اس ملاقات میں کسی بھی سیاسی پہلو پر گفتگو نہیں ہوئی ہے۔
سنجے راوت اور دیویندر فڑنویس کی ملاقات پراپنا موقف واضح کرتے ہوئے مہاراشٹر بی جے پی کے چیف ترجمان کیشیو اپادھیائے نے کہا کہ اس میٹنگ کا کوئی سیاسی نقطہ نظر نہیں ہے۔ انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘راوت دیویندر فڈنویس کا شیوسینا کے ترجمان سامناکے لئے انٹرویو کرنا چاہتے ہیں۔ بس یہی دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات کا باعث بنا۔ انہوںنے مزیدکہاکہ فڑنویس نے راؤت کو بتایا تھا کہ جب وہ بہار کی انتخابی مہم سے واپس آئیں گے تو وہ انٹرویو دیں گے۔
واضح رہے مہاراشٹر میں شیوسینا لیڈر سنجے راوت بی جے پی پر مسلسل حملہ کرتے ہیں۔ پھرچاہے یہ شاعری کے انداز میں ہو یا شیو سینا کے قلم کے ذریعے۔ ایسی صورتحال میں دونوں کی ملاقات
پرطرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔
شیوسینا،این سی پی اور کانگریس کے علاوہ دوست پارٹیوں نے ملک کر مہا وکاس آگھاڑی بنا کر اس کے زیر نگراں مہاراشٹر میں حکومت سازی کر رہے ہیں مگر روز اول سے ہی ان کے مابین جاری ہونے والے تنازعات ختم کا نام نہیں لے رہے ہیں۔
اب ہفتہ کے روز مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور شیوسینا کے ممبر پارلیمنٹ سنجے راوت نے ملاقات موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔
یاد رہے شیوسینا اور بی جے پی نے۲۰۱۹؍ کےمہاراشٹر اسمبلی انتخابات اتحاد بنا کر ساتھ ساتھ لڑے لیکن اقتدار کی تقسیم پر دونوں اتحادیوں کے مابین اختلافات ہوگئے۔ دونوں پارٹیوں کے مابین پاور شیئرنگ فارمولہ پر اتفاق نہیں ہوسکا اس لئے شیوسینا نے مہاراشٹر کا اقتدار حاصل کرنے کے لئےایک انوکھا راستہ اختیار کرتے ہوئے این سی پی اور کانگریس سے ہاتھ ملایااور مہا وکاس آگھاڑی بنا کر اقتدار حاصل کر لیا اس اتحاد کو یقینی بنانے میںشرد پوار اور سنجے راوت دنوں نے اہم کردار ادا کیے تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان