Connect with us
Tuesday,13-October-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ساکی ناکہ میں کھلے مین ہول میں گرنے سے ایک شخص جاں بحق، فائر بریگیڈ نے لاش تلاش کر لی

Published

on

ممبئی، 2 جولائی: ممبئی کے ساکی ناکہ علاقے میں جمعرات کی دوپہر ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں خیرانی روڈ پر سنمن ہوٹل کے قریب، ایس جے اسٹوڈیو کے نزدیک ایک شخص کھلے مین ہول میں گر گیا۔ اطلاع ملتے ہی برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے فائر بریگیڈ اور دیگر متعلقہ محکمے موقع پر پہنچ گئے اور تلاش و بچاؤ کی کارروائی شروع کی۔

اطلاعات کے مطابق، واقعے کی اطلاع دوپہر تقریباً 12:26 بجے بی ایم سی فائر بریگیڈ کنٹرول روم کو موصول ہوئی۔ موقع پر موجود حکام کے مطابق ایک نجی ٹھیکیدار کمپنی کے تین کارکن سیوریج لائن کی دیکھ بھال کا کام انجام دے رہے تھے، جس کے لیے مین ہول کا ڈھکن ہٹایا گیا تھا۔

اسی دوران ایک شخص، جو مبینہ طور پر اپنے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے وہاں سے گزر رہا تھا، کھلے مین ہول میں گر گیا۔ کارکنوں نے فوری طور پر مین ہول میں سیڑھی اتار کر اسے تلاش کرنے کی کوشش کی، تاہم انہیں صرف اس کی چھتری اور چپلیں ہی مل سکیں۔

حکام کے مطابق نالے میں پانی کا بہاؤ بہت تیز تھا، جس کی وجہ سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ کس سمت بہہ گیا۔ اس کے بعد فائر بریگیڈ نے بڑے پیمانے پر سرچ اور ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

دوپہر تقریباً 2:15 بجے موصول ہونے والی تازہ اطلاع کے مطابق، فائر بریگیڈ اہلکاروں کو پانی میں ڈوبنے والے شخص کی لاش نظر آ گئی، جسے باہر نکالنے کی کارروائی شروع کر دی گئی۔

خبر لکھے جانے تک متوفی کی شناخت سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئی تھی۔

پولیس اور متعلقہ حکام واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

قومی خبریں

ممبئی کی ووٹر فہرستوں کے لیے ‘خصوصی تفصیلی نظرثانی ایس آئی آر’ پروگرام کے سلسلے میں میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں جائزہ اجلاس کا انعقاد

Published

on

ممبئی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) – 2026′ پروگرام کے تحت شائع ہونے والی ووٹر فہرست کے مسودے میں ناموں یا اندراجات کے حوالے سے دعوے اور اعتراضات داخل کرنے کی آخری تاریخ میں 26 اکتوبر 2026 تک توسیع کر دی گئی ہے۔ مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر، ایس چوکالنگم نے ہدایت دی ہے کہ اس مدت کے دوران ان اندراجات سے متعلق دعووں اور اعتراضات پر کارروائی مؤثر طریقے سے کی جائے اور شہریوں کی سہولت کے لیے کیمپوں کا انعقاد کیا جائے۔

وہ آج (13 اکتوبر 2026) میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ‘خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) – 2026’ پروگرام کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ممبئی میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے اور مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکالنگم نے شرکت کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پرجکتا ورما-لوانگرے؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مغربی مضافات) ڈاکٹر وپن شرما؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس)ابھیجیت بانگر؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھکنے؛ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ الیکشن آفیسر اور ڈسٹرکٹ کلکٹر (ممبئی مضافاتی ضلع) سوربھ کٹیار؛ نیز ڈپٹی سیکریٹری اور جوائنٹ چیف الیکٹورل آفیسر (مہاراشٹر) منوہر پاریکر، جوائنٹ کمشنر (اسیسمنٹ اینڈ کلیکشن) شری وشواس شنکر وار اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

Continue Reading

قومی خبریں

راہل گاندھی کا سپریم کورٹ مارچ ملک کی تاریخ کا سیاہ دن،انڈیا اتحاد پر غیر ملکی سازش کا حصہ ہونے کا الزام: ایکناتھ شندے

Published

on

Eknath-Shinde

ممبئی ؛ دلی سپریم کورٹ مارچ کا انعقاد ‘انڈیا’ اتحاد نے کیا تھا جس میں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اور اتحاد کے اراکین پارلیمان نے شرکت کی۔ اس سراپا احتجاج کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ انڈیا’ اتحاد جارحانہ موقف اختیار کرگیا ایکناتھ شندے نے حال ہی میں اس احتجاج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کل ملک کی تاریخ میں ایک ‘سیاہ دن’ تھا۔ انہوں نے تبصرہ کیا کہ آئین اور بابا صاحب کے قائم کردہ آئینی اداروں کو پامال کیا گیا۔ ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جہاں دباؤ ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ کی طرف مارچ کیا گیا۔ انہوں نے راہول گاندھی اور ‘انڈیا’ اتحاد کے اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہوگی۔ جب کہ انہیں جمہوریت میں احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے، انہوں نے محض ایک پٹیشن دائر کرنے کے لیے مارچ کی قیادت کرنے کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انہیں بھارت کے عدالتی نظام پر حملہ کرنے پر معافی مانگنی چاہیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ آئین کو تباہ کرنے اور جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے لیے سرگرم عمل ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ جو کچھ دیکھا جا رہا ہے وہ ملک کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے شبہ ظاہر کیا کہ اس میں غیر ملکی قوتیں اور طاقتیں ملوث ہیں، تجویز کیا کہ یہ کسی بین الاقوامی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔ایکناتھ شندے نے کہا، “یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ وہ ملک کو انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں؛ یہ قوم کے لیے خطرناک ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ وہ انتخابات نہیں جیت سکتےاور نہ ہی وزیر اعظم کو شکست دے سکتے ہیں اس لیے وہ ایسے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ شندے نے کچھ سنگین الزامات بھی عائد کیے۔ایکناتھ شندے نے کہا کہ اپوزیشن ملک کی آزادی کو کمزور کر رہی ہے۔

غیر ملکی طاقتوں کے ذریعے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان کی ملک دشمن ذہنیت کے خلاف مسلسل آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وہ اس ذہنیت کے تحت کام کرتے ہیں کہ وہ مرکز میں اقتدار میں نہیں آئیں گےیہی سوچ ان کے روزمرہ کے اقدامات کی محرک ہے۔ یہ اپوزیشن ہی تھی جس نے آئین کو تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ایمرجنسی (ہنگامی حالات) کے بارے میں بات کرتے ہوئے شندے نے سوال کیااگر آج ملک میں ایمرجنسی ہوتی، تو کیا وہ احتجاج سپریم کورٹ تک پہنچ پاتا؟ آج کل ہر کوئی آزادانہ طور پر اپنی بات کہہ سکتا ہے۔ کیا موجودہ صورتحال ایمرجنسی ہے، یا وہ والی ایمرجنسی تھی؟ اس وقت تو سب کچھ بند کر دیا گیا تھا۔ کیا عدلیہ کی طرف مارچ کرنا اور اس کی توہین کرنا درست ہے؟ وہ ‘بھارت کو توڑنے’ کی باتیں کرتے ہیں اور ملک چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے احتجاج کرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ان کے مطالبات ناقص ہیں وہ اس بات سے آگاہ ہیں کہ انہیں انصاف نہیں ملے گا کیونکہ ان کے مطالبات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے ووٹر ٹرن آؤٹ (ووٹنگ کی شرح) میں اضافے پر احتجاج کیا تھا۔ اب، اگر ووٹر لسٹ سے نام ہٹا دیے جائیں تو وہ احتجاج کرتے ہیں حالانکہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ کوئی ناانصافی نہ ہو، ‘فارم 6’ موجود ہے۔ وہ محض ان ‘ناپختہ’ (کم فہم) لوگوں کا ایک ڈرامہ تھا، اور یہ سب صرف اقتدار کے حصول کے لیے تھا۔ یہ بھگوان شیو کی توہین ہے؛ ان میں عقل کی کمی ہے۔ اگر ‘تیسری آنکھ’ کھل گئی، تو ‘انڈیا’ اتحاد کا صفایا ہو جائے گا۔ جب لوگ جمع ہوتے ہیں تو وہ بس اپنے گھروں سے باہر نکل آتے ہیں انہیں دور کا سفر نہیں کرنا پڑتا انہیں ایک تیار پلیٹ فارم مل جاتا ہے اور وہ اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ وہ بس مودی کے خلاف بولنا چاہتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مودی نے انہیں بے روزگار کر دیا ہے، لہٰذا احتجاج کے سوا ان کے پاس اور کیا چارہ ہے؟

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی شیواجی پارک احتجاج ادیتہ ٹھاکرے اور امیت ٹھاکرے پر مقدمہ

Published

on

aditya-thackeray

ممبئی ؛ ممبئی شیواجی پارک میں غیرقانونی طریقے سے احتجاجی مظاہرہ کی پاداش میں شیوسینا لیڈر ادیتہ ٹھاکرے ، ایم این ایس لیڈر امیت ٹھاکرے ، سندیپ دیش پانڈے ، ورون سردیسائی ، مہیش دیسائی سمیت ۲۵ نامز د اور ۳۰۰ مظاہرین کے خلاف پولس نے ایف آئی آر درج کی ہے ۔ پولس نے غیر قانونی طریقے سے مجمع جمع کرنے اور مہاراشٹرپولس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے ۔ امیت ٹھاکرے اور ادیتہ ٹھاکرے پر الزام ہے کہ انہوں نے مظاہرین کو پولیس وین سے رہا کروانے کےلیے پولس وین روک لی تھی اتنا ہی نہیں ادیتہ ٹھاکرے کو وین پر چڑھ گئے تھے جس کے بعد مظاہرین کو رہا کرنا پڑا تھا پولس نے تقریبا ۳۰۰ مظاہرین کو گرفتار و رہا کر دیا اور تفتیش کے بعد کیس درج کر لیا گیا ہے اس کے علاوہ ملزمین کی تلاش بھی جاری ہے سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع سے بھی پولس تفتیش کر رہی ہے اس کے ساتھ ہی شیواجی پارک پولس اسٹیشن کے باہر بھی دونوں بھائیوں نے احتجاج کیا تھا مقدمہ درج کیے جانے کی تصدیق ڈی سی پی مہندر پنڈت نے کی ہے انہوں نے بتایا کہ غیر قانونی طریقے سے جمع ہونے اور نظم ونسق کا مسئلہ پیدا کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے واضح رہے کہ شیواجی پارک کو پولس چھاؤنی میں تبدیل کیا گیا ہے اس کےساتھ ہی جو بھی یہاں احتجاج میں شریک ہونے کی غرض سے آتے ہیں انہیں پولس حراست میں لیتی ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان