Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

کانگریس واین سی پی نیز دیگراتحادی پارٹیوں کا مشترکہ انتخابی منشور جاری

Published

on

cong-bhiawndi

ممبئی: کانگریس واین سی پی نیز دیگراتحادی پارٹیوں کے مشترکہ انتخابی منشورکا آج یہاں اجراءہوا جس میں ریاست کے کسانوں کی مکمل قرض معافی، بیروزگاروں کو ماہانہ ۵ ہزار روپئے بیروزگاری وظیفہ، نئی کمنیوں وصنعتوں میں ریاست کے لوگوں کو 80 فیصد ملازمت، معیاری تعلیم، اعلیٰ طبی سہولیات، منصوبہ بند طریقے سے شہروں کی تعمیر، دیہی علاقوں کے لئے سہولیات، ماحولیات کا تحفظ، زراعت وصنعتوںکے فروغ جیسے کئی اہم موضوعات کو روبہ عمل لانے کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ’شپتھ نامہ‘ کے نام سے جاری اس انتخابی منشور کا اجراءیشونت راوپرتسٹھان میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرایم ایل اے بالا صاحب تھورات، راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر ایم ایل اے جینت پاٹل واس اتحاد میں شامل دیگر پارٹیوں کے لیڈران وان کے نمائندوں کے ہاتھوں ہوا۔اس انتخابی منشور میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ریاست کی معاشی صورت حال بد سے بدتر ہوچکی ہے۔ مہاراشٹر کی معیشت 13فیصد سے گر کر 10.4تک آگئی ہے۔ جبکہ گزشتہ پانچ سالوں میں 16ہزار کسانوں نے خودکشی کی ہے، بیروزگاری کی صورت حال اس قدر تشویشناک ہے کہ 32 ہزار خالی جگہوں کے لئے 32 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ مہاراشٹرکے محصول میں 11فیصد کی کمی آئی ہے نیز ٹیکس کی وصولیابی میں 8.25فیصد کی کمی آئی ہے۔ 2016 میں ہوئے جرائم کی رپورٹ 2017میں شائع کی گئی جس میں 2016 میں خواتین سے متعلق جرائم کے 31ہزار275 ہوئے ہیں جبکہ بچیوں کے ساتھ ہوئے جرائم کے 13ہزار591 کیس درج ہوئے ہیں۔ انتخابی منشور میں یہ حقائق پیش کرتے ہوئے سابقہ کانگریس واین سی پی حکومت کے 15سالہ دور کو ’اول مہاراشٹر، ترقی یافتہ مہاراشٹر‘ کے ٹیگ لائن کا استعمال کرتے اسے عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔اس انتخابی منشور میں فوری طور پر عمل کئے جانے کے موضوعات کے زمرے میں وعدہ کیا گیا ہے کہ کانگریس واین سی پی ودیگر اتحادی پارٹیوں کی حکومت آنے کے بعد کسانوں کے مکمل قرضہ جات کو فوری طور پر معاف کیا جائے گا۔ جو نوجوان بیروزگار ہیں انہیں ماہانہ ۵ ہزار روپئے بیروزگاری بھتہ دیا جائے گا۔ کے جی ٹو پی جی تک مفت تعلیم دینے کی سمت میں پہلے مرحلے میں سرکاری وحکومتی امداد حاصل کرنے والے کالجوں میں تمام طلبہ گریجویشن تک مفت تعلیم دی جائے گی۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے صفر فیصد کے شرحِ سودپر تعلیمی قرض فراہم کیا جائے گا۔ ریاست کا ہر شخص کو ہیلتھ انشورنش کے دائرے میں لایا جائے گا۔ مزدوروں کی بنیادی تنخواہ ۱۲ہزار روپئے کی جائے گی۔ ریاست کے تمام کارپوریشن کی حد میں ۰۰۴ مربع فٹ کے گھروں کا ٹیکس معاف کیا جائے گا۔ نئی صنعتوں میں ریاست کے باشندوں کو 80 فیصد ملازمت دی جائے گی اور انسانی ترقی کا ریشو بلند کیا جائے گا، ماحولیات کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کئے جانے جیسے موضوعات شامل ہیں۔اس موقع پر ریاستی کانگریس کے صدربالا صاحب تھورات نے کہا کہ مہاراشٹر کی ہمہ جہت ترقی کے لئے ہم پابند عہد ہیں۔ ہم جو کرسکتے ہیں وہ اس’ شپتھ پتر‘ میں موجود ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مہاراشٹر کی عوام اس انتخابی منشور کا استقبال کرے گی اور ایک بار پھر کانگریس وراشٹروادی کانگریس واس کی دیگر اتحادی پارٹیوں کی حکومت کو منتخب کرے گی۔ جبکہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے کہا کہ ہم نے انتخابی منشور میں جو وعدے کئے ہیں، وہ سو فیصد پورا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس الیکشن میں ریاست کی عوام کشمیر میں آرٹیکل 370جیسے موضوعات پر توجہ نہیں دیتے ہوئے ریاست کے مسائل پر ووٹنگ کرے گی۔ انتخابی منشور کے اس اجراءکے موقع پر این سی پی کی ممبرپارلیمنٹ سوپریا سولے، سابق وزیر واین سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک، سابق وزیر وکانگریس کے ایم ایل اے نسیم خان، ممبئی کانگریس کے صدر ایکناتھ گائیکواڑ، انتخابی منشور کمیٹی کی صدر ممبرپارلیمنٹ وندنا چوہان، بہوجن ریپبلک سوشلسٹ پارٹی کے صدرسریش مانے، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت سمیت اتحادی پارٹیوں کے لیڈران و نمائندے موجود تھے۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com