Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

ملک کی ترقی میں خواتین کا اہم کردار رہا ہے : پروفیسر نجمہ اختر

Published

on

Prof. Najma Akhtar

دنیا کے مختلف اداروں خصوصاً تعلیمی اداروں میں خواتین کی قیادت پر زور دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نے کہا کہ ملک کی قیادت میں خواتین کا اہم رول رہا ہے یہ بات انہوں نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ڈِپارٹمنٹ آف ایڈَلٹ اینڈ کانٹی نیواِنگ ایجوکیشن اینڈ ایکسٹنشن (ڈی اے سی ای ای) جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ’خواتین اور تعمیرِ قوم : مسائل اور تقاضے‘ کے عنوان پر ایک آن لائن قومی ویبینار میں کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہی۔

انھوں نے صنفی امتیازات کو دور کرنے میں اُن اہم کردار پر روشنی ڈالی جو مختلف اداروں کو ادا کرنا چاہیے۔ اُنھوں نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ خواتین کی ترقی میں حائل مسئلوں اور تقاضوں کا مقابلہ تمام شعبہ جات خصوصاً سائنس، ٹکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی اور دیگر غیر روایتی کورسز میں خواتین کی شمولیت کے ذریعہ کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ تعمیرِ قوم کا عمل پیچیدہ ہے، لہذا اس میں کسی ایک بھی جنس کو خارج نہیں کیا جاسکتا۔

اِس موقع پر پروفیسر رویندر کمار، ڈین، فیکلٹی آف سوشل سائنسزنے اپنے خطاب میں منو اسمرتی کے کچھ خوبصورت شلوکوں اور ٹیگور کی نظموں کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ خواتین تقدیر ساز ہوتی ہیں۔ خواتین کی تعلیم، ان کا احترام، صنفی مساوات اور ان کی شمولیت ہی وہ اساس ہے جس پر تعمیر قوم کی تشکیل کا انحصار ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر انوارہ ہاشمی، اسسٹنٹ پروفیسر، ڈی اے سی ای ای کے طلباء محترمہ بھاوِکا ڈانگی، مسٹر گورَوجوشی اور مسٹر محمد مقیم احمد نے ویبینار کے ممتاز مقررین کا تعارف پیش کیا۔

اپنے خطاب میں پروفیسر وندنا چکرورتی، سابق پی وی سی اور ڈائریکٹر، لائف لانگ لرننگ اینڈ ایکسٹینشن، ایس این ڈی ٹی ویمن یونیورسٹی، ممبئی نے کہا کہ تعمیر قوم کا راستہ بالغوں کی خواندگی خصوصا ًخواتین کی خواندگی سے ہوکر گزرتا ہے۔ خواندگی کا تغیراتی اثر پڑتا ہے۔ اس ویبینار میں ملک کی جن معزز اور ممتاز شخصیات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اُن میں ڈاکٹر شکیلہ ٹی شمسو، پروفیسر کیرتی جین، ڈاکٹر امیتا مہاجن، ڈاکٹر نیشا من دی رتا، پروفیسر شوہنی گھوش اور پروفیسر صبیحہ انجم زیدی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر نصریٰ شبنم کے اظہار تشکر پر ویبینار کا اختتام ہوا۔

قبل ازیں ویبینار کی کنوینر اور ناظمہ ڈاکٹر شِکھا کپور نے اپنے تعارفی کلمات میں کہا کہ صدیوں سے خواتین نے مختلف شعبوں میں اور تعمیر قوم کے عمل میں غیر معمولی اور مثالی شرکت رہی ہے، لیکن بدستور ان کی شناخت نہیں ہوتی اور نہ اُنھیں تسلیم کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ اِس ویبینار کا انعقاد مختلف پیشہ ورانہ میدانوں سے تعلق رکھنے والی چند قابل ذکر خواتین کی زندگی اور اُن کی خدمات کے اعتراف کے مقصد سے کیا گیا تھا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان