Connect with us
Thursday,26-March-2026

(جنرل (عام

بھوپال میں 12 مارچ سے ہنر ہاٹممتا بنرجی کی حالت مستحکم

Published

on

naqvi

قلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے جمعرات کو کہا کہ 12 مارچ سے بھوپال (مدھیہ پردیش) میں شروع ہو رہا 27واں ’ہنر ہاٹ،‘ ’سوادیشی سواولمبن کے سنکلپ‘ اور ’خود مختار ہندوستان کے ہدف‘ کے ساتھ منعقد ہو رہا ہے مسٹر نقوی نے کہا کہ 12 مارچ کو ڈانڈی یاترا کی سالگرہ بھی ہے، اور ملک کی آزادی کی 75ویں سالگرہ کے جشن کے ضمن میں امرت مہوتسو بھی کل سے ہی شروع ہورہا ہے، جس کے تحت 75 ہفتے کی آزادی سے جڑے مختلف قابل فخر یادگار پروگرام منعقد کئے جائیں گے۔

مسٹر نقوی نے کہ اکہ ملک بھر کے دستکاروں کے ہاتھ سے بنے نایاب دیسی مصنوعات کے 27ویں ’ہنر ہاٹ‘ کا افتتاح 13 مارچ کو لال پریڈ گراؤنڈ، بھوپال میں مدھیہ پردیش کے وزیراعلی شیوراج سنگھ چوہان کے ذریعہ کیا جائےگا۔ اس موقع پر مدھیہ پردیش بی جےپی صدر اور رکن پارلیمنٹ وشنو دت شرما،مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ڈاکٹر نروتم مشرا، شہری ترقی اور مکانات کے وزیر بھوپیندر سنگھ اور طبی تعلیم کے وزیر وشواس سارنگ مہمان خصوصی کے طور پر موجود رہیں گے۔

اقلیتی امور کی مرکزی وزارت کے ذریعہ 27 ویں ’ہنر ہاٹ‘ کا انعقاد ’ووکل فار لوکل‘ تھیم کے ساتھ لال پریڈ گراؤنڈ ،بھوپال میں 21 مارچ تک کیا جا رہا ہے جہاں ملک بھر کے 31 سے زیادہ صوبوں کے دستکار، کاریگر اپنے نایاب مصنوعات فروخت اور نمائش کےلئے لے کر آئے ہیں۔ اس ہنر ہاٹ میں آندھرا پردیش،اروناچل پردیش، کرناٹک، کیرالہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ، اوڈیشہ، پڈوچیری، پنجاب، راجستھان، سکم، تمل ناڈو، تلنگانہ، اترپردیش،ا تراکھنڈ، مغربی بنگال وغیرہ سے 600 سے زیادہ دستکار،شامل ہوئےہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ میں بھگوان کی مورتی لیجاتے وقت تنازع! دونوں جانب سے نعرہ بازی, کیس درج, حالات پرامن سیکورٹی سخت

Published

on

mumbai police

ممبئی: ممبئی ملاڈ علاقہ میں گزشتہ شب رام بھگوان کی مورتی لیجانے کے دوران اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب جامع مسجد کے پاس کچھ شرپسندوں نے شور شرابہ کیا جس کے بعدیہاں حالات خراب ہوگئے پولیس نے حالات کو قابو میں کرلیا دونوں جانب سے نعرے بازی ہوئی ایک طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر تو دوسری طرف جئے شری رام کا نعرہ لگایا گیا گزشتہ رات جامع مسجد میں عشاء کی نماز جاری تھی اسی دوران بھگوان رام کی مورتی لیجاتے وقت شور شرابہ ہوا تو نمازیوں نے اعتراض کیا اس کے بعد حالات خراب ہوگئے پولیس نے فریقین کو قابو میں کیا اور پھر اب یہاں حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے پولیس نے جامع مسجد سمیت تمام حساس علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی ہے چونکہ شام میں رام نومی کا جلوس نکالا جاتا ہے اور رام نومی جلوس شوبھایاترا میں کسی بھی قسم کی گڑ بڑی نہ ہو اس کو یقینی بنانے کیلئے چپہ چپہ پر فورسیز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے اس معاملہ میں پولیس کو سخت ہدایت جاری کی ہے جبکہ تنازع پیدا کرنے والوں کے خلاف پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ممبئی کے ملاڈ علاقہ میں رام نومی پر تین سال قبل تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس کے بعد اب دوبارہ شرپسند عناصر یہاں ماحول خراب کر نے کی کوشش کر رہے ہیں گزشتہ شب بھی یہاں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اسے ناکام بنا دیا اب حالات پرامن ہے پولیس نے افواہ پھیلانے والوں اور سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیو شیئر کرنے والوں پر بھی کارروائی کا انتباہ دیا ہے اس کے ساتھ ہی پولیس اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ماحول خراب کیا ہے۔ فرقہ وارانہ تنازع کے بعد پولیس نے حساس علاقوں کی نشاندہی کے ساتھ محلہ کمیٹیوں اور امن کمیٹیوں کی میٹنگ بھی منعقد کی تھی۔ ملاڈ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی تنصیب کے ساتھ جلوس کی نگرانی ڈرون سے کی گئی چپہ چپہ پر فورسیز کی موجودگی کے سبب جلوس کے پرامن اختتام کا دعوی بھی پولیس نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کے سیکشن 154 میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے ترمیم، قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں بل منظور

Published

on

ممبئی: قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل نے ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 154 میں ترمیم کو منظوری دی ہے تاکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی جاسکے۔ اس ترمیم سے رہائشی املاک کے مالکان اور کمرشل پراپرٹی مالکان پر ٹیکس کا بوجھ نہیں بڑھے گا۔ جس سے رہائشی اور کمرشل پراپرٹی مالکان کو راحت ملے گی ۔قطعہ اراضی لینڈ ٹیکس کی تشخیص کارپٹ ایریا انڈیکس کو چھوڑ کر کی جائے گی۔ اس سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو تقویت ملے گی جو تعطل کا شکار ہیں اور اس وقت جاری ہیں۔اس بل کی منظوری کے بعد، سال 2010 سے پورے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں تقریباً 10.5 لاکھ جائیدادوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور عدالتی معاملات کو روک دیا جائے گا۔ دفعہ 154 میں ترمیم نے ان جائیداد کے مالکان سے بقیہ 50 فیصد ٹیکس کی وصولی کی راہ ہموار کر دی ہے جو سال 2014 میں معزز ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق 50 فیصد پراپرٹی ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں میونسپل کارپوریشن کے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ ریاستی حکومت کے زیر التواء ٹیکس کی وصولی ہو گئی ہے اور محصولات کی وصولی کا راستہ صاف ہموار ہو گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان