Connect with us
Tuesday,06-January-2026
تازہ خبریں

جرم

بھیونڈی میں تعطیل کے دن غیرقانونی تعمیرات پر میونسپل انتظامیہ کی جانب سےکی گئی کاروائی

Published

on

illigel-bhiwandi

بھیونڈی: (نامہ نگار)
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی حدود میں بڑے پیمانے پر غیرقانونی اور بغیر پرمیشن عمارتوں کا تعمیری کام شروع ہے جس کی وجہ سے غیرقانونی اور خستہ حال عمارتوں کے حادثات پیش آنے کے واقعات بھیونڈی شہر میں رونما ہورہے ہیں۔ واضح ہو کہ تقریباً 7 ماہ قبل بھیونڈی شہر میں جیلانی عمارت حادثے کا شکار ہوگئی تھی جس میں 38 افراد جاں بحق ہوگئے تھے ، لہذا غیرقانونی تعمیرات پر کاروائی کرنے کا حکم میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ نے دیا ہے۔ جس کے بعد سے کچھ بلڈر اتوار یا چھٹی کے دن تعمیراتی کام جاری رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی حدود کے تحت دیوان شاہ درگاہ ٹرسٹ کی اراضی پر ایک عمارت کا غیرقانونی تعمیراتی کام شروع ہے ، جس کے دوسرے منزلے کے سلیب کو بھرنے کا کام اتوار کے روز شروع تھا۔ مذکورہ غیرقانونی تعمیرات کی اطلاع موصول ہوتے ہی خصوصی ٹیم نے مذکورہ مقام پر پہنچ کر کاروائی کرتے ہوئے تمام سامان ضبط کرکے سلیب کو بھرنے کے کام کو روکنے کی کارروائی کی ہے۔

ذرائع سے موصولہ جانکاری کے مطابق ، موضع غوری پاڑا واقع سروے نمبر 14 جو دیوان شاہ درگاہ ٹرسٹ کی اراضی ہے جس پر ایک عمارت کی تعمیر کا کام گزشتہ سال سے شروع ہے جبکہ گزشتہ سال غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے تعمیرات کو منہدم کرنے کی کارروائی کرکے چھوڑ دیا گیا تھا جس پر دوبارہ بلڈر نے تعمیری کام شروع کردیا تھا جس کی وجہ سے اس پر کاروائی کرنے کے لئے حکم میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آشیہ نے دیا تھا۔ لیکن کوئی کارروائی نہ ہونے کے بعد میونسپل کمشنر نے شہر ڈویلپمنٹ آفیسر ثاقب کھربے کو مذکورہ تعمیراتی کام کی ذمہ داری سونپی تھی جس کے مطابق عام تعطیل کے دن کام شروع ہونے کی اطلاع موصول ہونے پر ثاقب کھربے نے مذکورہ مقام پر اتوار کے روز دوسرے منزلے پر بلڈر کے ذریعے سلیب بھرنے کی تیاری جاری تھی جس پر مقامی پربھاگ سمیتی نمبر 4 اور پربھاگ سمیتی نمبر 1 اور 3 کے افسران اور ملازمین کاروائی کرنے کے لئے پہنچ گئے۔ اسی اثناء میں اس معاملے کی بھنک لگتے ہی پربھاگ سمیتی نمبر 2 اور 5 کے بیٹ انسپکٹر اور انہدامی محکمہ کے ملازمین بھی موقع پر پہنچ گئے اور سبھی نے مل کر عمارت کا سلیب بھرنے کے کام کے خلاف کارروائی کی اور وہاں رکھا ہوا تمام سامان ضبط کرکے میونسپل کارپوریشن کے ہیڈکوارٹر میں لاکر جمع کردیا ہے۔ مذکورہ کاروائی سے غیرقانونی تعمیرات کے سلسلے میں شکایت کنندہ سماجی کارکن زاہد مختار شیخ نے میونسپل کمشنر کے ذریعے کئے گئے مذکورہ جرأت مندانہ اقدام کی ستائش کرتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

فالکن گروپ کا ایم ڈی ڈیجیٹل انویسٹمنٹ گھوٹالے میں گرفتار، 850 کروڑ کے فراڈ کیس میں کارروائی

Published

on

حیدرآباد، تلنگانہ پولیس نے فالکن گروپ کے منیجنگ ڈائرکٹر (ایم ڈی) امر دیپ کو ڈیجیٹل سرمایہ کاری اسکام کے سلسلے میں گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاری تلنگانہ پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے کی ہے۔

سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے امر دیپ کو پیر کو ممبئی میں خلیجی ممالک سے اس کی آمد کے فوراً بعد گرفتار کیا تھا۔ امیگریشن ڈپارٹمنٹ کی مخصوص اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے اسے ممبئی میں روکا اور فوری طور پر حراست میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق اسکام سامنے آنے کے بعد امر دیپ دبئی فرار ہو گیا۔ اس کے خلاف پہلے ہی لک آؤٹ نوٹس جاری کیا جا چکا ہے۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ اسے اب حیدرآباد لایا گیا ہے اور عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم نے موبائل ایپ پر مبنی ڈیجیٹل ڈپازٹ اسکیموں کے ذریعے سرمایہ کاروں کو 850 کروڑ روپے کا دھوکہ دیا۔ اس معاملے میں پہلے ہی کئی گرفتاریاں ہو چکی ہیں۔

گزشتہ سال جولائی میں سی آئی ڈی نے فالکن گروپ کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) آریان سنگھ کو گرفتار کیا تھا۔ آرین سنگھ چھابڑا کو سی آئی ڈی نے 4 جولائی کو بھٹنڈہ، پنجاب سے گرفتار کیا تھا۔ اس سے قبل مئی میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر یوگیندر سنگھ کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں اب تک کل 10 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

سی آئی ڈی کے مطابق ملزمان نے بغیر اجازت ڈیپازٹس اکٹھے کیے، فراڈ کیا اور لوگوں سے فراڈ کیا۔ انہوں نے فالکن انوائس ڈسکاؤنٹنگ ایپ بنائی، جس میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے نام پر جعلی سودوں کی پیشکش کی گئی، اور لوگوں کو مختصر مدت میں زیادہ شرح سود کا لالچ دیا۔

اس طرح، ملزم نے 7,056 لوگوں سے تقریباً 4,215 کروڑ روپے اکٹھے کئے۔ ان میں سے تقریباً 4,065 لوگ دھوکہ دہی کا شکار ہوئے۔

پولیس کے مطابق کیپیٹل پروٹیکشن فورس پرائیویٹ لمیٹڈ نے ایپ تیار کی اور اسے گوگل، یوٹیوب اور انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر فروغ دیا۔ لوگوں کو ٹیلی فون کالز کے ذریعے بھی لالچ دیا گیا۔

متاثرین کی شکایات کی بنیاد پر سائبرآباد ای او ڈبلیو پولس اسٹیشن میں تین کیس درج کیے گئے، جنہیں مزید تحقیقات کے لیے سی آئی ڈی کو منتقل کیا گیا۔

اس کے علاوہ ملزم کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں مزید آٹھ مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

Continue Reading

جرم

بی ایم سی انتخابات 2026 : ممبئی بلدیاتی انتخابات سے قبل دہیسر ویسٹ مہم کے دوران شیو سینا (شندے) کے کارکنوں نے 2 افراد پر حملہ کیا، ایف آئی آر درج

Published

on

ممبئی : دہیسر مغرب میں، شیوسینا (شندے) کے کارکنوں کو ایک رہائش گاہ پر انتخابی مہم چلانے اور ووٹ مانگنے کے دوران مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج کے بعد، مشتعل شنڈے دھڑے کے کارکنوں نے مبینہ طور پر دو افراد پر حملہ کیا، انہیں لاتوں، گھونسوں اور لاٹھیوں سے مارا۔ ایم ایچ بی پولیس نے اس واقعہ کے سلسلے میں آٹھ سے دس کارکنوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : گوونڈی کے رہائشی کو ایم ایسٹ وارڈ گھوٹالے کی تحقیقات کے درمیان پاسپورٹ درخواست کے ساتھ جعلی پیدائش کا سرٹیفکیٹ جمع کرانے کے لیے مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

Published

on

ممبئی : یہاں تک کہ جب دیونار پولیس ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ایم ایسٹ وارڈ میں 106 فرضی پیدائشی ریکارڈ کے مبینہ اندراج کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے جس میں جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ شامل ہے۔ گوونڈی کے رہائشی فہد عبدالسلام شیخ کے خلاف پاسپورٹ کی درخواست کے ساتھ جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ جمع کرانے کے الزام میں ایک الگ جرم درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق، پولیس کانسٹیبل وٹھل یشونت بکلے، جو دیونار پولس اسٹیشن میں پاسپورٹ تصدیق سیل سے منسلک ہیں، نے شکایت درج کرائی۔ شیخ کی پاسپورٹ کی درخواست، مورخہ 3 جون، 2025، 14 جولائی، 2025 کو پولیس اسٹیشن میں موصول ہوئی تھی۔ درخواست گزار فلیٹ نمبر 2206، بی ونگ، سینٹریو بلڈنگ، وامن توکارام پاٹل مارگ، گوونڈی کا رہائشی ہے۔

تصدیقی عمل کے حصے کے طور پر، بکل نے درخواست میں مذکور ایڈریس کا دورہ کیا۔ 24 جولائی کو شیخ ذاتی طور پر تصدیق کے لیے اپنے دستاویزات کے ساتھ پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے۔ اس کے برتھ سرٹیفکیٹ کو بعد میں صداقت کی تصدیق کے لیے جاری کرنے والے اتھارٹی کے دفتر ہیلتھ آفیسر، کالبرگی سٹی کارپوریشن، جگت سرکل، مین روڈ، کالابوراگی، کرناٹک کو بھیجا گیا تھا۔

کالبرگی میں دیونار پولیس کے ذریعہ کی گئی فیلڈ انکوائری کے دوران، رجسٹرار آف برتھ اینڈ ڈیتھ، کالابوراگی میونسپل کارپوریشن نے 9 دسمبر کو ایک خط کے ذریعے پولیس کو مطلع کیا کہ 15 اپریل 1993 کو شیخ کے پیدائشی سرٹیفکیٹ کا کوئی ریکارڈ سرکاری رجسٹروں میں نہیں ملا۔ اس سے تصدیق ہوئی کہ پاسپورٹ کی تصدیق کے دوران پیش کیا گیا برتھ سرٹیفکیٹ جعلی تھا۔

ان نتائج کی بنیاد پر دیونار پولیس نے فہد شیخ کے خلاف بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) ایکٹ اور پاسپورٹ ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان