Connect with us
Thursday,09-July-2026
تازہ خبریں

جرم

مسلم لڑکے سے عشق, لڑکی کے قتل کا سبب بن گیا !

Published

on

murder

خیال اثر مالیگانوی

ہندوستانی تہذیب و تمدن ایک طویل عرصہ سے سنت کبیر کے دست نگر رہا ہے. کبیرا کھڑا بجار میں مانگے سب کی خیر نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر جیسے دوہوں پر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صدیوں سے رواں دواں رہی ہے. بالکل اسی “عشق نہ پچھے جات” کے مصداق پیار محبت، عشق اور نفرت و عداوت کبھی بھی ذات برادری دیکھ کر نہیں کی جاتی. دوستی دشمنی کے درمیان کوئی بھی دیوار پل بھر کا تماشہ ہوتی ہے. کبھی معمولی معمولی باتیں بھی دلوں میں دراڑ ڈال دیتی ہیں، تو کبھی نسل در نسل چلنے والی دشمنیاں لمحوں میں دوست بنا جاتی ہیں. اسی طرح عشق محبت کے درمیان حائل تمام تر فاصلوں کو لمحوں میں محیط کر جاتے ہیں. کسی کا رخ زیبا پتھر دل انسان کو بھی موم بنا دیتا ہے. عشق اور محبت وہ الوہی جذبہ ہے، جو ایک لمحہ میں دلوں کو تسخیر کر جاتا ہے، اور اس ایک لمحے میں نہ تو مذہب حائل ہوتا ہے، نہ ہی امیری غریبی کی دیواریں، عمر کے تمام تر فاصلے بھی اس ایک لمحے کی دسترس میں آ کر تمام بھید بھاؤ مٹا جاتے ہیں. ایسا ہی ایک واقعہ اتر پردیس کے سنت کبیر نگر بستی میں پیش آیا. تفصیلات کے مطابق کیلاش یادو نامی شخص کی جواں سال “رنجنا یادو” نامی بیٹی کو بیلا گھاٹ، شاہ پور گاؤں کے مسلم بس مالک سے محبت ہو گئی تھی، اور اس محبت کے جنون کی انتہا یہ ہوئی کہ دسمبر 2019 میں انجنا نامی یہ لڑکی اپنے محبوب کے ہمراہ فرار ہو گئی تھی، تب رنجنا کے اہل خانہ نے مسلم بس مالک کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا. پولیس کی بے جا سختیوں اور پابندیوں کی وجہ سے چند مہینوں کے بعد محبت کی دیوانی رنجنا واپس لوٹ آئی تھی. واپس لوٹتے ہی رنجنا نے اپنے محبوب کو قانون کی گرفت سے محفوظ رکھنے کے لئے ببانگ دہل بیان دیا تھا کہ وہ بالغ ہے، اور اپنی مرضی سے ہی اپنے محبوب کے ساتھ گئی تھی. واپس لوٹنے کے بعد رنجنا کے والدین نے اس پر بے شمار پابندیاں عائد کر رکھی تھیں. بے جا پابندیوں اور سختیوں کے باوجود رنجنا اکثر اپنے محبوب سے ملنے جایا کرتی تھی. عاشق و معشوق کا یہ ملن ہجر کی منزلوں سے گزر کر وصال کی حدوں تک جا پہنچتا تھا، اور یہی حدیں رنجنا کے اہل خانہ کو کھٹکتی رہتی تھیں. رنجنا کا اپنے محبوب سے ملن اس کے گھر والوں کی بدنامی کا باعث بنتا جا رہا تھا، اور پھر یوں ہوا کہ ایک دن رنجنا کے والدین نے اپنی ہی بیٹی کے قتل کا منصوبہ بنایا. منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے انھوں نے اپنے داماد ستیہ پرکاش سے رابطہ قائم کیا. داماد ستیہ پرکاش نے سیتا رام نامی شخص سے بات کی تب اس نے انھیں ورون تیواری پنٹو نامی شخص سے قتل کے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لئے راضی کیا. ورون تیواری پنٹو نے رنجنا کو قتل کے لئے دیڑھ لاکھ روپیے کا مطالبہ کیا. رنجنا کے اہل خانہ نے اسے ایک لاکھ 35 ہزار روپیے ادا کردیئے اور پھر ایک دن یوں ہوا کہ 3 فروری کی رات ورون نامی شخص اپنے ڈرائیور دوست کے ساتھ ٹاٹا میجک میں سوار کیلاش کے گھر جا پہنچا، چونکہ رنجنا کو جان سے مارنے کے لئے اس کے گھر کے سبھی افراد راضی تھے، اسی لئے رنجنا کے بھائی اجیت نے زبردستی اسے ٹاٹا میجک نامی گاڑی میں بے دردی سے ٹھونس دیا، اور یہ گاڑی رنجنا کو لئے روانہ ہو گئی. رنجنا کے والد کیلاش موٹر سائیکل پر ورون کو ساتھ لئے اپنی بیٹی کے پچھے پچھے چل دیئے. رنجنا کو سنت کبیر نگر بستی سے گاڑی میں سبھی لوگ دھن گھاٹا تھانہ علاقہ میں کوچہ روڈ پر ایک سنسان اور ویران مقام پر واقع ایک کمرے میں لے جا کر مقفل کر دیا گیا. خود کو زبردستی لانے اور قید کرنے کو لے کر رنجنا نے جب شور وغل مچایا تو رنجنا کے بھائی اجیت نے اس کے منہ اور ناک کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے بری طرح دبائے رکھا. اس طرح جب رنجنا بے ہوش ہو گئی تو کمرے میں باردان وغیرہ پھیلانے کے بعد بے ہوش رنجنا کو اس پر پٹک دیا گیا، اور انتہائی سفاکانہ طریقہ سے نیم بے ہوش رنجنا کے جوان اور خوب صورت بدن پر پٹرول چھڑکتے ہوئے آگ لگا دی. آگ لگانے کے بعد کیلاش، ورون، سیتا رام تیواری، اجیت پر مشتمل چاروں افراد زندہ جلتی ہوئی رنجنا کو چھوڑ کر فرار ہوگئے. 3 فروری کو رنجنا نذر آتش کی گئی تھی دوسرے دن ہی رنجنا کی مسخ شدہ ادھ جلی لاش پولیس کو دستیاب ہو گئی. پولیس نے جب باریک بینی کے ساتھ معاملہ کی تفتیش شروع کی تو جلد ہی سارا معاملہ عیاں ہوگیا. پولیس نے معاملہ کی سنگینی دیکھتے ہوئے رنجنا کے والد بھائی اور بہنوئی سمیت چاروں ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انھیں جیل روانہ کر دیا گیا ہے.

دھن گھٹا علاقہ کے ایک کھیت میں موجود غیر آباد مکان سے جب ایک جوان لڑکی کی ادھ جلی لاش پولیس کو دستیاب ہوئی، تو پولیس نے لاش کی شناخت جیتو پور گاؤں کی ساکن رنجنا یادو کے نام سے کی. پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنے سے بتائی گئی تھی، لیکن یہ واضح نہیں ہو پایا تھا کہ رنجنا کی موت گلا گھوٹنے سے ہوئی تھی یا دھویں سے اس کا دم گھٹ گیا تھا. پولیس کی باریک بینی سے تفتیش نے سارا معاملہ سامنے لایا تو مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کے عشق کا معاملہ کھل کر سامنے آ گیا، اور یہ بھی واضح ہوا کہ ہندو لڑکی کے والدین نے مسلم لڑکے کے عشق میں گرفتار اپنی بیٹی رنجنا کی وجہ سے ہونے والی بدنامیوں سے مجبور ہو کر انھوں نے اپنی ہی جوان بیٹی کو بے دردی سے قتل کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا. خیال رہے کہ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والے پٹرول کین اور بائک (موٹر سائیکل) برآمد کرلی ہیں۔ جبکہ ملزم ورون تیواری اور ٹاٹا میجک ڈرائیور کی تلاش کی جا رہی ہے۔ آئی جی بستی نے 15 ہزار روپے اور سنت کبیر نگر ایس پی سنتوش کمار سنگھ نے اس حساس واقعے کا انکشاف کرنے والی ٹیم کو 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اپنی بیٹی کے مسلم لڑکے کے ساتھ عشق و محبت نے بدنامیوں سے گھرے ایک خاندان کو سماج میں پھیلنے والی بدنامی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنی ہی جوان بیٹی کو بے دردی سے زندہ نذر آتش کر دیا گیا، اگرچہ وہ اپنی بیٹی کے لئے مسلم لڑکے کا ساتھ قبول کر لیتے تو وہ بدنامی چند روزہ ہوتی، اور اس کے بعد ہر کوئی اسے بھول بھی جاتا لیکن اپنی سگٌی بیٹی کو زندہ نذر آتش کرنے کے بعد جیل میں قید رنجنا کے اہل خانہ کی یہ بدترین بدنامی کیا رنگ دکھائے گی. ہوسکتا ہے کہ جب یہ خونی مقدمہ فیصل ہو تو ان ملزمین کے نصیب میں یا تو تمام عمر قید لکھی جائے، یا پھر انھیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے. جیل میں قید تمام ملزمین کی دلوں میں قید کے دوران صرف یہی ایک بات گونج رہی ہوگی کہ کاش وہ لوگ کوئی درمیانی راستہ اپناتے ہوئے ایسے رذلیل فعل سے دور رہتے تو آج ان کی رنجنا بھی زندہ ہوتی اور وہ بھی پابند سلاسیل نہ ہوتے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

شیو سینا کارپوریٹر اس کے حامیوں اور حاملہ مریضہ کے رشتہ داروں نے اسپتال میں جمکر ہنگامہ برپا کیا اور خاتون ڈاکٹر کی پٹائی کی۔

Published

on

Hospital

ممبئی : سیاسی اقتدار کی کشمکش کے ایک چونکا دینے والے معاملے میں، مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلی ایکناتھ شندے کی شیوسینا پارٹی کے ایک کارپوریٹر نے مبینہ طور پر ممبئی کے کلیان-ڈومبیوالی میونسپل کارپوریشن کے شاستری نگر اسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں کے ساتھ حملہ کیا۔ ہسپتال کے عملے نے احتجاجاً ہڑتال کر دی۔ مبینہ حملہ منگل کو اس وقت ہوا جب شیو سینا کارپوریٹر رمیش مہاترے اور ان کے حامیوں نے ایک خاتون ڈاکٹر کو تھپڑ مارا اور حاملہ خاتون کے حوالے کرنے پر جھگڑے کے بعد نرسوں کی بے دردی سے پٹائی کی۔ مبینہ واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔ کلیان-ڈومبیوالی کے تمام بڑے سرکاری اسپتالوں اور مراکز میں معمول کی طبی خدمات اور آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹ کے مشورے کو روک دیا گیا تھا، کیونکہ ڈاکٹروں، نرسوں، اور پیرا میڈیکل اسٹاف نے اسپتال کے عملے کے رکن پر حملہ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ہڑتال کر دی تھی۔

ڈاکٹر کی شکایت کی بنیاد پر وشنو نگر پولیس نے رمیش مہاترے اور ایک خاتون سمیت چار مردوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ایف آئی آر بی این ایس اور مہاراشٹر میڈیکیئر سروس پرسنز اینڈ میڈیکیئر سروس انسٹی ٹیوشنز (پریوینشن آف وائلنس اینڈ ڈیمیج ٹو پراپرٹی) ایکٹ 2010 کے تحت درج کی گئی تھی۔ مظاہرین نے کہا کہ ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کارپوریٹر سمیت تمام ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے کلیان اور ڈومبیوالی یونٹوں نے کہا کہ اگر بدھ تک کارروائی نہیں کی گئی تو ان سے وابستہ تمام نجی ڈاکٹر یکجہتی کے طور پر اپنی خدمات بند کر دیں گے۔

رمیش مہاترے کے خلاف ایف آئی آر اس وقت درج کی گئی جب مظاہرین نے الزام لگایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں کارپوریٹر پر حملہ کرتے ہوئے عملے کو دکھائے جانے کے باوجود صرف مریض کے رشتہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پیر کی دیر رات، 33 سالہ پرینکا اگملے کو ڈومبیولی کے شاستری نگر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہ حمل کے آخری مرحلے میں تھی۔ ڈاکٹروں نے دریافت کیا کہ بچے کے گلے میں نال دو بار لپیٹی گئی تھی، اس لیے انہوں نے سی سیکشن کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے محسوس کیا کہ نوزائیدہ کو نوزائیدہ انتہائی نگہداشت یونٹ (این آئی سی یو) میں داخل کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے، لیکن اسپتال کا این آئی سی یو بھرا ہوا تھا۔ لہذا، سرجری شروع کرنے سے پہلے، طبی ٹیم نے این آئی سی یو بیڈ کا بندوبست کرنے کے لیے دوسرے اسپتالوں سے رابطہ کرنا شروع کیا۔

اسی دوران مریض کے رشتہ داروں نے رمیش مہاترے سے رابطہ کیا۔ مہاترے اسپتال پہنچے اور علاج میں مبینہ تاخیر پر ڈاکٹروں سے بحث کرنے لگے۔ بحث بڑھ گئی۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں مبینہ طور پر مہاترے کو گائناکالوجسٹ پر حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر دوسرے ڈاکٹروں اور اسپتال کے عملے پر حملہ کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ مہاترے تاخیر سے پریشان تھے اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹروں نے ان کے فون کالز کا جواب نہیں دیا۔ تاہم، ڈاکٹروں نے کہا کہ وہ این آئی سی یو بیڈ کا بندوبست کرنے میں مصروف ہیں، جو عمل کرنے سے پہلے ضروری تھا۔ حملے کے بعد مریض کو دوسرے سرکاری اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے سی سیکشن کیا اور نوزائیدہ کو این آئی سی یو میں داخل کرایا گیا۔ آئی ایم اے کلیان کے صدر ڈاکٹر راجیش راگھو راجو کے ساتھ میٹنگ کے بعد، کلیان-ڈومبیوالی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے کمشنر ابھینو گوئل نے حملہ کرنے والے ڈاکٹروں اور عملے سے پولیس شکایت درج کرنے کو کہا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہری انتظامیہ تمام کے ڈی ایم سی ہسپتالوں میں سیکورٹی کو مضبوط بنائے گی اور احتجاج کرنے والے ملازمین سے کام پر واپس آنے کی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : مانخورد سانحہ مکان مالک سمیت ٹھیکیدار و متعلقین پر غیر ارادتا قتل کا مقدمہ درج, دو گرفتار

Published

on

crime

ممبئی ؛ مانخورد پولس اسٹیشن کی حدود میں عمارت گرنے کی بعد پولس نے لاپروائی غیر ارادتا قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے پولس نے اس معاملہ میں دو افراد کو گرفتار بھی کر لیا ہے جن سے تفتیش بھی جاری ہے۔ اس معاملہ میں پولیس اسٹیشن 6 جولائی 2026 کو بھارتیہ نیا سنہتا، بی این ایس 2023 کی دفعہ 105 اور 3(5) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ عمارت گرنے کے واقعے سے متعلق ہے جو 5 جولائی، 2020 کو 6 بجے پیش آیا تھا۔محمد مختار عبدالعلی شیخ (53، ساکن نیو منڈلا، مانخورد، ممبئی کی طرف سے درج کرائی گئی شکایت کے مطابق، اس جگہ پر بغیر کسی ضروری حفاظتی پروٹوکول کے ایک غیر مجاز چار منزلہ عمارت تعمیر کی گئی تھی۔ یہ علم ہونے کے باوجود کہ عمارت کچھ عرصے سے خطرناک حالت میں تھی، اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا گیا۔ مزید برآں، ملحقہ جھونپڑیوں کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات نافذ نہیں کیے گئے تھے۔ نتیجتاً چار منزلہ عمارت پڑوسی کی جھونپڑی پر گر گئی، جس کے نتیجے میں وہاں مقیم چھ افراد ہلاک ہو گئےعمارت کے مالک، تعمیرات سے منسلک ٹھیکیدار، جھونپڑی کے مالک اور دیگر نجی افراد اور سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے جنہوں نے جان بوجھ کر غیر مجاز تعمیرات کی حوصلہ افزائی کی۔ اس معاملے میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔اس کی تصدیق ڈی سی پی سمیر شیخ نے کی ہے ۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : غیر قانونی سرگرمیوں و بے ضابطگیوں میں ملوث ۱۱ بار پر کرائم برانچ کی کارروائی, بار کا لائسنس ۳۰ دنوں کے لئے منسوخ

Published

on

Crime-Branch

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے غیر قانونی سرگرمیوں اور اصول وضوابط کی خلاف ورزی پر ۱۱ آرکیسٹر بار پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے۔ یہاں عریاں و فحش رقص اور اصول کی خلاف ورزی پر ان بارلے لائسنس کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ ۳۰ دنوں کے لیے ابتدائی طور پر بار کے لائسنس منسوخ کئے گئے ہیں۔ ان بارات اجازت نامے پر عمل نہ کرتے ہوئے اصولوں ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے, جن باروں پر کارروائی کی گئی ہے۔ سینوریٹا ڈی بی مارگ پولس اسٹیشن، سپائرڈی بی مارگ، سن سائن پنجاب ڈی بی مارگ، راج پلس ڈی بی مارگ، بلیو ڈائمنڈ ڈی بی مارگ، کمانڈو اندھیری، اروشی اندھیری، سائی پرساد اندھیری، ولاس لنچ ہوم امبولی، چرنجیوی دہیسر، سواگتم ملاڈ شامل ہیں۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی ڈی سی پی کرائم راج تلک روشن نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان