جرم
مسلم لڑکے سے عشق, لڑکی کے قتل کا سبب بن گیا !

خیال اثر مالیگانوی
ہندوستانی تہذیب و تمدن ایک طویل عرصہ سے سنت کبیر کے دست نگر رہا ہے. کبیرا کھڑا بجار میں مانگے سب کی خیر نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر جیسے دوہوں پر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صدیوں سے رواں دواں رہی ہے. بالکل اسی “عشق نہ پچھے جات” کے مصداق پیار محبت، عشق اور نفرت و عداوت کبھی بھی ذات برادری دیکھ کر نہیں کی جاتی. دوستی دشمنی کے درمیان کوئی بھی دیوار پل بھر کا تماشہ ہوتی ہے. کبھی معمولی معمولی باتیں بھی دلوں میں دراڑ ڈال دیتی ہیں، تو کبھی نسل در نسل چلنے والی دشمنیاں لمحوں میں دوست بنا جاتی ہیں. اسی طرح عشق محبت کے درمیان حائل تمام تر فاصلوں کو لمحوں میں محیط کر جاتے ہیں. کسی کا رخ زیبا پتھر دل انسان کو بھی موم بنا دیتا ہے. عشق اور محبت وہ الوہی جذبہ ہے، جو ایک لمحہ میں دلوں کو تسخیر کر جاتا ہے، اور اس ایک لمحے میں نہ تو مذہب حائل ہوتا ہے، نہ ہی امیری غریبی کی دیواریں، عمر کے تمام تر فاصلے بھی اس ایک لمحے کی دسترس میں آ کر تمام بھید بھاؤ مٹا جاتے ہیں. ایسا ہی ایک واقعہ اتر پردیس کے سنت کبیر نگر بستی میں پیش آیا. تفصیلات کے مطابق کیلاش یادو نامی شخص کی جواں سال “رنجنا یادو” نامی بیٹی کو بیلا گھاٹ، شاہ پور گاؤں کے مسلم بس مالک سے محبت ہو گئی تھی، اور اس محبت کے جنون کی انتہا یہ ہوئی کہ دسمبر 2019 میں انجنا نامی یہ لڑکی اپنے محبوب کے ہمراہ فرار ہو گئی تھی، تب رنجنا کے اہل خانہ نے مسلم بس مالک کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا. پولیس کی بے جا سختیوں اور پابندیوں کی وجہ سے چند مہینوں کے بعد محبت کی دیوانی رنجنا واپس لوٹ آئی تھی. واپس لوٹتے ہی رنجنا نے اپنے محبوب کو قانون کی گرفت سے محفوظ رکھنے کے لئے ببانگ دہل بیان دیا تھا کہ وہ بالغ ہے، اور اپنی مرضی سے ہی اپنے محبوب کے ساتھ گئی تھی. واپس لوٹنے کے بعد رنجنا کے والدین نے اس پر بے شمار پابندیاں عائد کر رکھی تھیں. بے جا پابندیوں اور سختیوں کے باوجود رنجنا اکثر اپنے محبوب سے ملنے جایا کرتی تھی. عاشق و معشوق کا یہ ملن ہجر کی منزلوں سے گزر کر وصال کی حدوں تک جا پہنچتا تھا، اور یہی حدیں رنجنا کے اہل خانہ کو کھٹکتی رہتی تھیں. رنجنا کا اپنے محبوب سے ملن اس کے گھر والوں کی بدنامی کا باعث بنتا جا رہا تھا، اور پھر یوں ہوا کہ ایک دن رنجنا کے والدین نے اپنی ہی بیٹی کے قتل کا منصوبہ بنایا. منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے انھوں نے اپنے داماد ستیہ پرکاش سے رابطہ قائم کیا. داماد ستیہ پرکاش نے سیتا رام نامی شخص سے بات کی تب اس نے انھیں ورون تیواری پنٹو نامی شخص سے قتل کے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لئے راضی کیا. ورون تیواری پنٹو نے رنجنا کو قتل کے لئے دیڑھ لاکھ روپیے کا مطالبہ کیا. رنجنا کے اہل خانہ نے اسے ایک لاکھ 35 ہزار روپیے ادا کردیئے اور پھر ایک دن یوں ہوا کہ 3 فروری کی رات ورون نامی شخص اپنے ڈرائیور دوست کے ساتھ ٹاٹا میجک میں سوار کیلاش کے گھر جا پہنچا، چونکہ رنجنا کو جان سے مارنے کے لئے اس کے گھر کے سبھی افراد راضی تھے، اسی لئے رنجنا کے بھائی اجیت نے زبردستی اسے ٹاٹا میجک نامی گاڑی میں بے دردی سے ٹھونس دیا، اور یہ گاڑی رنجنا کو لئے روانہ ہو گئی. رنجنا کے والد کیلاش موٹر سائیکل پر ورون کو ساتھ لئے اپنی بیٹی کے پچھے پچھے چل دیئے. رنجنا کو سنت کبیر نگر بستی سے گاڑی میں سبھی لوگ دھن گھاٹا تھانہ علاقہ میں کوچہ روڈ پر ایک سنسان اور ویران مقام پر واقع ایک کمرے میں لے جا کر مقفل کر دیا گیا. خود کو زبردستی لانے اور قید کرنے کو لے کر رنجنا نے جب شور وغل مچایا تو رنجنا کے بھائی اجیت نے اس کے منہ اور ناک کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے بری طرح دبائے رکھا. اس طرح جب رنجنا بے ہوش ہو گئی تو کمرے میں باردان وغیرہ پھیلانے کے بعد بے ہوش رنجنا کو اس پر پٹک دیا گیا، اور انتہائی سفاکانہ طریقہ سے نیم بے ہوش رنجنا کے جوان اور خوب صورت بدن پر پٹرول چھڑکتے ہوئے آگ لگا دی. آگ لگانے کے بعد کیلاش، ورون، سیتا رام تیواری، اجیت پر مشتمل چاروں افراد زندہ جلتی ہوئی رنجنا کو چھوڑ کر فرار ہوگئے. 3 فروری کو رنجنا نذر آتش کی گئی تھی دوسرے دن ہی رنجنا کی مسخ شدہ ادھ جلی لاش پولیس کو دستیاب ہو گئی. پولیس نے جب باریک بینی کے ساتھ معاملہ کی تفتیش شروع کی تو جلد ہی سارا معاملہ عیاں ہوگیا. پولیس نے معاملہ کی سنگینی دیکھتے ہوئے رنجنا کے والد بھائی اور بہنوئی سمیت چاروں ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انھیں جیل روانہ کر دیا گیا ہے.
دھن گھٹا علاقہ کے ایک کھیت میں موجود غیر آباد مکان سے جب ایک جوان لڑکی کی ادھ جلی لاش پولیس کو دستیاب ہوئی، تو پولیس نے لاش کی شناخت جیتو پور گاؤں کی ساکن رنجنا یادو کے نام سے کی. پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنے سے بتائی گئی تھی، لیکن یہ واضح نہیں ہو پایا تھا کہ رنجنا کی موت گلا گھوٹنے سے ہوئی تھی یا دھویں سے اس کا دم گھٹ گیا تھا. پولیس کی باریک بینی سے تفتیش نے سارا معاملہ سامنے لایا تو مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کے عشق کا معاملہ کھل کر سامنے آ گیا، اور یہ بھی واضح ہوا کہ ہندو لڑکی کے والدین نے مسلم لڑکے کے عشق میں گرفتار اپنی بیٹی رنجنا کی وجہ سے ہونے والی بدنامیوں سے مجبور ہو کر انھوں نے اپنی ہی جوان بیٹی کو بے دردی سے قتل کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا. خیال رہے کہ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والے پٹرول کین اور بائک (موٹر سائیکل) برآمد کرلی ہیں۔ جبکہ ملزم ورون تیواری اور ٹاٹا میجک ڈرائیور کی تلاش کی جا رہی ہے۔ آئی جی بستی نے 15 ہزار روپے اور سنت کبیر نگر ایس پی سنتوش کمار سنگھ نے اس حساس واقعے کا انکشاف کرنے والی ٹیم کو 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
اپنی بیٹی کے مسلم لڑکے کے ساتھ عشق و محبت نے بدنامیوں سے گھرے ایک خاندان کو سماج میں پھیلنے والی بدنامی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنی ہی جوان بیٹی کو بے دردی سے زندہ نذر آتش کر دیا گیا، اگرچہ وہ اپنی بیٹی کے لئے مسلم لڑکے کا ساتھ قبول کر لیتے تو وہ بدنامی چند روزہ ہوتی، اور اس کے بعد ہر کوئی اسے بھول بھی جاتا لیکن اپنی سگٌی بیٹی کو زندہ نذر آتش کرنے کے بعد جیل میں قید رنجنا کے اہل خانہ کی یہ بدترین بدنامی کیا رنگ دکھائے گی. ہوسکتا ہے کہ جب یہ خونی مقدمہ فیصل ہو تو ان ملزمین کے نصیب میں یا تو تمام عمر قید لکھی جائے، یا پھر انھیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے. جیل میں قید تمام ملزمین کی دلوں میں قید کے دوران صرف یہی ایک بات گونج رہی ہوگی کہ کاش وہ لوگ کوئی درمیانی راستہ اپناتے ہوئے ایسے رذلیل فعل سے دور رہتے تو آج ان کی رنجنا بھی زندہ ہوتی اور وہ بھی پابند سلاسیل نہ ہوتے.
جرم
مالونی میں ۷۲ لاکھ کا گانجہ اور پستول سمیت پانچ گرفتار

ممبئی میں مالونی پولس نے ۷۲ لاکھ کا گانجہ اور ایک دیسی پستول و کارآمد کارتوس سمیت پانچ ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے مالونی میں پولس نے عاشق حسین خان کو ۱ کلو ۶۰ گرام گانجہ منشیات کے ساتھ گرفتار کیا تھا. اس نے بتایا کہ وہ یہ منشیات ناسک سے خریدا کرتا ہے اس کے بعد ناسک کے سنتوش مورے کو گرفتار کیا گیا. اس کے بعد اس معاملہ میں کل چار ملزمین کو گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا. مالونی مڈھ میں ایک کار کی تلاشی لی گی جس میں ایک دیسی پستول اور گانجہ برآمد کیا گیا. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی سندیپ جادھو نے انجام دی ہے۔ پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔
جرم
ممبئی شہری ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کی آڑ میں دھوکہ دہی گروہ بے نقاب

ممبئی شئیر ٹریڈنگ میں سرمایہ کاری کے نام پر دھوکہ دہی کرنے والے گروہ کے خلاف سائبر سیل نے کریک ڈاؤن کر کے اس گروہ کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے. شکایت کنندہ نے ۸ جون سے ۲۴ جولائی تک ادھاری شرما کے فون کال پر وہاٹس اپ پر سرمایہ کاری کے لئے رضا مندی ظاہر کی اور پھر گولڈن بریج انویسمنٹ کمپنی میں ٹریڈنگ کی اور اس میں شکایت کنندہ کو بتایا گیا کہ اسے اس میں نفع ہوا ہے اور اس نے متعدد اکاؤنٹ میں ١٣، ٤٠، ٠٠٠ سرمایہ کاری کی تھی. اس معاملہ میں پولس نے کیس درج کرلیا اس کی تفتیش شروع کی گئی اور سائبر سیل نے مسجد بندر میں ایک دفتر پر چھاپہ مار کر بینک اکاؤنٹس کی ۱۳ کٹ، دو لیپ ٹاپ، ۶ موبائل فون ۸ سم کارڈ، کریڈیٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور فرضی اکاؤنٹ کھولنے کے لیے استعمال ہونے والے دستاویزات بھی برآمد ہوئے اس کے ساتھ پین کارڈ آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد ہوا۔ گلوبل ایکسپیریس، پرائم ٹریڈنگ، پرائم کلئیر کارگو سلوشن، کیڈی ٹریڈ رس کے نام سے ملزمین نے لوگوں سے ٹریڈنگ کے نام پر دھوکہ دہی کی ہے. اس معاملہ میں پولس نے ملزمین محمد جاوید انصاری ۲۷سالہ ایجنٹ کھڑک ممبئی، ریحان محفوظ عالم ۱۹ سالہ جے جے، محمد عرفات بابو شیخ ۲۰ سالہ اور آصف خان گوونڈی کو گرفتار کر لیا ہے. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کررہی ہے۔
جرم
ممبئی ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر دھوکہ دہی خود ساختہ سی بی آئی افسر گرفتار

ممبئی سی بی آئی افسر بتا کر ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر شکایت کنندہ سے ایک کروڑ روپے بینک اکاؤنٹ میں وصول کرنے والا خود ساختہ سی بی آئی افسر جس نے شکایت کنندہ کو فون کر کے دلی سے ڈی سی پی سنجے اڑورہ سی بی آئی افسر اور ہائیکورٹ کا حکم وہاٹس اپ پر ارسال کر کے ایک جرم میں اس کے شریک ہونے اور ڈیجیٹل اریسٹ کی آڑ میں ایک کروڑ ٢٦ لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس میں طلب کئے اور اس کے بعد شکایت کنندہ نے پولس نے دھوکہ دہی اور سائبر فرا ڈ کا کیس درج کیا, جس کے بعد ممبئی سائبر سیل نے اس معاملہ میں تفتیش شروع کر دی اور ۳۶ گھنٹے میں بینک سے خط وکتابت کے بعد اکاؤنٹ ہولڈر کی شناخت کی اور پھر روہیت سنجے سونار ۳۳ سالہ بینک ہولڈر کو گرفتار کیا. اسی کے اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی ہوئی تھی, ملزم ضلع جلگاؤں کا ساکن ہے اس کا ساتھی دوسرا اکاؤنٹ ہولڈر ہتیش ہیمنت پاٹل ۳۱ سالہ جلگاؤں کو بھی پولس نے گرفتار کیا ہے. یہ اکاؤنٹ ہولڈر کی تفصیل بیرون ملک میں فراہم کیا کرتا تھا. اس ملزمین کے قبضے سے تین موبائل فون بھی پولس نے ضبط کئے ہیں. یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں سائبر ڈی سی پی پرشوتم کراڈ نے انجام دی ہے. سائبر پولس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ ڈیجیٹل اریسٹ کے نام پر اگر کوئی خوفزدہ کرتا ہے تو اس کے دام میں نہ آئے کیونکہ ڈیجیٹل اریسٹ کوئی چیز نہیں ہے۔ پولس کبھی بھی آن لائن اریسٹ نہیں کرتی ہے اور نہ ہی آن لائن تفتیش کی جاتی ہے, ایسے میں شہریوں کو محتاط رہنے کی اپیل پولس نے کی ہے۔
-
سیاست10 months ago
اجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years ago
محمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست6 years ago
ابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
جرم5 years ago
مالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years ago
شرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی5 years ago
ریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years ago
بھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
قومی خبریں6 years ago
عبدالسمیع کوان کی اعلی قومی وبین الاقوامی صحافتی خدمات کے پیش نظر پی ایچ ڈی کی ڈگری سے نوازا