Connect with us
Monday,19-October-2026

جرم

مسلم لڑکے سے عشق, لڑکی کے قتل کا سبب بن گیا !

Published

on

murder

خیال اثر مالیگانوی

ہندوستانی تہذیب و تمدن ایک طویل عرصہ سے سنت کبیر کے دست نگر رہا ہے. کبیرا کھڑا بجار میں مانگے سب کی خیر نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر جیسے دوہوں پر ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب صدیوں سے رواں دواں رہی ہے. بالکل اسی “عشق نہ پچھے جات” کے مصداق پیار محبت، عشق اور نفرت و عداوت کبھی بھی ذات برادری دیکھ کر نہیں کی جاتی. دوستی دشمنی کے درمیان کوئی بھی دیوار پل بھر کا تماشہ ہوتی ہے. کبھی معمولی معمولی باتیں بھی دلوں میں دراڑ ڈال دیتی ہیں، تو کبھی نسل در نسل چلنے والی دشمنیاں لمحوں میں دوست بنا جاتی ہیں. اسی طرح عشق محبت کے درمیان حائل تمام تر فاصلوں کو لمحوں میں محیط کر جاتے ہیں. کسی کا رخ زیبا پتھر دل انسان کو بھی موم بنا دیتا ہے. عشق اور محبت وہ الوہی جذبہ ہے، جو ایک لمحہ میں دلوں کو تسخیر کر جاتا ہے، اور اس ایک لمحے میں نہ تو مذہب حائل ہوتا ہے، نہ ہی امیری غریبی کی دیواریں، عمر کے تمام تر فاصلے بھی اس ایک لمحے کی دسترس میں آ کر تمام بھید بھاؤ مٹا جاتے ہیں. ایسا ہی ایک واقعہ اتر پردیس کے سنت کبیر نگر بستی میں پیش آیا. تفصیلات کے مطابق کیلاش یادو نامی شخص کی جواں سال “رنجنا یادو” نامی بیٹی کو بیلا گھاٹ، شاہ پور گاؤں کے مسلم بس مالک سے محبت ہو گئی تھی، اور اس محبت کے جنون کی انتہا یہ ہوئی کہ دسمبر 2019 میں انجنا نامی یہ لڑکی اپنے محبوب کے ہمراہ فرار ہو گئی تھی، تب رنجنا کے اہل خانہ نے مسلم بس مالک کے خلاف اغواء کا مقدمہ درج کرایا تھا. پولیس کی بے جا سختیوں اور پابندیوں کی وجہ سے چند مہینوں کے بعد محبت کی دیوانی رنجنا واپس لوٹ آئی تھی. واپس لوٹتے ہی رنجنا نے اپنے محبوب کو قانون کی گرفت سے محفوظ رکھنے کے لئے ببانگ دہل بیان دیا تھا کہ وہ بالغ ہے، اور اپنی مرضی سے ہی اپنے محبوب کے ساتھ گئی تھی. واپس لوٹنے کے بعد رنجنا کے والدین نے اس پر بے شمار پابندیاں عائد کر رکھی تھیں. بے جا پابندیوں اور سختیوں کے باوجود رنجنا اکثر اپنے محبوب سے ملنے جایا کرتی تھی. عاشق و معشوق کا یہ ملن ہجر کی منزلوں سے گزر کر وصال کی حدوں تک جا پہنچتا تھا، اور یہی حدیں رنجنا کے اہل خانہ کو کھٹکتی رہتی تھیں. رنجنا کا اپنے محبوب سے ملن اس کے گھر والوں کی بدنامی کا باعث بنتا جا رہا تھا، اور پھر یوں ہوا کہ ایک دن رنجنا کے والدین نے اپنی ہی بیٹی کے قتل کا منصوبہ بنایا. منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے انھوں نے اپنے داماد ستیہ پرکاش سے رابطہ قائم کیا. داماد ستیہ پرکاش نے سیتا رام نامی شخص سے بات کی تب اس نے انھیں ورون تیواری پنٹو نامی شخص سے قتل کے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لئے راضی کیا. ورون تیواری پنٹو نے رنجنا کو قتل کے لئے دیڑھ لاکھ روپیے کا مطالبہ کیا. رنجنا کے اہل خانہ نے اسے ایک لاکھ 35 ہزار روپیے ادا کردیئے اور پھر ایک دن یوں ہوا کہ 3 فروری کی رات ورون نامی شخص اپنے ڈرائیور دوست کے ساتھ ٹاٹا میجک میں سوار کیلاش کے گھر جا پہنچا، چونکہ رنجنا کو جان سے مارنے کے لئے اس کے گھر کے سبھی افراد راضی تھے، اسی لئے رنجنا کے بھائی اجیت نے زبردستی اسے ٹاٹا میجک نامی گاڑی میں بے دردی سے ٹھونس دیا، اور یہ گاڑی رنجنا کو لئے روانہ ہو گئی. رنجنا کے والد کیلاش موٹر سائیکل پر ورون کو ساتھ لئے اپنی بیٹی کے پچھے پچھے چل دیئے. رنجنا کو سنت کبیر نگر بستی سے گاڑی میں سبھی لوگ دھن گھاٹا تھانہ علاقہ میں کوچہ روڈ پر ایک سنسان اور ویران مقام پر واقع ایک کمرے میں لے جا کر مقفل کر دیا گیا. خود کو زبردستی لانے اور قید کرنے کو لے کر رنجنا نے جب شور وغل مچایا تو رنجنا کے بھائی اجیت نے اس کے منہ اور ناک کو انتہائی ظالمانہ طریقے سے بری طرح دبائے رکھا. اس طرح جب رنجنا بے ہوش ہو گئی تو کمرے میں باردان وغیرہ پھیلانے کے بعد بے ہوش رنجنا کو اس پر پٹک دیا گیا، اور انتہائی سفاکانہ طریقہ سے نیم بے ہوش رنجنا کے جوان اور خوب صورت بدن پر پٹرول چھڑکتے ہوئے آگ لگا دی. آگ لگانے کے بعد کیلاش، ورون، سیتا رام تیواری، اجیت پر مشتمل چاروں افراد زندہ جلتی ہوئی رنجنا کو چھوڑ کر فرار ہوگئے. 3 فروری کو رنجنا نذر آتش کی گئی تھی دوسرے دن ہی رنجنا کی مسخ شدہ ادھ جلی لاش پولیس کو دستیاب ہو گئی. پولیس نے جب باریک بینی کے ساتھ معاملہ کی تفتیش شروع کی تو جلد ہی سارا معاملہ عیاں ہوگیا. پولیس نے معاملہ کی سنگینی دیکھتے ہوئے رنجنا کے والد بھائی اور بہنوئی سمیت چاروں ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انھیں جیل روانہ کر دیا گیا ہے.

دھن گھٹا علاقہ کے ایک کھیت میں موجود غیر آباد مکان سے جب ایک جوان لڑکی کی ادھ جلی لاش پولیس کو دستیاب ہوئی، تو پولیس نے لاش کی شناخت جیتو پور گاؤں کی ساکن رنجنا یادو کے نام سے کی. پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنے سے بتائی گئی تھی، لیکن یہ واضح نہیں ہو پایا تھا کہ رنجنا کی موت گلا گھوٹنے سے ہوئی تھی یا دھویں سے اس کا دم گھٹ گیا تھا. پولیس کی باریک بینی سے تفتیش نے سارا معاملہ سامنے لایا تو مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کے عشق کا معاملہ کھل کر سامنے آ گیا، اور یہ بھی واضح ہوا کہ ہندو لڑکی کے والدین نے مسلم لڑکے کے عشق میں گرفتار اپنی بیٹی رنجنا کی وجہ سے ہونے والی بدنامیوں سے مجبور ہو کر انھوں نے اپنی ہی جوان بیٹی کو بے دردی سے قتل کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا. خیال رہے کہ پولیس نے واقعے میں استعمال ہونے والے پٹرول کین اور بائک (موٹر سائیکل) برآمد کرلی ہیں۔ جبکہ ملزم ورون تیواری اور ٹاٹا میجک ڈرائیور کی تلاش کی جا رہی ہے۔ آئی جی بستی نے 15 ہزار روپے اور سنت کبیر نگر ایس پی سنتوش کمار سنگھ نے اس حساس واقعے کا انکشاف کرنے والی ٹیم کو 10 ہزار روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

اپنی بیٹی کے مسلم لڑکے کے ساتھ عشق و محبت نے بدنامیوں سے گھرے ایک خاندان کو سماج میں پھیلنے والی بدنامی سے محفوظ رہنے کے لئے اپنی ہی جوان بیٹی کو بے دردی سے زندہ نذر آتش کر دیا گیا، اگرچہ وہ اپنی بیٹی کے لئے مسلم لڑکے کا ساتھ قبول کر لیتے تو وہ بدنامی چند روزہ ہوتی، اور اس کے بعد ہر کوئی اسے بھول بھی جاتا لیکن اپنی سگٌی بیٹی کو زندہ نذر آتش کرنے کے بعد جیل میں قید رنجنا کے اہل خانہ کی یہ بدترین بدنامی کیا رنگ دکھائے گی. ہوسکتا ہے کہ جب یہ خونی مقدمہ فیصل ہو تو ان ملزمین کے نصیب میں یا تو تمام عمر قید لکھی جائے، یا پھر انھیں پھانسی پر لٹکا دیا جائے. جیل میں قید تمام ملزمین کی دلوں میں قید کے دوران صرف یہی ایک بات گونج رہی ہوگی کہ کاش وہ لوگ کوئی درمیانی راستہ اپناتے ہوئے ایسے رذلیل فعل سے دور رہتے تو آج ان کی رنجنا بھی زندہ ہوتی اور وہ بھی پابند سلاسیل نہ ہوتے.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

جرم

کرناٹک : جن نکالنے کے بہانے خاتون کی عصمت دری، پجاری گرفتار، مدد کرنے پر پولیس اہلکار معطل

Published

on

بنگلورو : کرناٹک پولیس نے بنگلورو میں ایک پجاری کو بری روحوں کو بھگانے کے بہانے ایک خاتون کے ساتھ متعدد بار عصمت دری کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ ایک پولیس کانسٹیبل کو بھی مبینہ طور پر ملزم کو تفتیش کے بارے میں معلومات فراہم کرنے اور گرفتاری سے بچنے میں مدد کرنے کے الزام میں معطل کر دیا گیا ہے، پولیس نے پیر کو بتایا۔ گرفتار پجاری کی شناخت ستیش پاتری کے طور پر کی گئی ہے۔ پولیس نے این۔ آر۔ میں مقدمات درج کر لیا ہیں۔ چکمگلورو ضلع کے پورہ اور کوپا تھانے اور اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس کے مطابق، ملزم نے مبینہ طور پر حسن کی ایک خاتون کو اس کے گھر والوں سے یہ وعدہ کرنے کے بعد نشانہ بنایا کہ وہ اسے روحوں سے چھٹکارا دلائے گا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس کے قبضے میں ہے۔ وہ مبینہ طور پر اسے درگا پرمیشوری مندر جانے کے بہانے میڈاناہکلو گاؤں لے گیا اور اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ وہ مبینہ طور پر اسے شیو موگا ضلع میں تھیرتھاہلی کے قریب کدورے گنڈی لے گیا جہاں اس نے دوبارہ جرم کیا۔

شکایت کے اندراج کے بعد ملزم تقریباً ایک ماہ سے لاپتہ تھا۔ یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ وہ بنگلورو میں پناہ لے رہا ہے، کوپا پولیس نے کارروائی کی اور اسے جے پی نگر محلے میں گرفتار کر لیا۔ پولیس نے کرناٹک پریوینشن اینڈ ایریڈیکیشن آف غیر انسانی برائیوں اور کالا جادو ایکٹ 2017 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ تھانہ پورہ، جبکہ کوپا پولیس نے اس کے خلاف عصمت دری کے الزامات لگائے ہیں۔ ابتدائی تفتیش کے دوران، پولیس کو ایک پرانا مقدمہ بھی ملا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم نے بد روحوں کو بھگانے کے بہانے ایک نابالغ لڑکی کو چکن کا خون پینے پر مجبور کیا تھا۔ پجاری کی طرف سے مبینہ طور پر اسی طرح کے عمل کو ظاہر کرنے والی ویڈیوز بعد میں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا۔

مزید تفتیش میں مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ ملزم کو محکمہ پولیس کے اندر سے معلومات مل رہی تھیں۔ کانسٹیبل کانتیش، این آر سے منسلک۔ پورہ پولیس اسٹیشن نے مبینہ طور پر اس کیس کے بارے میں اپ ڈیٹس شیئر کیں اور ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی الرٹ کیا۔ پجاری نے مبینہ طور پر جگہیں تبدیل کیں اور جب بھی اسے ایسی اطلاع ملی تو فرار ہو گیا۔ چکمگلورو کے پولیس سپرنٹنڈنٹ جتیندر کمار دیاما نے مبینہ لیک کی تحقیقات کے بعد کانسٹیبل کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

جرم

اتر پردیش : میرٹھ میں شوہر کی کافی میں نشہ آور چیز ملانے اور چاقو سے اس کے نازک حصے پر حملہ کرنے کے الزام میں بیوی گرفتار۔

Published

on

میرٹھ : اترپردیش کے میرٹھ کے لیسادی گیٹ تھانہ علاقے میں گھریلو جھگڑے کے بعد ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شخص نے اپنی بیوی پر کافی میں سکون آور دوا ملا کر اسے بے ہوش کرنے اور پھر اس کے پرائیویٹ پارٹس پر چاقو سے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس شخص کو شدید چوٹیں آئیں اور گھر والوں نے اسے ہسپتال لے جایا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے روک کر آپریشن کیا۔ طبی عملہ بھی زخمی جگہ کو ٹھیک کرنے کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ شوہر کے دوسری خاتون کے ساتھ مبینہ تعلقات پر جھگڑے کی وجہ سے پیش آیا۔ تھانہ لیساڈی گیٹ کے علاقے زید گارڈن کے رہائشی زخمی شخص نے الزام لگایا کہ اس کی بیوی اس پر شک کرتی تھی۔ اس جوڑے کی کوئی اولاد نہیں ہے، اور اس نے دعویٰ کیا کہ اس کی بیوی کو اس پر شبہ ہے کہ وہ دوسری عورت سے شادی کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

شکایت کے مطابق، ایک بحث کے بعد، خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کی کافی میں سکون آور دوا ملا کر اسے پلایا۔ اس کے ہوش کھونے کے بعد، اس نے مبینہ طور پر اس کے پرائیویٹ پارٹس پر چاقو سے حملہ کیا، جس سے متعدد زخمی ہوئے۔ آدمی کے رونے کی آواز سن کر اس کی ماں اور بہن موقع پر پہنچ گئیں۔ تاہم ملزمہ خاتون گھر والوں کے پہنچنے سے پہلے ہی مبینہ طور پر گھر سے چلی گئی۔ اس کے بعد وہ زخمی شخص کو علاج کے لیے اسپتال لے گئے۔ اس شخص نے اپنی بیوی کے خلاف تحریری شکایت درج کرائی ہے۔ پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا ہے اور اس واقعے کے سلسلے میں اس سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ سرکل آفیسر (سی او) کوتوالی سنگرام سنگھ نے بتایا کہ یہ واقعہ 8 اکتوبر کو پیش آیا، جب زید گارڈن میں رہنے والی ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کے پرائیویٹ پارٹس پر چاقو سے حملہ کیا۔ پولیس افسر کے مطابق خاتون کو اپنے شوہر پر غیر ازدواجی تعلقات کا شبہ تھا جس کی وجہ سے مبینہ طور پر حملہ کیا گیا۔ شکایت کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ملزم خاتون کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے اطراف کے حالات کی تفتیش کی جا رہی ہے اور نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

Continue Reading

جرم

پنجاب کے انفلوئنسر میڈ سندھو کے قتل کا اہم شوٹر گجرات پولیس نے گرفتار کر لیا

Published

on

احمد آباد : احمد آباد سٹی کرائم برانچ نے جمعرات کو بتایا کہ انہوں نے ایک ایسے شخص کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر 3 اکتوبر کو امرتسر میں پنجابی سوشل میڈیا انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ ’میڈ سندھو‘ کے قتل میں ملوث تھا۔ پولیس کے مطابق، یہ شخص وہی شوٹر ہے جس نے حملے میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل کا انتظام بھی کیا تھا۔ ملزم کی شناخت پرمندر پرساد عرف پرمندر کاکا کے طور پر ہوئی ہے۔ احمد آباد کرائم برانچ کے ڈی سی پی اجیت راجیان کے مطابق، پرمندر نے ہی فائرنگ کی جس سے سندھو کی موت ہوئی اور اس نے حملہ آوروں کے زیرِ استعمال موٹر سائیکل کا انتظام بھی کیا تھا۔ راجیان نے آئی اے این ایس (میڈیا) کو بتایا، “اس کا کردار شوٹر کا ہے۔ اس نے فائرنگ کی اور بائیک کا انتظام بھی کیا۔” یہ گرفتاری امرتسر پولیس کی جانب سے ملنے والی اطلاع اور پنجاب و گجرات پولیس کی ٹیموں کے درمیان باہمی تعاون کے نتیجے میں عمل میں آئی۔ ملزم کا سراغ احمد آباد میں لگایا گیا، جہاں کرائم برانچ نے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں اسے حراست میں لے لیا۔ انہوں نے تصدیق کی کہ “امرتسر کے کینٹ پولیس اسٹیشن میں ’بھارتیہ نیایا سنہتا‘ کی دفعہ 103 کے تحت ایف آئی آر نمبر 186/2026 درج کی گئی ہے۔ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔” سندھو، جن کا اصل نام مدھوسودن سندھو تھا، کو 3 اکتوبر کو امرتسر میں لوہارکا روڈ پر واقع ایک کار واش سینٹر کے قریب موٹر سائیکل سوار دو حملہ آوروں نے گولی مار دی تھی۔

پولیس نے بتایا تھا کہ حملہ آوروں نے جائے وقوعہ سے فرار ہونے سے قبل فائرنگ کی۔ سندھو کو ایک نجی ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ اس قتل کے بعد پولیس نے ابتدائی طور پر کئی ممکنہ پہلوؤں سے تفتیش کی تھی۔ تفتیش کاروں نے علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی اور حملہ آوروں کی شناخت کے لیے سندھو کی نقل و حرکت اور ڈیجیٹل ریکارڈ کا جائزہ لیا۔ اطلاعات کے مطابق، امرتسر پولیس نے ‘کانٹریکٹ کلنگ’ (معاہدے کے تحت قتل) کے ممکنہ پہلو کی تفتیش کے دوران دو افراد کو حراست میں لیا تھا۔ 29 سالہ سندھو سوشل میڈیا پر کافی مقبول تھے اور بطور میک اپ آرٹسٹ، نیز پوڈکاسٹس اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر میک اپ آرٹ اور صنفی مسائل پر بات کرنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ انسٹاگرام پر ان کے فالوورز کی تعداد دو لاکھ سے زائد تھی اور وہ پنجابی فلم ‘اوئے بھولے اوئے’ میں بھی نظر آئے تھے۔ اس معاملے نے اس وقت بھی توجہ حاصل کی جب بیرونِ ملک مقیم گینگسٹرز سے منسوب سوشل میڈیا پوسٹس میں اس قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا۔ تاہم، پنجاب پولیس نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایسی پوسٹس کی صداقت ثابت نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش کار گینگسٹر گولڈی ڈھلوں کے نیٹ ورک سے ممکنہ روابط کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ حالیہ گرفتاری سے تفتیش کاروں کو قتل کا باعث بننے والے واقعات کی ترتیب کا تعین کرنے، اس میں ملوث دیگر افراد کی شناخت کرنے اور مبینہ کانٹریکٹ کلنگ کے حالات و واقعات کا پتہ لگانے میں مدد ملے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان