Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

کیرالہ اور مہاراشٹر میں کورونا سے شفایاب ہونے والوں کی تعداد سب سے زیادہ

Published

on

coronavrus

ملک میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ریاست کیرالہ و مہاراشٹر میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ بالترتیب 5835 اور 1773 مریض شفایاب ہوئے ۔ جان لیوا وبا سے شفایاب ہونے والی ریاستوں میں مہاراشٹر پہلے اور کیرالہ دوسرے مقام پر ہے ۔
کیرالہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 5835 افراد وائرس سے شفایاب ہوئے جس سے ریاست میں یہ تعداد 9.31 لاکھ کو عبور کر چکی ہے۔ مہاراشٹر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے معاملہ میں سب سے آگے ہے اور اب تک مجموعی طور پر لاکھ 19.74 سے زائد افرادافراد شفایاب ہوچکے ہیں اور اسی عرصے میں 1773 ایکٹیو کیسز سے اس کی مجموعی تعداد 34449 ہو چکی ہے۔
اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 12،194 نئے کیسز سامنے آئے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد ایک کروڑ نو لاکھ چار ہزار 940 ہوگئی ہے۔ اسی عرصے کے دوران 11،106 مریض صحتمند ہوئے ، جس سے شفایاب مریضوں کی تعداد ایک کروڑ چھ لاکھ 11 ہزار 731 ہوگئی ہے۔ وہیں ، ایکٹیو کیسز 996 کے اضافہ سے مجموعی تعداد 1،37،567 ہوچکی ہے۔ اسی عرصے کے دوران 92 مریضوں کی موت سے ہلاک شدگان کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 55 ہزار 642 ہوگئی ہے۔
ملک کی مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر کنٹرول علاقوں میں کورونا متاثرین کی تعداد مندرجہ ذیل ہے:
ریاست ……………….ایکٹیو کیسز ……….شفایاب …….. ہلاکتیں
انڈمان نکوبار … 09 …………… 4938 …….. 62
آندھرا پردیش ……….. 797 ………. 880855 ….. 7162
اروناچل پردیش ….. 04 ………….. 16772 ……. 56
آسام ……………. 1631 ………. 214570 ….. 1087
بہار ……………. 653 ………… 259513 ….. 1524
چنڈی گڑھ ………… 123 ………….. 20752 …….. 345
چھتیس گڑھ …….. 3255 …………. 301904 ….. 3771
دادر نگر حویلی اور دمن و دیو … 02 …………. 3396 ……….. 02
دہلی ………….. 1041 ……….. 624866 ….. 10889
گوا ……………. 584 ………… 52831 ………… 778
گجرات ………… 1763 ……….. 258834 …….. 4400
ہریانہ ………. 845 ……….. 265085 ………. 3039
ہماچل پردیش … 524 ……….. 56685 ………… 992
جموں وکشمیر ….. 616 ……… 122703 …….. 1949
جھارکھنڈ ………….. 452 ……. 117749 …….. 1082
کرناٹک …………. 5929 ….. 926664 …….. 12263
کیرالہ ……………. 63847 ….. 931706 ……. 3970
لداخ ……………. 49 ……… 9586 ……….. 130
لکشدیپ ………….. 90 ………. 134 ……………. 0
مدھیہ پردیش ……… 1829 …. 251765 ……. 3829
مہاراشٹر ……….. 34449 ….. 1974248 ….. 51489
منی پور …………. 66 ……….. 28744 ……… 373
میگھالیہ ……….. 166 ……… 13623 ……… 148
میزورم ………… 20 ……….. 4363 ………… 9
ناگالینڈ ……….. 76 ………… 12019 ……. 88
اوڈیشہ ………. 740 ……….. 333451 …. 1910
پڈوچیری ……… 284 ………… 38500 ……. 656
پنجاب ………… 2335 ………. 168035 …… 5694
راجستھان ……. 1409 ……….. 314630 …… 2781
سکم ………. 59 ………… 5922 ………. 135
تمل ناڈو ……. 4275 …….. 827962 …… 12413
تلنگانہ ……… 1748 …….. 293210 ……. 1616
تری پورہ ………… 02 ……….. 32960 ……….. 391
اتراکھنڈ …… 637 ……… 94449 ……….. 1680
اتر پردیش ….. 3098 ….. 590292 ……… 8699
مغربی بنگال ……. 4160 ……. 558015 ……… 10230
مجموعی ………. 137567 ….. 10611731 ….. 155642

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان