Connect with us
Friday,28-August-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

تھرٹی فرسٹ نائٹ کے نام پر نسل نو کا طوفان بد تمیزی اور ہمارا مسلم معاشرہ

Published

on

bike-washing

خیال اثر مالیگانوی

؛جاری سال 2020 اپنی آخری حدوں تک پہنچنے کے بعد اپنی زمام اقتدار 2021 کے سپرد کرنے سے چند قدموں دور ہے. گئے سال کے رخصت ہونے اور نئے سال کی آمد کے سنگم پر نوجوان طبقہ اپنی تمام تر خرمستیوں کے ساتھ عود آتا ہے. اپنی والدین کی خون پیسنے کی کمائی اس بری طرح لٹاتا ہے جیسے یہ کمائی ان کے والدین کو کہیں راہ میں پڑی ہوئی مل گئی ہو. شراب و کباب کی محفلیں سجانا, دور دراز کا سفر کرتے ہوئے ناچ گانوں کا اہتمام کرنا اور سڑکوں پر موٹر سائیکل کے ذریعے بےجا شور و غل مچانا آج کی نوجوان نسل کا شیوہ بن چکا ہے. آج کے خرافاتی دور میں مخلوط پارٹیوں کا اہتمام کرنا ایک دوسرے سے بغل گیر ہو کر رقص و سرور کی محفلیں سجانا آج کی نوجوان نسل اپنے اسلاف کے نام پر دھبہ لگانے جیسے افعال انجام دینا غیر مسلموں کا شیوہ ہو سکتا ہے لیکن مذہب اسلام نے ایسے کسی بھی افعال کی انجام دہی کو غیر شرعی قرار دیا ہے. ہر سال نئے سال کی آمد کو لے کر وہ ہنگامہ اور طوفان بدتمیزی برپا کیا جاتا ہے کہ شیطان بھی شرما کر رہ جاتا ہے. بے فکر نوجوانوں کی ٹولیاں گلیوں گلیوں اور سڑکوں سڑکوں گھوم گھوم کر شور و غل مچاتی ہیں جس سے خواتین, معصوم بچے اور ضعیف العمر افراد گھنٹوں حیران و پریشان رہتے ہیں. موٹر سائیکلوں پر تین چار افراد سوار ہو کر جب دھوم اسٹائیل میں دوڑتے بھاگتے ہیں تو اکثر ناگہانی حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں. حادثہ کا شکار افراد مدتوں بے دست و پا مہنگے ترین اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشکمش میں مبتلا رہتے ہوئے اپنے والدین کے لئے بڑی پریشانی کا سبب بھی بنتے آئے ہیں. نئے سال کی آمد کے تناظر میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ ترقی یافتہ شہروں میں موجود تمام ہی مہنگی ہوٹلیں خصوصی ناچ گانے کا اہتمام کرتی ہیں. شراب و شباب کی ہمراہ نوجوان نسل یہاں داد عیش دیتی رہتی ہیں. ترقی یافتہ شہروں کا لاجنگ بورڈنگ نظام بھی اپنے بلند بالا دروازوں پر ہاؤس فل یا نو انٹری کا بورڈ لگا کر عیاش صفت فضول خرچ نوجوانوں کی آمد کو مسدود کردیتا ہے. نوجوان نسل لاکھوں روپیوں کا بےجا اصراف کرتے ہوئے دین دھرم کے نام پر کالک پوتنے کا کام کرتی ہے. نئے سال کی آمد پر پولیس کی سختیاں بڑھ جاتی ہیں لیکن نئے سال کے جشن میں مدہوش نوجوان طبقہ ایسی ہر سختی اور پابندی کو اپنے پیروں تلے روند کر نئے سال کی آمد کا جشن منانا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے. جاری سال کے رخصت اور نئے سال کی آمد پر یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ رات کے بارہ بجتے ہی نوجوان طبقہ خصوصاً لڑکیاں انسانی لبادہ چھوڑ کر شیطانی ملبوس زیب تن کر لیتی ہیں. غیر مردوں کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر شیمپین اور بیئر کے نشے میں چور ان امیر زادیوں کا رقص ہوش ربا انھیں شیطان کی چیلیاں ثابت کرتا نظر آتا ہے نئے سال کی آمد پر ہزارہا نوجوان لڑکیوں کی عزت تار تار کی جاتی ہے. دولت کے نشے میں چور ان امیر زادیوں کی آنکھوں میں وہ ہوس ناک پرچھائیاں رقص کرتی ہیں کہ کوئی سادہ لوح اس کی تاب بھی نہیں لا سکتا.
دیکھئے….. دیکھئے وہ دور کہیں کسی بنگلے کی آہنی دروازوں سے نکل کر ایک طرح دار حسینہ پھٹا ہوا ملبوس زیب تن کئے بے لباسی کے عالم میں اپنے جسم کے دکھتے اعضاء دباتی ہوئی نشے میں چور نکلتی آرہی ہے. شاید اس بنگلے میں نئے سال کی آمد کا جم کر جشن مناتے ہوئے خوب شراب پی گئی ہو اور پھر ایک نہیں کئی نوجوانوں نے مل کر اس نو خیز حسینہ کی عزت سے کھلواڑ کیا ہو. ایسے لمحات میں نسل نو چاہیے کہ بےجا اصراف سے گریز کرتے ہوئے گئے سال میں انھوں نے کیا کھویا کیا پایا کی جمع تفریق کرتے ہوےآئندہ کے لئے کچھ ایسا لائحہ عمل ترتیب دیں کہ ان کے لئے آنے والا نیا سال ایک جمع ایک دو ہو جائے ناکہ دو تفریق دو صفر رہ جائے.

یہ جشن مبارک ہو لیکن یہ بھی صداقت ہے
ہم لوگ حقیقت کے احساس سے عاری ہیں

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

بھارت نے سیلاب سے متاثرہ نیپال کو امدادی سامان کی دوسری کھیپ سونپی

Published

on

بھارت نے جمعرات کو 37.5 ٹن انسانی امداد اور قدرتی آفات سے متعلق امدادی مواد، ادویات اور خوراک کے پیکٹوں کی دوسری کھیپ نیپال کے حوالے کی تاکہ مہلک سیلاب کے بعد ہمالیائی قوم کی امداد اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کی جا سکے۔ پن، نیپال کے سیلاب سے نجات اور بچاؤ کی کوششوں میں مدد کے لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے وزیر، ہندوستان نیپال اور اس کے لوگوں کے ساتھ کھڑا رہنے کے لیے پرعزم ہے۔”

بدھ کے روز، ہندوستان نے تباہ کن سیلاب سے ہمالیائی قوم کے ردعمل میں مدد کے لیے نیپال کو 10 ٹن ایچ اے ڈی آر مواد اور ضروری ادویات بھیجیں۔ نیپال میں ہندوستان کے سفیر نوین سریواستو نے بدھ کی شام دیر گئے نیپال کے ثقافت، سیاحت اور شہری ہوابازی کے وزیر کھڑک راج پاوڈل کو امدادی سامان سونپا۔ جمعرات کو وزیر خارجہ (ای اے ایم) ایس جے شنکر نے خارجہ سکریٹری وکرم مصری، وزارت کے سینئر عہدیداروں اور ہندوستان کے سیلاب سے متعلق سفیروں کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی۔ نیپال میں صورتحال

ای اے ایم جے شنکر نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہندوستانیوں کی حالت اور بہبود کا پتہ لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ایکس پر میٹنگ کے بارے میں تفصیلات کا اشتراک کرتے ہوئے، ای اے ایم جے شنکر نے کہا، “خارجہ سکریٹری، ٹیم ایم ای اے اور کھٹمنڈو اور بیجنگ میں ہمارے سفیروں کے ساتھ نیپال سیلاب کی تباہی پر ایک جائزہ میٹنگ کی۔ سیلاب سے متاثرہ علاقے۔”

انہوں نے مزید کہا، “ایم ای اے اس سلسلے میں مختلف وزارتوں، ریاستی حکومتوں، ٹور آپریٹرز اور پراجیکٹ حکام کے ساتھ رابطہ کر رہا ہے۔ ہم نیپالی فریق کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، دونوں پہلوؤں پر اور امدادی کوششوں پر،” انہوں نے مزید کہا۔ چین کے تبت کے علاقے میں شروع ہونے والا زبردست سیلاب، دریائے بھوٹے کوشی میں بہہ گیا، جس سے بدھ کو نیپال میں تباہی کا ایک بڑا راستہ نکلا ہے۔ نیپال پولیس نے جمعرات کی سہ پہر کو اس بات کی تصدیق کی کہ کوشی سیلاب 270 تک پہنچ گیا ہے، کئی نیچے دھارے والے اضلاع سے لاشیں اب بھی برآمد کی جا رہی ہیں۔

سب سے زیادہ لاشیں، 108، جنوبی میدانی علاقوں کے ضلع چتوان سے برآمد ہوئیں، اس کے بعد نوالپاراسی مشرقی سے 62، دھاڈنگ سے 27 اور راسووا سے، پولیس کے مطابق۔ نیپالی حکومت نے کہا کہ 800 سے زائد افراد سیلاب کے بعد انسانی بستیوں، کسٹم دفاتر، بجلی کے انفراسٹرکچر اور دیگر علاقوں میں بجلی کے انفراسٹرکچر کے علاقوں سے رابطہ سے باہر ہیں۔

Continue Reading

(جنرل (عام

نتیش کمار نے پٹنہ کے مزارات پر چادر چڑھائی

Published

on

عید میلاد النبی کے موقع پر بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے جمعرات کے روز پٹنہ کے پھلواری شریف میں واقع تاریخی خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کیا، انہوں نے صدر پیر حضرت مولانا آیت اللہ قادری صاحب سے ملاقات کی اور خانقاہ کے بانی حضرت مولانا قادری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ پر چادر چڑھائی۔ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بہار اور ملک کی خوشحالی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سالوں سے خانقاہ مجیبیہ کا دورہ کر رہے ہیں اور مزار کے ساتھ ایک دیرینہ تعلق کا اشتراک کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس جگہ کا دورہ کرنے سے انہیں سکون کا احساس ہوا۔

خانقاہ کے منیجر حضرت مولانا منہاج الدین قادری مجیبی اور ایم ایل اے شیام راجک نے سابق وزیر اعلیٰ کا استقبال کیا۔ اس کے بعد انہوں نے کمپلیکس کے اندر مذہبی مقامات کا دورہ کیا اور چادر پوشی کی تقریب میں شرکت کی۔ ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی بڑی تعداد میں عقیدت مند اور مکین جمع ہو گئے۔ نتیش کمار نے عید میلاد النبی کے موقع پر لوگوں کو مبارکباد دی اور انہیں مبارکباد دی۔

قبل ازیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی پرساد یادو نے پٹنہ شہر کے متن گھاٹ پر واقع خانقاہ بارگاہ عشق تکیہ شریف کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چادر چڑھائی اور بہار کی امن، خوشحالی، خوشی اور ترقی کے لیے دعا کی۔ یہ تاریخی مزار ریاست کی مختلف صوفی روایات سے جڑا ہوا ہے۔ سالانہ عرس کے دوران علاقہ۔ اس جگہ پر حضرت خواجہ رکن الدین عشق کا مزار ہے اور ٹیپو سلطان کے خاندان سے بھی اس کا تاریخی تعلق ہے۔ ٹیپو سلطان کے پڑپوتے شہزادہ محمد کریم شاہ اپنے خاندان کے کئی دیگر افراد کے ساتھ کمپلیکس میں دفن ہیں۔

تیجسوی یادو نے بدھ کی شام کو پٹنہ کے پھلواری شریف میں خانقاہ مجیبیہ بھی جا کر درگاہ پر چادر چڑھائی اور ریاست کی خوشحالی کی دعا کی۔ عید میلاد النبی پر نتیش کمار اور تیجسوی یادو کے دورے سے بہار کی مذہبی ترقی کے لیے امن، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مذہبی ترقی کے پیغامات ملے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی : فسادات کے سلسلے میں جیل میں بند عمر خالد اور شرجیل امام کے معاملے میں دہلی پولیس نے ہائی کورٹ میں جواب کیا داخل۔

Published

on

Umar / Shrjeel

نئی دہلی : دہلی پولیس نے 2020 کے دہلی فسادات کی سازش کیس کے ملزم عمر خالد اور شرجیل امام کو ماسٹر مائنڈ قرار دیا ہے۔ عدالت میں جواب داخل کرواتے ہوئے پولیس نے عمر خالد اور شرجیل امام کی درخواست ضمانت کی بھی مخالفت کی۔ پچھلی سماعت (31 جولائی) میں دہلی ہائی کورٹ نے دہلی پولیس سے اس معاملے میں جواب داخل کرنے کو کہا تھا۔ جمعرات کو سماعت کے دوران دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ شرجیل امام اور عمر خالد دہلی فسادات کے ماسٹر مائنڈ تھے۔ پولیس کے پاس ان کے خلاف فسادات کی منصوبہ بندی کرنے، لوگوں کو اکٹھا کرنے اور فسادات میں اسٹریٹجک کردار ادا کرنے سے متعلق اہم ثبوت ہیں۔

دہلی پولیس نے یہ بھی کہا کہ دو افراد کی نئی ضمانت کی درخواستیں اپنے آپ میں “غیر قانونی” اور گمراہ کن ہیں۔ دہلی پولیس نے کہا کہ جنوری میں سپریم کورٹ نے اس معاملے میں شریک ملزمان کو ضمانت دی تھی، لیکن عمر خالد اور شرجیل امام کو دہلی فسادات میں ان کے مختلف کرداروں کا حوالہ دیتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ پولیس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یو اے پی اے کی دفعہ 43 ڈی (5)، جو کہ ضمانت کی سخت شرائط فراہم کرتی ہے، اس کیس میں لاگو ہے۔ دہلی پولیس نے کہا کہ اپنے جنوری کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے ضمانت مسترد کرتے وقت نئی ضمانت کے لیے دو شرائط عائد کی تھیں۔ پولیس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عمر اور شرجیل کیس کے اہم گواہوں کی گواہی کے بعد یا فیصلے کے ایک سال بعد ضمانت کی نئی درخواستیں دائر کر سکتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی شرط پوری نہیں کی گئی۔ اس لیے اس مرحلے پر ان کی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت نہ کی جائے۔ یہ معاملہ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کو لے کر شمال مشرقی دہلی میں 2020 کے فسادات سے متعلق ہے، جس میں 50 سے زیادہ لوگ ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ خالد اور شرجیل اس کیس میں گرفتاری کے بعد سے جیل میں ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان