Connect with us
Tuesday,18-August-2026

(جنرل (عام

نیشنل ٹیلنٹ سرچ امتحان میں بھیونڈی کے 380 طلباء کی شرکت ،اردو میڈیم کے سب سے زیادہ 166 طلباء شریک ہوئے

Published

on

urdume

بھیونڈی شہر کی معروف عصری درسگاہ رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں گزشتہ روز ملک کا اہم ترین امتحان نیشنل ٹیلنٹ سرچ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں شہر کے مختلف میڈیم کی اسکولوں سے کل تین سو اسی 380 طلباء وطالبات نے شرکت کے لئے فارم بھرے تھے، مگر تین سو پینتیس 335 طلباء نے ہی امتحان میں شرکت کی جس میں سب سے بڑی تعداد اردو میڈیم کے طلباء کی ایک سو چھیاسٹھ 166 تھی جبکہ انگلش میڈیم کے ایک سو تیتیس 133 رہی اور مراٹھی میڈیم کے اکیاسی 81 طلباء ہی شریک ہوئے۔ اس امتحان کی انچارج سینٹر کنڈکٹر ویشالی میڈم اور ڈپٹی سینٹر کنڈکٹر نائب انچارج رابعہ گرلز کالج کی پرنسپل زلیخا میڈم رہیں جبکہ تھورات اور آسولے سر بھی بطور وستار ادھیکاری موجود تھے۔

بھیونڈی شہر کے کیریئر گائیڈنس کے ماہرین فیاض احمد سر صمدیہ ہائی اسکول۔عبد المجید سر صلاح الدین ایوبی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھی اپنی خدمات بخوبی انجام دیتے نظر آئے۔ رابعہ گرلز کالج کی پرنسپل زلیخا میڈم نے بتایا کہ آج ہونے والے امتحان کے بعد اگلے مرحلے کا امتحان آئندہ 13 جون کو پونا میں ہوگا جس میں آج کے امتحان میں شریک وہ طلباء شرکت کرسکیں گے جو میرٹ میں آئیں گے اور اس دوسرے مرحلے کے امتحان میں شریک طلباء کی میرٹ لسٹ تیار کی جائے گی اس میرٹ میں آنے والے طلباء کو 24 ہزار روپئے گیارہویں اور بارہویں میں اسکالر شب دی جائے گی اور گیارہویں بارہویں کے بعد آگے کی اعلی تعلیم کے لئے بھی 24 ہزار یا فیس کی مناسبت سے مزید بڑی اسکالر شب دی جائے گی اور دوسرے مرحلے کا امتحان پورے ملک میں ایک ساتھ ہوگا جس میں تقریبا پندرہ لاکھ طلباء شریک ہوتے ہیں جس میں سے ایک ہزار طلباء کو اسکالر شب دی جاتی ہے ۔

رابعہ گرلز کالج کی پرنسپل اور اس امتحان کی نائب انچارج زلیخا میڈم واضح طور سے کہا کہ اگلے مرحلے کے امتحان میں شرکت اور کامیابی کا دارومدار آج کے این ٹی ایس( نیشنل ٹیلنٹ سرچ) امتحان پر موقوف ہے اور آج کے امتحان میں شرکت اور کامیابی کا انحصار طلباء و والدین اور اساتذہ پر ہے کہ وہ اس امتحان کے پیش نظر طلباء کی رہنمائی کریں اور تیاری بھی کرائیں کیوں کہ بھیونڈی شہر جہاں دسویں جماعت میں تقریبا چودہ ہزار بچے ہوتے ہیں وہاں اس امتحان میں صرف تین سو پینتیس بچوں کی شرکت لمحہ فکریہ ہے اور اساتذہ کی سرگرمیوں کے لئے باعث تشویش ہے۔
این ٹی ایس امتحان میں طلباء کی شرکت بڑھانے کے تعلق سے رابعہ گرلز کالج کے چئیرمین یوسف رمضان مومن اور انچارج سکریٹری خیف نیاز احمد نے اپنے اسٹاف کی سرگرمیوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر کو چائیے کی والدین کی میٹنگ لیں اور طلباء کی ایکسٹرا کلاسس لیں اور اس امتحان کی اہمیت بتائیں کہ اس امتحان سے مقابلہ جاتی امتحانات کی ترغیب ملتی ہے اور طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کمزور ونادار طلباء کے لیے آگے کی اعلی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ملنے والی اسکالر شب بڑی مددگار ثابت ہوگی۔ بھیونڈی کے طلباء کو زیادہ سے زیادہ اس امتحان میں شریک ہونا چاہئے اس طرح کی اپیلیں بھی فیاض سر ، عبد المجید انصاری ، زلیخا میڈم،یوسف رمضان مومن وغیرہ نے کی ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

میرا بھائنیدر فائرنگ میں مطلوب ملزم ڈی کمپنی رکن اختر مرچنٹ گرفتار

Published

on

ممبئی : میرا بھائیندر فائرنگ کیس میں مطلوب ڈی کمپنی کا رکن اختر مرچنٹ کو ممبئی میرا بھائیندر پولس نے دلی اندرا گاندھی ائیرپورٹ سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اختر مرچنٹ، ایک بدنام زمانہ ہائی پروفائل ملزم اور گینگسٹر داؤد ابراہیم کے مبینہ سابق ساتھی بھی ہے۔ ویرار پولیس کرائم برانچ نے تقریباً تین سال تک مفرور رہنے کے بعد دہلی ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا۔ مرچنٹ، 60، انٹرپول کی ریڈ نوٹس لسٹ میں چھٹے نمبر پر تھا جو دنیا بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ایک درخواست ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کو تلاش کرے اور اسے عارضی طور پر گرفتار کرے جو حوالگی، ہتھیار ڈالنے، یا اسی طرح کی قانونی کارروائی میں زیر التواء ہے۔ کاشی میرا کے علاقے میں انٹر نیشنل بیکری پر 2023 میں ہونے والی فائرنگ کے سلسلے میں مطلوب مرچنٹ کو بیرون ملک سے ہندوستان واپس آنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اختر مرچنٹ نے ایک اور بدنام زمانہ ملزم نثار احمد شیخ عرف ‘پپو پیجر’ کے ساتھ مل کر ایک گٹکا فروخت کرنے والے تاجر سے ہفتہ لینے کی مبینہ سازش کی جس کا نام بابو ہے۔ بابو ممبئی کے میرا روڈ کے کاشی میرا علاقے میں رہتا تھا۔ تاجر کو مبینہ طور پر دونوں نے فون پر دھمکیاں دیں اور ہفتہ کی رقم ادا کرنے کو کہا۔ جب بابو نے مبینہ طور پر ان کے مطالبات سے انکار کیا تو ملزم نے مبینہ طور پر 2023 میں بیکری میں ملازمین پر گولی چلانے کے لیے ایک بندوق بردار اکبر شیخ کی خدمات حاصل کی۔ اس واقعہ کے بعد کاشی میرا پولیس اسٹیشن نے ملزم کے خلاف ایف آئی آر نمبر 700/2023 درج کی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارہ نے تعزیرات ہند کی دفعہ 307، 384، 120(بی) اور 34 کے ساتھ ساتھ آرمز ایکٹ اور مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ (مکوکا) کی دفعات بھی شامل کیں۔ میرا بھائنیدر ویرار پولس کرائم برانچ کو انٹرپول کے ذریعے اطلاع ملی تھی کہ مرچنٹ بیرون ملک ہے، جس کے بعد انہوں نے دہلی ہوائی اڈے کی نگرانی شروع کی۔ ہندوستان میں داخل ہوتے ہی اسے گرفتار کرلیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوریگاؤں ۔ ملنڈ لنک روڈ پروجیکٹ : سنجے گاندھی نیشنل پارک کے نیچے 5.30 کلو میٹر لمبی سرنگ کی کھدائی کا کام پیر، 17 اگست 2026 سے شروع

Published

on

Tunnel-Work

ممبئی : ملنڈ – گوریگاؤں لنک ایک اہم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے جو 12.20 کلومیٹر پر محیط ہے جو برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں مشرقی اور مغربی مضافاتی علاقوں کو جوڑتا ہے۔ اسے چار مرحلوں میں لاگو کیا جا رہا ہے۔ پروجیکٹ فیز 3 (بی) کے تحت، سنجے گاندھی نیشنل پارک کے نیچے جڑواں سرنگیں ہر ایک تین لین اور 5.30 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ تعمیر کی جا رہی ہیں، جو گوریگاؤں (مشرق) میں دادا صاحب پھالکے فلم سٹی کو ملنڈ (مغرب) میں امر نگر سے جوڑتی ہیں، جو جدید ترین ٹنل (مچ ٹی بی) ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہی ہے۔ جی ایم ایل آر پروجیکٹ کے لیے سرنگ کی کھدائی کا کام باضابطہ طور پر پیر، 17 اگست 2026 کو شروع ہوا، پہلی ٹنل بورنگ یونٹ کے فعال ہونے کے ساتھ۔ اس کھدائی کے لیے جو بڑی ‘ٹنل بورنگ مشین’ لگائی گئی ہے اسے ‘تلشی’ کا نام دیا گیا ہے۔

گوریگاؤں – ملنڈ لنک روڈ پروجیکٹ (فیز 3 بی)
ملنڈ – گوریگاؤں لنک روڈ ایک اہم بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے، جس کی لمبائی 12.20 کلومیٹر ہے، جو ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں مشرقی اور مغربی مضافاتی علاقوں کو جوڑتی ہے۔ یہ منصوبہ چار مرحلوں میں مکمل کیا جا رہا ہے۔ پروجیکٹ فیز 3 (بی) کے تحت، جڑواں سرنگیں جن میں سے ہر ایک تین لین پر مشتمل ہے اور 5.30 کلومیٹر پر محیط ہے سنجے گاندھی نیشنل پارک کے نیچے تعمیر کی جا رہی ہیں، جو گوریگاؤں (مشرق) میں دادا صاحب پھالکے چتر نگری کو ملنڈ (مغرب) کے امر نگر سے جوڑ رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے جدید ترین ٹنل بورنگ مشین (ٹی بی ایم) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے، اس بات کا خاص خیال رکھا جائے گا کہ تعمیر کے دوران ماحولیات یا حیاتیاتی تنوع پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔ اس پروجیکٹ میں 17 کراس پیسیجز، 720 میٹر تک پھیلی جڑواں باکس سرنگیں، اور گوریگاؤں اور مولنڈ دونوں میں اپروچ سڑکیں (600 میٹر لمبی) ہیں، جس سے پروجیکٹ کی کل لمبائی 6.62 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ ٹھیکیدار پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد 10 سال تک آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) کا ذمہ دار ہے۔

ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت سے فیز 1 اور 2 کے لیے ضروری ماحولیاتی منظوری حاصل کی گئی ہے، اور ضروری درختوں کی کٹائی کی اجازت عزت مآب نے دی ہے۔ سپریم کورٹ. تقریباً 906 پروجیکٹ سے متاثرہ افراد کی کنجرمرگ میں چھ عمارتوں میں بحالی کی جا رہی ہے، جن میں سے ہر ایک گراؤنڈ فلور کے علاوہ 23 بالائی منزلوں پر مشتمل ہے۔ اس منصوبے میں جدید ترین خصوصیات شامل ہیں، بشمول ای پی بی (ارتھ پریشر بیلنس) ٹی بی ایمز کا استعمال کرتے ہوئے سرنگ کی کھدائی، این اے ٹی ایم (نئے آسٹرین ٹنلنگ میتھڈ) کے ذریعے کراس پیسیج کی تعمیر، مکینیکل وینٹیلیشن سسٹم، دھند پر مبنی فائر فائٹنگ سسٹم، سی سی ٹی وی سرویلنس، ایل سی اے ڈی اے اور جدید کنٹرول سسٹم، ایل سی اے مزید برآں، جڑواں سرنگوں کے اندر سڑک کے نیچے یوٹیلیٹی ڈکٹیں فراہم کی گئی ہیں۔ ہر ٹنل کے ذریعے 1800 ملی میٹر قطر کی پانی کی پائپ لائن بچھائی جائے گی۔ میسرز ٹپسیا انڈیا پرائیویٹ لمیٹڈ کو پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ (پی ایم سی)، آئی آئی ٹی بمبئی کو پروف چیکنگ کنسلٹنٹ کے طور پر، اور وی جے ٹی آئی، ممبئی کو پروجیکٹ کے کوالٹی کنٹرول اور نگرانی کے لیے تھرڈ پارٹی کوالٹی آڈیٹر کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

فی الحال، پروجیکٹ نے تقریباً 21 فیصد فزیکل پیش رفت حاصل کی ہے۔ ٹی بی ایم-1 کی اسمبلی مکمل ہو چکی ہے، اور سائٹ ایکسیپٹنس ٹیسٹ بھی کامیابی سے کر لیا گیا ہے۔ ٹی بی ایم-2 کی اسمبلی جاری ہے، کھدائی اکتوبر 2026 میں شروع ہونے والی ہے۔ پورے منصوبے کو مکمل کرنے کا ہدف فروری 2029 مقرر کیا گیا ہے۔ مکمل ہونے پر، گوریگاؤں – ملنڈ لنک روڈ پروجیکٹ ویسٹرن ایکسپریس ہائی وے اور ایسٹرن ایکسپریس ہائی وے کے درمیان براہ راست رابطہ قائم کرے گا۔ اس سے مشرقی اور مغربی مضافاتی علاقوں میں ٹریفک کی بھیڑ میں نمایاں کمی آئے گی، سفر کا وقت تقریباً 90 منٹ سے کم ہو کر صرف 20 منٹ ہو جائے گا۔ نتیجتاً، مسافروں کے لیے وقت اور ایندھن دونوں میں خاطر خواہ بچت ہوگی۔ مزید برآں، مشرقی اور مغربی مضافاتی علاقوں کے درمیان رابطہ زیادہ موثر ہو جائے گا، اور ہنگامی خدمات کے جوابی اوقات میں بہتری آئے گی۔ تجارتی اور صنعتی نقل و حمل کو تیز کیا جائے گا، اور ممبئی کے موجودہ روڈ نیٹ ورک پر ٹریفک کے دباؤ کو کم کرکے، یہ پروجیکٹ میٹرو پولیس کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی مجموعی کارکردگی کو نمایاں طور پر بڑھانے میں مدد کرے گا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

لائسنس میں متعین مقام سے باہر کام کرنے والے ہاکروں کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے : میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی فٹ پاتھوں پر مجاز ہاکرز کو اپنا کاروبار صرف اپنے لائسنس میں متعین مقام کے اندر ہی کرنا چاہیے اور مقررہ حدود سے زیادہ جگہوں پر تجاوزات نہیں کرنی چاہئے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے لائسنس ڈپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ وہ تمام لائسنس یافتہ ہاکروں کے زیر قبضہ علاقوں کا معائنہ کرے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اگر کوئی بھی ہاکر مجاز علاقے سے باہر کام کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ دریں اثنا، بھیڈے نے ممبئی کے علاقے میں فی الحال جاری ’پیڈسٹرین فرسٹ‘ مہم کے لیے بڑھتے ہوئے عوامی ردعمل اور تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن فٹ پاتھوں سے رکاوٹوں کو دور کرنے اور پیدل چلنے والوں کے لیے آسانی سے قابل رسائی بنانے کے مقصد کے ساتھ ’پیدل چلنے والے پہلے‘ مہم کو نافذ کر رہی ہے۔ جاری آپریشنز کا جائزہ لینے کے لیے، اشونی بھیڈے نے آج صبح (17 اگست 2026) ممبئی سٹی ڈویژن کے مختلف مقامات کا ذاتی طور پر تین گھنٹے تک دورہ کیا اور معائنہ کیا۔جن مقامات کا معائنہ کیا گیا ان میں شامل ہیں: نانا چوک، گرانٹ روڈ ریلوے اسٹیشن، نوشیر بھروچا روڈ، نانا شنکر شیٹ مارگ (بھاجی گلی)، اور ‘ڈی’ وارڈ میں تاردیو مارگ؛ ڈاکٹر آنندراؤ نائر مارگ، نیر ہسپتال کا احاطہ، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر مارگ، ناتھ پائی مارگ، اور ‘ای’ وارڈ میں سنت ساوتا مارگ؛ اور لوک مانیہ تلک مارگ، سندھور برج علاقہ، جونا بنگالی پورہ گلی، رگھوناتھ مہاراج اسٹریٹ، اور ‘بی’ وارڈ میں قاضی سید مارگ۔ معائنہ میں جگناتھ شنکر شیٹ مارگ، دھوبیتا لاولین، مہارشی کاروے مارگ، میرین لائنز، اور چندن واڑی کے آس پاس (تمام ‘سی’ وارڈ میں) کے ساتھ ساتھ مہاتما جیوتیبا پھولے منڈائی (کرافورڈ مارکیٹ) اور مہا پالیکا مارگ کے علاقوں میں فٹ پاتھوں کی حالت اور مرمت کی حالت کا احاطہ کیا گیا۔ اس موقع پر موجود عہدیداروں میں ڈپٹی کمشنر (زون-1) چندرا جادھو بھی شامل تھیں۔ ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) پرشانت گائیکواڑ، اور اسسٹنٹ کمشنرز سنتوش سالونکھے (‘ڈی’ وارڈ)، آنند کنکل (‘ای’ وارڈ)، جتیندر گھوراڈے (‘بی’ وارڈ)، اجول انگولے (‘اے’ وارڈ)، اور سنیل مانے (‘سی’ وارڈ)۔

فٹ پاتھوں پر درختوں کی جڑوں کی حفاظت کو یقینی بنانا، شاخوں کو صحیح طریقے سے کاٹنا :
رکاوٹوں سے پاک فٹ پاتھ بنانے کے لیے انتظامیہ کی جاری کوششیں تسلی بخش ہیں۔ تاہم، تسلسل کو برقرار رکھا جانا چاہئے. فٹ پاتھوں کی بہتری، خوبصورتی اور حفاظت کے حوالے سے ضروری اقدامات کو بروئے کار لایا جائے۔ پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھوں کو آسانی سے قابلِ آمدورفت بنانے کے لیے تمام رکاوٹوں کو ہٹا دیا جانا چاہیے، اور یہ تبدیلی شہریوں کے سفر کے دوران واضح طور پر ظاہر ہونی چاہیے۔ فٹ پاتھوں پر درختوں کی جڑوں کی حفاظت کے لیے احتیاط برتنی چاہیے، اور شاخوں کو درست طریقے سے کاٹنا چاہیے۔ غیر محفوظ سمجھے جانے والے درختوں کو ضابطوں اور سائنسی طریقوں کے مطابق ہٹایا جانا چاہیے۔ فٹ پاتھوں پر کام کرنے والے لائسنس یافتہ ہاکرز کو اپنے مقررہ علاقے سے باہر جگہ پر قبضہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ میونسپل کمشنر محترمہ اشونی بھیڈے نے معائنہ کے دوران یہ ہدایات جاری کیں۔

فٹ پاتھ پر پیدل چلنے والوں کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں :
دریں اثنا، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے معائنہ کے دوران، اشونی بھیڈے نے ذاتی طور پر کچھ ہاکروں کے لائسنس سرٹیفکیٹس کی جانچ کی۔ متعلقہ ہاکرز اور ان کی انجمنوں کے نمائندوں کو بھی ہدایات جاری کی گئیں۔ مجاز ہاکرز کو فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے کی اجازت ہے۔ تاہم، ان کی کارروائیوں کو پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ وہ ارد گرد کے علاقوں میں صفائی کو یقینی بنائیں۔ گرانٹ روڈ ریلوے اسٹیشن، جگن ناتھ شنکر شیٹ میٹرو اسٹیشن اور بی وائے ایل کے آس پاس کے علاقوں کا دورہ کیا گیا۔ نائر ہسپتال، پیدل چلنے والوں کے ہموار گزرنے کو یقینی بنانے کے اقدامات کو نافذ کرنے کی ہدایات کے ساتھ ضروری قدم اٹھانے کی ہدایت دی۔

کچرے سے دوچار مقامات (جی وی پیز) پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں :
اشونی بھیڈے نے ‘ای’ وارڈ میں خشک کچرا جمع کرنے کے مرکز، رے روڈ پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کی چوکی، سنت ساوتا مارگ پر پمپنگ اسٹیشن، اور مختلف کوڑے کے خطرے سے دوچار پوائنٹس (جی وی پیز) کا دورہ کرکے کارروائیوں کا جائزہ لیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ “کچرا نہ پھینکیں” کا پیغام دینے والے سائن بورڈز جی وی پیز پر نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔ عادی گندگی پھیلانے والوں کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے فوری طور پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں اور آس پاس کے علاقوں کو خوبصورت بنایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ خشک کچرے کو الگ کرنے کے مراکز کو مناسب طریقے سے منظم کیا جائے اور متعلقہ ویسٹ بیگز پر الگ الگ کچرے کی قسم کو واضح طور پر نشان زد کیا جائے۔

شہری انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں :
انتظامیہ فٹ پاتھوں کو صاف کرنے اور کوڑے کے خطرے سے دوچار مقامات (جی وی پیز) کو ختم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔ تاہم، شہریوں کو فٹ پاتھ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے سے بچنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ فٹ پاتھوں پر میٹریل نہ رکھا جائے اور گاڑیاں وہاں کھڑی نہ کی جائیں۔ مزید برآں، کوڑا کرکٹ کو فٹ پاتھ، سڑکوں یا کسی اور جگہ پر نہیں پھینکنا چاہیے۔ اشونی بھیڈے نے انتظامیہ کی طرف سے کی جا رہی کوششوں میں تعاون کی اپیل بھی کی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان