Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

نیشنل ٹیلنٹ سرچ امتحان میں بھیونڈی کے 380 طلباء کی شرکت ،اردو میڈیم کے سب سے زیادہ 166 طلباء شریک ہوئے

Published

on

urdume

بھیونڈی شہر کی معروف عصری درسگاہ رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج میں گزشتہ روز ملک کا اہم ترین امتحان نیشنل ٹیلنٹ سرچ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں شہر کے مختلف میڈیم کی اسکولوں سے کل تین سو اسی 380 طلباء وطالبات نے شرکت کے لئے فارم بھرے تھے، مگر تین سو پینتیس 335 طلباء نے ہی امتحان میں شرکت کی جس میں سب سے بڑی تعداد اردو میڈیم کے طلباء کی ایک سو چھیاسٹھ 166 تھی جبکہ انگلش میڈیم کے ایک سو تیتیس 133 رہی اور مراٹھی میڈیم کے اکیاسی 81 طلباء ہی شریک ہوئے۔ اس امتحان کی انچارج سینٹر کنڈکٹر ویشالی میڈم اور ڈپٹی سینٹر کنڈکٹر نائب انچارج رابعہ گرلز کالج کی پرنسپل زلیخا میڈم رہیں جبکہ تھورات اور آسولے سر بھی بطور وستار ادھیکاری موجود تھے۔

بھیونڈی شہر کے کیریئر گائیڈنس کے ماہرین فیاض احمد سر صمدیہ ہائی اسکول۔عبد المجید سر صلاح الدین ایوبی ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھی اپنی خدمات بخوبی انجام دیتے نظر آئے۔ رابعہ گرلز کالج کی پرنسپل زلیخا میڈم نے بتایا کہ آج ہونے والے امتحان کے بعد اگلے مرحلے کا امتحان آئندہ 13 جون کو پونا میں ہوگا جس میں آج کے امتحان میں شریک وہ طلباء شرکت کرسکیں گے جو میرٹ میں آئیں گے اور اس دوسرے مرحلے کے امتحان میں شریک طلباء کی میرٹ لسٹ تیار کی جائے گی اس میرٹ میں آنے والے طلباء کو 24 ہزار روپئے گیارہویں اور بارہویں میں اسکالر شب دی جائے گی اور گیارہویں بارہویں کے بعد آگے کی اعلی تعلیم کے لئے بھی 24 ہزار یا فیس کی مناسبت سے مزید بڑی اسکالر شب دی جائے گی اور دوسرے مرحلے کا امتحان پورے ملک میں ایک ساتھ ہوگا جس میں تقریبا پندرہ لاکھ طلباء شریک ہوتے ہیں جس میں سے ایک ہزار طلباء کو اسکالر شب دی جاتی ہے ۔

رابعہ گرلز کالج کی پرنسپل اور اس امتحان کی نائب انچارج زلیخا میڈم واضح طور سے کہا کہ اگلے مرحلے کے امتحان میں شرکت اور کامیابی کا دارومدار آج کے این ٹی ایس( نیشنل ٹیلنٹ سرچ) امتحان پر موقوف ہے اور آج کے امتحان میں شرکت اور کامیابی کا انحصار طلباء و والدین اور اساتذہ پر ہے کہ وہ اس امتحان کے پیش نظر طلباء کی رہنمائی کریں اور تیاری بھی کرائیں کیوں کہ بھیونڈی شہر جہاں دسویں جماعت میں تقریبا چودہ ہزار بچے ہوتے ہیں وہاں اس امتحان میں صرف تین سو پینتیس بچوں کی شرکت لمحہ فکریہ ہے اور اساتذہ کی سرگرمیوں کے لئے باعث تشویش ہے۔
این ٹی ایس امتحان میں طلباء کی شرکت بڑھانے کے تعلق سے رابعہ گرلز کالج کے چئیرمین یوسف رمضان مومن اور انچارج سکریٹری خیف نیاز احمد نے اپنے اسٹاف کی سرگرمیوں کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اسکولوں کے ہیڈ ماسٹر کو چائیے کی والدین کی میٹنگ لیں اور طلباء کی ایکسٹرا کلاسس لیں اور اس امتحان کی اہمیت بتائیں کہ اس امتحان سے مقابلہ جاتی امتحانات کی ترغیب ملتی ہے اور طریقہ معلوم ہوتا ہے اور کمزور ونادار طلباء کے لیے آگے کی اعلی تعلیم جاری رکھنے کے لئے ملنے والی اسکالر شب بڑی مددگار ثابت ہوگی۔ بھیونڈی کے طلباء کو زیادہ سے زیادہ اس امتحان میں شریک ہونا چاہئے اس طرح کی اپیلیں بھی فیاض سر ، عبد المجید انصاری ، زلیخا میڈم،یوسف رمضان مومن وغیرہ نے کی ۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان