Connect with us
Friday,02-October-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ملت گم گشتہ کی یتیم لڑکیوں کی محفوظ پناہ گاہ “دارالیتمی مالیگاؤں” جہاں تعیلم کے ساتھ ان کے خوابوں کو تعبیروں کا خوش رنگ پیرہن بھی عطا کیا جاتا ہے!

Published

on

خیال اثر مالیگانوی
جب جب مالیگاؤں شہر کے دردمند افراد نے دین و مذہب کی تبلیغ و اشٰاعت اور بے بضاتوں و بے کسوں کی داد رسی کے لئے اپنا قدم اٹھایا ہے تو ہمیشہ سرخروئی کا سبب بنے ہیں. کبھی مولانا عبدالمحید نعمانی بن کر معہد ملت کی بنیاد گزاری کی تو کبھی مولوی محمد عثمان بن کر خواتین کی عظیم دینی درس گاہ جامعات الصالحات کی بنیاد رکھ کر عالمی یپیمانے پر اسے مشہور کردیا. آج اس دینی مدرسہ میں دنیا کے مختلف ممالک اور مختلف رنگ و نسل کی دختران ملت علوم دینیہ سے فیض یاب ہورہی ہیں. اس عظیم دینی مرکز سے عالمہ کی سند سے سرفراز ہونے والی خواتین کی سند کو بارہویں (ایچ ایس سی) کے مساوی تسلیم کیا جاتا ہے.ان دونوں مدارس کے علاوہ ام ا لمدارس کے نام سے مشہور و معروف مدرسہ بیت العلوم بھی اول دن سے ہی علوم قرانی اور مذہب اسلام.کی ترویج و اشٰاعت میں مصروف عمل ہے. مدرسہ جامعات الصاحات میں داخل شدہ خواتین کے وارثین موجود رہتے ہوئے تعلیمی خرچ کے علاوہ ان کے قیام و طعام میں درکار روپیے بھی بخوبی ادا کرنے کے اہل ہوتے ہیں اس کے برعکس مالیگاؤں شہر میں یتیم و بے سہارا لڑکیوں کی پرورش و پرداخت اور انھیں علوم دینیہ سے سرفراز کرنے کے لئے ایسا کوئی ادارہ موجود نہیں تھا اسے محسوس کرتے ہوئے مرحوم قاری محمد عمر, مرحوم قاری محمد اسحاق اور مرحومہ قاریہ قمر النساء بنت قاری محمد عمر وغیرہ نے جامعہ بنات فرقانیہ ٹرسٹ مالیگاؤں کے زیر اہتمام دارالیتمی نامی ادارہ جولائی 2000 میں سنگ بنیاد رکھتے ہوئے شہر کے مضافاتی علاقہ میں تعمیر شروع کی. تعمیر مکمل ہوتے ہی 4 نومبر 2006 سے باقائدہ اس ادارے کا آغاز کیا گیا.دارالیتیمی مالیگاؤں صوبہ مہاراشٹر کا قابل توجہ .مستند یتیم بچیوں کی دینی و عصری تعلیم و تربیت کا منفرد ادارہ کہلانے کا حقدار ہے. بچپن میں ہی یتیم ہو جانے والی بچیاں یہاں داخل ہونے کے بعد نہ صرف علوم دینیہ سے فیض یاب ہوتی ہیں بلکہ اس دینی درسگاہ سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جب وہ بلوغیت کی عمر تک پہنچتی ہیں تو دارالیتمی کے ذمہ داران اس یتیم بچی کے سرپرستوں کی معاونت سے اس کی شادی کے انتظامات بھی مدرسہ ہذا کی جانب سے کرتے ہیں. یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ دارالیتیمی بچپن سے شادی تک بچیوں کا اپنا گھر کہلاتا ہے. اس ادارے سے نہ صرف علوم دینیہ کی تعلیم دی جاتی ہے بلکہ یتیم دختران ملت کو نویں جماعت تک عصری تعلیم سے بھی بہرہ ور کیا جاتا ہے. اس کے علاوہ اس دینی مدرسہ میں قیام پذیر یتیم لڑکیوں کو امور خانہ داری کے اسرار و رموز وغیرہ بھی سکھائے جاتے ہیں تاکہ جب ان کی شادی بیاہ کی جائے تو انھیں اپنی آئندہ کی زندگی گزارنے میں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے. اس درس گاہ سے یتیم و بے سہارا لڑکیوں کے لئے منتظیمن ادارہ کی جانب سے نصاب تعلیم وضع کیا گیا ہے جس میں شبعہ دینیہ, دینیات, ناظرہ قران پاک, تجوید و قرات. عربی اول تا پنجم, شعبہ حفظ اور پہلی جماعت تا نویں جماعت تک عصری تعلیم مہیا کی جاتی ہے. ادارے میں داخل شدہ یتیم بچیوں کے لئے قیام و طعام کا معقول انتظام اور انھیں تعلیمی مدارج سے آشنا کرنے کے لئے چودہ سے زائد معلمات موجود ہیں. نگراں ,محصل ,چوکی دار, کلرک, خاتون ملازمہ اور معلمات کو ان کے مکانات سے مدرسے میں محفوظ طریقے سے لانے اور لے جانے کے لئے ڈرائیور سمیت کل چوبیس افراد پر مشتمل عملہ موجود ہے. دارالیتیمی کی پر شکوہ اور آرام دہ عمارت اپنی بلند بالا چار دیواری کے باعث یتیم و بے سہارا لڑکیوں کے لئے محفوظ و مامون پناہ گاہ کے قالب میں یتیم لڑکیوں کو ان کے اپنے گھر کی طرح ہی محفوظ تصور کی جاتی ہے.
دارالیتیمی میں گرمی کے موسم سے بچاؤ کے لئے آرام گاہ اور کلاس روم میں بھی کولینگ ڈکٹنکگ کا معقول انتظام ہے. مدرسہ کا اپنا خود کا طبی کلینک موجود ہے اس کے باوجود حسب ضرورت ماہر و مشاق ڈاکٹروں کے ذریعے بیماری سے متاثر یتیم لڑکیوں کے علاج و معالجہ کا معقول انتظام منتظیمن مدرسہ کی جانب سے کیا جاتا ہے. مدرسہ کی چار دیواری کے درمیان ہی یتیم لڑکیوں کے لئے آرام گاہ, وضو خانہ اور غسل خانہ کے ساتھ ساتھ کپڑا دھونے کی جگہ بھی موجود ہے. اس مدرسہ کا کل رقبہ دیڑھ ایکڑ پرمشتمل ہے . دارالیتیمی کی تعمیر و توسیع اور دیگر اخراجات کے لئے مرحوم قاری محمد عمر اخیر عمر تک نہ صرف بیرون ریاست بلکہ بیرون ممالک بھی مسلسل سرگرداں رہے تھے. آج یتیم بچیوں کی یہ عظیم دینی درسگاہ یتیم بچیوں کی کثرت اور مسلسل آمد کے بعد اپنی تنگ دامانی پر ماتم کناں ہے. اس درس گاہ میں نہ صرف مالیگاؤں بلکہ ریاست مہاراشٹر کے بھیونڈی, ممبئی, تھانہ, گونڈی, ممبرا, پوئے گاؤں, سنگم نیر, بلڈانہ, نندور بار, دھولیہ, سرگانہ, جلگاؤں, نپھاڑ, بھوکر دن, بھورس, منماڈ, چالیس گاؤں, اورنگ آباد کے علاوہ مدھیہ پردیس, راجستھان, اتر پردیس, آسام, گجرات جیسے 20 شہروں اور 6 ریاستوں کی زائد از 150 یتیم و بے سہارا بچیاں مکمل دینی ماحول میں پرورش پا رہی ہیں. اس مدرسہ کو آل مہاراشٹر “امتحان دینیات “میں شامل ہونے پر نمایاں کارکردگی کے سبب منتظمین کی جانب سے دارالیتیمی کو مثالی سینٹر ایوارڈ اور مثالی انچارج ایوارڈ سے نوازا گیا ہے. اول دن سے آج تک کل 13یتیم لڑکیاں شعبہ عالمیت سے فراغت حاصل کرکے علوم دینیہ کی تبلیغ و اشاعت. کا ذریعہ بنی ہیں تو 30 یتیم طالبات تجوید و قرات سے آشنا ہو کر دین حق کی کرنیں لٹانے کا سبب بن رہی ہیں. آج اس مدرسہ میں 140 سے زائد یتیم طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ شعبہ عالمیت سے فارغ ہونے اور بالغ ہونے پر مدرسہ کی جانب سے 28 یتیم بچیوں کے نکاح اور شادی خانہ آبادی کا انتظام بھی منتظیمن مدرسہ کی جانب سے ثواب دارین کے لئے کیا گیا ہے. جن یتیم بچیوں کی شادی خانہ آبادی کا انتظام ان کے سرپرستوں اور منتظمین کی جانب سے کیا جاتا ہے ان یتیم بچیوں کو زندگی گزارنے کے لئے مہنگے ترین اسباب بھی دارالیتیمی کی جانب سے مہیا کئے جاتے ہیں. دارالیتیمی میں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے صدر اور ناظم ندوۃالعلماء لکھنؤ کے مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دورہ کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات پیش کیں ہیں اور مخیران ملت سے مدرسہ ہذا کے مالی تعاون کی گزارش کی ہے. اسی طرح جامعہ اشرفیہ راندیر گجرات کے قاری رشید احمد اجمیری نے بھی پانچ طالبات کے خمار عالمیت سےسرفرازی اور ختم بخاری شریف کے اولین موقع پر حاضر ہونے کے بعد خدائے تعالی سے دارالیتیمی کو مزید ترقیات سے نوازنے اور حفظ و امان میں رکھنے کی دعاؤں سے نوازتے ہوئے ذمہ داران کی کاوشات کو شرف قبولیت بخشنے کی دعائے خیر کی تھی. مرحوم قاری محمد عمر, مرحوم قاری محمد اسحاق اور مرحومہ قاریہ قمر النساء کے ذریعے 2000 عیسوی میں لگایا گیا دارالیتیمی نامی ننھنا سا پودا آج ایک تناور درخت کی شکل میں یتیم و بے سہارا دختران ملت کے لئے شجر سایہ دار بن گیا ہے اور اس شجر سایہ دار کی آبیاری کے لئے مرحوم قاری محمد اسحاق. کے لائق. و فائق فرزند ارجمند قاری محمد سلمان.مسلسل شب و روز سرگرداں ہیں. مدرسہ کی کارکردگی دیکھتے ہوئے یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ قوم کی یتیم لڑکیوں کی محفوظ پناہ گاہ دارالیتیمی جہاں یتیم و بے سہارا لڑکیوں کی درس و تدریس اور پرورش و پرداخت کا نہ صرف معقول انتظام ہے بلکہ منتظیمن دارالیتیمی کے ذریعہ ان کے خوابوں کو تعبیروں کا پیراہن بھی عطا کیا جاتا ہے. قاری محمد سلمان ابن قاری محمد اسحاق آج اپنی اولعزمی اور بلند حوصلگی کے ساتھ جامعہ بنات فرقانیہ ٹرسٹ مالیگاؤں کے زیر انصرام کامیابی سے جاری دارالیتیمی کو .مزیدتعمیری ترقی کی جانب گامزن کرنے میں مسلسل کوشاں و مصروف عمل ہیں. دارالیتیمی کے اندورنی حصے کا معائنہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی بیرون ملک کے عالیشان کالج یا یونیورسٹی کا نظارہ کرریے ہیں. مدرسہ ہذا کا دورہ کرنے والا یہاں آنے کے بعد یقیناً انگشت بدنداں رہ جائے گا. دارالیتیمی کا سالانہ خرچ آج پچاس لاکھ روپیوں پر مشتمل ہے جو مخیران قوم و ملت کے عملی و مالی تعاون سے ہی انجام پذیر ہوتے ہیں. یتیمی کا کرب جھیلنے والی معصوم بچیاں جب یتیمی کے کرب سے آشنا ہوتی ہیں اور سماج و معاشرہ انھیں اپنانے پر اپنا منہ پھیر لیتا ہے تو چند اصحاب خیر انھیں یہاں داخل کردیتے ہیں اور یہاں آنے کے بعد دارالیتیمی انھیں آغوش مادر کی طرح اپنا لیتا ہے کہ وہ یتیم بچیاں یتیمی کا درد بھول کر اپنا سارا رنج و غم بھول جاتی ہیں . یہاں آنے کے بعد انھیں محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ یتیم ہیں اور دنیا میں ان کا کوئی بھی نہیں ہے دعائے خیر بانیان دارالیتیمی اور حالیہ ذمہ داران کے لئے کہ
یوں ہی نہیں یہ برگ و ثمر لہلائے ہیں
پیڑوں نے موسموں نے بہت دکھ اٹھائے ہیں.دارالیتیمی میں یتیم و بے سہارا بچیوں کے فی سبیل اللہ ایڈمیشن کے لئے چیف ٹرسٹی قاری سلمان احمد سے919890811886 رابطہ قائم کریں.

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں بی ایم سی کو ’فضائی آلودگی پر قابو اور نفاذ کا عملی منصوبہ 2026‘ پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت : میئر ریتو تاوڑے

Published

on

Ritu-Tawde

ممبئی میں فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے، برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ’فضائی آلودگی پر قابو اور نفاذ کا عملی منصوبہ-2026‘ (Air Pollution Control and Implementation Action Plan-2026) تیار کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد آلودگی کے مختلف ذرائع کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا ہے۔ ممبئی کی میئر ریتو ٹاوڈے، ڈپٹی میئر سنجے گھاڑی اور میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی رہنمائی میں، تمام انتظامی وارڈز کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ’فضائی آلودگی پر قابو اور نفاذ کا عملی منصوبہ-2026‘ نافذ کریں۔ اس عملی منصوبے کے تحت، ہر انتظامی وارڈ میں فضائی آلودگی کے کم از کم 10 ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کی جائے گی اور نقشے کے ساتھ ایک تازہ ترین فہرست تیار کی جائے گی۔ ان ہاٹ اسپاٹس میں تعمیراتی اور تعمیرِ نو کے بڑے منصوبے، بنیادی ڈھانچے کے کام، کھلے عام کچرا جلانے کے مقامات، ملبہ ڈالنے کی جگہیں اور ٹریفک جام والے علاقے شامل ہوں گے۔ باقاعدہ نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ہاٹ اسپاٹ کے لیے ایک ذمہ دار افسر مقرر کیا جائے گا۔

تعمیراتی مقامات پر آلودگی پر قابو پانا :
تعمیراتی اور انہدامی (ڈیمولیشن) مقامات کے لیے موجودہ 28 نکاتی رہنما خطوط پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا۔ جو تعمیراتی مقامات ان اصولوں کی خلاف ورزی کرتے پائے جائیں گے، انہیں ’وجہ بتاؤ‘ (شو-کاز) نوٹس اور کام روکنے کے نوٹس جاری کیے جائیں گے، اور ضرورت پڑنے پر انہیں سیل (مہر) کرنے کی کارروائی بھی کی جائے گی۔ ہر معائنہ کرنے والی ٹیم کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ روزانہ کم از کم دو تعمیراتی مقامات کا معائنہ کرے۔ انہدام کے کام کے دوران مناسب رکاوٹیں (برریکڈنگ) لگانا، جگہ کو ترپال یا سبز جالی سے ڈھانپنا اور مسلسل پانی کا باریک چھڑکاؤ کرنا لازمی ہوگا۔

سڑکوں پر دھول کم کرنے کے لیے خصوصی صفائی مہم :
مون سون کے بعد سڑکوں پر جمع ہونے والی مٹی، کیچڑ اور دھول کو ہٹانے کے لیے اکتوبر کے پہلے اور دوسرے ہفتے میں ‘مون سون کے بعد گہری صفائی کی مہم’ (پوسٹ-مانسون دیپ کلیننگ دروے) چلائی جائے گی۔ اہم سڑکوں، ڈیوائیڈرز (میڈین)، چوراہوں اور سڑک کے کناروں پر صفائی کے خصوصی آپریشن کیے جائیں گے۔ جہاں ضروری ہوا، وہاں ری سائیکل شدہ پانی سے سڑکیں دھوئی جائیں گی یا پانی کا باریک اسپرے کیا جائے گا۔ ڈیولپرز یا ٹھیکیداروں کے لیے اب یہ لازمی ہے کہ وہ تعمیراتی مقام کے حجم کے مطابق ملحقہ سڑکوں کو صاف رکھیں۔ 4,000 مربع میٹر تک کے منصوبوں کے لیے 100 میٹر تک، 4,000 سے 10,000 مربع میٹر کے منصوبوں کے لیے 200 میٹر تک، اور 10,000 مربع میٹر سے بڑے منصوبوں کے لیے دونوں اطراف 500 میٹر تک سڑکوں کو صاف رکھنا ضروری ہے۔

ملبہ لے جانے والی گاڑیوں کے لیے ضوابط :
تعمیراتی اور مسماری کے کاموں سے نکلنے والا ملبہ لے جانے والی گاڑیوں کا مکمل ڈھکا ہونا ضروری ہے، اور عوامی سڑکوں پر داخل ہونے سے پہلے ان کے پہیوں کو صاف کرنا لازمی ہے۔ ملبے کی نقل و حمل اور تلفی کا انتظام ‘ممبئی ڈیبرس کنٹرول اینڈ ٹریکنگ سسٹم’ (ایم ڈی سی ٹی ایس) کے ذریعے کیا جائے گا۔ یہ یقینی بنانے کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ‘ریڈی مکس کنکریٹ’ (آر ایم سی) والی گاڑیوں سے کنکریٹ یا دیگر مواد سڑکوں پر نہ گرے۔

کھلی جگہوں پر کوڑا جلانا اور گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی :
پورے ممبئی میں کھلی جگہوں پر کوڑا جلانے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے واقعات کی نگرانی وارڈ کی سطح پر تعینات مارشلز اور سی سی ٹی وی (سی سی ٹی وی) نگرانی کے نظام کے ذریعے کی جائے گی۔ مزید برآں، ٹریفک کے اہم راستوں اور زیادہ رش والے مقامات پر خصوصی ‘پی یو سی’ (پی یو سی – آلودگی کنٹرول) معائنہ مہم چلائی جائے گی، اور ضوابط کے مطابق واضح دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) بڑھنے کی صورت میں اضافی اقدامات :
ایئر کوالٹی انڈیکس کی مسلسل نگرانی کی جائے گی اور صورتحال کے پیشِ نظر ‘گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان’ (جی آر اے پی) کے تحت اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔ اگر اے کیو آئی (ہوا کے معیار کا اشاریہ) 200 سے تجاوز کر جاتا ہے، تو متاثرہ علاقوں میں گہری صفائی، سڑکوں کی دھلائی (جہاں ضروری ہو)، پانی کا چھڑکاؤ، مسٹنگ (باریک پھوار کا چھڑکاؤ) اور کھلے میں کوڑا کرکٹ جلانے پر سخت پابندی جیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس بات کا بھی انتظام کیا گیا ہے کہ اگر اے کیو آئی مسلسل تین دنوں تک 300 سے اوپر رہتا ہے، تو مانیٹرنگ اسٹیشن کے 2 کلومیٹر کے دائرے میں آلودگی پھیلانے والی سرگرمیوں کو روک دیا جائے گا۔

ممبئی کی فضا کو صاف اور ماحول دوست رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے، اس مکمل عملی منصوبے کے نفاذ کا باقاعدگی سے وارڈ کی سطح پر جائزہ لیا جائے گا۔ مزید برآں، ایڈیشنل میونسپل کمشنر (مشرقی مضافات) ڈاکٹر اویناش ڈھاکنے نے ہدایت کی ہے کہ فضائی آلودگی کے بڑے ذرائع کے خلاف ضروری احتیاطی اور نفاذی اقدامات کیے جائیں

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گیانیش کمار کو ہٹانے کی حمایت میں 56 مقامات پر سے لاکھوں ووٹرز کے دستخطوں پر مشتمل یادداشت گورنر کو پیش کی جائے گی : رئیس شیخ

Published

on

MLA-Raees-Sheikh

ممبئی : بھیونڈی کے ووٹرز نے جمعہ کے روز چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک دستخطی مہم شروع کی۔ یہ مہم بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ کی قیادت میں چلائی جا رہی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ لاکھوں شہریوں کے دستخطوں پر مشتمل ایک یادداشت گورنر کو پیش کی جائے گی۔ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ دستخطی مہم کا آغاز آج نمازِ جمعہ کے بعد بھیونڈی ایسٹ کے 56 مقامات پر ہوا۔ مرد اور خواتین ووٹرز کے لیے دستخط کرنے کے الگ الگ انتظامات کیے گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے کارکنوں کی جانب سے چلائی جانے والی اس مہم کو پہلے ہی دن زبردست پذیرائی ملی۔ گیانیش کمار کے خلاف یہ دستخطی مہم اگلے آٹھ دنوں تک جاری رہے گی۔

سماج وادی پارٹی کا ایک وفد مہاراشٹر کے گورنرجشنو دیو ورما سے ملاقات کرے گا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے بھیونڈی کے لاکھوں ووٹرز کے دستخطوں پر مشتمل یادداشت پیش کرے گا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے بتایا کہ صرف پہلے دن ہی 56 مراکز پر تقریباً 30 ہزار ووٹرز نے درخواست پر دستخط کیے۔

ووٹر لسٹوں کی ‘خصوصی اور تفصیلی نظرثانی’ (ایس آئی آر) کے دوران پائی جانے والی بے ضابطگیاں ایک سنگین معاملہ ہیں؛ اس عمل کے دوران ملک بھر میں 12 کروڑ ووٹرز کے نام خارج کر دیے گئے ہیں۔ ناموں کی تبدیلی اور اخراج کے عمل کے حوالے سے ‘ای آر او-نیٹ’ (ای آر او-نیٹ ) سسٹم میں بڑی بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں؛ گزشتہ دس مہینوں کے دوران دو الیکشن کمشنرز نے 14 مختلف مواقع پر گیانیش کمار کے کام کرنے کے طریقوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے کہا کہ گیانیش کمار نے حکمراں بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کیا ہے اور انہیں اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ سے میٹھی ندی گھوٹالہ بدعنوانی میں پوچھ گچھ، ای او ڈبلیو کی مسلسل باز پرس، ٹھیکہ اور رقومات منتقلی کی تفتیش

Published

on

dino-morea

ممبئی : بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ میٹھی ندی اسکینڈل کے سلسلے میں ممبئی کمشنر آفس پہنچ گئے جہاں ان سے بدعنوانی سے متعلق باز پرس جاری ہے موریہ سے گھوٹالے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی ہے۔ بالی ووڈ اداکار ڈینو موریہ چند روز قبل میٹھی ندی اسکینڈل کی وجہ سے سرخیوں میں تھے۔ اداکار جمعہ کو اس کیس میں اپنا بیان ریکارڈ کرانے کمشنر آفس پہنچے۔ میڈیا اہلکاروں نے ان سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اداکار بغیر کچھ کہے سیدھے ممبئی پولیس کمشنر کے دفترمیں داخل ہو گئے۔

واضح رہے کہ ڈینو موریا سے دریائے میٹھی اسکینڈل کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی جاچکی ہے۔ اقتصادی جرائم ونگ (ای او ڈبلیو ) بالی ووڈ اداکار کا بیان ریکارڈ کرے گا۔ اداکار سے پہلے بھی اس معاملے میں ای او ڈبلیو کی طرف سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔

کیا ہے سارا معاملہ؟
میٹھی ندی گھوٹالے میں ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی ) شامل ہے۔ بی ایم سی نے پایا کہ اسے دریا کی دیکھ بھال، صفائی اور صفائی میں 65.54 کروڑ روپے کا مالی نقصان ہوا ہے۔ جعلی ٹینڈرنگ کے بعد اس معاملے میں کیتن کدم نامی شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کیتن ڈینو کے بھائی سینٹینو روکو موریا کے ساتھ رابطے میں رہا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انہوں نے رقم کا تبادلہ بھی کیا تھا۔ بتایا گیا کہ ڈینو موریا کے کھاتوں میں بھی رقم کا لین دین ہوا ہو گا۔ نتیجتاً، ای او ڈبلیو نے اداکار سے 26 مئی 2025 کو پوچھ گچھ کی۔ 28 مئی 2025 کو ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کی گئی۔ 12 جون 2025 کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کئی گھنٹوں تک ڈینو موریا سے پوچھ گچھ کی۔ مزید برآں، ای ڈی نے اداکار کے گھر سمیت کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ اداکار کے بھائی سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔

ڈینو موریا کا کیریئر :
50 سالہ ڈینو موریا نے 1999 میں فلم ’’پیار میں کبھی کبھی‘‘ سے بالی ووڈ میں قدم رکھا۔ تاہم 2002 میں ریلیز ہونے والی فلم “راز” سے انہیں خاصی پہچان ملی۔ اداکار نے “ہاؤس فل 5،” “ہیپی نیو ایئر،” “باز،” “اکسر”، “پلان” اور “گناہ” جیسی فلموں میں کام کیا ہے۔ وہ مقبول ویب سیریز “تانڈو ” میں بھی نظر آئے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان