Connect with us
Tuesday,28-April-2026

سیاست

کسانوں کے مطالبات پر بات چیت سے متعلق حکومت کی تجویز پر کسانوں کے جواب کا انتظار ہے: تومر

Published

on

tomar

زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر نے آج کہا کہ حکومت زراعتی قوانین میں کسانوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے پرعزم ہے اور اس کے لئے کھلے ذہن سے بات کر رہی ہے۔
مسٹر نریندر سنگھ تومر نے یہاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے قانون میں ترامیم کے ذریعہ کاشتکاروں کے پیروں میں پڑی مارکیٹ کی بیڑیاں کھولنے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاجی کسانوں کو زراعت سے متعلق تین قوانین پر اعتراض ہے، تو حکومت بھی ان سے بات کرنے اور ان کے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لئے کھلے ذہن سے تیار ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ اب تک چھ مرحلے میں کئی گھنٹے کی بات چیت کے بعد حکومت نے کسانوں کے اعتراضات کو نقطہ وار ریکارڈ کیا ہے۔ حکومت منڈیوں کے نظام کو مستحکم کرنے، تنازعات کے حل کے لیے ڈپٹی کلکٹر کی بجائے عدالت میں جانے، تاجروں کے رجسٹریشن، کاشتکاری معاہدے کا رجسٹریشن اور بجلی کے بل وغیرہ سے متعلق مطالبات پر کسانوں کی خواہش کے مطابق بات کرنے کو تیار ہے۔ اس سلسلے میں کاشتکاروں کو ایک تجویز بھی بھیجی گئی ہے۔ اب حکومت کسانوں کے جواب کا انتظار کر رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسانوں کی بہت سی تنظیمیں اس تحریک میں شامل ہیں۔ شاید ان کے مابین ایک رائے قائم نہیں ہوپا رہی ہے۔ اسی لئے مسئلہ حل نہيں ہوپا رہا ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میڈیا رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ شرپسند عناصر اس تحریک میں داخل ہوئے ہیں۔ کسانوں کو محتاط رہنا چاہئے۔ اگر ایسے عناصر کچھ غلط کام کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو اس تحریک کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اب تک کسانوں کی یہ تحریک نظم و ضبط کے ساتھ پرامن طریقے سے چل رہی ہے جس کے لئے وہ کسانوں کے مشکور ہیں۔

سیاست

شائنا این سی نے کہا، یہ وقت ممتا بنرجی کو الوداع کہنے کا ہے۔

Published

on

ممبئی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں بدھ کو ووٹنگ ہوگی۔ شیوسینا لیڈر شائنا این سی نے کہا کہ 4 مئی کو ممتا بنرجی کو الوداع کہنے کا وقت آگیا ہے۔ ممبئی میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے شیو سینا لیڈر شائنا این سی نے کہا کہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 142 حلقوں میں ہوگی۔ یہ ایک طرح کا ریفرنڈم ہے۔ لوگ ممتا بنرجی کی انتشار پسند حکمرانی سے تنگ آچکے ہیں۔ خواتین غیر محفوظ ہیں، اور ان کی شکایات نہیں سنی جا رہی ہیں۔ دراندازی کے ارد گرد عدم استحکام کا ماحول بھی لوگوں کو پریشان کر رہا ہے۔ اس لیے عوام نے جوش و خروش سے ووٹ ڈالنے کا عزم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پہلے مرحلے میں 91 فیصد ووٹر ٹرن آؤٹ تھا، اسی طرح دوسرے مرحلے میں بھی تمام 142 حلقوں میں زیادہ ووٹ ڈالے جائیں گے۔ شائنا این سی کے مطابق 4 مئی کو بنگال میں تاریخ بننے والی ہے۔ اب ممتا بنرجی کو الوداع کہنے کا وقت آگیا ہے۔ “کارپوریٹ جہاد” کا حوالہ دیتے ہوئے شائنا این سی نے کہا کہ ناگپور اور ناسک کے بعد اب ممبئی کے اگری پاڑا میں “کارپوریٹ جہاد” کے کیس سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کام کی جگہ پر لڑکیوں کو لالچ اور ہراساں کیا جاتا ہے۔ ٹی سی ایس جیسے باوقار اداروں میں بھی لڑکیوں کو بلیک میل کیا جا رہا ہے اور ان کی ویڈیوز بنائی جا رہی ہیں۔ مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ شکاری معاشرے میں سرگرم ہیں اور قانون کا خوف ضروری ہے۔ میرا روڈ واقعہ کے بارے میں شائنہ این سی نے کہا کہ میرا روڈ میں یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ تاہم، مذہب کے نام پر لوگوں کو نشانہ بنانا مہاراشٹر کی ثقافت میں نہیں ہے اور یہ مناسب نہیں ہے۔ ہمیں امن و سکون سے رہنا چاہیے۔ اے اے پی لیڈر سوربھ بھاردواج کے سات اے اے پی کے راجیہ سبھا ممبران کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بیان کا جواب دیتے ہوئے، شائنا این سی نے کہا کہ سوربھ بھردواج کو اپنی پیش گوئیاں کرنا بند کر دینا چاہئے۔ شادی کا تعین راجیہ سبھا یا لوک سبھا کی رکنیت سے نہیں ہوتا۔ عام آدمی پارٹی اب ’’خصوصی پارٹی‘‘ بن چکی ہے۔ پارٹی کے اندر بے اطمینانی تھی، اس لیے لوگ چلے گئے۔

Continue Reading

سیاست

ہندوؤں پر نشانہ بنانے کا ارادہ : مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے میرا روڈ چھرا گھونپنے کے معاملے میں ‘سیلف ریڈیکلائزڈ لون ولف’ زاویہ ظاہر کیا

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڈنویس نے میرا روڈ پر چھرا گھونپنے کے واقعہ کو ‘خود بنیاد پرستی’ کا مشتبہ معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ملزم نے ‘جہاد’ کے نام پر ہندو برادری کے ارکان کو نشانہ بنانے کے ارادے سے کام کیا۔ اس کیس، جس نے مہاراشٹر کو چونکا دیا ہے، فی الحال انسداد دہشت گردی اسکواڈ اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی مشترکہ طور پر تحقیقات کر رہی ہے۔ واقعہ پر بات کرتے ہوئے فڈنویس نے کہا کہ ملزم زیب زبیر انصاری امریکہ میں رہ رہا تھا اور حال ہی میں ہندوستان واپس آیا تھا۔ “یہ خود بنیاد پرستی کا معاملہ معلوم ہوتا ہے۔ اس کی رہائش گاہ سے کچھ کتابیں اور مجرمانہ مواد برآمد ہوا ہے۔ تفتیش صرف ملزم تک محدود نہیں رہے گی, بلکہ اس کی بنیاد پرستی کے پیچھے افراد یا نیٹ ورکس کا بھی جائزہ لیا جائے گا،” انہوں نے ریاستی حکومت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہا۔ یہ حملہ پیر کی صبح 4 بجے کے قریب میرا روڈ ایسٹ میں اسمیتا گرینڈ مینشن کے قریب ہوا، جو ووکارڈ ہسپتال کے پیچھے ہے۔ پولیس کے مطابق، دو سیکورٹی گارڈز، راج کمار مشرا اور سبرتو رمیش سین، ڈیوٹی پر تھے جب انصاری ان کے قریب پہنچے، ابتدائی طور پر قریبی مسجد کا راستہ پوچھنے لگے۔ وہ واپس آنے اور مبینہ طور پر پرتشدد تصادم شروع کرنے سے پہلے تھوڑی دیر کے لیے چلا گیا۔ انصاری نے چاقو سے حملہ کرنے سے پہلے ایک گارڈ سے اس کے مذہب کے بارے میں سوال کیا۔ اس کے بعد وہ سیکیورٹی کیبن میں داخل ہوا اور مبینہ طور پر دوسرے گارڈ سے کلمہ پڑھنے کو کہا۔ جب گارڈ تعمیل کرنے سے قاصر تھا تو انصاری نے مبینہ طور پر اس پر بھی حملہ کیا, جس سے دونوں افراد شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مشرا فی الحال میرا روڈ کے ووکارڈ ہسپتال میں داخل ہیں، جبکہ سین کو بھی طبی امداد دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ دونوں کی حالت نازک لیکن مستحکم ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

میرا روڈ نیانگر میں دو محافظوں پر قاتلانہ حملہ یا لون وولف اٹیک، کریٹ سومیا نے لگایا نیا نگر جہاد کا الزام

Published

on

ممبئی: میراروڈ نیانگر پولس اسٹیشن کی حدود میں علی الصبح چار بجے سیکورٹی گارڈ پر قاتلانہ حملہ کے بعد اب اس حملہ کو جہاد کی شکل دینے کی کوشش شروع ہو گئی ہے۔ پولس نے اس معاملہ میں زیب زبیر انصاری ۳۱ سالہ کو گرفتار کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی ہے جب ملزم کو زیر حراست لیا گیا تو سنسنی خیز خلاصہ ہوا اور اس کی شدت پسند تنظیموں کے رابطہ سے متعلق بھی اب پولس نے جانچ شروع کردی ہے چونکہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے اس لیے اقدام قتل کے کیس کومہاراشٹر انسداددہشتگردی دستہ اے ٹی ایس کے سپرد کردیا گیا ہے اس معاملہ میں دہشت گردی کنکشن سے متعلق بھی اب اے ٹی ایس تفتیش کرے گی جنونی نوجوان نے پہلے ایک محافظ پر حملہ کیا پھر دوسرے کو بھی حملہ میں شدید طور سے زخمی کردیا جس سے میرا روڈ میں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اس معاملہ کے بعد اب اس کو بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے نیا نگر جہاد قرار دے کر کہا ہے کہ ایک مسلم نوجوان نے دو ہندوؤں پر صرف اس لئے حملہ کیا کیونکہ وہ کلمہ پڑھنے سے منکر تھے ۔ ۲۷ اپریل کو صبح 4.00 بجے تقریباً 30 سال سالہ نامعلوم نوجوان اسمیتا گرینڈ میسن بلڈنگ میں آیا۔ اس نے ڈیوٹی پر موجود چوکیدار مسٹر سبروتو سین (عمر 31 سال) سے مسجد سے متعلق دریافت کیا بعد ازاں اس کے ہندو ہونے پر اعتراض کیا اور اس کے بعد اس پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ متاثرہ شخص نے موقع سے فرار ہونے کی کوشش کی۔ملزم نے اس کا تعاقب کیا اور ایک اور چوکیدار راج کمار مشرا سے کو اس نے نشانہ بنایا جس احساس ہوا کہ راج کمار مشرا سین کی کیبن میں ہے اس پر وحشیانہ حملہ کیا۔ پیٹ کے بائیں جانب چاقو سے حملہ کیا ۔واقعہ کے بعد متاثرہ سبروتو سین کو ابتدائی طبی امداد کے بعد پولیس اسٹیشن لایا گیا اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ اس کے علاوہ راج کمار مشرا کو ووکارڈ ہسپتال میں داخل کرایا گیا اور اس کی سرجری کی گئی۔
نیا نگر کے سینئر پولیس انسپکٹر اور ان کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچی، سی سی ٹی وی فوٹیج کو ٹریس کیا اور ملزم کے گھر پہنچی۔ ملزم زیب زبیر انصاری، عمر 31، فلیٹ اے 304، اسمیتا ریجنسی، نیا نگر میں پایا گیا۔ جائے حادثہ کاُمقام 200 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسے حراست میں لے لیا گیا ہے اور اس سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم زیب انصاری فلیٹ میں تنہا مقیم رہائش پذیر ہے ۔ اس کے والدین امریکہ میں ہیں۔ وہ 2000 سے 2020 تک اپنے والدین کے ساتھ امریکہ میں مقیم رہا۔ اس نے امریکہ سے اپنی گریجویشن مکمل کی ہے۔ ورک پرمٹ ختم ہونے کی وجہ سے اسے ہندوستان واپس لوٹا۔ وہ کرلا، واشی میں کچھ مہینے مقیم تھا اور 2022 میں نیا نگر میں سکونت اختیار کی ۔ اس کی پیدائش کرلا میں ہی ہوئی تھی ۔ اس کے والد امریکہ میں ڈرائیور ہیں۔ وہ 2020 میں اپنی فیملی کو ساتھ لے کر آیا تھاان کے فلیٹ میں قرآن کے 3 نسخے ہیں۔ میز پر لیپ ٹاپ کے قریب ایک نوٹ برآمد ہوا ہے۔ اس میں ‘لون وولف’ حملوں اور اسلامک اسٹیٹ کا ذکر ہے۔ وہاں 2 فون بھی ملے ہیں ۔ ابتدائی طور پر، یہ ایک بنیاد پرست نوجوان کا ‘لون ولف’ حملہ لگتا ہے۔ آئی ایس آئی ایس اور اس جیسی تنظیموں کے روابط اور ملوث ہونے کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہے اسکے فلیٹ کو سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہے اور ڈیجیٹل فارنسک سمیت تمام شواہد کو صحیح طریقے سے جمع کر لئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی عمارت پر سخت سیکورٹی تعینات کر دی گئی ہے تاکہ نظم و نسق برقرار رہے اور امن وامان کے قائم کےلیے پولس کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان