Connect with us
Tuesday,04-August-2026

سیاست

عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں کلین سویپ کرے گی: عمر عبداللہ

Published

on

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ تمام تر اڑچنوں کے باوجود بھی عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ڈی ڈی سی انتخابات میں کلین سویپ کرے گی اور عوام نے جس طرح سے ان انتخابات میں بھاری تعداد میں شرکت کی ہے وہ ملک کے عوام کے لئے ایک مضبوط پیغام ہے۔
ان باتوں کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پارٹی ہیڈکوارٹر پر وسطی زون کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی کے علاوہ دیگر سرکردہ لیڈران بھی موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ نئی دلی سے لیکر سری نگر تک پوری سرکاری مشینری عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے خلاف ہے اور ڈی ڈی سی انتخابات میں مختلف حربے اپنا کر ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے لیکن اس کے باوجود بھی لوگ سیاسی جماعتوں کے اس اتحاد کو کامیاب بنانے کے لئے جس عزم اور گرمجوشی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اُس سے ہمارے مخالفین کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم اس وقت ایک غیر معمولی انتخابات لڑ رہے ہیں جس میں اُمیدواروں کو مہم چلانے نہیں دی جارہی ہے۔ 1996 سے لیکر آج تک جوبھی الیکشن ہوئے اُن میں اُمیدواروں اور سیاسی ورکروں کو بھر پور سیکورٹی فراہم کی جاتی تھی اور حکومت وقت کی یہی کوشش رہا کرتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ انتخابی مہم چلائی جائے لیکن آج ایسا نہیں۔ موجودہ حکمرانوں نے انتخابی مہم پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر کے جمہوریت پرکاری ضرب لگا دیا ہے۔ منظور نظر اُمیدواروں کو سیکورٹی فراہم کی جاتی ہے اور گپکار اتحاد کے امیدواروں کو سیکورٹی کے نام پر کسی محفوظ مقام پر رکھ کر قید رکھا جاتا ہے اور انہیں گاہ گاہ ہی برائے نام انتخابی مہم چلانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
این سی نائب صدر نے کہا کہ ہم سب ایک بڑی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ اقتدار اور کرسی کی لڑائی نہیں بلکہ یہ لڑائی ہم اپنے جھنڈے، اپنی آئین، اپنے تشخص، اپنی شناخت اور اپنی انفرادیت کے لئے لڑ رہے ہیں۔ ہم اُن سب مراعات کے لئے لڑ رہے ہیں جن کی گارنٹی ہمیں آئین ہند میں دی گئی تھی۔ ہندوستا ن کے جھنڈے کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کا پرچم شان سے لہرائے، یہی ہماری لڑائی کی منزل ہے اور اس کے لئے ہم کوئی بھی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈی ڈی سی انتخابات میں گپکار اعلامیہ میں شامل سیاسی جماعتوں کا مشترکہ طور پر حصہ لینا بھی اسی جدوجہد کی ایک کڑی ہے۔ ہم سب نے اپنے پارٹی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر مخالفین کے اس پروپیگنڈا کو غلط ثابت کر دیا کہ ہم اقتدار کے بوکھے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ ہم سب ایک بڑے سیاسی پیغام کے لئے مشترکہ طور پر لڑ رہے ہیں۔ ہم متحد ہوکر لڑ رہے ہیں اور ہم سب کو مستقبل میں بھی ایک جھٹ ہوکر ہی لڑنا ہوگا کیونکہ حکومت نے جس طرح روشنی ایکٹ کالعدم قرار دیا ،کیا پتہ آنے والے ایام میں یہ زرعی اصلاحات کو بھی غیر قانونی قرار دے۔ جس روشنی ایکٹ کو ریاستی اسمبلی کے دونوں ایوانوں نے منظوری دی اور پھر گورنر نے بنا کسی اعتراض کے اس پر مہر ثبت کی۔ یہ ایکٹ کیسے غیر قانونی ہوسکتا ہے؟ اگر آپ کہتے ہیں کہ ریاستی گورنر کی طرف سے تصدیق شدہ روشنی ایکٹ غیر قانونی ہے تو خدارا یہ بتائیں کہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ گورنر نے جو کچھ کیا وہ کس حد تک قانونی تھا؟
عمر عبداللہ نے کہا کہ روشنی ایکٹ ایک عوامی منتخبہ حکومت نے منظور کیا تھا، اس کے لاگو کرنے میں غلطیاں ہوسکتی ہے لیکن یہ ایکٹ غلط نہیں ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ایک عوام دوست اقدام تھا۔
انہوں نے کہا کہ روشنی ایکٹ کے نام پر مخالف سیاسی لیڈران کے نام اچھالے جا رہی ہیں لیکن حکمران جماعت کے اپنے لیڈران جن کے نام روشنی ایکٹ کے مستفیدین میں آئے یا جنہوں نے سرکاری زمینوں اور فوج کی زمینوں پر ناجائز قبضہ جمایا ہے اُن پر کوئی بحث کیوں نہیں ہورہی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ہم سخت جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں اور اس میں عوامی اشتراک اور تعاون کی بھر پور ضرورت ہے۔
اجلاس میں پارٹی کے سینئر لیڈران میاں الطاف احمد، علی محمد ڈار، مبارک گل، آغا سید محمود، عرفان احمد شاہ، انجینئر صبیہ قادری، شیخ اشفاق جبار، ڈاکٹر محمد شفیع، تنویر صادق، ایڈوکیٹ شوکت احمدمیر، سلمان علی ساگر، عمران نبی ڈار، سید توقیر احمد، احسان پردیسی، مدثر شہمیری، یونس گل، غلام نبی تیل بلی، ایڈوکیٹ شبیر احمد، عائشہ جمیل، انجینئر عاصف نور کے علاوہ کئی عہدیداران موجود تھے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کے لیے ریتو تاوڑے کی انتھک کوششیں، تمام کارپوریٹروں کو اس اقدام میں حصہ لینے کے لیے باضابطہ درخواست بھیجیں

Published

on

mayor-ritu

ممبئی کی میئر ریتو تاوڑے نے خصوصی ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کا خیرمقدم کیا ہے، جو ممبئی کے فٹ پاتھوں کو غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے، اس طرح عام لوگوں کو محفوظ طریقے سے چلنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ میئر محترمہ تاوڑے نے نوٹ کیا کہ یہ مہم غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کی جاری کوششوں میں اہم مدد فراہم کرے گی۔

عہدہ سنبھالنے کے بعد سے، میئر ریتو تاوڑے نے غیر مجاز ہاکروں کے مسئلے کا ٹھوس حل تلاش کرنے پر توجہ مرکوز کی ہے۔ بطور میئر، اس نے سماجی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ہاکر کے مسئلے کو مہارت کے ساتھ حل کرنے، رجسٹرڈ ہاکروں کو کیو آر-کوڈ پر مبنی شناختی کارڈ کی تقسیم، اور ہاکر کمیٹیوں میں غیر سرکاری اراکین کی تقرری جیسے عمل کو تیز کرنے کی کوشش کی ہے۔ رجسٹرڈ ہاکروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت نے غیر مجاز ہاکروں کے خلاف مہم کو زبردست رفتار دی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ میونسپل کمشنر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اشونی بھیڈے، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اب ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم شروع کی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ شہری شہر کے فٹ پاتھوں پر چلنے کے محفوظ اور بلا روک ٹوک تجربے سے لطف اندوز ہو سکیں۔ پہلے مرحلے میں 322 کلومیٹر فٹ پاتھ کو غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات سے مکمل طور پر پاک کیا جائے گا۔ یہ ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم ہاکروں سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لیے میئر کے اقدام کو انتظامی حمایت فراہم کرتی ہے، اس طرح ممبئی میں پیدل چلنے والوں کے لیے روزانہ کا سفر زیادہ محفوظ ہوتا ہے۔

ممبئی میں کل 2,392 کلومیٹر فٹ پاتھوں میں سے 322 کلومیٹر کو ترجیحی اسٹریچ کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ زون کے لحاظ سے خرابی درج ذیل ترجیحی کوریج کو ظاہر کرتی ہے : زون 1 (336 کلومیٹر میں سے 47 کلومیٹر، یا 14%)، زون 2 (313 کلومیٹر میں سے 45 کلومیٹر، یا 14%)، زون 3 (299 کلومیٹر میں سے 28 کلومیٹر، یا 9%)، زون 4 (69 کلومیٹر میں سے)، Zone 513 کلومیٹر میں سے 69 کلومیٹر یا 513 کلومیٹر میں سے 513 کلومیٹر 267 کلومیٹر، یا 14%)، زون 6 (209 کلومیٹر میں سے 69 کلومیٹر، یا 33%)، اور زون 7 (385 کلومیٹر میں سے 27 کلومیٹر، یا 7%)۔ نتیجتاً اس ابتدائی مرحلے میں شہر بھر کے 322 کلومیٹر فٹ پاتھ کو تجاوزات اور غیر مجاز ہاکروں سے پاک کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس مہم کو مرحلہ وار تمام علاقوں میں نافذ کیا جائے گا۔

مہم کا خیرمقدم کرتے ہوئے میئرریتو تاوڑے نے اپنے پختہ یقین کا اظہار کیا کہ غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے مسئلے کو مکمل طور پر حل کرنے کے لیے عوامی نمائندوں کی شرکت بہت ضروری ہے۔ اس مقصد کو ذہن میں رکھتے ہوئے، میئر نے انتظامیہ سے سختی سے زور دیا ہے کہ وہ ممبئی کے تمام کارپوریٹروں کو ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم میں براہ راست شامل کریں۔ اس کے مطابق انتظامیہ جلد ہی تمام کارپوریٹروں کو باضابطہ درخواستیں بھیجے گی۔ میئر کی ان کوششوں کی بدولت منتخب نمائندے اور میونسپل انتظامیہ ہر وارڈ میں اپنے اقدامات کو مربوط کریں گے۔ نتیجتاً مقامی سطح پر غیر مجاز ہاکروں کو ہٹانے کی مہم مزید موثر ہو جائے گی۔

میئر کی ہدایات کے مطابق، اور اس اقدام کے تحت، اسکولوں، اسپتالوں، ریلوے اسٹیشنوں، میٹرو اسٹیشنوں اور بازاروں کے آس پاس کے غیر مجاز ہاکرز، لاوارث گاڑیوں اور دیگر جسمانی رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ غیر مجاز ہاکروں کے خلاف میئر کی مہم کے لیے انتظامیہ کی ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کی بھرپور حمایت سے ممبئی میں طلباء، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور عام پیدل چلنے والوں کو خاصی راحت ملے گی۔ امید کی جاتی ہے کہ میئر کی جانب سے غیر مجاز ہاکروں سے پاک ممبئی کے لیے سرشار کوششوں کے ساتھ، انتظامیہ کی پشت پناہی کے ساتھ، جلد ہی شہر کے فٹ پاتھ مکمل طور پر محفوظ اور رکاوٹوں سے پاک ہو جائیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : رات میں ایم ٹی این ایل کیبل چوری کرنے والا گینگ بے نقاب، دو ایف آئی آر درج، ۷ ملزمین گرفتار اور مفرور ملزمین کی تلاش جاری

Published

on

arrested-

ممبئی : ممبئی ۲ اگست کو خفیہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے، پولیس کی ایک ٹیم نے برکلے پیلس ریلوے کالونی کے سامنے فٹ پاتھ پر دو افراد کو پکیکس اور بیلچے سے زمین کھودتے ہوئے پایا۔ حراست میں لینے کے بعد ان کے دو ساتھی ٹیمپو میں فرار ہو گئے۔ حراست میں لیے گئے دونوں افراد سے گہری پوچھ گچھ میں انکشاف ہوا کہ وہ اور ان کے ساتھی زیر زمین ایم ٹی این ایل کاپر کیبلز چوری کر رہے تھے۔ حکومت کی جانب سے باقاعدہ شکایت درج کرائی گئی، مقدمہ درج کیا گیا، اور ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس ٹیم فی الحال فرار ساتھیوں اور ٹیمپو میں لے گئے کیبل کی تلاش کر رہی ہے۔ اس معاملے میں اب تک تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، اور جرم میں استعمال ہونے والے اوزار ضبط کر لیے گئے ہیں۔

۴ اگست کو صبح 04:35 اور 04:42 اے ایم کے درمیان اطلاع ملی کہ لوگ سر جے جے پر برکلے پیلس کی دیوار سے متصل فٹ پاتھ پر جے سی بی اور ایک ٹیمپو کی مدد سے زمین کی کھدائی کر کے ایم ٹی این ایل کیبلز چوری کر رہے ہیں۔ سڑک (جنوب کی طرف جانے والی لین)۔ پولیس کی ایک ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر روانہ کی گئی، اور چار افراد کو رنگے ہاتھوں پکڑ لیا گیا۔ یہ چار افراد جے سی بی کے ذریعے زمین کی کھدائی کر رہے تھے، تانبے کی تاریں نکال رہے تھے اور انہیں ایک ٹیمپو میں لوڈ کر رہے تھے۔ مجموعی طور پر 55 لاکھ روپے مالیت کی جائیداد جس میں ایک جے سی بی، ایک آئشر ٹیمپو، ایک کار، چوری شدہ 70 میٹر کیبل، اور کیبل کاٹنے کے لیے استعمال ہونے والے اوزار شامل ہیںضبط کر لیے گئے ہیں۔ چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سر جے جے مارگ پولس اسٹیشن نے ایم ٹی این ایل کیبل چوری کے دو معاملات حل کیے ہیں۔ ان مقدمات میں کل سات ملزمان کو گرفتار کر کے اور چوری شدہ املاک کے ساتھ جرم میں استعمال ہونے والے آلات اور گاڑیاں بھی ضبط کر کے، انہوں نے ایک بین ریاستی کیبل چوری سنڈیکیٹ کو ختم کر دیا ہے۔ جرائم کی مکمل تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

روسی ڈرون نے یوکرین میں سبزی فروش کو نشانہ بنایا، زیلنسکی نے الزام لگایا کہ ایسی کارروائیاں روزانہ جاری رہتی ہیں۔

Published

on

Ukrain

نئی دہلی : روسی ڈرون نے منگل کو یوکرین کے شہر کھیرسن میں سبزی فروش پر حملہ کیا۔ یوکرائنی وزارت خارجہ اور صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے جارحانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ روس جنگی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور یوکرین کے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ صدر زیلنسکی اور یوکرین کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی۔ ویڈیو میں ایک سبزی فروش اپنی گاڑی کے قریب کھڑا ہے جب ایک ڈرون نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے کہ سبزی فروش اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں گاڑی کے ارد گرد بھاگ رہا ہے، ہاتھ اٹھا کر التجا کرتا ہے، لیکن ڈرون اس پر طاقتور حملہ کرتا ہے۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ای ایکس’ پر پوسٹ کیا کہ “روس کس کو نشانہ بنا رہا ہے؟” فوجی اڈہ نہیں بلکہ سویلین کام کر رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے یوکرین کے شہر کھیرسن میں جان بوجھ کر ایک عام دکاندار کو نشانہ بنایا۔ حملے میں 52 سالہ شخص زخمی ہوا اور اس کے سر پر چوٹ آئی۔ وزارت نے پوسٹ میں کہا، “یہ معصوم شہریوں کے خلاف خوف اور دہشت پھیلانے کی ایک جان بوجھ کر مہم ہے۔ دنیا کو اسے معمول کے طور پر قبول نہیں کرنا چاہیے۔ مزید، روس پر مزید مضبوط دباؤ کی ضرورت ہے۔ ان جرائم کا جواب نہیں دیا جانا چاہیے۔”

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنگی جرم قرار دیا۔ زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “EX” پر پوسٹ کیا، “ایک اور نام نہاد ‘سفاری’ ویڈیو دیکھ کر بہت سے لوگ چونک گئے، جس میں روسی ڈرون کھیرسن میں لوگوں کا شکار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روسی ڈرون نے جان بوجھ کر کھیرسن میں سبزی بیچنے والے ایک شخص کا پیچھا کیا اور اس کے قریب دھماکہ کیا۔ روسیوں نے خود اس جرم کا اعتراف کر لیا۔” وہ اپنے اعمال پر کوئی پچھتاوا نہیں دکھاتے، بلکہ اس کے بجائے اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو کس طرح ہراساں اور خوفزدہ کرتے ہیں۔ دھماکے میں وہ شخص زخمی ہوگیا۔ “خیرسن میں شہریوں کے خلاف روسیوں کی طرف سے اس قسم کی ‘سفاری’ تقریباً روزانہ کی جاتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دنیا کو یہ دیکھنا چاہیے۔ اسے ہر وہ شواہد دیکھنا چاہیے جس سے ظاہر ہو کہ روس کس حد تک تشدد اور جارحیت میں اترا ہے اور یہ کہ روسی فوجی لوگوں کو مارنے اور ہراساں کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ روس پر دباؤ ڈالے بغیر، اس کی جارحانہ صلاحیتوں کو کمزور کیے بغیر، اور روس کے خلاف ٹھوس حفاظتی ضمانتوں کے بغیر، یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ دنیا اس برائی کے ساتھ امن سے رہ سکتی ہے۔ ہمیں جان بچانے کے لیے پرعزم رہنا چاہیے۔ ہمیں ایسے قدم اٹھانے چاہئیں اور زندگی کی حمایت کرنی چاہیے کہ روس کو حقیقی معنوں میں امن کے بارے میں سوچنا چاہیے، نہ کہ اپنے ڈرون کی ہلاکت خیزی کو بڑھانے کے بارے میں۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ صرف یوکرائن کا مسئلہ نہیں ہے۔ روس کی طرف سے شہریوں کے خلاف یہ ‘سفاری’ یوکرین میں بند ہونی چاہیے اور دوسرے ممالک میں نہیں پھیلنی چاہیے۔ فن لینڈ اور قازقستان، بالٹک ممالک اور پولینڈ، جنوبی قفقاز کا علاقہ، اور جنوبی قفقاز کا علاقہ۔ ملک کے ساتھ ساتھ رومانیہ اور مالڈووا کو حقیقی سلامتی کی ضمانتوں کو یقینی بنانے اور روس کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کو ختم کرنے کے لیے سب کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ امن کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے دنیا بھر کے ان تمام لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جو حقیقی معنوں میں امن کی قدر کرتے ہیں۔ یوکرین کی مدد کرنے والے ہر ایک کا شکریہ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان