Connect with us
Friday,09-January-2026
تازہ خبریں

سیاست

سیاسی طور پر لڑنے میں ناکامی کے بعد بی جے پی نے ایجنسیوں کو کام پر لگا دیا: نیشنل کانفرنس

Published

on

نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف سیاسی طور لڑنے میں ناکامی کے بعد بی جے پی نے اپنی ایجنسیوں کو کام پر لگا دیا ہے پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈارنے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو ای ڈی کا نوٹس صاف طور پر اُس سیاسی جماعتوں کے اتحاد کا نتیجہ ہے جو وہ جموں وکشمیر میں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ سمن بی جے پی کے نظریہ اور تقسیمی سیاست کی مخالفت کرنے کا بوکھلاہٹ پر مبنی ردعمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح بی جے پی مختلف ایجنسیوں اور دھمکی آمیز حربوں کا سہارا لیکر ملک بھر میں حزب اختلاف کے رہنمائوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ ای ڈی میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی تازہ طلبی اسی کی ایک کڑی ہے۔
پارٹی ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے خلاف حالیہ سمن کے وقت سے سیاسی انتقام گیری صاف طور پر واضح ہوجاتی ہے۔ انہیں پچھلا سمن 5 اگست 2019 کے چند روز قبل بھیجا گیا اور اب عوام تحرک برائے گپکار اعلامیہ کی تشکیل کے چند ہی دن بعد اور سمن آجاتا ہے۔
این سی ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنی بے گناہی کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے ماضی میں بھی تحقیقاتی ایجنسیوں کو مکمل تعاون دیا تھا اور مستقبل میں بھی حکام کے ساتھ تعاون کریں گے۔
دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، محمد شفیع اوڑی، میاں الطاف احمد، مبارک گل، چودھری محمد رمضان، محمد اکبر لون، پیرزادہ غلام احمد شاہ، دیوندر سنگھ انا، شمیمہ فردوس، سکینہ ایتو، نذیر احمد خان گریزی، حسنین مسعودی، قمر علی آخون، علی محمد ڈار، ڈاکٹر بشیر ویری، شمی اوبرائے، ایس ایس سلاتیہ، اجے سدھوترا، رتن لعل گپتا، آر ایس وزیر، سجاد احمد کچلو، برج موہن شرما، خالد نجیب سہروردی، جاوید احمد رانا، ایس نمگیال، حنیفہ جان، مشتاق احمد بخاری اور بملا لوتھرا نے انفورس ڈیپارٹمنٹ میں نیشنل کانفرنس صدر فاروق عبداللہ کی طلبی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے نئی دلی کی بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔
پارٹی لیڈران نے کہا کہ مرکز جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن کی بحالی کے لئے اٹھ رہی آواز کو دبانے کے لئے سیاسی انتقام گیری سے کام لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے فیصلوں کے خلاف ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی قیادت میں سیاسی جماعتوں کا اتحاد ایک مضبوط آواز بن کر ابھرا ہے اور اس اتحاد نے بی جے پی کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔
این سی لیڈران نے کہا کہ بھاجپا اس تحریک کو کمزور کرنے کے لئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو سیاسی انتقام گیری کے تحت نشانہ بنا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ ایسے حربوں سے ہمارے عزم و استقلال میں ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑ ے گا اور نیشنل کانفرنس ہر حال میں جموں و کشمیر کے لوگوں کے احساسات اور جذبات کی ترجمان کرتی رہے گی اور تینوں خطوں کے عوام کے حقوق کی بحالی کے لئے اپنی جدوجہد جاری و ساری رکھے گی۔

بین الاقوامی خبریں

بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف حملوں پر وزارت خارجہ کا رد عمل، وزارت نے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

Published

on

Randhir-Jaiswal

نئی دہلی : وزارت خارجہ نے بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندوؤں کے خلاف تشدد پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وزارت نے کہا کہ ہندوستان بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندوں کی طرف سے کئے جانے والے پریشان کن واقعات سے واقف ہے۔ وزارت نے کہا کہ اس طرح کے واقعات اقلیتوں میں عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتے ہیں اور اس طرح کے واقعات پر سخت ردعمل کا مطالبہ کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہم شدت پسندوں کی طرف سے اقلیتوں بشمول ان کے گھروں اور کاروباروں پر مسلسل حملوں کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ اس طرح کے فرقہ وارانہ واقعات کا فوری اور مضبوطی سے تدارک کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسوال نے کہا کہ ہم نے ایسے واقعات کو ذاتی دشمنی، سیاسی اختلافات یا دیگر وجوہات سے منسوب کرنے کا ایک پریشان کن رجحان دیکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی نظر اندازی مجرموں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کے احساس کو بڑھاتی ہے۔

مالدیپ کے میڈیا آؤٹ لیٹ کافو نیوز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش میں ہندوؤں کی ہلاکتوں میں اضافے نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جب بھی حکومت کی گرفت کمزور ہوتی ہے ہندو اقلیتوں کے خلاف تشدد بڑھ جاتا ہے۔ رپورٹ میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف پرتشدد جرائم کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ شہریوں کے تحفظ میں ریاست کی ناکامی کو بھی عیاں کرتی ہے۔ بنگلہ دیش میں 18 دنوں میں چھ ہندو مردوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل غزہ میں پاکستانی افواج کو برداشت نہیں کرے گا، اسرائیل کی دو ٹوک… ٹرمپ اور منیر کے اقدام کو دھچکا

Published

on

Israel-pak

تل ابیب : پاکستانی فوج کی غزہ میں انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں شمولیت کے بارے میں کچھ عرصے سے کافی بحث ہو رہی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر پر آئی ایس ایف میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ غزہ میں اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی میں جنگ بندی کے اگلے مرحلے کا حصہ ہے۔ ان بحثوں کے درمیان اسرائیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ غزہ میں پاکستانی فوج نہیں چاہتا۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھارت میں اسرائیل کے سفیر ریوین آزر نے کہا کہ اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پلان کے تحت غزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (آئی ایس ایف) میں پاکستانی فوج کی شمولیت کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ آذر نے کہا کہ ملک پاکستانی فوج کی غزہ فورس میں شمولیت سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے حماس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے۔

امریکا نے غزہ میں مجوزہ اسٹیبلائزیشن اینڈ ری کنسٹرکشن فورس کے لیے فوج بھیجنے کے لیے پاکستان سمیت کئی ممالک سے رابطہ کیا ہے۔ ان رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے آذر نے واضح کیا کہ اسرائیل پاکستان کی شرکت سے خوش نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ایسی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس میں ہم آگے بڑھ سکیں، لیکن اس کے لیے حماس کو تباہ کرنا ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔” آذر نے کہا کہ کئی ممالک پہلے ہی اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ فوج بھیجنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ یہ ممالک حماس سے لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ایسے ممالک سے فوجیں تعینات کرنے کا کہنا موجودہ حالات میں اسٹیبلائزیشن فورس کا خیال بے معنی بنا دیتا ہے۔ پاکستانی فوج بھی حماس سے لڑنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

پاکستان کے ممکنہ کردار کے بارے میں سفیر آذر نے کہا کہ ممالک عموماً ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جن پر وہ اعتماد کرتے ہیں اور جن کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات ہیں۔ فی الحال پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ اسرائیل پاکستان کو غزہ کے استحکام کے کسی بھی نظام میں قابل اعتماد شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھتا۔ غزہ میں اپنی حکومت کی ترجیحات کے بارے میں آذر نے کہا کہ “ہمیں اپنے مردہ یرغمالیوں کی باقیات کو بازیافت کرنا چاہیے اور حماس کے فوجی اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کرنا چاہیے۔ اگر حماس کو ختم نہیں کیا گیا تو جنگ بندی کے منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد ناممکن ہو جائے گا۔”

Continue Reading

جرم

ناگپاڑہ نقب زنی کا کیس حل، مسروقہ مال برآمد ۴ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی ناگپاڑہ پولس اسٹیشن کی حدود میں ۶ جنوری کو نقب زنی کے کیس میں پولس نے تین ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے اور ۷۲ لاکھ کا مسروقہ مال زیورات اور ڈائمنڈ بریچ بھی برآمد کر لیا ہے۔ ملزمین زیورات بہار لیجاکر فروخت کرنے کا منصوبہ تیار کر چکے تھے۔ اس سے قبل ہی پولس نے تین ملزمین پھلے موہن ۴۰ سالہ، سنتوش رام جیون مکھیا، اور لالو موہن مکھیا کو گرفتار کر لیا ملزمین کے خلاف سانتا کروز میں بھی کیس درج ہے۔ پولس اس معاملہ میں مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس کے ڈی سی پی پروین منڈے نے دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان