(جنرل (عام
ہاتھرس متاثرہ کی فوری مالی اور مستقل تحفظ دینے کا ٹیم کا مطالبہ
ہاتھرس آبروریزی اور قتل کے متاثرہ خوف زدہ خاندان کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور دہلی یونیورسٹی کے اساتذہ اور صحافیوں پر مشتمل ایک ٹیم نے ہاتھرس کا دورہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ متاثرہ خاندان خوف کے حصار میں ہے اورفوری مالی اور مستقل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔
وفیسر ہیم لتا مہیشور، ڈاکٹر رجت رانی مینو، ڈاکٹر بجرنگ بہاری تیواری، ڈاکٹرسیما ماتھر، ڈاکٹر پونم توشاڑ، فارورڈ پریس کے ہندی ایڈیٹر نول کشور کمار اور صحافی منوج پپل پر مشتمل ٹیم نے محسوس کیا ہے کہ متاثرہ خاندان بے حد خوف زدہ ہے اور کام کاج بند ہونے کی وجہ سے مالی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ متاثرہ کی ماں کے نام پر اکاؤنٹ ہے جو اس وقت سیز ہے جس کی وجہ سے وہ پیسے نہیں نکال پارہے ہیں۔ ٹیم نے بتایا کہ متوفیہ کے گھر میں تعینات ایک پولیس اہلکار نے بتایا کہ کچھ دن پہلے ملزمین کے لوگوں نے اس پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ لہذا ان کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر پولیس اہلکار کی بات درست ہے تو پھر متوفیہ کی بھابھی اور والد کا خوف بالکل معقول ہے، کیونکہ جب ایسی پولیس فورس کی موجودگی میں ملزمین کے لوگ حملہ کر کے انہیں دھمکیاں دے سکتے ہیں، پھر اگر پولیس موجود نہیں رہے گی تو وہ کیا کیا نہیں کرسکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ ٹیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت متاثرہ فریق کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ اس کے لئے گاؤں میں پولیس چوکی قائم کی جائے۔ حکومت متاثرہ فریق کو فوری مالی مدد فراہم کرے۔ انہیں معاشی بحران درپیش ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ گاؤں بلگڈھی میں مقتولہ کے نام پر ہیلتھ سنٹر اور ہائی اسکول قائم کرے۔
انہوں نے کہاکہ مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ 14 ستمبر کو پولیس نے تھانہ میں برا سلوک کیا ہے۔ رپورٹ درج کرنے میں بھی تاخیر ہوئی اور اسپتال بھیجنے میں بھی۔ اسی دوران، مقتولہ کے بھائی نے بتایا کہ اس کا اسپتال میں علاج نہیں ہو رہا ہے۔ اسی دوران، مقتول کی بہو نے بتایا کہ جب ہمیں اطلاع ملی کہ متاثرہ کی موت ہوگئی ہے تو ہم اس کی لاش کو گھر لانا چاہتے ہیں۔ تب پولیس افسر نے ڈانٹا اور دھمکی دیتے ہوئے ہوئے کہاکہ ”کبھی پوسٹ مارٹم کئے ہوئے لاش دیکھا ہے؟
متاثرہ کے لواحقین میں سے، ہم نے سب سے پہلے اس کی والدہ سے بات کی، جو صرف ایک ہی بات کہہ رہی تھی کہ ‘میری بیٹی کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔ پھانسی کی سزا دی جائے۔’ میری بیٹی کو انصاف ملے ‘۔ میڈیا میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اور متاثرہ رات ساڑھے نو بجے کھیتوں میں گھاس کاٹنے گئی تھی جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو مقتولہ کی والدہ، اورخالہ نے صاف انکار کیا کہ یہ دن کے ساڑھے نو بجے تھے مقتولہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ“ان تینوں نے اکٹھا ہوکر پہلے کچھ گھاس کاٹا۔ تب بیٹی نے کہا کہ اماں تم گھاس کاٹو،مجھے بہت پیاس لگی ہے۔ میں پانی پینے جاتی ہوں ‘ مقتولہ کی والدہ کے بیان کے مطابق اس نے اپنے بیٹی کو پانی لانے کے لئے گھر بھیجا۔ اس کے بعد، دونوں نے گھاس کاٹنے لگے۔اس کے بعد یہ اندوہناک واقعہ رونما ہوا۔ مقتولہ کے والدہ، والد، بہن، بھائی، بھابھی اور خالہ سب نے کہا کہ ان کا واحد مطالبہ ہے کہ مجرموں کو جلد سے جلد سزا دی جائے اوران کی بیٹی کے ساتھ انصاف کیا جائے۔
کنبہ کے دیگر افراد سے گفتگو کرتے ہوئے، ایسی ہی کچھ باتیں بھی منظرعام پر آئیں کہ گاؤں میں رہنے والے یہ بالمیکی خاندان اپنے آبائی پیشوں کو چھوڑ کر گاؤں سے باہر کمانے لگے ہیں۔ ایک وقت میں خنزیر پالنے والے اب بھینس، بکری اور مرغی پالتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ان کے معیار زندگی میں تبدیلی شروع ہوگئی۔ ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے ملزم فریق متاثرہ فریق سے حسد کرنے لگے ہوں۔
گاؤں کے کچھ لوگ باجرا اور دھان کی فصل کاٹ رہے تھے۔ گاؤں میں دلتوں کے صرف چار مکانات ہیں۔ گاؤں کے بیشتر مکانات پختہ ہیں۔ گھروں اور رہائش کو دیکھتے ہوئے، ٹھاکروں اور دلتوں میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ لیکن معاشی اور معاشرتی سطح پر، فرق واضح طور پر نظر آتا ہے۔ مقامی لوگوں سے معلوم ہوا کہ گاؤں میں 4 مکان دلتوں کے، 2 گھر پرجاپتی ذات کے، ایک مکان نائی ذات کے، 20-25 مکان برہمنوں کے اور 40 کے قریب خاندان ٹھاکروں کے ہیں۔
بل گڈھی گاؤں دوسرے دیہاتوں کے مقابلے ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، لیکن معاشی طور پر خوشحال گاؤں ہے۔ گاؤں میں برہمنوں کے مکان زیادہ خوشحال دکھائے دئے، کچھ مکانات پچوری برہمنوں کے تھے۔
مجموعی طور پر، گاؤں میں ذات پات کا تسلط واضح طور پر نظر آرہا تھا۔ اس کا شکار خواتین بھی تھیں۔ نسلی آدرش کا اثر و رسوخ دونوں کمہاروں اور ٹھاکر ذات کی خواتین سے بات چیت میں بھی واضح تھا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
پروفیسر ڈاکٹر قاضی راشد انور مہاراشٹر آیوش ڈائریکٹوریٹ میں یونانی طب کے ایڈوائزر مقرر، انجمنِ اسلام کے صدرو اراکین کی جانب سے مبارکباد

ممبئی : طبی میدان اور یونانی نظامِ علاج کے فروغ میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر حکومتِ مہاراشٹر نے انجمنِ اسلام کے زیرِ انتظام چلنے والے ڈاکٹر محمد اسحاق جمخانہ والا طبیہ یونانی میڈیکل کالج و حاجی اے۔ آر۔ کالسیکر طبیہ ہسپتال (ورسووا، ممبئی) کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) قاضی راشد انور صاحب کو ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومتِ مہاراشٹر میں مشیر برائے یونانی طب (ایڈوائزر، یونانی ایکسپرٹ) کے معزز عہدے پر نامزد کیا ہے۔ معزز وزیر برائے میڈیکل ایجوکیشن عالیجناب حسن مشرف صاحب نے اس تقرری کی باضابطہ توثیق کی اور ڈائریکٹر آف آیوش ڈاکٹر (ویدیا) رامن گھونگرالیکر صاحب نے دفتری حکم نامے کے اجراء پر پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی صاحب کی گلپوشی کر کے مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔
اس اہم اعزاز پر برصغیر کے معروف تعلیمی ادارے انجمنِ اسلام کے صدر پدم شری جناب ڈاکٹر ظہیر آئی قاضی صاحب، نائب صدر جناب مشتاق انتولے صاحب، جنرل سکریٹری جناب عقیل حفیظ صاحب اور دیگر اراکین انجمن نیز کالج ھذا كے چیرمین عمران فرنیچر والا نے پروفیسر ڈاکٹر راشد قاضی کو دلی مبارکباد دیتے ہوئے ان کی نئی ذمہ داری کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اربابِ انجمن نے کہا کہ یہ تقرری نہ صرف ادارے کے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے بلکہ ریاست میں یونانی طب کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر میں اس وقت ۳ سرکاری امداد یافتہ (ایڈیڈ) کالجوں سمیت کل سات یونانی میڈیکل کالجز تعلیم و علاج کی خدمات انجام دے رہے ہیں، لیکن اس وسیع تر نیٹ ورک کے باوجود، ڈائریکٹوریٹ آف آیوش، حکومت مہاراشٹر میں یونانی طریقۂ علاج کا کوئی ماہر یا باقاعدہ افسر موجود نہیں تھا، جس کے باعث پالیسی سازی اور تکنیکی رہنمائی میں ایک دیرینہ خلا محسوس کیا جا رہا تھا۔ علاوہ ازیں حکومتِ مہاراشٹر نے حال ہی میں موضع ساور، تعلقہ مہسلہ (ضلع رائے گڑھ) میں ۱۰۰ نشستوں پر مشتمل پہلے سرکاری یونانی میڈیکل کالج اور ۱۰۰ بیڈز والے ہسپتال کے قیام کی منظوری دی ہے، جس کی تعلیمی اور تکنیکی تشکیل کے لیے ایک مستند ماہر کی رہنمائی ناگزیر تھی۔ لحاظ اس صورت حال میں حكومت مہاراشٹر كے اس أقدام كو طبی برادری میں بہت قدر و امید كی نگاہ سے دیکھا جا رہا هے
انجمنِ اسلام کے صدر محترم و اراکین نے امید ظاہر کی ہے کہ پروفیسر راشد قاضی کے وسیع تدریسی، اور انتظامی تجربات سے نئے سرکاری کالج کے منصوبے سمیت ریاست بھر میں یونانی طب کو ایک نیا وقار اور نئی جہت ملے گی۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : کریلا قریش نگر میں کرین گرنے سے 10 افراد زخمی، بی ایم سی کی امدادی کارروائیاں جاری، زخمیوں کی حالت مستحکم

ممبئی : کرلا قریش نگر میں اس وقت کہرام مچ گیا جب یہاں ایک مخدوش پرانی عمارت کی مسماری کے دوران کرین سائٹ پر گر گیا جس کے سبب ۱۰ افراد شدید طور سے زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو سائن، کرلا بھابھا اسپتال میں داخل کیا گیا۔ سائن اسپتال کے اے ایم او ڈاکٹر نوین کے مطابق، آٹھ زخمی افراد کو اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ان میں جگراللہ نبی خان 63، احمد نیاز احمد 3 ماہ، عتیق الرحمان 60، حاکم شیخ 36، نعمان خان 21، ریحام خان 19، سورج گور 10، اکبر 40، تمام آٹھ زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم بتائی جاتی ہے۔ کرلا بھابھا اسپتال میں دو زخمیوں کو داخل کرایا گیا۔ اسپتال کے اے ایم او ڈاکٹر شیتل کے مطابق، ان کی شناخت راجو گاڑ 35، آرتی گاؤڈ 30، حکام کے مطابق دونوں متاثرین زیر علاج ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔
مسماری کے کام کے دوران استعمال ہونے والی کرین ایم ایم آر ڈی اے نے اس واقعہ کے بارے میں ایک سرکاری بیان جاری کرتے ہوئے کہا، بلڈنگ نمبر 1، بھنڈاری میٹلرجی، کرلا میں انہدام کا کام کیا جا رہا تھا۔ کام کے لیے ایک کرین کو جائے وقوع پر لایا گیا تھا، تاہم، کرین آپریشن شروع نہیں ہوا تھا۔ جب کرین کو سائٹ پر رکھا جا رہا تھا، وہ جھک کر ملحقہ ڈھانچے کی طرف جا گری۔ مقام پر زمین نرم تھی، جس سے کرین کے استحکام کو متاثر ہوتا دکھائی دیتا ہے اس واقعے میں کچھ افراد کو معمولی چوٹیں آئیں۔ ایم ایم آر ڈی اے زخمیوں کو تمام ضروری طبی امداد اور مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا، ایم ایم آرڈی اے نے فوری طور پر مطلوبہ مشینری اور افرادی قوت کو متحرک کیا، اور گرنے والی کرین کو ہٹانے کا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔ جگہ کو محفوظ بنا لیا گیا ہے اور تمام ضروری احتیاطی اقدامات کیے جا رہے ہیں مسماری کا کام میسرز سنی کمپنی کر رہی تھی۔ آپریشن کے دوران ہائیڈرولک کرین کا ایک حصہ ہائی ٹینشن ریلوے اوور ہیڈ تاروں پر گر گیا۔
قریشی نگر کی کچی آبادی کرین گرنے سے ٹکرا گئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، گرنے والے سامان نے قریشی نگر میں قریبی جھونپڑیوں، سمراٹ اشوک نگر کی سڑک، مہاڈا کی عمارت کی دیوار اور مہاڈا عمارت کے احاطے کے اندر کھڑی تین سے چار چار پہیہ گاڑیوں کو بھی متاثر کیا۔ اس سے قبل، حکام نے کہا تھا کہ یہ واقعہ اس جگہ پر مجوزہ بے دخلی اور مسمار کرنے کی کارروائی کے سلسلے میں کیے جانے والے کام کے دوران پیش آیا۔ بحالی کا کام جاری ہے۔جائے وقوعہ پر بحالی اور حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ حکام صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اہلکار یہ معلوم کرنے کے لیے بھی معلومات جمع کر رہے ہیں کہ آیا جائے وقوع پر کوئی اور بھی پھنسا ہوا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
محرم فیاض کی زہریلی سازش کا عید میلاد النبی کے جلوس پر اثر، نیازو لنگر کی تقسیم پر پولیس کی نظر، اصولوں کی پابندی اور ٹریفک قوانین پر عمل کی اپیل

ممبئی : عید میلاد النبی جلوس کے پیش نظر ممبئی پولس نے الرٹ جاری کیا ہے۔ جلوس محمد ی پر امسال محرم الحرام میں فیاض پریم جی کی زہریلی سازش کا بھی اثر ہوگا, اس لئے جلوس میں نیاز اور لنگر کی تقسیم پر پولس کی نظر ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی پولس نے جلوس انتظامیہ اور شرکا جلوس سے اپیل کی ہے کہ وہ اشیا خوردنوش کھانا پانی تقسیم کرنے سے گریز کرے۔ کیونکہ اس کا سراغ و پتہ لگانا انتہائی مشکل ہوتا ہے کہ کس نے یہ شئے تقسیم کی ہے۔ اس لئے اب پولس اسٹیشنوں میں ان تنظیموں کا اندراج بھی ہوگا۔ جو غذائی اجناس تقسیم کرتی ہے, اس قسم کا اظہار خیالات خلافت کمیٹی کی میٹنگ میں ایڈیشنل کمشنر سینٹر ریجن وکرم دی مانے نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جلوس میں اصول و ضوابط کا خیال رکھنا لازمی ہے, اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہوگی۔ ڈی جے پر مکمل طور پر پابندی ہے اور اس لئے ڈی جے لانے والوں پر کارروائی ہوگی۔ منتظمین کا یہ فرض ہے کہ وہ ڈی جے لانے والوں کو سمجھائیں کیونکہ بعد میں اسے نکالنا ہوتا ہے اور بدمزگی پیدا ہوتی ہے۔ ایڈیشنل کمشنر شلیش ساؤتھ ریجن نے کہا کہ یوں تو جلوس میں اصول و ضوابط کا خیال رکھا جاتا ہے, لیکن اس کے باوجود اس میں موثر تبدیلی کی ضرورت ہے اتنا ہی جلوس میں جھنڈے اور ٹرکوں کی سجاؤٹ کی لمبائی بھی طے ہونی چاہیے۔ گزشتہ سال اس معاملہ میں کھڑا پارسی مجسمہ کے پاس پریشانی پیش آئی تھی اس خلافت کمیٹی کی اہم میٹنگ میں حضرت مولانا معین الدین اشرف المعرف معین میاں نے بھی نوجوانوں سے جلوس میں غیر شرعی امور اور خرافات سے اجتناب کرنے موٹر سائیکل پر ٹریپل سواری اور دیگر اصولوں کی خلاف ورزی سے گریز کرنے دھینگا مستی سے بھی اجتناب کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت مناتے ہیں۔ اس میں ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ اس جلوس میں کسی کی دل آزاری نہ ہو اور دل آزار نعروں سے بھی گریز کیا جائے۔ اگر کوئی غیر شرعی حرکت میں ملوث پایا گیا تو اس پر انتظامیہ اور پولس کارروائی کرے گی۔ اس بات کو بھی شرکا جلوس کو ذہن نشین رکھنا ہوگا جو اصول و ضوابط طے کئے گئے ہیں اور رہنمایانہ اصولوں کی پابندی لازمی ہے۔ اس میٹنگ میں خلافت کمیٹی کے کارگزار صدر سرفراز آرزو نے بھی خطاب کیا اور خلافت کی تاریخ سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ اس میٹنگ میں رکن اسمبلی امین پٹیل، منوج جامستکر، جاوید جنجا سمیت کارپوریٹر نے بھی خطاب کیا۔ میٹنگ میں پولس کے اعلیٰ افسران اور سینئر پولس انسپکٹر اے سی پی تنویر شیخ بھی موجود تھے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
