Connect with us
Friday,07-August-2026

سیاست

لداخی عوام کی حب الوطنی پر ملک کو فخر، دفعہ 370 ترقی میں رکاوٹ تھی: مختار عباس نقوی

Published

on

naqvi

مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے لداخ کو ‘فخر ہندوستان’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں کے عوام کی حب الوطنی پر پورے ملک کو فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے سے جموں و کشمیر اور لداخ میں ترقی کی راہ میں حائل ‘سیاسی اور قانونی رکاوٹیں’ ختم ہوئی ہیں اور ترقی کا چو طرفہ جامع ماحول پیدا ہوگیا ہے۔
نقوی نے یہ باتیں جمعے کو یہاں لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کے سلسلے میں شکوٹ یوکما، شکوٹ شما، شکوٹ گوگما، پھیانگ ، چشکو، پھیانگ تھانگانک میں منعقدہ عوامی جلوسوں میں دور دراز علاقوں سے آنے والے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے بعد تجارت، زراعت، روزگار، ثقافت، زمین اور جائیداد وغیرہ کے لئے لیہہ اور کرگل کے لوگوں کے حقوق کو مکمل آئینی تحفظ دیا گیا ہے۔
مسٹر نقوی نے اپنے عوامی جلسوں میں، لوگوں کو دفعہ 370 کو منسوخ کرنے اور لداخ کا مرکزی علاقہ بننے کے فوائد کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکزی خطوں کے قیام کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر ترقی کا آغاز ہوا ہے۔ نوجوانوں کو اچھی تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع مل رہے ہیں۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ دفعہ 370 کے خاتمے کے ساتھ لیہہ اور کرگل کی ترقی کی رفتار میں رکاوٹ بنے تمام قوانین کو ختم کر کے لداخ کی ترقی پر لگے ‘اسپیڈ بریکر’ کو زمین بوس کر دیا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے مختلف معاشی، تعلیمی، ترقیاتی اسکیموں اور پروگراموں کے فوائد جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کو ملنا شروع ہوگئے ہیں۔
موصوف وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ریاست ہماچل پردیش کے منالی میں دنیا کی سب سے طویل شاہراہ ٹنل ‘اٹل ٹنل’ کو قوم کے لئے وقف کیا ہے۔ زائد از نو کلومیٹر لمبی یہ ٹنل منالی کو سال بھر وا دی لاہول اسپیٹی گھاٹی سے جوڑتی ہے۔ اس سے قبل یہ گھاٹی تقریباً 6 ماہ تک ہونے والی شدید برف باری کی وجہ سے الگ تھلگ رہتی تھی۔ یہ سرنگ منالی اور لیہہ کے درمیان سڑک کے 46 کلو میٹر فاصلے کو کم کرتی ہے اور دونوں جگہوں کے درمیان ضائع ہونے والے وقت میں بھی چار سے پانچ گھنٹے کی بچت کرتی ہے۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ ‘اٹل ٹنل’ ہماچل پردیش کے ایک بڑے حصے کے ساتھ ساتھ مرکزی علاقہ لداخ کے لئے بھی ایک لائف لائن بننے جارہی ہے۔ اس سے منالی اور کیلانگ کے درمیان کا فاصلہ تین سے چار گھنٹوں تک کم ہوجائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب ہماچل پردیش اور لداخ کے کچھ حصے ہمیشہ ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جڑے رہیں گے اور ان علاقوں میں تیزی سے معاشی ترقی ہوگی۔ اب یہاں کے کاشتکار، باغبانی کے ماہرین اور نوجوان آسانی سے دارالحکومت دہلی اور ملک کی دیگر منڈیوں تک پہنچ سکیں گے۔ اس طرح کے سرحدی رابطوں کے منصوبوں سے حفا ظتی دستوں ‘سکیورٹی فورسز’ کو بھی مدد ملے گی، کیونکہ اس سے سیکیورٹی فورسز کی باقاعدہ فراہمی یقینی ہو گی اور ان کو گشت کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
مسٹر نقوی نے کہا کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں 75 ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار میں ترقی کی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ پچاس نئے کالج قائم کئے جارہے ہیں۔ امسال ان کالجوں میں 25 ہزار نئی نشستوں کا اضافہ کیا گیا ہے۔ لاکھوں طلباء و طالبات کو مختلف اسکالرشپ دی گئی ہیں، اسکالرشپس میں 60 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ لداخ میں ایک نیا میڈیکل کالج، ایک انجینئرنگ کالج قائم کیا جارہا ہے۔ لیہہ میں نیشنل اسکل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جارہا ہے۔
نقوی نے کہا کہ ہزاروں خالی سرکاری نوکریوں کو بھرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ 35 ہزار سے زائد اسکولی اساتذہ کو مستقل کر دیا گیا ہے۔ تعمیراتی مزدوروں، پٹھو والا، ریڈی والوں خواتین کو معاشی سرگرمیوں کے لئے 500 کروڑ روپے سے زیادہ دیئے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر، لداخ کو ایک “سرمایہ کاری کا مرکز” بنانے کی سمت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری کانفرنس سے 14 ہزار کروڑ کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام رہائشیوں کو ہیلتھ انشورنس فراہم کرایا گیا ہے۔ آیوشمان بھارت کا فائدہ 30 لاکھ سے زائد لوگوں کو دیا گیا ہے۔ کورونا دور میں 71 خصوصی اسپتال، 60 ہزار نئے بیڈ کا انتظام کیا گیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے ملک و بیرون ملک میں پھنسے جموں و کشمیر اور لداخ کے دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد کو واپس اُن کے گھر پہنچایا گیا۔
نقوی نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ میں انتظامیہ، زمینی، ریزرویشن وغیرہ میں بہتری لائی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے 890 قوانین نافذ کردیئے گئے ہیں، ریاست کے 164 قوانین ختم کردیئے گئے ہیں، 138 قوانین میں اصلاح کی گئی ہے۔ سرکاری ملاز متوں میں ریزرویشن سسٹم کو بہتر بناکر زیادہ سے زیادہ ضرورتمندوں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لیہہ اور کرگل میں مختلف ترقیاتی کاموں کے لئے تقریباً 6 ہزار کروڑ روپئے دیئے گئے ہیں۔ لداخ کو قومی توانائی کے گرڈ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ سری نگر – لیہہ ٹرانسمیشن لائن شروع ہوگئی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading

سیاست

پریاگ راج میں ‘طلبہ’ کے پروگرام سے پہلے راہل گاندھی نے کہا، “حکومت جھک جاتی ہے، لیکن ہماری آواز ایک ساتھ اٹھانی چاہیے۔”

Published

on

Rahul-Gandhi

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہول گاندھی نے ہفتہ کو پریاگ راج میں منعقد ہونے والے “اسکولز ایکو” پروگرام سے پہلے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت جھک جاتی ہے۔ مل کر آواز اٹھانی چاہیے۔ اس پر بات کرنے کے لیے وہ ہفتہ کو پریاگ راج آ رہے ہیں۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کیا، “میں پریاگ راج آ رہا ہوں۔ ملک کے اس شہر میں جہاں نوجوان سب سے زیادہ تعداد میں تیاری کرتے ہیں۔ ایک بات واضح ہے: یہاں کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ نظام بے ایمان ہو گیا ہے۔ آپ کی طرف سے محنت کی کوئی کمی نہیں ہے، لیکن خرابی نظام کی نیتوں میں ہے، جو آپ کی محنت کی قدر نہیں کرتا۔”

اپوزیشن لیڈر نے لکھا، “کاغذ لیک، بھرتی رکی، برسوں کا انتظار، اور کوئی جوابدہ نہیں، کوٹا میں طلبہ نے تقریر کی، دہرادون میں پھر آوازیں اٹھیں، اور انہی طلبہ پر دہلی میں لاٹھی چارج کیا گیا، محض سوال پوچھنے پر، آخر کار ایک وزیر کو جانا پڑا۔ یہ حکومت جھک گئی، یہ آواز سنیچر کو اٹھانے کے لیے آپ کو اکٹھے ہونا چاہیے۔” بھی آنا چاہیے۔” اس کے ساتھ ویڈیو میں راہول گاندھی کو ایک پیغام پڑھتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے، “راہل سر، آپ پریاگ راج آ رہے ہیں، ٹھیک ہے؟ واقعی کوئی ہماری طالب علموں کی بات نہیں سن رہا ہے۔”

اس پیغام کے ساتھ، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے کہا، “میں طلباء کو سن رہا ہوں، میں روزگار اور ملازمت کی صورتحال پر بات کرنے کے لیے پریاگ راج آ رہا ہوں۔ میں ایک بات کو 100 فیصد قبول کرتا ہوں: آج کے ہندوستان میں، ہمارے طلباء کا روزگار یا تعلیم میں کوئی مستقبل نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم سب کو مل کر اسے تبدیل کرنا ہوگا۔ آپ کی توانائی اور آپ کی آواز سے، ہم مل کر اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔”

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان