Connect with us
Saturday,01-August-2026

(جنرل (عام

موجودہ حالات میں ظلم اور نا انصافی کے خلاف مالیگاؤں کل جماعتی تنظیم کا مشورتی اجلاس

Published

on

(خیال اثر)
کل جماعتی تنظیم کے بینرتلے جو اتحاد دیکھنے کو ملا وہ کعبۃ اللہ کا طواف کرتے وقت کے منظر کو یاددلادیا۔جن کی نسل وعلاقہ اور زبان سب الگ پھر بھی بندگی کے نام پر سب ایک ساتھ۔ آج مالیگاٶں کل جماعتی تنظیم کے اراکین بھی متحد ہیں اس طرح کا اظہار شہر کے مشہور و معروف سرجن ڈاکٹر سعید احمد فیضی نے کیا۔

موصوف کل دوپہر تین بجے خوشبو پارک درےگاٶں میں محمد اطہر اشرفی کی پرتکلف ضیافت کے بعد اراکین کی مختصر مشورتی میٹنگ سے مخاطب تھے جس کی صدارت ڈاکٹر نے خود کی موصوف نے مزید کہا کہ موجودہ سنگین حالات میں ظلم ونا انصافی کے خلاف متحدہ آوازبلند کرنے کی سخت ضرورت ہے بم بلاسٹ کے موقع پر جوحالات جماعت اہل حدیث کے ساتھ پیش آۓ اس پر کل جماعتی تنظیم نے بڑا ساتھ دیا اس پر جماعت کے احباب کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ابتداء میں شہر کے بزرگ عالم دین حضرت مولانا عبدالحمید ازہری نے کہا کہ ملک ہندوستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اب تو عدلیہ پر سے بھی لوگوں کا بھروسہ اٹھتا جارہا ہے بابری مسجد کوشہید کرنے والے ملزمین کی رہاٸ اس بات کا ثبوت ہے ملک سے انصاف کا گلہ گھونٹا جارہاہے ہم سب کو اسی طرح متحد رہ کر ظلم کے خلاف قانونی لڑائی جاری رکھنا ہے ہمیں اللہ کی ذات سے مایوس نہیں ہونا ہے ایک وقت ضرور آٸیگا کی حق اور انصاف کی جیت ہوگی۔کل جماعتی تنظیم کی لیگل ٹیم کے سرپرست جناب ایڈوکیٹ نیاز لودھی صاحب نے کہا کہ بم بلاسٹ کے موقع پر شہر مالیگاٶں میں کل جماعتی تنظیم کا قیام اورقانونی نقاط کے ساتھ مجرموں کے خلاف جد وجہد کرنااپنے آپ میں ایک کامیاب مثال ہے بعدہ محمد فیروز اعظمی صاحب نے کل جماعتی تنظیم کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوۓ کہا کہ شہر مالیگاٶں کے مساٸل کو پارلیمنٹ تک پہنچایا گیا اور الحمد للہ تنظیم کی باتوں کو نہ صرف یہ کہ سنا گیا بلکہ اس پر کاروائی بھی ہوئی مزید آپ نے تنظیم سے متعلق تجاویز کو تحریری طور پر پیش کرنے کی درخواست کی۔ اس پر فضا اور صحت افزا مقام پر تمام اراکین کیلۓ پرتکلف ضیافت کا نظم سنی اشرف اکیڈمی کے صدر حاجی اطہر حسین اشرفی کی جانب سے تھا اس موقع پر اشرفی نے اکابر علمإ کی خدمت میں شال اور حاضر اراکین کو خوشنما سفید ٹاویل کاتحفہ پیش کیا اور اشرفی صاحب نے اس بات پر زور دیا کہ اہلیان شہر کل جماعتی تنظیم سے بہت ساری امیدیں لگائی ہے شہر والوں کی بہتر خدمت اور ان کی نماٸندگی کل جماعتی تنظیم سے وابستہ ہے اور اللہ کی ذات سے امید ہے کہ یہ تنظیم آگے بھی اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوگی
اس موقع پرمولانا شکیل احمد فیضی یوسف الیاس حافظ اشفاق احمد محمدی مولانا جمال عارف ندوی صوفی سعید سعدی اکبر سیٹھ اشرفی مولانا حسن ملی عبدالعظیم فلاحی حافظ عنایت اللہ محمدی نورالعین صابری آصف حسین بوہرہ ایڈوکیٹ نہال انصاری حافظ عبیدالرحمن ڈاکٹر اخلاق احمد مولانا انوارالرحمن محمد ی مولانا مصطفی جمالی نصیر احمد انصاری قاری طفیل شاہد فیمس عارف نوری سفیان جمالی عبدالماجد جمالی مولانا شفیق فلاحی صفی عبدالماجد قادری عرفان رضا حفظ الرحمن شاہد اقبال ایڈوکیٹ عبدالرحمن کے علاوہ نیوز چینل کے احباب بھی شریک تھے۔ مولانا جمال ناصرایوبی نے پروگرام کی کاروائی کو بحسن وخوبی انجام دیا اطہر اشرفی کے شکریہ اور مولانا سراج احمد قاسمی کی پرسوز دعاپر مجلس کا اختتام ہوا-

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان