Connect with us
Monday,22-June-2026

جرم

نوئیڈا میں جئے شری رام نہ بولنے پر ڈرائیور کے قتل کا الزام، پولیس نے کہا-لوٹ کا معاملہ !

Published

on

murder

نوئیڈا
اتر پردیش کے نوئیڈا میں ایک مسلمان کیب ڈرائیور کے مبینہ طور پر جئے شری رام نہیں بولنے پرقتل کرنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔الزام ہے کہ پیشہ سے کیب ڈرائیور آفتاب عالم کا ان کی کیب میں سوار دو لوگوں نے قتل کر دیا۔ یہ واقعہ بلند شہر سے لوٹتے وقت اتوار رات کو بادل پور تھانہ حلقہ میں ہوا۔
آفتاب عالم کے بیٹے محمد صابر (20)کاالزام ہے کہ ان کے والد کی ماب لنچنگ ہوئی ہے لیکن پولیس نے اس سے انکار کرتے ہوئے اسے لوٹ کے ارادے سے کیا گیا جرم بتایا ہے۔محمد صابر نے دی وائر کو بتایا کہ اتوار لگ بھگ آدھی رات کو پولیس نے انہیں فون کرکے بتایا کہ ان کے والد کی لاش انہی کی کیب سے برآمد کی گئی ہے۔
صابر کا کہنا ہے کہ دراصل ان کےوالد نے قتل سے کچھ گھنٹوں پہلے انہیں فون کیا تھا، تبھی انہیں شک ہو گیا تھا کہ کچھ تو غلط ہے کیونکہ انہوں نے فون کر کےایک لفظ بھی نہیں کہا تھا۔صابر کہتے ہیں،‘فون میں انہیں کچھ لوگوں کی آوازیں سنائی دیں، جنہوں نے شراب پی رکھی تھی۔ وہ لوگ میرے والد سے ان کا نام پوچھ رہے تھے تبھی میں نے فون کال ریکارڈ کرنا شروع کر دیا۔’
دی وائر کے پاس موجود اس 8.39 منٹ کی آڈیو کلپ میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے، ‘جئے شری رام بول، بول جئے شری رام۔’صابر کا کہنا ہے کہ انہیں اس کے بعد ان کی کوئی بات سنائی نہیں دی اور 11 منٹ بعد رات 7.41 منٹ پر کیب میں بیٹھا ان میں سے ایک شخص کہتا ہے، ‘سانس رک گئی ہے۔’
صابر کہتے ہیں،‘میرے والد اتوارکو دوپہر لگ بھگ تین بجے اپنی ایک پرانی سواری کو بلندشہر چھوڑنے گئے تھے۔ انہوں نے انہیں شام سات بجے بلندشہر چھوڑا اور گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔ راستے سے انہوں نے مجھے فون کرکے فاسٹ ٹیگ ریچارج کرنے کو کہا۔ میں نے لگ بھگ 7.30 بجے ریچارج کیا۔’
صابر نے آگے بتایا،‘اس کے بعد مجھے دوبارہ ان کا فون آیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ فون ٹول بوتھ کے پاس سے کیا گیا تھا۔ انہیں شاید یہ احساس ہو گیا تھا کہ ان کی کیب میں صحیح لوگ نہیں بیٹھے ہیں اس لیے انہوں نے مجھے فون لگاکر موبائل کو جیب میں رکھ لیا۔ اس کے بعد میں نے پاس کے میور وہار فیز1 کے پولیس تھانے جاکر پولیس سے مدد مانگی۔’
صابر کہتے ہیں،‘جب میں نے اس معاملے کے بارے میں سب انسپکٹر سنجیو سر کو بتایا تو انہوں نے میری مدد کی۔ انہوں نے میرے والد کے موبائل فون کو ٹریک کرنا شروع کیا اور ان کے سم کارڈ کی آخری لوکیشن پتہ لگائی۔’آفتاب عالم کے موبائل کی آخری لوکیشن بادل پور پولیس تھانے کے پاس تھی، جہاں پولیس کو آفتاب عالم کی لاش ملی۔ ان کے چہرے پر کئی نشان تھے۔ انہیں پاس کے اسپتال لے جایا گیا، جہاں انہیں مردہ قرار دیا گیا۔
صابر اپنے والد کے لاش کی حالت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں،‘ان کی زبان کے آس پاس کا حصہ بری طرح سے زخمی تھا۔ ان کے کان سے خون بہہ رہا تھا۔ ان کے چہرے پر بڑے کٹ کا نشان تھا۔ یہ صاف طور پر ماب لنچنگ کا معاملہ ہے۔’وہ کہتے ہیں، ‘ہم مسلمان ہیں لیکن ہمیں جینے کاحق ہے۔’
حالانکہ، بادل پور پولیس تھانہ اسٹیشن افسر نے اسے ماب لنچنگ یا ہیٹ کرائم کا معاملہ بتانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے فی الحال معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔حالانکہ، اسی رات کو درج ایف آئی آر میں نامعلوم حملہ آوروں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 394، 302 اور 201 کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
ابھی یہ صاف نہیں ہے کہ کن حالات میں ان مجرموں سے عالم کی ملاقات ہوئی اور یہ لوگ کون تھے اور کتنے تھے۔آفتاب عالم ترلوک پوری کے رہنے والے تھے۔ وہ 1996 سے ڈرائیونگ کر رہے تھے اور یہی ان کی روزگار کا اہم ذریعہ تھا۔ پسماندگان میں ان کی بیوی ، تین بیٹے، والدین اور دو بھائی ہیں، جو مالی طور پر ان پر اور صابر پرمنحصر ہیں۔
ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران آفتاب عالم کورونا وائرس کے ڈر سے گھر سے باہر نہیں نکلے تھے لیکن جب ایک فیملی فرینڈ اور ان کے پرانے کلائنٹ نے انہیں فون کرکے گڑگاؤں سے بلندشہر چھوڑنے کے لیے کہا تو وہ انکار نہیں کر سکے۔لاک ڈاؤن کے دوران پیسوں کی تنگی سے پریشان عالم نے حامی بھر دی تھی۔ صابر دہلی یونیورسٹی کے اسکول آف اوپن لرننگ میں بی کام تھرڈ ایئرکے طالبعلم ہیں۔
صابر کے علاوہ عالم کے دو چھوٹے بیٹے محمد شاہد (19)اور محمدساجد (17)ہیں، جو پڑھنے لکھنے میں اچھے ہیں اور ان کے بورڈ امتحانات میں اچھے نمبر آئے ہیں۔عالم کے والد محمد طاہر (65) کا کہنا ہے، ‘اگر یہ لوٹ کا معاملہ ہوتا تو وے کیب کیوں چھوڑکر جاتے؟ وہ کار چرا لیتے اور اس کی لاش کو سڑک پر پھینک دیتے۔ یہ صاف طور پر ماب لنچنگ کا معاملہ ہے۔ انہوں نے صرف موبائل فون چرایا ہے۔’
عالم کی بیوی ریحانہ خاتون (36)کو ان کی موت کے بارے میں سوموار دوپہر کو پتہ چلا۔ خاتون کہتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہر کے لیے انصاف چاہیے۔

تفریح

فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے زیورات چوری ہو گئے۔

Published

on

ممبئی میں فلمساز اور فیشن اسٹائلسٹ ریا انیل کپور کے کرائے کے زیورات کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ممبئی کے سہار پولیس اسٹیشن نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کی شکایت کے مطابق ریا کپور کے میک اپ آرٹسٹ کے ہینڈ بیگ سے ₹ 1.35 کروڑ مالیت کی ہیروں سے جڑی بالیاں اس وقت چوری ہوئیں جب وہ نیویارک میں ایک فیشن شو میں جا رہی تھیں۔ بالیاں ممبئی کے مہتا اینڈ گوینکا جیولرز سے کرائے پر لی گئی تھیں۔ ممبئی کے معروف میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ نے گزشتہ سات سالوں سے ریا انیل کپور کے ساتھ کام کیا ہے۔ ریا کپور کو 29 اپریل کو نیویارک میں ہونے والے ’’نیٹ گالا‘‘ فیشن شو ایونٹ میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس کی پوری ٹیم اس کے ساتھ تھی۔

ممبئی کے مہتا جیولرز اور گوینکا جیولرز سے ریا کپور کے ساتھ ان کی میک اپ ٹیم کے ساتھ مہنگی بالیوں کے دو جوڑے کرائے پر لیے گئے تھے۔ سویلین سنگھ نے ان ڈبوں کو اپنے ہینڈ بیگ میں رکھا تھا۔ سبھی نے 27 اپریل کی رات 10:25 بجے ایمریٹس کی پرواز سے ممبئی سے اڑان بھری۔ یہ ٹیم 28 اپریل کی شام 5:30 بجے ممبئی سے نیویارک کے کینیڈی ایئرپورٹ پہنچی۔ وہاں سے سب ہوٹل پیئر نیویارک میں اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔

جب سویلین سنگھ نے ٹیم کی ایک رکن شیریں کو بالیاں دینے کے لیے ڈبوں کو کھولا تو انھیں خالی پایا۔ مہتا جیولرز سے زمرد کے پتھر کی ہیرے کی سونے کی بالیاں، جن کی مالیت 6.6 ملین روپے ہے، اور گوئنکا جیولرز سے زیمبیائی پتھر کی گولڈ بارڈر والی بالیاں، جن کی مالیت ₹6.9 ملین تھی۔ ممبئی واپس آنے پر، سویلین سنگھ نے سہار پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔ پولیس نے چوری کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس نے بتایا کہ میک اپ آرٹسٹ سویلین سنگھ کی شکایت پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کنندہ ریا کپور کی ٹیم کے ساتھ نیویارک جا رہا تھا جب 1.35 کروڑ روپے کی کرائے کی بالیاں چوری ہو گئیں۔ ایئرپورٹ سے ہوٹل تک کی پوری ٹائم لائن کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ ممبئی پولیس اب اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ چوری ممبئی کے ہوائی اڈے پر، فلائٹ میں ہوئی یا نیویارک پہنچنے کے بعد۔

Continue Reading

تفریح

سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں اللو ارجن کو طلب، 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم

Published

on

نامپلی فوجداری عدالت نے سندھیا تھیٹر بھگدڑ کیس میں معروف ٹالی ووڈ اداکار اللو ارجن کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں 22 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

یہ پورا واقعہ 4 دسمبر 2024 کا ہے، جب فلم “پشپا 2: دی رول” کے پریمیئر کے دوران حیدرآباد کے سندھیا تھیٹر میں ایک بڑا ہجوم جمع تھا۔ بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ اس واقعہ نے ریاست بھر میں صدمے کی لہر دوڑادی اور حفاظتی انتظامات پر کئی سوالات کھڑے کردیئے۔

اس معاملے میں کل 23 لوگوں پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، جن میں اللو ارجن کو ملزم نمبر 11 کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

تفتیش کے دوران پولیس نے ابتدائی طور پر تھیٹر انتظامیہ سے وابستہ 10 افراد کو ملزم نامزد کیا۔ کیس میں اداکار کی سیکیورٹی کے لیے تعینات آٹھ باؤنسر بھی شامل تھے۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ تمام ملزمان کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگا۔

4 دسمبر 2024 کو، اللو ارجن پریمیئر شو میں شرکت کے لیے سندھیا تھیٹر پہنچے۔ جیسے ہی ان کی موجودگی کی خبر پھیلی، تھیٹر کے باہر اور اندر ایک بڑا ہجوم جمع ہوگیا۔ ہجوم پر قابو پانے کی کوشش کی گئی لیکن حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گئے اور بھگدڑ مچ گئی۔ اس واقعے کے دوران ایک خاتون، جس کی شناخت ایم ریوتی کے نام سے ہوئی، کی موت ہوگئی، جب کہ اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔

پولیس نے اس معاملے میں سنگین الزامات درج کیے ہیں جن میں قصوروار قتل بھی شامل ہے۔ پولیس کا الزام ہے کہ ہجوم پر قابو پانے اور حفاظتی انتظامات میں لاپرواہی کے باعث حادثہ پیش آیا، اور مختلف سطحوں پر ذمہ داری کا تعین ہونا باقی ہے۔

اس واقعے کے بعد، اللو ارجن کو 13 دسمبر 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد، اسے نامپلی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ تاہم، ان کے وکلاء نے اسی دن ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انہیں عبوری ضمانت دے دی گئی۔ اگلے دن اسے جیل سے رہا کر دیا گیا۔ بعد میں انہیں باقاعدہ ضمانت دے دی گئی۔

تفتیش کے دوران، 24 دسمبر کو اللو ارجن سے پولس نے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ پوچھ گچھ سی سی ٹی وی فوٹیج اور پولیس کی تیار کردہ ویڈیو کی بنیاد پر کی گئی۔

پولیس نے اس معاملے میں کل 23 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی ہے۔

Continue Reading

تفریح

دہلی ہائی کورٹ نے سلمان خان کی درخواست پر سماعت ملتوی، ‘بلیک ہرن’ کیس میں اگلی تاریخ یکم جولائی مقرر کی

Published

on

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان کی طرف سے فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” کی ریلیز پر روک لگانے کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔ عدالت نے اگلی سماعت کی تاریخ یکم جولائی مقرر کی ہے۔

فلم پروڈیوسرز نے عدالت میں کہا کہ انہیں ابھی تک سلمان خان کی جانب سے دائر کی گئی مکمل پٹیشن کی کاپی نہیں ملی۔ انہیں صرف ایک درخواست کی کاپی فراہم کی گئی تھی۔ جسٹس مدھو جین نے سلمان خان کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ درخواست کی مکمل کاپی دوسرے فریق کو فراہم کی جائے۔

اس سے قبل کی سماعت میں عدالت نے فلم کے پروڈیوسر امیت جانی اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کیا تھا۔

یہ سارا تنازعہ فلم “بلیک بک: دی بیٹل فار لیگیسی” سے متعلق ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سلمان خان کے بہت زیر بحث کالے ہرن کے شکار کے کیس پر مبنی ہے۔ سلمان خان کا الزام ہے کہ فلم میں ان کا نام، تصویر اور شخصیت کو بغیر اجازت کے استعمال کیا گیا ہے، جو ان کے ذاتی حقوق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ فلم کے پوسٹر میں ایسے عناصر ہیں جو براہ راست سلمان خان کی عوامی شناخت سے مشابہت رکھتے ہیں، جس کے نتیجے میں فلم کی ریلیز، تشہیر اور یہاں تک کہ ڈیجیٹل اسٹریمنگ پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

سلمان خان نے یہ پٹیشن پروڈیوسر امیت جانی، جانی فائر فاکس فلمز، ڈائریکٹر بھارت شرینے، اکشے پانڈے اور پروجیکٹ سے وابستہ دیگر کے خلاف دائر کی تھی۔

’بلیک بک: بیٹل فار لیگیسی‘ کی پہلی جھلک اور ٹیزر میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار کا نام آیان خان ہے۔ ایان خان کا کردار اداکار کاشف اقبال خان نے ادا کیا ہے۔ سامعین نے اس کی ظاہری شکل، چلنے کا انداز، اور ہر اشارہ سلمان سے ایک حیرت انگیز مشابہت پایا۔ کاشف اقبال خان کو سلمان خان جیسا بریسلٹ پہنے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں

Continue Reading
Advertisement

رجحان