Connect with us
Saturday,07-November-2026

(جنرل (عام

بھیونڈی میں امن و امان کے ساتھ کل 4449 پانچ روزہ گنپتی اور گوری گنپتی کا کیا گیا وسرجن

Published

on

(وفا ناہید)
بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کے ذریعے قائم کئے گئے مختلف وسرجن گھاٹوں پر 3059 پانچ روزہ گنپتی اور 1390 گوری گنپتی سمیت کل 4449 گنپتی کا وسرجن امن و امان کے ساتھ کیا گیا ہے۔ جس میں 3040 پانچ روزہ گھریلو گنپتی اور 19 عوامی گنپتی بیٹھائی گئی تھی۔ اس دوران میونسپل انتظامیہ کے ذریعے وسرجن گھاٹوں پر لائف گارڈ ٹیم ، فائر بریگیڈ ٹیم ، اور میڈیکل ٹیم کے ساتھ پولیس اہلکاروں کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔ حفاظتی نقطۂ نظر سے پرامن طریقے سے وسرجن کرانے کے لئے بھیونڈی زون 2 کے ڈپٹی پولیس کمشنر راجکمار شندے کے ذریعے سخت بندوبست کیا گیا تھا۔ وسرجن گھاٹوں کے قریب متعلقہ پولیس اسٹیشن کی ٹیم کے ذریعے صبح سے ہی مارچ کیا جارہا تھا۔ بھیونڈی شہر پولیس اسٹیشن کے پولیس سب انسپکٹر یوگیش دابھاڑے کی سربراہی میں پولیس کی ٹیم ، ایس آر پی ایف اسٹرائکنگ 2 کے اہلکاروں کے ساتھ دھامنکر ناکا ، ورال دیوی تالاب علاقہ ، پھلے نگر ، کامتگھر ، فینے پاڑا ، مانسروور اور وسرجن گھاٹ علاقے میں صبح 11 بجے سے 12.30 بجے تک مارچ کیا گیا۔ اسی طرح نظامپورہ پولیس اسٹیشن کے پولیس سب انسپکٹر بی جی بھوسارے کی سربراہی میں شیواجی چوک پر پٹرولنگ کی گئی۔ کسی بھی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نا ہو اس کے لئے وسرجن گھاٹوں پر بی ڈی ڈی ایس ٹیم کے ذریعے جانچ کی گئی۔
واضح ہو کہ بھیونڈی میں پانچ روزہ گنپتی اور گوری گنپتی کی وداعی ایک ہی دن کی جاتی ہے۔ جس کے لئے جمعرات کو دیر رات تک گنپتی کا وسرجن کیا گیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے قائم کئے گئے 12 گھاٹوں پر پانچ روزہ گنپتی اور گوری گنپتی کے وسرجن کے انتظامات کئے گئے تھے۔ وسرجن کرنے کے لئے گنیش عقیدت مندوں کو پہلے سے ہی آن لائن وقت دے دیا گیا تھا۔ جس کے تحت بھیونڈی شہر پولیس اسٹیشن کی حدود میں گھاٹوں پر 1000 پانچ روزہ گھریلو اور 6 عوامی گنپتی سمیت مجموعی طور پر 1006 گنپتی کا وسرجن کیا گیا۔ اسی طرح نظامپورہ پولیس اسٹیشن کے حدود میں 1150 گھریلو اور 11 عوامی گنپتی سمیت کل 1161 گنپتی کا وسرجن کیا گیا۔ شانتی نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں 700 گھریلو گنپتی اور 2 عوامی گنپتی سمیت مجموعی طور پر 702 گنپتی کا وسرجن کیا گیا۔ نارپولی پولیس اسٹیشن کے حدود میں 130 گھریلو گنپتی اور 680 گوری گنپتی کا وسرجن کیا گیا ہے۔ کونگاؤں پولیس اسٹیشن کے حدود میں 40 گھریلو گنپتی اور 710 گوری گنپتی کا وسرجن کیا گیا ہے۔
وسرجن گھاٹوں پر میونسپل کارپوریشن کے ذریعے تقریباً 400 افسران اور ملازمین کو تعینات کیا گیا تھا جس میں ہر گھاٹ پر 10 لائف گارڈ ٹیم کے ، 5 فائر بریگیڈ ٹیم کے ملازمین کو تعینات کیا گیا تھا۔ ہر گھاٹ پر گنپتی کے وسرجن کے لئے میونسپل کارپوریشن کے ذریعے ایک کنٹرول روم قائم کیا گیا تھا ، جس میں ایک افسر کے ساتھ 6 ملازمین کو تعینات کیا گیا تھا۔ ہر ایک گھاٹ پر صفائی کے لئے 6 صفائی ملازمین کو تعینات کیا گیا تھا۔ میونسپل کارپوریشن کے ذریعے وسرجن گھاٹوں کے قریب فائر بریگیڈ ٹیم کی گاڑی اور ایمبولینس کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کے ہمراہ میڈیکل ٹیم بھی تعینات کی گئ تھی۔ تمام گھاٹوں پر گنپتی کے وسرجن کے لئے چھوٹی ناؤ (کشتی) اور ربر کے ٹیوب وغیرہ کے انتظامات کرنے کے ساتھ ہی گھاٹوں پر بیریکیٹنگ کی گئی تھی۔ میونسپل کارپوریشن اور پولیس انتظامیہ کی جانب سے مذکورہ انتظامات کئے جانے کے نتیجے میں پرامن طریقے سے وسرجن کیا گیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : کریٹ سومیا کو اب مسلم بچوں کی پیدائش سے بھی اعتراض

Published

on

krit-saumya

ممبئی : ممبئی مسلم بچوں کی شرح ولادت پر بھی اب بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کو اعتراض ہے انہوں نے یہاں شرح پیدائشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوتے ۲۰۵۱ تک مسلمانوں کی آبادی اکثریتی فرقہ یعنی ہندوؤں سے بھی زیادہ ہو گی۔ کریٹ سومیا نے اپنے ایکس پر کہا ہے کہ ہر 3 ہندو بچوں کی پیدائش کے مقابلے میں 2 مسلمان بچے پیدا ہوتے ہیں۔

گزشتہ 5 سالوں میں 336,525 ہندو بچے کی پیدائش ہو ئی ۔ 220,754 مسلمان بچوں کی ولادت ہوئی ہے گزشتہ 5 سالوں میں، ممبئی میں: 336,625 ہندو بچے پیدا ہوئے۔ 220,754 مسلمان بچے پیدا ہوئے۔ کریٹ سومیا نے کہا ہے کہ میں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس سے درخواست کی ہے کہ وہ ایک ‘ڈیموگرافک بیلنس کمیٹی’ (آبادیاتی توازن کمیٹی) تشکیل دیں، تاکہ ممبئی کو “مسلم ممبئی” بننے سے روکا جا سکے ممبئی کو مسلم ممبئی بنانے کی سازش کا الزام بھی کریٹ سومیا نے اپنے ٹویٹ میں عائد کیا ہے اور مسلم بچوں کی ولادت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوتے آبادی پر کنٹرول کے لیے کمیٹی تشکیل کا مطالبہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس سے بھی کیا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی میں کار شوروم میں آگ لگ گئی، کئی گاڑیاں جل کر خاکستر

Published

on

نئی دہلی : حکام کے مطابق، جمعہ کو جنوبی دہلی کے ساکیت علاقے میں واقع ’سیدل اجب‘ (سعید العجب) میں ایک کار شوروم میں شدید آگ لگ گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس آتشزدگی میں کروڑوں روپے مالیت کی کئی گاڑیاں جل کر تباہ ہو گئیں۔ دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کی کئی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں۔ فی الحال ’کولنگ آپریشن‘ (آگ بجھانے کے بعد ٹھنڈا کرنے کا عمل) جاری ہے اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اس سے قبل جمعہ ہی کے روز، دہلی کی ’غفار مارکیٹ‘ میں موبائل لوازمات (موبائل لوازمات) کی ایک دکان میں شدید آگ لگ گئی تھی، جو چار منزلہ تجارتی عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال، جنہوں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا، نے بتایا کہ اس آگ سے تقریباً 20 سے 25 دکانیں متاثر ہوئی ہیں۔

ابھی تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے، البتہ املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ ایک اور بیان میں، بی جے پی رکن پارلیمنٹ کھنڈیلوال نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق آگ آدھی رات کے قریب ایک دکان میں لگی اور تیزی سے کمپلیکس کے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ کھنڈیلوال نے کہا، “…یہاں ایک دکان میں آگ لگی، جو تیزی سے پھیل گئی۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ کوئی بڑا نقصان بھی نہیں ہوا ہے۔ کچھ تاجر اپنا سامان نکالنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔”

بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ یوگیندر چنڈولیا نے بھی اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ دہلی پولیس کے مطابق، کرول باغ پولیس اسٹیشن کو رات 1:28 بجے ’چین والی گلی‘ میں ایک عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع (پی سی آر کال) موصول ہوئی۔ پولیس اسٹیشن کا نائٹ اسٹاف، اسٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچا اور دیکھا کہ غفار مارکیٹ میں ’پوری پلازہ‘ (پوری پلازہ) کی دکان نمبر 13/21 میں آگ لگی ہوئی ہے۔ یہ عمارت ایک چار منزلہ تجارتی مرکز ہے جہاں موبائل لوازمات کا کاروبار ہوتا ہے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق، آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی جہاں موبائل بیٹریاں رکھی ہوئی تھیں، اور پھر یہ عمارت کی تمام منزلوں تک پھیل گئی۔ ہنگامی ٹیموں کی جانب سے آگ بجھانے اور امدادی کارروائیاں شروع کیے جانے کے بعد، موقع پر تقریباً 20 سے 25 فائر ٹینڈرز (آگ بجھانے والی گاڑیاں)، تین ایمبولینسیں اور دو پی سی آر (پی سی آر) گاڑیاں تعینات کی گئیں۔ پولیس نے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے، اور نقصان صرف املاک تک محدود رہا۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ بیٹریوں کا حد سے زیادہ گرم ہونا یا ضرورت سے زیادہ چارج ہونا ہو سکتی ہے، تاہم اصل وجہ کا تعین ہونا ابھی باقی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ماؤنوازوں کے خلاف گڈچرولی پولس کی بڑی کارروائی! پولس آپریشن کے دوران جائے وقوعہ سے مختلف اشیاء اور دھماکہ خیز مواد برآمد کی گئیں

Published

on

Maoists

مہاراشٹر : گڈچرولی ضلع میں اب ماؤ نواز نظریے کا خاتمہ ہو چکا ہے اور یہاں کے شہری بالآخر اس دہشت سے آزاد ہو چکے ہیں جو کبھی ان پر مسلط تھی۔ ماضی میں، ماؤ نواز سکیورٹی فورسز کو دھمکانے اور تخریبی کارروائیاں کرنے کے لیے مختلف ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے تھے۔ وہ ریاستی سرحدوں کے ساتھ واقع دور دراز اور جنگلات سے بھرپور علاقوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، یہ مواد تیار کرتے اور اسے خفیہ طور پر زیر زمین دفن کرتے تھے۔ ان کا مقصد مخصوص مواقع جیسے کہ ‘نکسل ہفتوں’ (Naxal weeks) یا انتخابی عمل کے دوران سکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے اس مواد کا استعمال کرنا تھا۔ اس صورتحال کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے، گڈچرولی پولیس نے 4 نومبر 2026 کو یہ چھپایا گیا مواد کامیابی سے برآمد کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق، گڈچرولی پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ماؤ نوازوں نے ‘تَوے’ (Tavve) کے جنگلی علاقے میں جو گراپٹی پولیس اسٹیشن کی حدود میں آتا ہے دھماکہ خیز مواد چھپا رکھا ہے۔ اس خفیہ اطلاع کی بنیاد پر، گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی ایم رمیش کی رہنمائی میں، 4 نومبر 2026 کو ایک تلاشی آپریشن (سرچ آپریشن) شروع کیا گیا۔ اس آپریشن میں ‘اسپیشل آپریشن اسکواڈ’ (گڈچرولی اور پرانہِتا) کے چار یونٹس اور ‘بم ڈٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ’ (BDDS) کی دو ٹیموں نے حصہ لیا۔ جنگلی علاقے میں ’اسپیشل آپریشن اسکواڈ‘ (SOS) اور ’بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ‘ (BDDS) کی جانب سے چلائے گئے تلاشی آپریشن کے دوران، جائے وقوعہ سے 1) 11 پریشر ککر (جنہیں دھماکہ خیز مواد کے طور پر استعمال کیا جانا تھا)، 2) کورڈٹیکس (Cordtex) تار کے 3 بنڈل (100 فٹ)، 3) 3 کلو گرام بارود، 4) 4 ڈیٹونیٹرز، 5) ایک 12 وولٹ کی بیٹری، 6) آتش بازی میں استعمال ہونے والا 250 گرام بارود، 7) اسٹیل کے 4 کنٹینر، 8) تاروں کے 8 بنڈل، 9) ایک سولر پینل، اور اس کے ساتھ ماؤ نواز (Maoist) سرگرمیوں سے متعلق دیگر سامان برآمد ہوا ۔

یہ آپریشن گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ایس پی ایم رمیش کی ہدایات اور رہنمائی میں کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ یہ کارروائی ایڈیشنل ایس پی (آپریشنز) کارتک مدھیرا، ایڈیشنل ایس پی شری گوکل راج جی، ایڈیشنل ایس پی آہری (پرانہتا) ہرش وردھن بی جے، اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (آپریشنز) سنیل اوئکے کی نگرانی میں انجام دی گئی۔ اس آپریشن میں ’اسپیشل آپریشن اسکواڈ‘ (گڈچرولی اور پرانہتا)، انٹیلی جنس سیل، اور ’بم ڈیٹیکشن اینڈ ڈسپوزل اسکواڈ‘ (BDDS)کے اہلکاروں نے حصہ لیا۔ گڈچرولی کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، ایم رمیش نے اس آپریشن میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی ستائش کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان