Connect with us
Monday,22-June-2026

(جنرل (عام

بھیونڈی : نائیگاؤں کا نامکمل آر سی سی روڈ بنا حادثات کا گڑھ، عوام کو دشواریوں کا سامنا

Published

on

(وفا ناہید )
بھیونڈی کے مختلف علاقوں میں ایم ایم آر ڈی اے کی جانب سے 12 آر سی سی سڑک کی تعمیر کا کام شروع کیا گیا تھا لیکن بیشتر علاقوں میں سڑکوں کا کام مکمل نہیں ہوسکا ہے۔ نامکمل سڑکوں پر جگہ جگہ گڑھے ہونے کے باعث بارش کے دوران آئے دن حادثات بھی پیش ہورہے ہیں جس میں زیادہ تر شکار موٹرسائیکل سوار ہورہے ہیں۔ نامکمل سڑک کی وجہ سے شہریوں سمیت گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے ۔اس ضمن میں بھیونڈی شہر ضلع کانگریس او بی سی سیل کے صدر اننتا پاٹل نے آر سی سی سڑک تعمیر کرنے والے متعلقہ ٹھیکیداروں پر لاپرواہی برتنے کا الزام عائد کیا ہے۔ موصوف نے میونسپل انتظامیہ سے ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ شہر کی سڑکوں کا کام نامکمل ہونے کے پیچھے میونسپل انتظامیہ لاک ڈاؤن کی وجہ بتا رہی ہے۔
واضح ہو کہ ایس ٹی اسٹینڈ سے نائیگاؤں گائتری نگر تک آر سی سی سڑک تعمیر کی جارہی ہے لیکن ایس ٹی اسٹینڈ سے لے کر گائتری نگر تک سڑک کا کام نامکمل پڑا ہوا ہے۔ نامکمل سڑکوں پر بارش کی وجہ سے مختلف مقامات پر گڑھے ہوگئے ہیں ان گڑھوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے گاڑی ڈرائیوروں کو گڑھے نظر نہیں آتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس میں پھسلنے سے آئے دن حادثات رونما ہورہے ہیں۔ کانگریس او بی سی سیل کے صدر اننتا پاٹل نے آر سی سی روڈ کے ٹھیکیداروں پر عدم توجہی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آر سی سی روڈ کی تعمیر میں ناقص درجے کا مواد استعمال کیا جارہا ہے۔ جس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں کی آر سی سی سڑکیں مکمل ہونے سے قبل ہی اس میں دراڑ آنا شروع ہوگیا ہے۔ سڑک کے کنارے نالے کا کام بھی نامکمل ہونے کی وجہ سے بارش کے دوران سڑک پر پانی بھر جارہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے دوران آٹو رکشہ مکمل طور پر بند تھے ، لیکن 4 ماہ بعد آٹو رکشہ شروع ہونے کے بعد اب رکشہ ڈرائیوروں کو گڑھوں کی وجہ سے بھاری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح انمول ہوٹل، فاطمہ نگر روڈ کا کام بھی نامکمل پڑا ہوا ہے۔اننتا پاٹل نے میونسپل کمشنر سے نامکمل سڑکوں کا کام جلد سے جلد پورا کرنے اور سڑک کی تعمیر میں لاپرواہی کرنے والے اور غفلت برتنے والے ٹھیکیداروں کے خلاف کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں میونسپل کارپوریشن کے سٹی انجینئر ایل پی گائیکواڑ نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے شہر میں سڑکوں کی تعمیر کا کام بند کردیا گیا تھا۔ جب سڑکوں پر کام کرنے کی اجازت ملی تو مزدوروں کے مسائل پیدا ہوگئے تھے۔ اس کے باوجود ٹھیکیداروں کے ذریعے سڑکوں کی تعمیر کی گئی نامکمل سڑکوں کا کام بارش کے بعد جلد ہی مکمل کرلیا جائے گا اس طرح کی یقین دہانی موچوف نےکرائی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

قانونِ عبادت گاہ 1991 پر ممبئی میں اہم مذاکرہ، ملک کے مشترکہ ورثے، امن و بھائی چارے اور دستوری اقدار کے تحفظ پر زور

Published

on

ممبئی: مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت بوج شالہ۔ کمال مولا مسجد مقدمے کے تناظر میں سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ممبئی کے تاریخی اسلام جمخانہ، میرین لائنز میں ایک اہم عوامی اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا عنوان “عبادت گاہوں کی قسمت ایکٹ, 1991” رکھا گیا تھا، جس میں ملک کے نامور قانون دانوں، مؤرخین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی دانشوروں نے شرکت کرکے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اس اہم اجلاس کی صدارت معروف مؤرخ، مصنف اور سماجی مفکر پروفیسر ڈاکٹر رام پونیا نی نے کی، جبکہ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ اجلاس میں معروف مؤرخ پروفیسر حسنین رضوی، سینئر ایڈوکیٹ مہیر دیسائی، سپریم کورٹ کے وکیل ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان، فادر فریزر مسکارینہاس (سینٹ زیویئرز کالج)، درگاہ اجمیر شریف کے سجادہ نشین سید سرور چشتی، مولانا زاہد رضا رضوی اور ٹائمز آف انڈیا کے سینئر اسسٹنٹ ایڈیٹر محمد وجیہ الدین سمیت متعدد اہم شخصیات نے خطاب کیا۔

اپنے خطاب میں جسٹس (ریٹائرڈ) اقبال احمد انصاری نے ہندوستانی دستور کی روح، عدالتی توازن اور ملک میں سماجی ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ضرورت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ جبکہ پروفیسر حسنین رضوی نے تاریخی حقائق اور ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی وراثت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ فادر فریزر مسکارینہاس نے مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمہ، بھائی چارہ اور باہمی احترام کو فروغ دینے کا پیغام دیا۔ مقررین نے کہا کہ قانونِ عبادت گاہ 1991 مذہبی مقامات کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے اور ملک میں امن و سکون قائم رکھنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی اصل شناخت اس کی کثرت میں وحدت، رواداری، گنگا جمنی تہذیب اور مشترکہ ورثے میں پوشیدہ ہے، اور اس ورثے کا تحفظ ہر ہندوستانی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پروگرام کا آغاز ایڈوکیٹ سید جلال الدین، قومی صدر سرحدی گاندھی میموریل سوسائٹی کے استقبالیہ خطاب سے ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے انعقاد میں سلطان ملدار (صدر مہاراشٹر) اور ارشد امیر (صدر ممبئی) کی خصوصی کاوشیں قابلِ ستائش رہیں۔ اس موقع پر معروف سماجی کارکن غفار خان صاحب، ایڈیٹر ظفر صدیقی، عثمان خان لالہ سمیت شہر کی ممتاز سماجی، تعلیمی، مذہبی، سیاسی اور تجارتی شخصیات کے علاوہ مختلف سماجی تنظیموں کے ذمہ داران اور عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اجلاس کے اختتام پر ملک میں امن، بھائی چارے، اتحاد، سماجی یکجہتی اور دستوری اقدار کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بیڑ ضلع پرلی میں توحید کا قتل، ملزمین پر مکوکا اور یو اے پی ایس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرنے کا ابوعاصم کا مطالبہ

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر و رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے بیڑ میں توحید قتل کیس کی تحقیقات کےلئے ایس آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے پرلی ضلع بیڑ میں توحید کے قتل کے بعد لاش کو کار سے ۱۵ کلو میٹر فاصلہ پر ایک ریلوے ٹریک پر پھینک دیا گیا تھا ۳۱ مئی کو توحید کا قتل کیا گیا تھااور اسے ریلوے ٹریک پر لاکر پھینک دیا گیا تھا اس قتل کو حادثہ اور خود کشی بتا نے کی کوشش کی گئی تھی توحید کا دودنوں سے کوئی سراغ نہیں ملا تھا جب اہل خانہ پولیس اسٹیشن پہنچے تو توحید کی لاش کی شناخت کی توحیدکے قتل سے قبل ملزمین نے اسے فون بھی کیا تھا اس کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل اور دستیاب بھی ہے۔ ان دونوں ملزمین گورو ویاس اوررشی کیش نے یہ وائرل پیغام میں اعتراف کیا ہے کہ توحید گزشتہ کئی دنوں ان کےلئے درد سر بن گیا تھاتوحید کے قتل پر ہمیں فخر ہے ہم مسجد کو بم سے اڑا دیں گے اس قسم کا تبصرہ بھی ملزمین نے کیا ہے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن اس کے پس پشت سازش کا شبہ ہے کیونکہ بااثر نوجوان۔ توحید کا قتل میں مزید افراد کے ملوث ہونے کا امکان ہے جس طرح سے توحید کے قتل کو انجام دیاگیا اس میں ایک منظم سازش ہے اس لئے اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر اس کی انکوائری ہوہ اور ملزمین کے خلاف مکوکا اور یو اے پی اے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہو تاکہ مزید حقائق سامنے آئے۔ اس معاملہ میں آج مہاراشٹر کے ڈائریکٹر جنرل ڈی جی پی سدا نند داتے سے بھی ابوعاصم اعظمی نے میمورنڈم دے کر اس معاملہ میں ایس آئی ٹی تشکیل دے کر ملزمین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جس کے بعد ڈی جی پی نے ضروری اقدامات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کی بھی یقین دہانی کروائی ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان