Connect with us
Monday,25-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

بھیونڈی میں مہاراشٹر نو نرمان سینا کی جانب سے کووڈ مریضوں کی خدمت کرنے والے ڈاکٹر و اسٹاف کا کیا گیا استقبال

Published

on

(وفاناہید)
بھیونڈی منسے (مہاراشٹر نو نرمان سینا )کے سابق صدر پردیپ بوڈکے نے اپنے کارکنان کے ساتھ آج کوڈ 19خدا بخش ہال جاکر وہاں کے ڈاکٹروں نرسوں اور میڈیکل پیرا میڈیکل سبھی طبی عملے کا استقبال کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں پھول شال پیش کر ان کی حوصلہ افزائی کی. جس سے ڈاکٹروں کو خوشی ہوئی ہے ۔ واضح ہو کہ عام طورپر منسے توڑ پھوڑ والی سرگرمیوں کے حوالےسے جانی جاتی ہے اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی لاپروائی زیادہ بل غیر متوقع اموات کے خلاف پرتشدد احتجاج ومظاہرے کرتی ہے لیکن آج وہی منسے بھیونڈی شہر کے خدا بخش ہال میں جہاں کورونا وائرس کے متاثرین اور ایسے مریض جن میں کورونا وائرس کی علامات پائی جاتی ہیں ان کا علاج ڈاکٹر شمیم انصاری کی نگرانی میں کیا جاتا ہے وہاں جاکر پورے ہاسپٹل عملے کا استقبال کیا اور اس پروگرام کی تفصیلات موصول ہونے پر منسے کے قومی صدر راج ٹھاکرے نے بھی خدا بخش ہال میں کام کرنے والے ڈاکٹروں سمیت سبھی کو مبارک بادپیش کی ہے ۔
اس ضمن میں پردیپ بوڈکے نے بتایا کہ ہمارا ایک کارکن سشیل آوٹے کورونا پوزیٹیو ہوا تو اسے غور وفکر کے بعد خدا بخش ہال میں ایڈمیٹ کرایا گیا اور چند ہی دنوں میں وہ پوری طرح سے صحت یاب ہوکر واپس آیا اور اس کارکن نےمجھ سے ملاقات کی اور بتایا کہ خدا بخش ہال میں
کسی بھی پرائیویٹ اسپتال سے اچھا علاج اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ اس نے کہا کہ نارمل تو سبھی ڈاکٹر تمام مریضوں کے لئے فکر کرتے ہیں مگر کسی مریض کو اگر کوئی ایمرجنسی ہوجائے تو پورا ڈپارٹمنٹ حرکت میں آجاتا ہے اور اسے بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ تقریبا دو ماہ سےجاری کارپوریشن کے اس اسپتال سے سینکڑوں مریض صحتیاب ہوکر اپنے گھر جا چکے ہیں اور آج تک یہاں کوئی موت نہیں ہوئی ۔
منسے کے ڈسچارج کارکن ششیل آوٹے نے بتایا کہ ہم دوسرے مریضوں کے دوا علاج کے لیے اسپتالوں میں جاتے رہتے ہیں ہم نے خدا بخش ہال میں دوران علاج دیکھا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم مریضوں کے ساتھ اپنے فیملی ممبر کی طرح پیش آتے ہیں جیسے مریض ان کے بھائی بہن اور ماں باپ ہوں اس لئے ہم نے سوچا کچھ غلط ہونے پر تو ہم لوگ توڑ پھوڑ کرتے ہیں مگر اتنا اچھا ہورہا ہے تو ان کا استقبال بھی کرنا چاہئے اس لئے میں پردیپ بوڈکے سابق صدر منسے ۔مشتاق شیخ واہتک صدر ۔اجے بھانو شالی وغیرہ نے شال پھول دے کر ڈاکٹر شمیم اور ان کے اسٹاف کا استقبال کیا ۔
خدا بخش اسپتال کے نوڈل افیسر( انچارج )ڈاکٹر شمیم انصاری نے بتایا کہ ہمارا پورا عملہ سرکاری ملازم کے طورپر نہیں شہریوں کی سب سے اہم ضرورت سمجھ کر رات دن کام کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مریض اور ان کے اہل خانہ ہمیں دعاؤں سے نوازتے ہیں یہی باتیں ہمیں حوصلہ دیتی ہیں جو خوش آئند بات ہے ۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان