Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

شادی سے انکار کرنے پر عاشق نے کیا معشوقہ کا قتل، پولیس نے کیا قاتل عاشق کو گرفتار

Published

on

(وفا ناہید)
شادی سے انکار کرنے پر اپنی ہی معشوقہ کو ایک 31 سالہ عاشق نے قتل کردیا. معشوقہ کو گھومنے کے بہانے اپنے ساتھ سنسان علاقے میں لے جاکر اور اس کے گلے میں اوڑھنی سے پھندا لگا کر معشوقہ کو قتل کر دیا۔ قاتل نے کمال ہوشیاری سے قتل کے بعد لاش کو پیڑ سے لٹکا دیا اور اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی. اسے خودکشی کرنے کا معاملہ ظاہر کرنے کی سازش کی پولیس تحقیقات میں تصدیق ہوئی ہے. اس سنسنی خیز قتل کی واردات کے منظر عام پر آتے ہی کہرام مچ گیا۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گووند واڑی، کلیان ویسٹ کا ساکن دیپک جگن ناتھ روپوتے (31) اور متوفی کرن ساؤلے (24) ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے. کرن ساؤلے چندن شیو نگر واڑے گھر گاؤں کلیان ویسٹ کی ساکنہ تھی. مقتول معشوقہ اور عاشق دیپک ان دونوں کی کچھ مہینے قبل ہی جان پہچان ہوئی تھی اور وہ دونوں ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے تھے۔ ملزم دیپک جو کہ رکشا ڈرائیور تھا وہ متوفی کرن سے شادی کرنے کا تقاضہ کرتا تھا۔ لیکن کرن نے شادی کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کی وجہ سے اس نے اپنی معشوقہ کرن کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اسی کے مطابق وہ 9 اگست کے روز کلیان میں گھومنے کے بہانے رکشا میں بیٹھا کر بھیونڈی بائی کے پاس واقع ٹاٹا آمنترا عمارت کے پیچھے جھاڑیوں میں لے گیا۔ وہاں پہنچنے کے بعد دوبارہ اس سے شادی کرنے کے لئے تقاضہ کرنے لگا. اس بات کو لے کر دونوں میں تنازعہ ہو گیا اور اس نے متوفی کرن ساؤلے کو اسی کی اوڑھنی کی مدد سے گلا گھونٹ کر قتل کر دیا اور لاش کو پیڑ پر لٹکانے کے بعد وہ موقع واردات سے فرار ہوگیا۔
مذکورہ معاملے میں کون گاؤں پولیس اسٹیشن نے قاتل عاشق کے خلاف قتل کا معاملہ درج کرلیا ہے. کلیان کرائم برانچ کی ٹیم نے منصوبہ بند طریقے سے جال بچھا کر ڈومبیولی ویسٹ میں واقع دیپک جگن ناتھ روپوتے کو قتل کے الزام میں گرفتار کرکے کون گاؤں پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا ہے۔ تفتیشی افسر پولیس سب انسپکٹر جیون شیرخانے نے ملزم کو اتوار کے روز بھیونڈی کی عدالت میں پیش کیا جسے عدالت نے 20 اگست تک پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ قتل کی واردات کی اطلاع 3 دن کے بعد مقامی کون گاؤں پولیس اسٹیشن کو موصول ہوتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور پنچنامہ کرکے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لئے سرکاری اسپتال میں بھیج دیا تھا. واضح رہے کہ پولیس نے حادثاتی موت کا معاملہ 12 اگست کو ہی درج کرلیا تھا۔ جس کے مطابق کرائم برانچ کی ٹیم نے کون گاؤں پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا تھا کہ 12 اگست کی سہ پہر ممبئی ناسک شاہراہ پر ٹاٹا آمنترا عمارت کے پیچھے مرکزی گیٹ سے 50 میٹر کے فاصلے پر جھاڑی میں ایک نامعلوم خاتون کی لاش ایک چھوٹے سے پیڑ پر جھولتی ہوئی ملی تھی. لاش کے گلے میں دوپٹے سے پھندا لگا کر اسے خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ مذکورہ معاملے میں بھیونڈی کونگاؤں پولیس اسٹیشن نے حادثاتی موت کا معاملہ درج کرلیا تھا۔ اسی اثناء میں متوفی لڑکی نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ اس کا قتل کیا گیا ہے اس طرح کی تصدیق پوسٹ مارٹم کی میڈیکل رپورٹ سے ہوئی ۔ جس کے بعد کلیان کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر سنجو جان کو خفیہ مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ بھیونڈی بائی پاس پر واقع ٹاٹا آمنترا عمارت کے پیچھے جھاڑی میں ایک لڑکی کو اس کے عاشق نے قتل کردیا ہے اور وہ شخص ڈومبیولی مغرب علاقے میں گھوم رہا ہے ۔ اس اطلاع کے ملتے ہی سینئر پولیس انسپکٹر سنجو جان نے فوری طور پر اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر بھوشن دائما ، پولیس سب انسپکٹر نتن مدگن ، پولیس حوالدار دتا رام بھونسلے ، کو آگے کی کاروائی کرنے کے لئے رہنمائی کرتے ہوئے حکم دیا۔جس کے مطابق سینئر پولیس انسپکٹر سنجو جان کی رہنمائی میں ، اسسٹنٹ پولیس انسپکٹر بھوشن دائما ، پولیس سب انسپکٹر نتن مدگن ، پولیس حوالدار دتارام بھونسلے ، راجیندر گھولپ ، راجیندر کھلارے ، منگیش شرکے ، اجیت راجپوت ، سریش نیکولے ، بالا پاٹل ، ہریچندر بنگارا ، راہل ایشی پر مشتمل ٹیم نے ڈومبیولی مغربی علاقے واقع پہنچ کر ریلوے اسٹیشن کمپلیکس ، گپتے روڑ ، باگ شالہ میدان کمپلیکس میں قاتل کو تلاش کیا۔ آخر میں کوپر پل کے پاس ایک شخص گھوم رہا ہے اس طرح کی اطلاع موصول ہوئی۔ پولس کے مطابق وہ مشکوک حالت میں گھومتے ہوئے پایا گیا اور پولیس کو دیکھتے ہی فرار ہونے کی کوشش کرنے لگا۔ پولیس کی ٹیم نے اس کا تعاقب کرکے اسے پکڑ لیا اور اسے حراست میں لے کر جب اس سے سختی کے ساتھ پوچھ تاچھ کی گئی تو اس نے اپنا نام دیپک جگن ناتھ روپوتے بتایا۔ پولیس نے اسے حراست میں لے لیا اور مزید تفتیش کے بعد اس نے اعتراف جرم کیا کہ اس نے اپنی معشوقہ کرن کو جو شادی سے انکار کر رہی تھی اس وجہ سے اس کا قتل کر دیا ہے اس طرح قاتل کے اقبال جرم کے بعد ولد بے اسے حراست میں لے لیا ۔ اس قتل کی تفصیلات کلیان کرائم برانچ کے پولیس افسران نے فراہم کی ہے۔ خصوصی طور پر اس قتل کا کوئی سراغ نہیں ہونے کے باوجود بھی اتنی جلد اس کیس کو حل کرکے قاتل کو گرفتار کرنے پر کرائم برانچ یونٹ 3 کلیان پولیس کا سینیئر پولیس افسران کی جانب سے خوب سراہنا کی جارہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان