Connect with us
Saturday,12-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

مالیگاؤں کے سابق میئر حاجی نجم الدین کجھور والے کا انتقال

Published

on

(خیال اثر )
آج تحریروں اور شوشل میڈیا کے ذریعے شہر میں یہ خبر پھیلی کہ سابق میئر حاجی نجم الدین کجھور والے اس دار فانی سے کوچ کرگئے.
اس روح فرسا خبر نے شہر کو عالم حیرانی میں ڈال دیا کہ چند دنوں پہلے ہی تو ان کی علالت کی خبریں شہر میں گردش کررہی تھیں. علاج و معالجہ کے لئے ان کے اہل خانہ نے ممبئی تک سفر کیا لیکن دوران علاج ہی وہ انتقال کر گئے. ان کی میت مالیگاؤں لے کر آنے کے بعد یہاں کے بڑا قبرستان میں بعد نماز ظہر تدفین کی گئی. جلوس جنازہ میں ہر مکتب فکر کے ہزارہا افراد شریک نے شریک رہتے ہوئے ان سے چاہت کا ثبوت دیا. مہاراشٹر اور مدھیہ پردیس کی سرحد پر واقع ایک چھوٹے سے دیہات “راویر “سے ایک انتہائی سیدھا سادھا شخص تلاش معاش کے سلسلے میں اپنے پیروں سے سفر باندھے ہوئے جب مالیگاؤں پہنچا تو وہ یہیں سکونت پذیر ہو گیا. اس شخص کی محنت کشی اور جنوں طرازی میں انتہائی نچلی سطح سے اپنی زندگی کا آغاز کیا. میونسپل اسکولوں کے باہر بچوں کی پسندیدہ چیزیں ٹھیلہ گاڑیوں پر فروخت کرتے ہوئے اس کی قسمت کا ستارہ اوج پر پہنچا. سادگی پسند اور حلیم الطبع شخصیت کا نام نجم الدین تھا. قسمت بدلتے ہی انھوں نے انناس اور کجھوروں کی تجارت شروع کی. دونوں کاروبار انھیں راس آئے اور جلد ہی ان کا شمار کھجور اور انناس کے تاجروں میں ہونے لگا. سادگی پسند نجم الدین کی تجارت کا اصول ایمانداری پر محیط تھا جس میں انھیں عالم غیب سے تعاون ملتا گیا. اس دوران انھوں نے حج کی سعادت بھی حاصل کی اور اس طرح ان کے نام کے ساتھ لفظ حاجی بھی چسپاں ہو گیا. راویر سے آنے والے اس شخص کی شناخت شہر اور قرب و جوار میں حاجی نجم الدین کجھور والا کے نام سے ہونے لگی. ان کی زندگی کے انداز وقت کے ساتھ ساتھ بدلتے گئے لیکن ان کی سادگی اور ملنساری میں کوئی فرق نہیں آیا. ابتدائی ایام کے دوستوں خصوصاً رحمان ہوٹل والے سے روز بروز ان کی ملاقاتیں جاری رہیں جس میں یہ گھنٹوں بیٹھے ایک دوسرے سے محو گفتگو رہا کرتے تھے. بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ جب اصلاح سیاست کے علمبرداروں نے بیت المال کی حفاظت کا نعرہ لگا کر عملی سیاست میں اپنے قدم رکھے تو میونسپل کارپوریشن الیکشن میں زبردستی انھیں اس خار زار میں کھینچ لایا گیا. اہالیان محلہ نے انھیں کثیر ووٹوں سے کامیاب بھی کیا. اصلاح سیاست کے علمبرداروں نے جب زمام اقتدار اپنے قبضے میں رکھنا چاہا تو خطیر روپیہ خرچ کرنے کے لئے کوئی تیار نہیں ہوا ایسے نامسائد حالات میں بصد اصرار حاجی نجم الدین کو صلیب کی زینت بنا دیا گیا. اقتدار سنبھالنے کے بعد حاجی نجم الدین کو یہ احساس ہوا کہ یہ تو وہ دلدل ہے جس میں قدم رکھتے ہی آدمی گردن تک پھنس جاتا ہے اور کناروں سے کوئی مدد کرنے والا بھی نا ہی ہاتھ بڑھاتا ہی نا ہی کوئی سہارا دیتا ہے حالانکہ سیاست خصوصاً میونسپل سیاست سے نابلد حاجی نجم الدین کا کروڑوں روپیہ اقتدار کا تاج پہننے میں خرچ ہوگیا جس کی واپسی کے لئے کہیں سے کوئی سبیل نظر نہیں آتی تھی حالانکہ اس کڑے وقت میں سابق صدربلدیہ حاجی یونس عیسی نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے کروڑوں نا سہی لیکن کچھ نہ کچھ تو سہارا دیا. مالیگاؤں کارپوریشن کے میئر بننے کے بعد بھی حاجی نجم الدین سادگی و ملنساری کے وہی پیکر رہے جو ان کا وطیرہ خاص تھا.
ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے کے لئے مرکزی حکومت کی گھرکل یوجنا کی اسکیم جب مالیگاؤں کے لئے بھی مختص کی گئی تو حاجی نجم الدین نے میئر کے تخت پر براجمان تھے اس وقت کے کمشنر سدھیر روات کو سیاست کے چکریو میں الجھایا گیا تو یہ اسکیم خطرے میں پڑ گئی تھی کیونکہ دوسرے دن انھیں دہلی پہنچ کر سارے کاغذات اور لائحہ عمل مرکزی حکومت کے محمکہ تعمیرات میں داخل کرنا انتہائی ضروری تھی ورنہ یہ اسکیم مالیگاؤں کے دامن سے بالکل اسی طرح چھن جاتی جیسے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی شاخ مالیگاؤں کی مٹھیوں سے چھین کر اورنگ آباد کی گود میں ڈال دی گئی.
آج ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد رکھنے میں حاجی نجم الدین کی سب سے بڑی قربانی رہی ہے حالانکہ بیشتر سیاست دانوں نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اس کی بنیاد گزاری خود سے منسوب کرنا چاہی لیکن تاریخ شاہد رہے گی کہ ایک نئے مالیگاؤں کی بنیاد گزاری میں حاجی نجم الدین کی قربانیاں اظہر من الشمس تھیں اور ہمیشہ رہیں گے. آج جب کہ حاجی نجم الدین اس دنیا میں نہیں رہے اصلاح سیاست اور بیت المال کی حفاظت کا نعرہ لگانے والوں کو اس کا احساس ضرور ہوگا کہ ہم نے ایک دیانتدار اور سادگی پسند, ملنسار انسان دوست کو کھو دیا ہے جس کا ثانی ملنا آج بلکہ آنے والے وقتوں میں بھی ناممکن ہے. مرحوم حاجی نجم الدین تم تاریخ کے صفحات پر سنہرے لفظوں میں یاد کئے جاؤ گے. آج نہیں تو کل شہر اور اہالیان سیاست کو اس عظیم خسارے کا ضرور احساس ہوگا اور بے حس سیاست داں ضرور بہ ضرور حاجی نجم الدین کی لحد پر پھولوں کی سوغات لئے پہنچں گے .

ممبئی پریس خصوصی خبر

دہیسر-بھائیندر لنک روڈ پر تعمیری کاموں کا ہدف دسمبر 2028 مقرر، ایڈیشنل میونسپل کمشنر نے کیا سائٹ کا معائنہ

Published

on

ممبئی میٹروپولیٹن علاقے میں ٹریفک کے رش کو کم کرنے اور سفر کو رواں اور آسان بنانے کے لیے، ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سئ ) نے ‘ممبئی کوسٹل روڈ (نارتھ)’ نامی ایک اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔ تقریباً 60 کلومیٹر پر محیط اس میگا پروجیکٹ جس میں انٹرچینجز اور لنک روڈز شامل ہیں اس کا مقصد ساحلی راستے کے ذریعے ورسوا اور بھائیندر کے علاقوں کو آپس میں جوڑنا ہے۔ تعمیراتی کام کو سات پیکجز میں تقسیم کیا گیا ہے : پیکجزاے، بی، سی، ڈی، ای، ایف اور دہیسر-بھائیندر لنک روڈ (ڈی بی ایل آر
)۔ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے میرا-بھائیندر میونسپل کارپوریشن کی حدود میں واقع بھائیندر انٹرچینج سائٹ (جو دہیسر-بھایاندر لنک روڈ/پیکیج 7 کا حصہ ہے) کا دورہ اور معائنہ کیا۔ انہوں نے دورے کے دوران ضروری ہدایات بھی جاری کیں۔ دہیسربھائیندر لنک روڈ ممبئی اور میرا بھائیندر خطوں کے لیے ایک انتہائی اہم منصوبہ ہے اور فی الحال اس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔ یہ دہیسر ویسٹ اور بھائیندر ویسٹ کے درمیان سڑک کا براہ راست اور تیز رفتار رابطہ قائم کرے گا۔ اس روڈ پروجیکٹ کی کل لمبائی تقریباً 5.135 کلومیٹر ہے۔ اس منصوبے میں انجینئرنگ کے مختلف ڈھانچے شامل ہیں، جن میں ایلیویٹڈ روڈز (اونچے راستے)، مینگروو کے علاقوں میں ستونوں پر کھڑی سڑکیں، کھاڑیوں (کریکس) کے اوپر اونچے ڈھانچے، نمک کی کیاریوں (نمک کے کھیت) کے اوپر ایلیویٹڈ کوریڈورز، ٹریفک کی تقسیم کے لیے رابطہ سڑکیں اور انٹرچینجز، اور فلائی اوورز شامل ہیں۔

دہیسر-بھائیندر لنک روڈ پروجیکٹ کی مرکزی ایلیویٹڈ روڈ—جو تقریباً 3.83 کلومیٹر لمبی اور 45 میٹر چوڑی ہے—ممبئی کوسٹل روڈ (نارتھ) کے آخری حصے کے طور پر کام کرے گی۔ جناب بانگر نے سائٹ کا دورہ کیا اور ابتدائی کاموں کا جائزہ لیا۔ فی الحال، گیبیئن وال (گیبین وال) کی باڑ لگانے کا کام جاری ہے۔ اس کے علاوہ، پائلنگ (گہری بنیاد) اور پائل کیپس کی تعمیر کا کام بھی پیش رفت کے مراحل میں ہے۔ منصوبے کے کئی حصے پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں، جن میں 60 پائلز (پائلز)، 5 پائل کیپس (پائل کیپس)، پل کے 4 ستون (پیئرز)، پیئر کیپس اور پل کا نواں حصہ شامل ہیں۔ جائے وقوعہ پر جدید ترین مشینری موجود ہے اور آمدورفت کے لیے ایک عارضی پل کا نظام بھی فعال ہے۔ ‘لانچنگ گرڈر’ (لانچنگ گرڈر) سے متعلق کام اکتوبر کے دوسرے ہفتے میں شروع ہونا طے پایا ہے؛ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (پروجیکٹس) ابھیجیت بانگر نے اس حوالے سے تفصیلی معلومات کا جائزہ لیا۔ بانگر نے منصوبے کے لیے درکار اراضی کے حصول کے عمل کو تیز کرنے اور اس سلسلے میں ترجیحی فہرست تیار کرنے کی ہدایات دیں۔ انہوں نے میرابھائندر میونسپل کارپوریشن اور دیگر متعلقہ حکام کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ حفاظت سے متعلق معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پی ایس) کی سختی سے پابندی کی جائے، تعمیراتی کام کے دوران جائے وقوعہ پر مناسب رکاوٹیں (بیریکیڈنگ) لگائی جائیں، اور کام اعلیٰ معیار کے ساتھ مقررہ وقت پر مکمل کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد اس مقصد کے ساتھ کیا جائے کہ یہ منصوبہ دسمبر 2028 تک مکمل ہو جائے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر (انفراسٹرکچر) شری گریش نکم اور ڈپٹی چیف انجینئر (ممبئی کوسٹل روڈ – نارتھ) ویبھو گاندھی، متعلقہ انجینئرز اور کنسلٹنٹس کے ہمراہ موجود تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

30 برسوں بعد قانون کے شکنجے میں تین دہائیوں سے مطلوب ملزم کا ممبئی پولیس نے سراغ لگایا، سمتا نگر اور ڈنڈوشی پولیس اسٹیشن کی قابل ذکر کارکردگی

Published

on

Police

ممبئی : سنگین جرم کا ارتکاب کر تقریباً تین دہائیوں تک قانونی کارروائی سے دور رہنے والے دو ملزمان کا سراغ لگانے میں ممبئی پولیس کے شمالی زون ۳ کے تحت سمتا نگر اور ڈنڈوشی پولیس اسٹیشن کو بڑی کامیابی ملی ہے۔ روایتی پولیس تفتیش، مقامی سطح پر باریک بینی سے پوچھ تاچھ، خفیہ معلومات نیز دستیاب تکنیکی وسائل کا موثر استعمال کرکے بالترتیب 29 اور تقریباً 30 برسوں سے فرار ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ 29 سال کا مفرور و مطلوب ملزم سمتا نگر پولیس کی کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔ سمتا نگر پولیس اسٹیشن347/1997، دفعہ 363, 366, 376 تعزیری جرم تحت ملزم سوکن شیوساگر وشوکرما، عمر 53 سال یہ مقدمہ درج ہونے سے تقریباً 29 سال سے فرار تھا عدالت نے اسے فرار قرار دیا تھا۔ سمتا نگر پولیس نے ملزم کے پرانے پتوں سے نئے سرے سے تفتیش کی کڑیاں ملی۔ اس کے ممکنہ ٹھکانے، رابطے نیز دیگر دستیاب معلومات کی چھان بین کرکے خفیہ مخبروں کے ذریعے معلومات جمع کی گئیں۔ دستیاب تکنیکی معلومات کا تجزیہ کرکے ملزم کا مسلسل تعاقب کیا گیا۔ آخر کار ملزم جیوالا پاڑہ، ٹھاکر ولیج، کاندیولی (مشرق)، ممبئی یہاں ہونے کی قابل اعتماد معلومات حاصل ہوئی۔ اس کے مطابق ٹیم نے منصوبہ بند کارروائی کرکے تاریخ ۳ ستمبر کو اسے مہارت سے حراست میں لیا اور تقریباً 29 سال بعد مذکورہ مقدمے میں گرفتار کیا, گرفتار ملزم کا نام و پتہ سوکن شیوساگر وشوکرما، عمر 53 سال، رہنے والا جیوالا پاڑہ، ٹھاکر ولیج، کانڈیولی (مشرق)، ممبئی ہے مذکورہ کارروائی میں سمتا نگر پولیس اسٹیشن کے پولیس سب انسپکٹر انکش گائیکواڈ، پولیس سب انسپکٹر بھیمیش کوٹلہ،نے انجام دی ہے۔

تین دہائیوں کے بعد ملزم کا سراغ ڈنڈوشی پولیس کی محنت ڈنڈوشی پولیس اسٹیشن یہاں 146/1995، دفعہ 376(1) تعزیری کے تحت ملزم محمد مصطفی سید، عمر 48 سال کا تقریباً 30 سال سے تلاش جاری تھا۔ جرم کے وقت وہ قانون سے متصادم تھا۔ اس کے خلاف جووینائل کورٹ، ڈونگری، ممبئی نے سرچ وارنٹ جاری کیا تھا۔ ڈنڈوشی پولیس نے ملزم کے رہائشی بہرام پاڑہ، باندرہ مشرق احاطے میں مسلسل چار دن انتہائی باریک بینی سے سرچ مہم چلائی۔ احاطہ گنجان آبادی اور جھونپڑ پٹی طرز کا ہونے کی وجہ سے ملزم کی شناخت یقینی کرنا چیلنجنگ تھا۔ تاہم، ٹیم نے مقامی پرانے رہائشی، پڑوسی، دکاندار، کارخانہ دار، مالک نیز احاطے کے مدرسہ اور مسجد کے متعلقہ افراد سے براہ راست پوچھ تاچھ کی۔ دستیاب ریکارڈ، ووٹر لسٹ اور دیگر مقامی ذرائع سے ملی معلومات کی چھان بین کرکے ممکنہ ٹھکانوں کی تلاش کی گئی۔ انتھک کوششوں کے بعد متعلقہ ملزم کی شناخت یقینی کرکے اس کو حراست میں لیا گیا اور جووینائل کورٹ، ڈونگری، ممبئی کے سامنے پیش کیا گیا۔ گرفتار ملزم کا نام و پتہ محمد مصطفی سید، عمر 48 سال، رہنے والا ڈی/1/70، لکڑی والا گلی، بہرام پاڑہ، باندرہ (مشرق)، ممبئی ہے. اس سرچ مہم میں ڈنڈوشی پولیس اسٹیشن کے پولیس حوالدار گھوگے، پولیس سپاہی پاٹل اور خاتون پولیس سپاہی سونونے نے قابل ذکر کارکردگی دکھائی۔ سنگین جرم میں مطلوب طویل عرصہ فرار رہنے سے ملزم قانون کے شکنجے سے مستقل طور پر بچ نہیں سکتا، یہ ان دونوں کارروائیوں سے واضح ہوا ہے۔ مقامی سطح پر باریک بینی سے پوچھ تاچھ، روایتی پولیس تفتیش کا طریقہ، خفیہ مخبروں کا جال اور دستیاب تکنیکی معلومات کا موثر استعمال کے ہم آہنگی سے کئی سالوں سے فرار ملزم کا سراغ لگانا ممکن ہوا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں “ایم-ڈی” اور “ایم-ڈی-ایم-اے پلس” منشیات کی اسمگلنگ کرنے والا ملزم گرفتار

Published

on

ممبئی : انٹی نارکوٹکس سیل اے این سی نے ایم ڈی اسمگلنگ کرنے والے منشیات فروش کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ دفعہ 8 (سی) 22 (سی) این-ڈی-پی-ایس کے تحت ملزم لو گرفتار کیا ہے۔ جوگیشوری سے کاروائی کے دوران ملزم مشتبہ حالت میں پایا گیا, اسکے قبضے سے کل 2.04 گرام وزنی 3 “ایم-ڈی-ایم-اے گولیاں” یہ منشیات (اندازہ قیمت روپے 88,000/-)، کل 417 گرام وزنی “ایم-ڈی” یہ منشیات (اندازہ قیمت روپے 01 ممبئی : انٹی نارکوٹکس سیل اے این سی نے ایم ڈی اسمگلنگ کرنے والے منشیات فروش کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ دفعہ 8 (سی) 22 (سی) این-ڈی-پی-ایس کے تحت ملزم لو گرفتار کیا ہے۔ جوگیشوری سے کاروائی کے دوران ملزم مشتبہ حالت میں پایا گیا اسکے قبضے سے کل ,25,10,000/-)، بھارتی کرنسی کے 500 روپے کے کل 50 نوٹ (کل نقد رقم روپے 25,000/-)، ایک استعمال شدہ ایپل کمپنی کا آئی فون 15 (اندازہ قیمت روپے 20,000/-)، کل اندازہ قیمت روپے 01,26,43,000/- برآمد کیا گیا ہے۔ کرائم برانچ کے اے این سی دستے کی آزاد میدان یونٹ کی ٹیم ۱۱ ستمبر کو جوگیشوری احاطے میں گشت کر رہی تھی, اس دوران ایک شخص اپنے رہائشی گھر سے منشیات کی فروخت کر رہا ہے اس بارے میں قابل اعتماد خبر حاصل ہوئی۔ اس کے مطابق اے این سی دستے کی آزاد میدان یونٹ ٹیم نے مذکورہ شخص کے رہائشی گھر پر چھاپہ مارا تو مذکورہ کارروائی میں مندرجہ ذیل بیان کردہ مقدمے کا مال برآمد کیا گیا ہے۔

مذکورہ شخص کی جسمانی تلاشی میں برآمدہ مقدمے کا مال :
1) کل 2.04 گرام وزنی 3 “ایم-ڈی-ایم-اے گولیاں” یہ منشیات (اندازہ قیمت روپے 88,000/-)
2) 210 گرام وزنی “ایم-ڈی” یہ منشیات (اندازہ قیمت روپے 63,00,000/-)
3) ایک استعمال شدہ ایپل کمپنی کا آئی فون 15 (اندازہ قیمت 20,000/-) مذکورہ شخص کے گھر کی تلاشی میں برآمدہ مقدمے کا مال
4) 207 گرام وزنی “ایم ڈی” یہ منشیات (اندازہ قیمت روپے 62,10,000/-)
5) بھارتی کرنسی کے 500 روپے کے کل 50 نوٹ (کل نقد رقم روپے 25,000/-)

کل برآمدہ مقدمے کے مال کی اندازہ قیمت روپے 01,26,43,000/ مذکورہ شخص کے خلاف اے این سی دستہ، آزاد میدان یونٹ نے گناہ نمبر 85/2026، دفعہ 8 (سی) 21 (سی) این ڈی پی ایس قانون 1985 کے تحت مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی دیوین بھارتی، پولیس کمشنرممبئی، انیل کنبھارے، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم)،کرشن کانت اپادھیائے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم)، پورنیما چوگلے شرنگی، پولیس ڈپٹی کمشنر، اے این سی دستہ، کرائم برانچ نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان