Connect with us
Sunday,09-August-2026

جرم

کرناٹک کے رائچور میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کا بہیمانہ قتل محبت کی شادی کا شاخسانہ

Published

on

کرائم اسٹوری : وفا ناہید
رائچور : محبت کو محبت سے ضرب دیا جائے تو محبت ہی ملتی ہے, لیکن اگر اسی محبت کو محبت سے تقسیم کیا جائے تو صفر حاصل ہوتا ہے اور یہ صفر محبت کا قاتل ہوتا ہے. اسی لئے کہا گیا ہے کہ محبت میں جمع یا ضرب کرو مگر تقسیم مت کرو. نئے دور کی یہ محبت آنکھوں سے شروع ہوکر جسم پر ختم ہوتی ہے. جسے محبت نہ کہہ کر ہوس کہا جاسکتا ہے. مگر نئی نسل نے اسے محبت کا نام دے کر محبت کو بدنام کردیا ہے. اب تو آٹے میں نمک کے برابر ہی محبت لوگوں کے دلوں میں باقی ہے. ورنہ تو بس ہر جگہ ہوس نے اپنا قبضہ جمارکھا ہے. ایسے پرفتن دور میں اگر واقعی کوئی سچی محبت کریں اور اسے نبھا جائے تو یہ انکشاف کافی حیرت انگیز ہوتا ہے مگر اس محبت کو اگر زمانے کی نظر لگ جائے تو اپنے ہی اس محبت کے دشمن بن جاتے ہیں اور اسے صفحہ ہستی سے مٹادیتے ہیں. ایسا ہی ایک دل دہلانے والا واقعہ کرناٹک کے رائچور ضلع میں رونما ہوا. جہاں عشق کرکے شادی کرنے پر لڑکی والوں نے 5 لوگوں کو بری طرح موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس واردات کی تفصیلات ضلع ایس پی ڈاکٹر سی بی وید مورتی نے میڈیا کو دی۔ بتایا جارہا ہے کہ عشق کرکے شادی کرنے پر لڑکی والوں نے لڑکے والوں کے 5 افراد کا پیمانہ قتل کردیا ہے۔ یہ واقعہ ضلع کے سندھنور ٹاؤن کے سونکالاپیٹھ میں پیش آیا۔ اس حملے میں دیگر 2 افراد بھی بری طرح زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو مقامی سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ مہلوکین میں 36 سالہ ناگراج، 55 سالہ سمترا، 30 سالہ سری دیوی، 65 سالہ ایرپا اور 40 سالہ ہنومنتوشامل ہیں۔ اسی طرح زخمی 20 سالہ ریوتی اور 25 سالہ تائی اماں کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ پولیس نے ملزمین امبنا، لڑکی کے والد فقیرپا، ریکھا، سوم شیکھر اور گنگماں کو گرفتارکرلیا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ 9 مہینے قبل مونیش اور منجولا نامی جوڑے کی شادی ہوئی تھی۔ لیکن منجولا کے افراد خاندان اس شادی سے متفق نہیں تھے۔ ایک ہی محلہ میں گھر ہونے کی وجہ سے شادی کے بعد دونوں خاندانوں میں اکثر جھگڑے ہوا کرتے تھے۔ لیکن گزشتہ سنیچرکی شام دونوں خاندانوں کے درمیان پھر ایک بار جھگڑا ہوگیا۔ جھگڑا اتنا بڑھ گیا کہ منجولا کے گھر والوں نے تیز دھار مہلک ہتھیاروں اور ڈنڈوں سے حملہ کردیا۔ حملہ کے بعد جائے واقعہ پر ہی چار لوگوں کی موت ہوئی جبکہ علاج کے دوران 65 سالہ ایرپا نے دم توڑ دیا۔ اعلیٰ پولیس حکام نے جائے وقوع پر پہنچ کر مقامی لوگوں سے پوچھ تاچھ کی۔ بعد میں مقامی پولیس اسٹیشن میں ایک معاملہ درج کیا گیا ۔ پولیس مختلف زاویوں سے معاملہ کی تحقیقات کررہی ہے۔ واقعہ کے بعد سندھنور ٹاؤن کے لوگوں میں خوف ودہشت کی لہر دیکھی جارہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان