Connect with us
Thursday,09-April-2026

سیاست

چین بات چیت کی زبان نہیں سمجھتا: کانگریس

Published

on

کانگریس نے کہا ہے کہ اب تک کے تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ چین کو باہمی بات چیت اور امن کی زبان سمجھ میں نہيں آتی اور وہ صرف طاقت اور جارحیت کی زبان سمجھتا ہے، اس لیے اسی کی زبان میں اسے جواب دیا جانا چاہیئے۔
کانگریس کے ترجمان منیش تیواری اور گورو گوگوئی نے بدھ کے روز یہاں پریس کانفرنس میں کہا کہ اس سے پہلے بھی کئی بار دیکھا گیا ہے کہ جب بھی چین نے سرحد پر کشیدگی کی فضا پیدا کی، تو ہندوستان نے امن کی بحالی کی کوشش کرتے ہوئے اس سے بات چیت کی پہل کی۔ لیکن اس نے اس پہل کا جواب جارحیت سے دیا ہے۔ چین کے ساتھ اس تجربے سے ایسا لگتا ہے کہ وہ صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے اور ہندوستان اگر اسے طاقت دکھاتا ہے تو وہ سب کچھ سمجھ جائے گا۔
مسٹر گورو گوگوئی نے کہا کہ چین امن کی بات بالکل نہیں سمجھتا ہے۔ لداخ کی جھڑپ سے پہلے متعدد مواقع پر اس کی جارحیت کو روکنے کے لئے بات چیت کی کوششیں کی گئیں، لیکن وہ اس کوشش کو سمجھ نہیں پائے۔ اس لیے اسے طاقت کی زبان میں ہی جواب دیا جانا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ خیال رکھنا چاہئے کہ اروناچل پردیش اور لداخ کو دوسرا ڈوکلام نہیں بننے دینا ہے۔ چین نے ڈوکلام میں اپنے فوجی اڈے کو مضبوط کیا ہے اور یہ صورتحال چین کی سرحد پر کسی دوسری جگہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ اس سے ہمیں ہی نقصان ہوگا۔ چین پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، لیکن مشکل یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ملک کی حفاظت سے قطع نظر صرف اپنی شبیہ بنانے میں مصروف ہیں اور انہیں سرحد پر دراندازی سے کوئی دقت نظر نہیں آتی ہے۔
کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ چینی فوج نے ہندوستانی سرزمین پر قبضہ کیا ہے لیکن مودی حکومت اسی کی زبان بولتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “کانگریس پارٹی اس حکومت کی مذمت کرتی ہے جو فوج کے پیچھے چھپی ہوئی ہے اور کوئی جواب نہیں دے رہی ہے۔ چین نے ہماری سرزمین پر قبضہ کر لیا ہے اور حکومت کچھ نہیں کہہ رہی ہے اور اس کے برعکس اپوزیشن پر ہی فوج کے حوصلے پست کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : او بی سی لیڈر شبیر انصاری نے چھوٹا سونا پور قبرستان کی جگہ کو آزاد کروایا، مولانا معین میاں کا تعزیتی نشست میں دعوی! چھگن بھجبل نے کہا مسلم پسماندہ طبقات کے لیے ایک بڑا نقصان

Published

on

Shabbir-Ahmed-Ansari

ممبئی : ممبئی سنی مسلم چھوٹا قبرستان میں کرپشن بدعنوانی منی ایس بی یو ٹی اس عام کرنے والی شخصیت کا نام شبیر انصاری ہے۔ اس پر ایک ذمہ دار ادارہ کے رکن اور وقف بورڈ کے رکن نے ساز باز کر کے بلڈرکے ہاتھ قطعہ اراضی کو فروخت کرنے کی سازش کی تھی اس کو افشا شبیر انصاری نے کیا جس وقت شبیر انصاری نے اوقاف تحریک شروع کی تھی تو شبیر احمد انصاری کے خلاف کیس درج کیا گیا, اس میں انڈرورلڈ اور سفید پوشوں نے وقف کی املاک میں خرد برد کرنے کی سازش رچی تھی۔ ٹرسٹ میں ایک بلڈر کو شامل کیا گیا تھا اور یہ کام کوئی اور نہیں بلکہ شوٹ بوٹ ٹائی میں ملبوس اس اہم شخصیت نے کی جو قوم کے ہر پروگرام میں اسٹیج پر جلوہ افروز رہتے ہیں, میں ان کا نام لینا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے ادارہ بدنام ہوگا اور یہ ادارہ قوم اور ہمارا آپ کا ہے یہ دعویٰ شبیر انصاری کے تعزیتی نشست میں حضرت مولانا معین الدین اشرف المعروف معین میاں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شبیر انصاری کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ عیدگاہ میدان میں آج ہم آپ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر انصاری نے اس متعلق جو تحریک شروع کی تھی انہیں کافی پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا۔ دو ٹانکی عیدگاہ میدان چھوٹا سوناپور میں گزشتہ رات آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے قومی صدر شبیر احمد انصاری کے انتقال پر تعزیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا, کثیر تعداد میں سماجی کارکنان، معروف شخصیات، ائمہ کرام، علمائے عظام، سیاسی، سماجی، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے افراد موجود تھے۔ پروگرام کی سرپرستی وصدارت پیر طریقت، قائد اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید معین الدین اشرف الاشرفی الجیلانی سجادہ نشین خانقاہ عالیہ کچھوچھہ مقدسہ و صدر آل انڈیا سنی جمعیتہ العلما نے فرمائی۔ آپ نے صدارتی خطبہ میں کہا کہ شبیر احمد انصاری نے اپنی زندگی کے پچاس سال پسماندہ طبقات (او بی سی ) کے حقوق کے لیے وقف کر دیئے۔ مرحوم نے نہ صرف (او بی سی) کے حقوق کے لئے لڑائی لڑی ہے, بلکہ وقف جائداد کے تحفظ کے لئے ہمیشہ میدان عمل میں ڈٹ کر کھڑے رہے, انہوں نے اپنی انتھک کوشش سے مہاراشٹرا کے وزیر اعلی کے ذریعے وقف جائداد کا سروے کا کام بھی شروع کروایا۔ معین المشائخ نے مزید کہا کہ مرحوم نے وقف بورڈ کے دفتر میں کچھ نا اہل افسران کی تساہلی اور صحیح طریقے سے کام نہ کرنے پر سخت ایکشن لیتے ہوئے دفتر میں تالا لگا دیا, جس کی وجہ سے ان پر کیس بھی درج کیا گیا لیکن اپنے مشن میں پیچھے نہیں ہٹے، آپ نے کہا کہ مرحوم شبیر انصاری، اللہ ان کی مغفرت کرے مجھ سے کافی قربت تھی۔ جس میدان میں ہم لوگ اس وقت حاضر ہیں اس کو غاصبوں سے بچانے میں بھی مرحوم کا بڑا رول رہا ہے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میاں اس عید گاہ میدان اور اطراف کی پراپرٹی کو کچھ لوگ وقف کی جائداد سے ہٹاکر غیر وقف کر کے تعمیراتی کام شروع کرنے والے ہیں، وقف کی اس جائداد کو قوم کے لئے آپ بچائیں اس پر معین المشائخ نے وہ دستاویزات بھی پیش کئے، بے حد کوشش کے بعد وقف جادائیداد میں یہ میدان شامل ہو گیا ہے، اب قیامت تک اس عید گاہ میدان میں سجدہ اور نمازیں ہوںگی۔ مہاراشٹرا کے کابینی وزیر جناب چھگن بھجبل نے کہا کہ مسلمانوں کے پسماندہ طبقات کو OBC میں شامل کرانے کی جدوجہد کرنے والے، سفارشات کے نفاذ کے لیے آواز اٹھانےوالے، ریزرویشن کے حق میں ملک بھر میں تحریک چلانےوالے، گاؤں اور عوامی سطح پر کام کرنے والے لیڈر کا نام شبیر احمد انصاری ہے۔ مرحوم کی وفات مسلم پسماندہ طبقات کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ایم ایل اے امین پٹیل نے کہا مرحوم نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ پسماندہ طبقات کے حقوق کی جدوجہد میں صرف کیا۔ ان کی قیادت میں او بی سی تنظیم نے نہ صرف استحکام پایا بلکہ سماج میں ایک مضبوط اور باوقار پہچان بھی حاصل کی۔ ان کی بصیرت، حکمت اور مستقل مزاجی نے بے شمار مسائل کو حل کیا۔ وہ مشکل ترین حالات میں بھی حوصلہ نہیں ہارتے تھے۔ میں ضرور ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے چوک کا نام رکھوں گا تاکہ ان کی یاد باقی رہے۔
سماجی کارکن نظام الدین راعین نے کہا کہ مرحوم شبیر احمد انصاری مہاراشٹر اور دیگر ریاستوں میں عوامی سطح پر بیداری پیدا کرتے اور عام لوگوں سے براہِ راست رابطہ رکھتے تھے اور پیچیدہ سماجی مسائل کو آسان انداز میں بیان کرتے تھے۔ سماجی کارکن اور فعال شخصیت جناب سعید خان نے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی سماجی خدمت، انصاف کی فراہمی اور پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود کے لئے وقف کر دی۔ او بی سی تنظیم کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے نہایت دیانت داری، بصیرت اور محنت کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان کی قیادت میں تنظیم نے ترقی کی نئی منازل طے کیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلیاں آئیں۔ روز نامہ ہندوستان کے مالک و مدیر جناب سرفراز آرزا نے کہا کہ ان کی وفات سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جس کا پُر ہونا آسان نہیں، سادہ زندگی گزارنے والے، نچلے طبقے کے لوگوں کے حقیقی نمائندہ مضبوط مقرر اور تحریک چلانے والے رہنما تھے جس کی وجہ سے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ سابق ایم ایل اے وارث پٹھان نے کہا کہ انہوں نے نہ کبھی شہرت کی خواہش کی اور نہ ہی ذاتی مفاد کو ترجیح دی، بلکہ ہمیشہ قوم اور سماج کی بہتری کو اولین رکھا۔ آج ان کے جانے سے ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پر کرنا یقیناً مشکل ہے۔ آل انڈیا مسلم او بی سی آرگنائزیشن کے کار گزار صدر جناب فاضل انصاری نے کہا کہ مرحوم ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ وہ صرف ایک عہدہ رکھنے والے صدر نہیں تھے بلکہ مظلوموں کی آواز، محروموں کا سہارا اور قوم کے حقیقی رہنما تھے۔ بلکہ دوسروں کو امید اور ہمت دیتے تھے۔ ناظم اجلاس جناب عامر ادریسی نے کہا کہ مرحوم کے نام پر تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں اور ان کے مشن کا آگے بڑھایا جائے۔ معز زشخصیات میں ابراہیم بھائی جان، مشیر انصاری، ایڈوکیٹ قاضی مہتاب، تاج قریشی، مبین قریشی، مولانا عبدالجبار ماہرالقادری، مولانا اعجاز کشمیری، مولانا نورالعین وغیرہ شامل تھے

Continue Reading

بزنس

سنسیکس 22 فیصد بڑھ کر 2026 کے آخر تک 95,000 تک پہنچ سکتا ہے: مورگن اسٹینلے

Published

on

ممبئی: عالمی بروکریج فرم مورگن اسٹینلے نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستانی اسٹاک مارکیٹ ایک بڑی ریلی کے لیے تیار ہے اور دسمبر 2026 کے آخر تک سنسیکس 95,000 تک پہنچ سکتا ہے۔ اپنی تازہ ترین رپورٹ میں، امریکی بروکریج فرم نے کہا کہ کم قیمتوں، آمدنی میں بہتری، اور محتاط سرمایہ کاروں کی پوزیشنیں ظاہر کرتی ہیں کہ مارکیٹ میں مندی ختم ہوسکتی ہے۔ مورگن اسٹینلے نے کہا کہ بنیادی صورت حال میں، سینسیکس دسمبر 2026 تک 95,000 تک پہنچ سکتا ہے، بدھ کے اختتام سے تقریباً 22 فیصد کا اضافہ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ممکنہ اضافے کے مقابلے منفی پہلو کے خطرات محدود دکھائی دیتے ہیں، اور موجودہ صورتحال طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کا ایک پرکشش موقع بنی ہوئی ہے۔ بروکریج فرم نے کہا کہ ہندوستان کی مارکیٹ کی کارکردگی گزشتہ سال کے دوران تاریخی کم ترین سطح کے قریب رہی ہے، جبکہ قدروں میں تیزی سے کمی آئی ہے۔

تاہم، مضبوط گھریلو طلب، پالیسی میں استحکام اور سرمائے کے اخراجات میں بہتری کی وجہ سے ملکی معیشت کے بنیادی اصول مضبوط ہیں۔ اس کے مثبت نقطہ نظر کی ایک اہم وجہ آمدنی کا بہتر ہونا ہے۔ بروکریج فرم نے نوٹ کیا کہ اعلی تعدد کے اشارے کھپت، سرمایہ کاری اور خدمات میں مضبوط رجحانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، حالانکہ مارکیٹ کی توقعات کم رہتی ہیں۔ تجزیہ کاروں نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عالمی کارپوریٹ منافع میں ہندوستان کا حصہ اب تک کے سب سے بڑے مارجن سے انڈیکس کے وزن سے زیادہ ہے۔ بروکریج فرم کو امید ہے کہ آگے بڑھتے ہوئے مثبت آمدنی پر نظرثانی کی جائے گی۔ قیمتوں کے بارے میں، مورگن اسٹینلے نے نوٹ کیا کہ سنسیکس اس وقت سونے کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے، ایک طویل مدتی اشارے اکثر مارکیٹ کے اہم موڑ سے منسلک ہوتا ہے۔ مزید برآں، ہندوستان کا قیمت سے کتاب کا تناسب تاریخی کم ترین سطح کے قریب ہے، حالانکہ میکرو اکنامک استحکام بہتر ہو رہا ہے اور پالیسی کی غیر یقینی صورتحال محدود ہے۔ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور عالمی نمو سے متعلق خطرات کے برقرار رہنے کے باوجود، مورگن اسٹینلے کا خیال ہے کہ وسیع تر نقطہ نظر مارکیٹ کی پائیدار بحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

Continue Reading

سیاست

بارامتی ضمنی انتخاب : سی ایم فڑنویس نے مہاراشٹر کانگریس کے سربراہ کو کیا فون، شرد پوار نے کھرگے سے بات کی

Published

on

ممبئی: بارامتی اسمبلی ضمنی انتخاب کو لے کر چل رہی سیاست نے بڑا موڑ لے لیا ہے۔ چیف منسٹر دیویندر فڑنویس نے بذات خود اپوزیشن کے ساتھ بات چیت شروع کی ہے، جس سے انتخابات کے ارد گرد جوش و خروش کو مزید تیز کیا گیا ہے۔ جمعرات کو کاغذات نامزدگی واپس لینے کا آخری دن ہے، اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ انتخابات ہوں گے یا سنیترا پوار کی جیت بغیر مقابلے کے یقینی ہو جائے گی۔ ذرائع کے مطابق سی ایم فڑنویس نے مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکل کو براہ راست فون کیا۔ اس بات چیت میں انہوں نے کانگریس سے اپنے امیدوار کو دستبردار کرنے کی اپیل کی تاکہ نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار کو بلا مقابلہ منتخب کیا جا سکے۔ سنیترا پوار این سی پی (اجیت پوار دھڑے) کی امیدوار ہیں۔ ریاستی سیاست میں اس اقدام کو کافی حیران کن سمجھا جا رہا ہے۔ حکمران جماعت کے کسی سینئر لیڈر کے لیے یہ بہت کم ہوتا ہے کہ وہ ریاستی اپوزیشن کے صدر سے ذاتی طور پر رابطہ کرے اور کسی امیدوار کو واپس لینے کا مطالبہ کرے۔ دریں اثنا، این سی پی (ایس پی) کے سربراہ شرد پوار نے کانگریس صدر ملکارجن کھرگے سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس ایک قومی پارٹی ہے اور اسے اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں لیکن اگر ان کی رائے مانگی جائے تو وہ یہ تجویز کریں گے کہ یہ انتخاب بلا مقابلہ کرایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نشست ایک تجربہ کار رہنما کی موت کے بعد خالی ہوئی ہے، اس لیے اس کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔ یہ ضمنی انتخاب سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے انتقال کے بعد ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے بہت سے لیڈر اور پارٹیاں چاہتی ہیں کہ ان کی میراث کو عزت دیتے ہوئے الیکشن بلامقابلہ کرایا جائے۔ اس سے پہلے، ایک اہم میٹنگ میں، سنیترا پوار اور دیگر این سی پی لیڈروں نے سی ایم فڑنویس سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ نے انہیں یقین دلایا کہ پورا اتحاد ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ کانگریس، جب کہ ابتدا میں اس سیٹ پر مقابلہ کرنے کے اپنے فیصلے پر قائم تھی، اب اپنا موقف بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر وجے وڈیٹیوار نے اشارہ دیا ہے کہ پارٹی اپنا امیدوار واپس لے سکتی ہے۔ تاہم حتمی فیصلہ ہائی کمان کی منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان