جرم
کیا ہے کورونا وائرس کی حقیقت، تنزانیہ کے صدر جان میگو فولی نے کیا معاملے کو بے نقاب
(وفا ناہید)
اس وقت پوری دنیا کو covid – 19 نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے. دنیا کے سپر پاور ملک اس وائرس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکے ہیں. ایسے میں ہمارا دیش ہندوستان اس وائرس کے سامنے سینہ سپر ہے. کورونا وائرس کی وجہ سے پورے ملک میں لاک ڈاؤن 4 چل رہا ہے. اگر تمام ہی حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک ہی سوال ذہن کے گوشے سے دوباہ سر اٹھاتا ہے کہ یہ کورونا وائرس کیا ہے؟ اس سوال کی گہرائی میں اگر جاتے ہیں تو حیرت کا شدید جھٹکا لگتا ہے. دراصل کورونا وائرس کی اتنی دہشت پھیلادی گئی ہے کہ اگر خدانخواستہ کسی کو نارمل فلو یا سردی بخار ہے یا Throat Infection بھی ہے تو وہ بندہ کورونا کی دہشت سے ہی ملک عدم کو سدھار جائے گا اور کورونا کے مریضوں کے ساتھ یہی ہورہا ہے. 6. مہینے قبل تک ان تکلیفوں پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا تھا. ہمیں آج بھی یاد ہے بچپن میں جب ٹھنڈا پینے سے گلا درد کرتا تو دادی ایک ساسر میں پانی لے کر چھری کی مدد سے اس پانی پر کٹ مار کر اسے پینے کے لئے دیتے تھے اور گلے کی وہ تکلیف فورا دور بھی ہوجاتی تھی. یہ گھریلو ٹونکے جب تک ہماری زندگی میں شامل تھے. زندگی آسان اور سہل تھی. اب تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ڈاکٹر بھی ڈاکو بن گئے ہیں. جس کی باقاعدہ اعلی تعلیم حاصل کرکے مریضوں کو لوٹنے کا کام کررہے ہیں. پہلے تو حکماء اور اطباء نبض دیکھ بیماری کی تشخیص کرتے تھے. 5 منٹ کا physical examin ہی ان کا ایکسرے, بلڈ ٹیسٹ, سی اسکین اور ایم آر آئی ہوتا تھا. جب سے سائنس نے ترقی کی اور investigation کے مختلف ذرائع ایجاد ہوئے. ڈاکٹروں نے اپنے دماغ کا استعمال کرنا بند کردیا. اب وہ پوری طرح سے ان مشینوں کے غلام ہوگئے ہے. کیونکہ یہ مشینیں جہاں بیماری کی تشخیص کرتی ہیں. وہیں یہ ڈاکٹر کی جیب بھی گرم کرتی ہے. چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے بلڈ ٹیسٹ, ایکسرے اور ایم آر آئی کرانا تو جیسے اب فیشن بن گیا ہے. ہم آپ کو کتنے ہی اعلی کوالیفائیڈ ڈاکٹرس کے بارے میں بتاسکتے ہیں کہ ان مشینوں پر انحصار کرکے اپنے دماغ کو زنگ لگا چکے ہیں. خیر یہاں ہمارا موضوع تھا کورونا. جس کے لئے ہمیں پہلے آپ کی ذہن سازی کرنی تھی. آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کورونا وائرس یا covid -19 ہے کیا؟ covid -19 چھونے سے پھیلنے والا ایک ایسا موذی وائرس ہے جو انسان کو قبر میں پہنچا کر ہی دم لیتا ہے. یہ وائرس چین کے ووہان سے نکل کر پوری دنیا میں تباہی مچا رہا ہے. اس کی آمد ہندوستان میں بھی ہوچکی ہے. کورونا کی ہندوستان میں آمد کے ساتھ ہی بی جے پی قیادت والی مودی حکومت نے پورے ملک میں پہلے جنتا کرفیو, دفعہ 144 اور اس کے بعد لاک ڈاؤن نافذ کردیا. مودی حکومت کی جانے کیا پالیسی ہے کہ وہ ہر فیصلہ نہایت عجلت میں اور رات کے وقت لے کر عوام کو دشواریوں میں ڈالتی ہیں. ہمارا اشارہ آپ بخوبی سمجھ گئے. جی ہاں دوستو! اس سے قبل نوٹ بندی کا فیصلہ بھی اسی طرح آنا فانا بغیر کسی منصوبہ بندی کے لیا گیا تھا- جس کے اثرات آج تک عوام کے ذہنوں میں تروتازہ ہے. بالکل ٹھیک اسی طرح لاک ڈاؤن کا فیصلہ بھی بغیر کسی منصوبہ بندی کے لیا گیا. اب اس سے جو صورتحال پیدا ہونی تھی, وہ ہوچکی. ملک کی 135 کروڑ کی آبادی کو گھروں میں قید کردیا گیا. اس پر عوام کو گھروں میں محصور رکھنے کے لئے پولس کو ڈنڈے کے ساتھ عوام کا استقبال کرنے کے لئے چوک چورواہوں اور نکڑ پر بیٹھا دیا گیا. اب یہ تو پولس ہے. جس کے تن پر قانون کی وردی اور ہاتھ میں ڈنڈا ہے. گھروں میں قید, ایک گمنام منزل کی طرف قدم بڑھاتے 2 مہینے کا عرصہ بیت جائے گا. ایسے میں رئیل فیس میڈیا کے ×ڈاکِٹر محمد عارف صدیقی× نے covid -19 کے تعلق جو چونکادینے والے حقائق بیان کئے ہیں. اس کے مطابق لیباٹریز کی ایک بڑی تعداد ہر حال میں کورونا کے مریض دکھا رہی ہیں. اس کے ساتھ ہی حکومتوں کی کوشش ہے کہ ہر مرنے والے شخص کو کورونا متاثر قرار دیا جائے. ایسا ہی کچھ تنزانیہ میں ہورہا تھا. تنزانیہ میں کورونا متاثرین 22 سے اچانک 480 ہوگئے. تنزانیہ کے صدر جان میگوفولی ایک ماہر کیمیاء داں ہے. انہیں کہیں گڑبڑ لگی. تب انہوں نے ایک عجیب و غریب تجربہ کیا. انہوں نے ایک بھیڑ, ایک بکری, پپیتہ, بٹیر اور انجن آئیل سے نمونے لئے اور ٹیسٹ کے لئے لیباٹری میں بھیج دیا. لیباٹری میں بھیجے گئے ان نمونوں کو باقاعدہ انسانی نام دیا گیا اور ان کی عمر بھی تحریر کی گئی. تاکہ کسی کو کوئی شک نہ ہوسکے. اب چونکنے کی باری ہے لیب بھیڑ, بکری اور پپتیے کے نمونوں میں کورونا کے وائرس ہونے کی تصدیق کردی. اب بادل چھٹ چکے تھے. کورونا کا بھوت اپنی لنگوٹی سنبھال کر بھاگنے میں ناکام تھا. اس کے ساتھ ہی تنزانیہ کے صدر جان میگو فولی نے تمام کورونا ٹیسٹنگ کٹس فوج کے حوالے کرکے انکوائری کا حکم دے دیا اور لیباٹری انچارج کو فارغ کردیا. بقول صدر جان میگو فولی کے کورونا معاملے اور تھوک کے حساب سے پوزیٹیو رپورٹ دینے کے پیچھے کچھ سازش کارفرما ہے. اس معاملے کے طشت از بام ہونے کے بعد بین الاقوامی ادارے اور اپوزیشن کی جانب سے تنزانیہ کے صدر کی اس جانچ کی کافی مذمت کی گئی. جب کہ صدر جان میگو فولی کے اس فعل کی پذیرائی ہونی چاہیئے تھی اور کورونا کٹس اور جانچ پر سوالات اٹھانے چاہئے تھے. قارئین تنزانیہ کے اس پورے معاملے کو تحریر کرنے کا مقصد تھا کہ آپ کو کورونا کے بارے کچھ حقائق سے روشناش کرایا جائے. دراصل cold سے ہونے والی الرجی کو کورونا کا نام دے کر عوام میں خوف کا ماحول پیدا کیا گیا. یہ الرجی خطرناک حد تک جان لیوا ہوتی ہے. کچھ بچوں اور بوڑھوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے. جس کی وجہ سے وہ کسی موسم کے تغیر کو برداشت نہیں کرپاتے. جس کی وجہ سے انہیں سردی کھانسی ہوتی ہے. گلے میں خراش جسے میڈیکل سائنس میں throat infection کہا جاتا ہے. اس کے بعد آکسیجن کی کمی کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اور مریض کی حالت بگڑ جاتی ہے. ہیومیوپیتھی میں اس کے لئے کارگر دوائیں ہیں جو مکمل طور پر اس الرجی کا یا کورونا وائرس کا خاتمہ کرسکتی ہے. ناسک کے موتی والا ہیومیوپیتھی میڈیکل کالج کے ڈاکٹر فاروق موتی والا مالیگاؤں میں ان ہی دواؤں کو مفت تقسیم کررہے ہیں. Arsenic Alb، Bryonia اور Belladona ہے. یہ وہ دوائیں ہیں جو کورونا مریضوں کو دی جاسکتی ہے. مالیگاؤں کے میونسپل کمشنر کی کورونا رپورٹ پوزیٹیو آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر کے سویپ نمونوں کی 2 بار جانچ کی گئی اور دونوں ہی بار کورونا رپورٹ نگیٹیو آئی. جب ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ میں لگاتار کمشنر کے ساتھ تھا مگر میری رپورٹ نگیٹیو آئی کیونکہ میں ہیومیوپیتھی کی دوا Arsenic Alb کا استعمال کرتا ہوں. ڈپٹی کمشنر نے کورونا سے بچاؤ کے لئے اس دوا کے استعمال پر زور دیا ہے.
بین الاقوامی خبریں
بنگلہ دیش کے صحافیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، انسداد بدعنوانی کا ادارہ منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔

ڈھاکہ : بنگلہ دیش میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ جب کہ ملک بھر میں طلباء کا احتجاج جاری ہے، صحافیوں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ انسداد بدعنوانی کی تنظیموں نے کھلنا شہر میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملک میں آزاد صحافت اور آزادی صحافت پر حملہ قرار دیا ہے۔ 15 جولائی کی صبح کھلنا میں چار صحافیوں کو بندوق برداروں نے گولی مار دی۔ صحافی اپنا کام ختم کر کے چائے کے ایک اسٹال کے باہر بیٹھے تھے۔ گولی لگنے سے زخمی ہونے والے صحافیوں میں بنگلہ دیشی اخبار دی بزنس اسٹینڈرڈ کے کھلنا کے نمائندے اول شیخ بھی شامل تھے، جو گولیوں کی زد میں آ گئے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل بنگلہ دیش (ٹی آئی بی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ صحافیوں کا مقدمات درج کرنے میں ہچکچاہٹ خوف کی فضا اور حکام پر اعتماد کی بڑھتی ہوئی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹی آئی بی نے ذمہ داروں کی شناخت اور جوابدہی کے لیے فوری، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون نے ٹی آئی بی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افتخارزمان کے حوالے سے کہا کہ “یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا تھا یا کسی مخصوص خبر کی جوابی کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ صحافیوں پر یہ مسلح حملہ میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی آزادی پر حملہ ہے۔”
انہوں نے زور دے کر کہا کہ بغیر کسی اثر و رسوخ یا غیر ضروری تاخیر کے غیر جانبدارانہ اور موثر تحقیقات کی جانی چاہیے، تاکہ نہ صرف مجرموں بلکہ حملے کی منصوبہ بندی اور حکم دینے والوں کی بھی نشاندہی کی جا سکے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا، “صرف مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے۔ حملے کے پیچھے اصل محرکات کا پتہ لگانا، ذمہ دار کون تھا، کس کے کہنے پر یہ حملہ کیا گیا، اور اس بات کا تعین کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ کیا اس کا صحافیوں کے پیشہ ورانہ کام سے تعلق تھا۔ ورنہ دیگر کیسز کی طرح یہ واقعہ بھی ان مقدمات کی طویل فہرست میں شامل ہو سکتا ہے جن میں استثنیٰ کا دعویٰ کیا گیا ہے۔”
اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، ٹی آئی بی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ متاثرین کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کے لیے ہچکچاہٹ بنگلہ دیش میں صحافی برادری کے اندر عدم تحفظ اور خوف کے ایک مروجہ نمونے کی عکاسی کرتی ہے، جو انتقامی حملوں کے خوف سے ہے۔ افتخار الزمان نے کہا، “حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ نتیجہ اخذ کرنا مناسب ہے کہ متعلقہ حکام کی مکمل تحقیقات کرنے اور ضروری احتساب کو یقینی بنانے کی اہلیت اور خواہش پر اعتماد کی کمی ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے، یہ ماننا مناسب ہے کہ ایسے جرائم کے مرتکب افراد کی شناخت کی جا سکتی ہے، بشمول سابقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران۔ صلاحیتوں.”
انہوں نے مزید کہا، “ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ میڈیا کی آزادی محفوظ ہے جہاں متاثرین خود انصاف حاصل کرنے سے ڈرتے ہیں۔ اس طرح کے خوف اور عدم اعتماد سے آزاد، تحقیقاتی اور مفاد عامہ کی صحافت کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے، جبکہ طاقتور اور مفاد پرست گروہوں کو سزا سے بچنے کے لیے حوصلہ ملتا ہے۔” افتخار الزمان نے خوف کے اس انداز کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بنگلہ دیشی حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کریں اور ان کے خلاف ہر حملے کی معتبر تحقیقات، انصاف اور مناسب احتساب کی ضمانت دیں۔
جرم
تھانے کرائم برانچ نے قتل کی سنسنی خیز گتھی سلجھائی! دوست کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے پھینکنے کے الزام میں دو بھائی گرفتار

تھانے : جرائم کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے، تھانے کرائم برانچ نے جمعرات کو قتل کے ایک انتہائی بہیمانہ کیس کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں دو سگے بھائیوں نے مبینہ طور پر اپنے ہی ایک قریبی دوست کو قتل کیا، اس کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کیے اور انہیں الگ الگ سنسان مقامات پر پھینک دیا۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب الہاس نگر یونٹ-4 کرائم برانچ کے سینئر پولیس انسپکٹر راجیش گجل کو ایک خفیہ اطلاع ملی۔ اطلاع کے مطابق، آٹو رکشہ ڈرائیور بھائیوں—فیض ملیم (24) اور البان ملیم (23)—نے ممبرا کے رہنے والے اپنے دوست امن شیخ (23) کو قتل کر دیا تھا۔ معلومات میں مزید انکشاف ہوا کہ ملزمان نے مبینہ طور پر مقتول کا گلا ریت دیا، لاش کو ٹکڑوں میں کاٹا اور ثبوت مٹانے کی نیت سے ان ٹکڑوں کو الگ الگ مقامات پر ٹھکانے لگا دیا۔
اس انٹیلی جنس معلومات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے اور تھانے کے پولیس کمشنر آتوش ڈمبرے کی ہدایات پر، ایڈیشنل پولیس کمشنر پنجاب راؤ اگلے، ڈپٹی پولیس کمشنر امر سنگھ جادھو اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر شیکھر باگڑے کی قیادت میں کرائم برانچ کی ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اس ٹیم میں سینئر پی آئی راجیش گجل، اے پی آئی شری رنگ گوساوی اور ہیڈ کانسٹیبل گنیش گاؤڑے شامل تھے۔
پولیس نے دونوں ملزم بھائیوں کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا اور ان سے سخت پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے دوران، بھائیوں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ 13 جولائی 2026 کی رات انہوں نے امن شیخ کا گلا ریت کر اسے قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد، انہوں نے لاش کے ٹکڑے کر کے سر، ہاتھ اور پیر الگ کر دیے اور جرم کو چھپانے کے لیے بقایا جات کو کھراڑی گاؤں کے سنسان علاقوں میں پھینک دیا۔
تفتشی افسران اب اس قتل کے پیچھے کی وجہ (محرک) کا پتہ لگانے، باقی تمام شواہد کو برآمد کرنے اور قتل تک پہنچنے والے واقعات کے سلسلے کو دوبارہ ترتیب دینے (ری کریٹ کرنے) کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس حکام نے بتایا کہ معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
بزنس
سی بی آئی نے گھر خریداروں کو دھوکہ دینے کے معاملے میں بلڈر کمپنی اور بینک کے افسران کے خلاف 16 ویں چارج شیٹ داخل کی۔

نئی دہلی : گھریلو خریداروں کے خلاف بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کی جاری تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت میں، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے میسرز ساہا انفراٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، اس کے ڈائریکٹرز، اور ایچ ڈی ایف سی بینک لمیٹڈ اور آئی سی آئی سی آئی بینک لمیٹڈ کے افسران کے خلاف اپنی 16ویں چارج شیٹ داخل کی ہے۔ ان پر نوئیڈا میں ایک ہاؤسنگ پروجیکٹ سے متعلق دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ چارج شیٹ نئی دہلی کی راؤس ایونیو ڈسٹرکٹ کورٹ میں سی بی آئی کیسز کے خصوصی جج کے سامنے داخل کی گئی۔
سی بی آئی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم بلڈر کمپنی اور اس کے ڈائریکٹرز نے بینک حکام اور دیگر نجی افراد کے ساتھ مل کر گھر خریداروں اور سرمایہ کاروں کو جھوٹے وعدے اور گمراہ کن دعوے کر کے دھوکہ دینے کی سازش کی۔ الزام ہے کہ ملزمان نے غیر قانونی اور دھوکہ دہی کے ذریعے مالی فائدہ حاصل کیا۔ ایجنسی کے مطابق تحقیقات کے دوران پائے جانے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انڈین پینل کوڈ (آئی پی سی) اور بدعنوانی کی روک تھام ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کی گئی۔ ان الزامات میں مجرمانہ سازش، سرکاری عہدے کا غلط استعمال، دھوکہ دہی اور اعتماد کی مجرمانہ خلاف ورزی شامل ہے۔ سی بی آئی اس وقت ملک بھر میں مختلف بلڈر کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے نامعلوم عہدیداروں کے خلاف سپریم کورٹ کی ہدایت پر درج 33 دیگر مقدمات کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ان مقدمات میں گھر خریداروں کو دھوکہ دینے اور فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات شامل ہیں۔
اب تک ایجنسی نے کئی رئیل اسٹیٹ فرموں کے خلاف 15 چارج شیٹ داخل کی ہیں۔ ان میں رودرا بلڈ ویل کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ، ڈریم پروکون پرائیویٹ لمیٹڈ، جے پی انفراٹیک لمیٹڈ، اے وی جے ڈویلپرز (انڈیا) پرائیویٹ لمیٹڈ، سی ایچ ڈی ڈویلپرز پرائیویٹ لمیٹڈ، سیکوئل بلڈکون پرائیویٹ لمیٹڈ، لاجکس سٹی ڈویلپرز پرائیویٹ سٹی لمیٹڈ پرائیویٹ لوجی لمیٹڈ انفراٹیک لمیٹڈ بلڈٹیک پرائیویٹ لمیٹڈ، نائنیکس ڈویلپرز لمیٹڈ، ڈیسنٹ بلڈ ویل پرائیویٹ لمیٹڈ، رودرا بلڈ ویل پروجیکٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، اتھاکا اسٹیٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، اور ایل جی سی ایل اربن ہومز (انڈیا) ایل ایل پی کے ساتھ ساتھ ان کے ڈائریکٹرز اور بعض بینکوں اور مالیاتی اداروں کے حکام۔ سی بی آئی نے اقتصادی جرائم، بدعنوانی اور عوامی دھوکہ دہی سے متعلق معاملات میں جوابدہی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، خاص طور پر ایسے معاملات جو عام شہریوں اور گھر خریداروں کے مفادات کو بری طرح متاثر کرتے ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام12 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں11 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
